1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ننگے سر نماز پڑھنا

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ حیدر, ‏اپریل 01، 2012۔

  1. ‏اگست 29، 2012 #31
    qureshi

    qureshi رکن
    جگہ:
    نہ تو زمیں کیلئے نہ آسماں کیلئے
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2012
    پیغامات:
    233
    موصول شکریہ جات:
    392
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    بھائی اگر میرے کسی لفط سے اگر دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت چاہؤں گا ،دوسرا میں نیم خواندہ اور ان پیچ سےکچھ نابلد سا ہوں ،بھائی آپ اس موضعوں کو تمام فتوٰی جات سے اگھٹا کریں ،اسی طرح تمام علماء کی رائے سامنے آ جائے گی،پھر جو جمہور کا موقف ہے اسکو اپنا لیں ،میرے پاس اتنی فرصت نہیں ہے آج بہت دنوں بعد ٹایم ملا ہے ،پھر میں ایک مقالہ علماء اہلھدیث اور تصوف پر لکھ رہا ہوں ،آپ سب علماء کی رائے سامنے رکھ کر دیکھ لیں۔
     
  2. ‏اگست 29، 2012 #32
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    کفریہ اور شرکیہ عقائد رکھنے والے دیوبندی ہوں، اہلحدیث ہوں یا دیگر! ایسے کافروں اور مشرکوں کے پیچھے نماز جائز ہونے کا کوئی بھی قائل نہیں۔ البتہ ہر دیوبندی بریلوی کو کافر اور مشرک کہنے میں اختلاف ہو سکتا ہے۔
     
  3. ‏اگست 30، 2012 #33
    qureshi

    qureshi رکن
    جگہ:
    نہ تو زمیں کیلئے نہ آسماں کیلئے
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2012
    پیغامات:
    233
    موصول شکریہ جات:
    392
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    صاحب کوک شاستر گزاش ہے کہ دوسروں کو کافر ومشرک کہنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکے۔رہا مسلئہ نماز کا تو اکابرین اہلحدیث نے دیوبندیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز لکھا ہے ،اکابرینؒ کے فتوٰی کے مقابلہ میں صاحب کوک شاستر کو ہم جوتی کی نوک پر بھی نہیں رکھتے۔
     
  4. ‏ستمبر 01، 2012 #34
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    آج تک ہم نے تو کوئی ایسے اہل حدیث نہیں دیکھے نہ سنے جو کفریہ اور شرکیہ عقائد کے حاملین ہوں اگر آپ کے علم میں ایسے اہل حدیث ہیں تو ان کی نشاندہی فرمائیں ورنہ مفروضوں پر مبنی باتیں بلاوجہ مسائل الجھانے کا سبب بنتی ہیں۔

    اللہ جانے ایسے دیوبندی کہاں اور کونسے سیارے میں پائے جاتے ہیں جو دیوبندی بھی ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز بھی جائز ہوتی ہے ورنہ اس دنیا میں پائے جانے والے دیوبندی جن کے عقائد کی مستند کتاب المہند ہے اور جو وحدت الوجود کے قائل بھی ہیں سب مشرک اور کافر ہیں۔ اور وہ لوگ جن کے عقائد المہند کے خلاف ہیں اور وہ وحدت الوجود کو بھی نہیں مانتے انہیں دیوبندی کہنا ظلم اور خلاف واقع ہے۔
     
  5. ‏ستمبر 01، 2012 #35
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    غالبا شیخ البانی نے مکروہ کا حکم اس عمل کی کفار سے مشابہ ہونے کی بنا پر لگایا ہے نہ کپ مستحب کے ترک کی بنا پر ۔ واللہ اعلم بالصواب
     
  6. ‏ستمبر 03، 2012 #36
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    سوال:

    کیا حج و عمرہ کے مواقع پر یه حکم باقی نہیں رھتا ؟؟؟
     
  7. ‏نومبر 16، 2012 #37
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130


    آپ کا سوال بجا ہے کیونکہ حج و عمرہ پر ایسا کوئی کام ہے ہی نہیں جو کفار کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو۔۔۔
     
  8. ‏جنوری 03، 2013 #38
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    اللہ پاک کے لیے مزیّن ہونا سزاوار ہے تو
    اولا: کیا سر ڈانپنا زینت میں سے ہے؟
    ثانیا: یہ تزیین کا حکم عام ہے پھر مطلقا سر نا ڈانپنا مکروہ ہونا چاہے ن افقط نماز میں۔۔۔
    ثالثا: نمازعمل توقیفی ہے جس میں مستقیم اور صریح دلیل ہونی چاہیے۔ جس طرح عمامہ کا مستقل حکم ہےاور وہ بھی استحباب کے بارے میں ہے جبکہ کراہت مستقل حکم ہے جس کے لیے مستقل دلیل ہونی چاہیے۔۔۔
    رابعا: اگر سر ڈانپنے کو زینت بھی کہا جائے اور اور اسکو نماز پر بھی حمل کیا جائے تو بھی زیادہ سے زیادہ سر ڈانپنے کا استحباب ثابت ہو سکتا ہے اور نہ ڈانپنے کی کراہت ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ واضح ہے کہ کراہت ایک مستقل حکم ہے۔۔۔۔

    اولا: کیا سلف صالحین کا سر ڈانپنا کراہت سے بچنے کے لیے تھا؟
    ثانیا:
    یہ دلیل بھی تب مکمل ہے جب سلف صالحین کا یہ عمل کراہت سے بچنے کے لیے)کسی دلیل شرعی سے مستند ہو ورنہ پھر یہ عمل بدعت کہلائے گا۔۔۔۔۔واللہ اعلم بالصواب

    یہ فقہ جعفریہ کے مطابق بیان کیا گیا ہے
     
  9. ‏مارچ 12، 2013 #39
    دی مسلم

    دی مسلم مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2013
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، صحابہ، تابعین اور سلف صالحین کا طریقہ عمامہ یا ٹوپی سے سر ڈھانپ کر نماز پڑھنا تھا۔ نووی، شرح صحيح مسلم، 1 : 1335، 1336
    پگڑی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس میں شامل ہے ۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ معظمہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر سیاہ پگڑی تھی۔‘‘ (مسلم،کتاب الحج،باب جواز دخول مکة بغیر احرام، ترمذی،اللباس،باب العمامة، السوداء، ابو داؤد، اللباس،باب فی العمائم)

    حدیث میں آتا ہے:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کیا اور آپ نے اپنی پگڑی پر مسح کیا۔‘‘ (بخاری،الوضوء، باب المسح علی الخفین، مسلم،الطہارة، باب المسح علی الناصیة والعمامة)
    اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طریقہ کے پیش نظر سر پر پگڑی رکھنا چاہیے ، پھر مقام غور ہے بھلا یہ کہیں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کے وقت تو پگڑی یا خمار پر مسح فرمایا اور نماز پڑھتے وقت پگڑی یا خمار کو اُتار کر رکھ لیا ؟ ننگے سر نماز پڑھنے یا ننگے سر رہنے کو معمول اور عادت بنانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حکما” بھی عمامہ باندھنے کا ثبوت احادیث کے اندر ملتا یے ۔ چنانچہ ایک روایت یوں ملتی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “اعتموا تزدادو حلما” عمامہ باندھا کرو اس سے حلم میں بڑھ جاؤ ۔ ( رواہ الطبرانی فی الکبیر ج ا ص 194 مرفوعا )۔
    امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے ۔( فتح البار ج 10 ص 335 )
    ایک اور روایت حضرت رُکانہ سے اس طرح آتی ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ” ہمارے اور مشرکوں کے درمیان ایک فرق یہ بھی ہے کہ ہم ٹوپیوں پر عمامہ باندھتے ہیں ” (مشکوۃ باب اللباس )

    عمامہ اور ٹوپی کا ثبوت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین اور تابعین رحمہ اللہ علیھم سے :۔
    حضرت نافع رحمۃ اللہ علیہ تابعی فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہھا کو شملہ اپنے دونوں منڈھوں کے درمیان ڈالتے دیکھا ۔ (شمایل ترمذی باب ماجاء فی عمامہ)۔
    حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے کسی نے پوچھا کہ عمامہ باندھنا سنت ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ ۔ فرمایا ” ہاں سنت ہے “۔ اور مزید فرمایا ” عمامہ باندھا کرو کہ اسلام کا نشان ہے ، مسلمان اور کافر میں فرق کرنے والا ہے ” ( عینی عمد ۃ القاری ج 21 ص30)۔
    عبید اللہ جو نافع رحمۃ اللہ علیہ تابعی کے شاگرد ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ ( حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پوتے )اورسالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے ) کو ایسا کرتے ( یعنی شملہ اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان ڈالتے ) دیکھا۔ ۔ (شمایل ترمذی باب ماجاء فی عمامہ)۔
    میاں نذیر حسین دہلوی لکھتے ہیں ” ٹوپی و عمامہ سے نماز پڑھنا اولٰی ہے کیونکہ یہ امر مسنون ہے “۔ ( فتاوٰی نذیریہ ج 1 ص 240 )۔
    مولانا ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں کہ “نماز کا مسنون طریقہ وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بالدوام ثابت ہے یعنی بدن پر کپڑا اور سر ڈھکا ہوا، پگڑی یا ٹوپی سے”۔( فتاوٰ ی ثنایہ ج 1 ص 525 )۔
    یہی کچھ ابوداود غزنوی اور دیگر علمائے اہل حدیث نے لکھا ہے ۔ تفصیل کے لئے دیکھیے کنزل الحقائق۔
    علامہ ابن قیم کے حوالے سے بھی ایک بات سن لیجئے وہ فرماتے ہیں کہ ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کو اس وقت تک شہر کا حاکم مقرر نہ فرماتے تھے جب تک اسے عمامہ نہ بندھواتے تھے ۔(زادالمعاد ج 1ص50)۔
    اسی طرح ابن قیم اپنے استاد علامہ ابن تیمیہ سے پگڑی اور سملہ کی حمایت میں ایک طویل روایت لانے کے بعد فرماتے ہیں ” جو اس سنت کا منکر ہے وہ جاہل ہے”۔(زادالمعاد ج1ص50 )۔
     
  10. ‏مارچ 12، 2013 #40
    خان سلفی

    خان سلفی رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2012
    پیغامات:
    161
    موصول شکریہ جات:
    205
    تمغے کے پوائنٹ:
    82

    ابو داؤد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے ((لَا یُقْبَلُ اللہ صَلوۃَ حاَ ئضٍ اِلَّا بِخُمَاَرٍ)) بالغ عورت کی ننگے سر نماز نہیں ۔۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ نابالغ اور مرد کی نماز ہو جاتی ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں