1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ننگے سر نماز پڑھنا

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ حیدر, ‏اپریل 01، 2012۔

  1. ‏اگست 22، 2012 #21
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاص نماز کے لئے ہی عمامہ پہنتے تھے؟
    کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمامہ کے علاوہ بھی کسی اور کپڑے سے سر ڈھانپنا ہے؟
    اگر ہاں تو پھر ٹوپی یا کسی اور کپڑے سے سر ڈھانپنا سنت ہوگا
    اگر نہیں تو پھر صرف عمامہ ہی سنت ہوگا
    واللہ اعلم
     
  2. ‏اگست 22، 2012 #22
    qureshi

    qureshi رکن
    جگہ:
    نہ تو زمیں کیلئے نہ آسماں کیلئے
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2012
    پیغامات:
    233
    موصول شکریہ جات:
    392
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    عمامہ اور ٹوپی پہننا دونوں ثابت ہیں اور جو عمل آپﷺ نے کیا ہمیں اس پر عمل کرنا چاہے نہ کہ فضول جرح۔
    آپﷺ نے جو کام کیا وہ پھر کلچر نہ رہا بلکہ سنت میں داخل ہو گیا ہاں سنت کی اقسام ہیں۔اگر بطور کلچر بھی کیا ہو تو پھر بھی ہمارے لیے تو آپکی سنت ہو گئی
    مسکرائٹ؟ اپکی سادگی پر
    کلچر اور ضروریات میں فرق ہے ،یہ چیزیں اس وقت کی ضرورت تھی اور آج ان کی جگہ موٹر گاڑی وغیرہ نے لے لی۔
     
  3. ‏اگست 22، 2012 #23
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    بھائی اس کے حوالے کی سخت ضرورت ہے ضرور دن آپ
     
  4. ‏اگست 23، 2012 #24
    qureshi

    qureshi رکن
    جگہ:
    نہ تو زمیں کیلئے نہ آسماں کیلئے
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2012
    پیغامات:
    233
    موصول شکریہ جات:
    392
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    ایک تو اس یہ مسلئہ متفقہ ہے کہ بہتر طریقہ سر ڈھانپ کر نماز پڑھنا بہتر ہے اگر کوئی اس سے انکاری ہے تو بلکل غلط ہے۔ اس موضعوں پر مارکیٹ میں کتب موجود ہیں میں پہلی فرصت میں آپ کی طرف کتب کے نام اور حوالے بیھج دوں گا۔
     
  5. ‏اگست 23، 2012 #25
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    انتظار رہے گا بھائی
     
  6. ‏اگست 23، 2012 #26
    ناظم شهزاد٢٠١٢

    ناظم شهزاد٢٠١٢ مشہور رکن
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏جولائی 07، 2012
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    1,524
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    قریشی بھائی آپ کے نزدیک عربی لباس بھی سنت ہے یا نہیں۔
    عربوں کا ہئیر سٹائل بھی سنت ہے یا نہیں۔
    اگر ہے تو ان پر اتنا زور کیوں نہیں دیا جاتا ۔
    اگر نہیں تو عمامے وغیرہ پر اتنا زور کیوں دیا جاتا ہے۔
    آخر شرعی حوالے سے کیا فرق ہے عمامے وغیرہ اور عربی لباس میں؟
    لفظ اور انداز دونوں کی درستی کی ضرورت ہے۔
     
  7. ‏اگست 25، 2012 #27
    ناظم شهزاد٢٠١٢

    ناظم شهزاد٢٠١٢ مشہور رکن
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏جولائی 07، 2012
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    1,524
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    qureshiبھائی آپ سے کچھ پوچھا ہے!
     
  8. ‏اگست 25، 2012 #28
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    وہ لوگ جو کفریہ اور شرکیہ عقائد رکھنے والے دیوبندیوں کے پیچھے بھی نماز ہوجانے کے قائل ہیں جب نماز میں سر ڈھکنے جیسے معمولی عمل پر زور دیں تو بہت ہی عجیب لگتا ہے۔
     
  9. ‏اگست 25، 2012 #29
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    سر ڈھکنے کو نماز کے ساتھ نتھی کرنا بالکل غلط ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول سر ڈھکنے کا تھا جس میں نماز اور غیرنماز کی کوئی قید نہیں تھی۔ اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر نہ ڈھکنے پر کوئی وعید نہیں سنائی اور نہ ہی سر ڈھکنے کی ترغیب دی اس لئے سر کو ڈھاپنے والے عمل کا شمار سنت عادتیہ میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس سنت عادتیہ پر عمل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ ہر وقت سر ڈھانک کر رکھے۔ صرف نماز کے لئے سر ڈھکنا اور نماز کے علاوہ ننگے سر رہنا کسی طور پر درست نہیں بلکہ اس سنت عادتیہ کی مخالفت ہے۔ سب سے بہتر ہر وقت ڈھکے سر کے ساتھ رہنا یا ہر وقت ننگے سر رہنا ہے۔ اس کے برعکس دوران نماز سر ڈھانک لینا اور نماز کے بعد برہنہ سر رہنا تو ایک نئی چیز ہے جسے اگر دین سمجھا جائے تو بدعت ہے۔
     
  10. ‏اگست 29، 2012 #30
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    جواب:
    ابوداود ، ترمذی ، ابن ماجہ اور مسند احمد میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ۔ رسول اللہﷺنے فرمایا : «لاَ یَقْبَلُ اﷲُ صَلاَۃَ حَائِضٍ إِلاَّ بِخِمَارٍ» ’’اللہ تعالیٰ بالغ عورت کی ننگے سر نماز کو قبول نہیں کرتا‘‘ یہ حدیث صحیح ہے شیخ البانی حفظہ اللہ نے اس کو صحیح ابن ماجہ اور صحیح ابوداود میں درج فرمایا ہے اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے بالغ عورت کی نماز ننگے سر نہیں ہوتی جس کا مفہوم یہ ہے مرد اور نابالغ عورت کی نماز ننگے سر ہو جاتی ہے لہٰذا اگر کوئی مرد ننگے سر نماز پڑھتا ہے تو اس سے الجھنا نہیں چاہیے ننگے سر نماز پڑھنے والے کو بھی غور کرنا چاہیے کہ ننگے سر نماز پڑھنے میں سر ڈھک کر نماز پڑھنے سے کوئی زیادہ ثواب نہیں ملتا کہ وہ اس عمل پر اصرار کرے الغرض سر ڈھک کر نماز پڑھنے کی پابندی بالغ عورت کے لیے ہے مرد کے لیے سر ڈھک کر نماز پڑھنے کی فرضیت کتاب وسنت میں کہیں وارد نہیں ہوئی ﴿خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ﴾(تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو)--الاعراف31 ،سے مرد کے لیے سر ڈھک کر نماز پڑھنے کی فرضیت پر استدلال درست نہیں۔ہذا ما عندی ۔
    وباللہ التوفیق



    کیا کھجوریں کھانے سنّت ہے کیوں کہ رسول اللہﷺ کو پسند تھیں؟؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں