1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ننگے سر نماز پڑھنا

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ حیدر, ‏اپریل 01، 2012۔

  1. ‏مارچ 12، 2013 #41
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    شائد یہ مطالعہ کے لئے مفید ثابت ہو۔


    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر پر عمامہ اور کپڑا رکھنا

    حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب شہر میں داخل ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا۔

    اور دوسری روایت حضرت عمروابن حریث رضٰی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ عمامہ دیکھا ۔

    تیسری روایت بھی انہی سے خطبہ کے وقت عمامہ باندھنے کی ہے ۔

    اور چوتھی روایت حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب عمامہ باندھتے تو اس کے شملہ کو اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان پچھلی جانب ڈال لیتے تھے ۔

    اور پانچویں روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک خطبہ پڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ عمامہ تھا یا چکنی پٹی تھی۔


    [SUP]یہ تمام روایات شمایل ترمذی میں امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کی ہیں۔[/SUP]

    کتب احادیث میں مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے عمامہ باندھنے کی متعلق اتنی کثرت سے احادیث منقول ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھتے تھے ۔ عمامہ سے یا کسی کپڑے سے لیکن سر ننگا رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر گز عادت مباکہ نہ تھی۔


    عمامہ باندھنے کا حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حکما” بھی عمامہ باندھنے کا ثبوت احادیث کے اندر ملتا یے ۔ چنانچہ ایک روایت یوں ملتی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    “اعتموا تزدادو حلما”
    عمامہ باندھا کرو اس سے حلم میں بڑھ جاؤ ۔

    [SUP]( رواہ الطبرانی فی الکبیر ج ا ص 194 مرفوعا )[/SUP]

    امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے ۔
    [SUP]( فتح البار ج 10 ص 335 )۔[/SUP]

    ایک اور روایت حضرت رُکانہ سے اس طرح آتی ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا
    ہمارے اور مشرکوں کے درمیان ایک فرق یہ بھی ہے کہ ہم ٹوپیوں پر عمامہ باندھتے ہیں
    [SUP](مشکوۃ باب اللباس ) [/SUP]

    ان روایات سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمامہ باندھا بھی ہے اور اس کے باندھنے کا اپنی امت کو حکم بھی دیا ہے ۔

    اب اس بات کا اندازہ آپ خود ہی لگا لیں کہ جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہو اور اس کے کرنے کا حکم بھی دیں تو کیا وہ سنت نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔؟

    عمامہ اور ٹوپی کا ثبوت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین اور تابعین رحمہ اللہ علیھم سے :۔

    صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین وہ شخصیات ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دل وہ جان سے ایمان لائے ۔ انہوں نے آپ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر کام کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پھر اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی ۔

    اسی لئے اللہ تعالٰی نے قرآن میں فرمایا ”
    اٰمنوا کما اٰمن الناس ”
    کہ ایسے ایمان لاؤ جیسے یہ لوگ [SUP](یعنی صحابہ کرام )[/SUP] ایمان لائے ۔

    [SUP](سورہ بقرہ)[/SUP]

    ظاہر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صدق دل سے ایمان لانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین ہی تھے ۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے ان کے ایمان کو آنے والی نسلوں کے لئے معیار حق قرار دیا ۔ آئیے ذرا ان کی زندگیوں کا مطالعہ کریں کہ انہوں نے سر پر عمامہ یا ٹوپی پہنا ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟۔

    چنانچہ حضرت ابو کبشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ٹوپیاں اس طرح کی ہوتی تھیں کہ سروں پر چپکی رہتی تھی۔
    [SUP](مشکوۃ باب اللباس )[/SUP]

    اس روایت کو اگرچہ امام ترمذی نے منکر کہا ہے لیکن یہ روایت متناً صحیح ہے نیز اسے تلقی بالقبول کا درجہ بھی حاصل ہے کیونکہ امت میں ہر دور کے اندر اس روایت پر عمل ہوتا رہا ہے جو اس روایت کا مؤید ہے۔

    حضرت نافع رحمۃ اللہ علیہ تابعی فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہھا کو شملہ اپنے دونوں منڈھوں کے درمیان ڈالتے دیکھا ۔
    [SUP](شمایل ترمذی باب ماجاء فی عمامہ)[/SUP]

    حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے کسی نے پوچھا کہ عمامہ باندھنا سنت ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟
    فرمایا ” ہاں سنت ہے “۔
    اور مزید فرمایا
    عمامہ باندھا کرو کہ اسلام کا نشان ہے ، مسلمان اور کافر میں فرق کرنے والا ہے
    [SUP]( عینی عمد ۃ القاری ج 21 ص30)[/SUP]

    عبید اللہ جو نافع رحمۃ اللہ علیہ تابعی کے شاگرد ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ [SUP]( حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پوتے )[/SUP] اورسالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ [SUP](حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے )[/SUP] کو ایسا کرتے [SUP]( یعنی شملہ اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان ڈالتے)[/SUP] دیکھا۔ ۔
    [SUP](شمایل ترمذی باب ماجاء فی عمامہ)[/SUP]

    اس روایت کے متعلق علامہ بیجوری رحمۃ اللہ علیہ مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں کہ
    واشارہ بذالک الی انہ سنۃ مؤکدہ محفوظۃ لم یترکھا الصلحا
    [SUP](مواہب لدنیہ ص 101)۔[/SUP]

    یعنی سر پر پگڑیاں باندھنا ایک ایسی سنت مؤکدہ ہے جو ہمیشہ محفوظ رکھی گئی اور اس کو صلحاء یعنی نیک بندوں نے کبھی نہیں چھوڑا ۔ نیز حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی مندرجہ بالا روایت جس میں سیاہ عمامہ باندھ کر خطبہ کا ذکر ہے اس کے بارے میں صاحب اتحافات والے لکھتے ہیں کہ

    ھذہ الخطبۃ وقعت فی مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم الذی توفٰی فیہ “۔
    [SUP]( شرح شمایل اتحافات ص 159 )[/SUP]

    یعنی یہ خطبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں دیا تھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے آخر لمحات تک سر پر عمامہ باندھا۔ علامہ بیجوری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ
    والعامۃ سنۃ لا سیما للصلوٰۃ و بقصد التجمل لا خبار کثیرۃ فیھا ” ۔
    [SUP](مواہب لدنیہ )[/SUP]
    اس عبات میں علامہ بیجوری رحمۃ اللہ علیہ نے چار چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ۔

    (۱) کہ عمامہ باندھنا سنت ہے ۔

    (۲) کہ عمامہ نماز کے لئے اور زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔

    (۳) کہ خوبصورتی کی علامت ہے ۔

    (۴) کہ بہت ساری روایات سے اس کا ثبوت ملتا ہے ۔

    ان تمام روایات و آثار سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ، تابعین عظام رحمۃ اللہ علیھم اور شارحین حدیث سر پر ٹوپی بھی پہنتے تھے اور اس کے اوپر عمامہ بھی باندھا کرتے تھے ۔ نیز اس کو سنت بھی سمجھتے تھے۔

    میاں نذیر حسین دہلوی لکھتے ہیں
    ٹوپی و عمامہ سے نماز پڑھنا اولٰی ہے کیونکہ یہ امر مسنون ہے “۔
    [SUP]( فتاوٰی نذیریہ ج 1 ص 240 )[/SUP]

    مولانا ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں کہ
    نماز کا مسنون طریقہ وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بالدوام ثابت ہے یعنی بدن پر کپڑا اور سر ڈھکا ہوا، پگڑی یا ٹوپی سے”۔
    [SUP]( فتاوٰ ی ثنایہ ج 1 ص 525 )[/SUP]

    یہی کچھ ابوداود غزنوی اور دیگر علمائے اہل حدیث نے لکھا ہے ۔ تفصیل کے لئے دیکھیے کنزل الحقائق۔
    [SUP](ص 27 اور نزل الابرار ج1ص114)[/SUP]

    علامہ ابن قیم کے حوالے سے بھی ایک بات سن لیجئے وہ فرماتے ہیں کہ
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کو اس وقت تک شہر کا حاکم مقرر نہ فرماتے تھے جب تک اسے عمامہ نہ بندھواتے تھے۔
    [SUP](زادالمعاد ج 1ص50)[/SUP]

    اسی طرح ابن قیم اپنے استاد علامہ ابن تیمیہ سے پگڑی اور سملہ کی حمایت میں ایک طویل روایت لانے کے بعد فرماتے ہیں
    جو اس سنت کا منکر ہے وہ جاہل ہے”۔
    [SUP](زادالمعاد ج1ص50 )[/SUP]

    علامہ ابن قیم اور ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیھم اجمعین تو وہ شخصیات ہیں جن کے تذکرہ سے شاید ہی کوئی مجلس خالی ہوتی ہو ۔ ان ہر دو حضرات کے اقوال بھی ان کے سامنے ہیں۔ ان تمام روایات و آثار سے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر عمامہ باندھتے تھے اور اس کا حکم بھی دیتے تھے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین نے بھی اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سمجھ کر اپنے سروں پر سجائے رکھا اور تابعین نے بھی ایسا ہی کیا۔

    کچھ لوگ اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک ہی تہبند میں نماز پڑھی جس کو گردن کے پیچھے سے گرہ لگا رکھی تھی ، حالانکہ ان کے کپڑے پیچھے کھونٹی پر لٹک رہے تھے ۔ اس پر کسی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھتے ہیں تو انہوں نے جواب میں فرمایا ہاں ، میں نے ایسا اس لئے کیا کہ تیرے جیسا احمق مجھے دیکھ لے ۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم میں سے کون تھا جس کے پاس دو کپڑے تھے ۔
    [SUP]( مشکوۃ ص72)[/SUP]

    کچھ لوگ اس روایت کو دلیل بنا کر پیش کرتے ہیں حالانکہ اس روایت میں سر پر کپڑا یا پگڑی نہ باندھنے کا ذکر سرے سے ہے ہی نہیں ۔ دوسری بات یہ کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا یہ کام بیان جواز کے لئے تھا ۔ یعنی یہ بتلانا مقصود تھا کہ ایک ایسے کپڑے میں جس میں ستر چھپ جائے باامر مجبوری نماز ہو جاتی ہے ۔ اس سے ان کی مراد کپڑا ہونے کے باوجود سر پر عمامہ نہ باندھنے کی ہر گز نہیں تھی۔ بہرحال اس روایت سے ننگے سر استدلال کرنا کسی جاہل ہی کا کام ہو سکتا ہے ۔ آج تک کسی محدث ، مفسر اور مجتہد نے اس روایت اور ان جیسی دوسری روایات سے ننگے سر نماز پڑھنا نہیں لیا۔

    ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک کپڑے میں نماز پڑھنے والے کو تنبیہہ کرنا:۔

    حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کپڑے میں نمازپڑھنا بھی سنت ہے ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ اور اسے معیوب نہیں سمجھتے تھے ۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا یہ اس وقت تھا ” اذا کان فی الثیاب قلۃ ” جب کپڑوںکی قلت تھی لیکن جب اللہ تعالٰی نے وسعت عطا فرما دی تو دو کپڑوں میں نماز پڑھنا مستحب اور پاکیزہ کام تھا۔
    [SUP](مسند احمد بحوالہ مشکوۃ)[/SUP]

    حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے اندر اگر ایک کپڑے میں نماز پرھتے تھے تو ان کا ایسا کرنا کپڑے کی قلت کی وجہ سے تھا نہ کہ شوقیہ ۔ اور بعد میں جب کپڑوں کی فراوانی ہوئی تو دو کپڑوں میں ہی نماز پڑھنا مستحب کہلوایا۔ اب اگر کوئی ان روایات کو سامنے رکھ کر سر پر کپڑا نہ لینے کا کہے تو یہ اس کے دماغ کا فتور ہے کیونکہ کسی بھی مجتہد اور محدث نے ان روایات سے سر پر کپڑا نہ لینے کی دلیل نہیں پکڑی ۔ پھر ان روایات کے علاوہ دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ارشادات بھی تو موجود ہیں جن میں سر پر پگڑی باندھنے کا حکم ،
    اگر یہ کہا جائے کہ پگڑی باندھنا اور سر پر کپڑا لینا ضروری نہیں تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کا رد لازم نہیں آئے گا ۔۔۔۔۔ ؟۔

    سر پر پگڑی رکھنا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے :۔

    اس تفصیل سے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ سر کو پگڑی یا ٹوپی سے ڈھانپنا اور عام حالات میں بھی سر کو ننگا نہ رکھنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت حضرت جعفر بن عمرو کے طریق سے اس طرح مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمامہ اور موزوں پر مسح کرتے دیکھا ۔
    [SUP](بخاری کتاب الوضو باب مسح علی الخفین )[/SUP]

    اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے صحیح مسلم کتاب الطہارت میں بھی اسی کرح کی ایک روایت موجود ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت سر پر عمامہ رکھتے تھے ، حتٰی کہ وضو فرماتے وقت بھی عمامہ سر پر ہوتا تھا ۔ یہی وجہ ہے صاحب مواہب لدنیہ فرماتے ہیں
    “والعمامۃ سنۃ لا سیما للصلوٰۃ ” ۔
    [SUP]( مواہب لدنیہ ص 99)[/SUP]

    یعنی عمامہ سنت ہے اور نماز کے لئے نہایت ضروری ہے۔

    مندرجہ بالا روایات ، آثار اور تشریحات سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت عمامہ اپنے سر پر رکھتے تھے ۔ جب عام حالات میں آداب کا تقاضا یہ ہے کہ سر ننگا نہ ہو تو پھر خاص حالات میں بالخصوص نماز جیسی عبادت کے اندر ربّ ذولجلال کے حضور کھڑے ہو کر ننگا سر سامنے کرنا کیسے ادب میں داخل ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟

    اگر استاد کے سامنے شاگرد ، اور بزرگ کے سامنے مرید اور آفیسر کے سامنے فوجی سر سے کپڑا اتارنے کی جراءت نہیں کرتا اور اسے بے ادبی خیال کرتا ہے تو ہمیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و افعال اور قرآن پاک کی تعلیمات نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سر ڈھانپ کر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں نماز کے لئے حاضر ہونا چاہئے اور ان ارشادات کی روشنی میں سر پر پگڑی یا ٹوپی رکھنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔

    اللہ تعالٰی ہمیں اس سنت پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے ۔ اٰمین

    يَا بَنِي آدَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ
    اے اولادِ آدم! تم ہر نماز کے وقت اپنا لباسِ زینت [SUP](پہن)[/SUP] لیا کرو
    7:31

    عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ
    ان (کے جسموں) پر باریک ریشم کے سبز اور دبیز اطلس کے کپڑے ہوں گے

    76 :21

    وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِّن سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ
    وہ باریک دیبا اور بھاری اطلس کے [SUP](ریشمی)[/SUP] سبز لباس پہنیں گے

    18: 31

    وقال عبد الله بن عباس رضي الله عنهما : كانت سيما الملائكة يوم بدر عمائم بيض ويوم حنين عمائم خضر
    عبید اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں
    یوم بدر ملائکہ کی نشانی سفید عمامے اور حنیں کے دن سبز عمامے تھی
    [SUP](تفسیر خازن شریف مصری سورة انفال جلد نمبر4 صفحہ نمبر 154)[/SUP]


    وقال عبد الله بن عباس رضي الله عنهما : كانت سيما الملائكة يوم بدر عمائم بيض ويوم حنين عمائم خضر ، ولم تقاتل الملائكة في يوم سوى يوم بدر من الأيام وكانوا يكونون فيما سواه عددا ومددا
    [SUP]تفسير القرآن، سورة الأنفال، تفسير البغوي، الحسين بن مسعود البغوي ، دار طيبة، سنة النشر: - رقم الطبعة: --- عدد الأجزاء: ثمانية [/SUP]

    امام شعرانی نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    اتانی جبرائیل فی لباس اخضر
    جبرائیل علیہ السلام میری بارگاہ میں سبز لباس میں حاضر ہوئے۔

    [SUP]کشف الغمہ جلد 1 صفحہ 154[/SUP]

    (نقل)
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 12، 2013 #42
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    عمامہ یا ٹوپی عرب کی ثقافت میں ایک خاص مقام رکھتی تھیں اور اب بھی ہیں اس لئے لباس میں اس کو خاص اہمیت دی جاتی رہی ہے لیکن دین سے یا عبادت سے اس کا برا ہ راست تعلق نہیں ورنہ حج یا عمرے کے موقے پر سر ڈھانپنے کی ممانعت نہ ہوتی -دوسرے عمامہ یا ٹوپی پہننے یا نہ پننے سے نماز کے ثواب کی کمی بیشی کا بھی کوئی تعلق نہیں ورنہ الله کے نبی صل الله علیہ وسلم اس بارے میں کوئی واضح حکم دیتے -ہاں البتہ عورتوں کو خاص طور پر حکم دیا کے سر ڈھانپ کر نماز پڑھیں ورنہ نماز نہیں قبول ہو گی- واللہ عالم
     
  3. ‏مارچ 12، 2013 #43
    دی مسلم

    دی مسلم مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2013
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    ننگے سر رہنے یا نماز پڑھنے کا چلن انگریزوں کی آمد سے پہلے مسلم معاشرے میں کہیں نظر نہیں آتا، علماء وصلحاء تو سر ڈھانک کر رہتے ہی تھے، عام شرفاء بھی اسے تہذیب وشرافت کا لازمہ سمجھتے تھے، امام ابن جوزی  تلبیس ابلیس میں فرماتے ہیں:” سمجھ دار آدمی سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ سرکا کھلا رکھنابری بات اور ناپسندیدہ حرکت ہے ، کیوں کہ اس میں ترک ادب اور شرافت کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے۔“

    شیخ عبدالقادر جیلانی  غنیة الطالبین میں فرماتے ہیں:
    ”ننگے سر لوگوں میں گھومنا پھرنا( مسلمانوں کے لیے) مکروہ ہے۔“ (بحوالہ فتاوی رحیمیہ:150/8)

    ہندوستانی مسلمانوں میں ننگے سر پھرنا انگریزوں کی آمد کے بعد اورعالم عرب میں مغربی ممالک سے تعلقات کے بعد وجود میں آیا ہے، لیکن یہ تقلید فرنگ شروع میں صرف دفتروں ، کالجوں اور بازاروں تک محدود تھی، مذہبی مجلسوں مسجدوں میں لوگ اس طرح شرکت کو سخت معیوب سمجھتے او راس سے احتزار کرتے تھے ، گویا یہ پہلا مرحلہ تھا، جب مسلمانوں نے اسلامی تہذیب کو اسلامی سرگرمیوں کے ساتھ مخصوص کرکے انگریزی تہذیب کو زندگی کے بقیہ مرحلوں میں اختیار کر لیا تھا، پھر جب طبیعتیں اس اجنبی تہذیب سے مانوس ہو گئیں او رایک نسل گزر گئی تو اگلی نسل کے لیے یہ جدید کلچر ہی پسندیدہ کلچر بن گیا اور سابقہ تہذیب اجنبی سی ہو گئی۔
     
  4. ‏مارچ 12، 2013 #44
    دی مسلم

    دی مسلم مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2013
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    متعدد روایتوں میں آپ کے سر مبارک کا عمامہ یا ٹوپی سے آراستہ ہونا مروی ہے ، حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ آپ سفید ٹوپی استعمال فرماتے تھے۔ ( شعب الایمان:256/13)

    حضرت عائشہ سے بھی اس طرح منقول ہے۔(جامع صغیر:120/2)

    حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ آپ ا ٹوپی عمامے کے تحت بھی او ربغیر عمامے کے بھی استعمال فرماتے تھے۔ ( جامع صغیر:120/2)

    حضرت ابو قرصافہ سے مروی ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں ایک ٹوپی دے کر اس کے استعمال کی ہدایت دی تھی۔ ( فتح الباری:223/10)

    جب آپ صلی الله علیہ وسلم مرض الوفاة میں آخری خطبہ دینے کے لیے مسجد میں تشریف لائے تھے ، تو حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا سر مبارک عمامہ یا سرخ پٹی سے ڈھکا ہوا تھا۔ (بخاری:536/1)

    حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس تین ٹوپیاں تھیں، ایک کنٹوپ بھی تھی، جسے سفر میں استعمال فرماتے تھے۔ (تخریج احادیث الاحیاء:110/6)

    ابن قیم  فرماتے ہیں: ”آپ صلی الله علیہ وسلم عمامہ باندھتے تھے، اس کے نیچے ٹوپی بھی پہنتے تھے، کبھی بغیر ٹوپی کے بھی عمامہ باندھتے تھے، کبھی بغیر عمامہ کے صرف ٹوپی بھی پہن لیتے تھے۔“ (زادالمعاد:51)

    یہی بات حضرت ابن عباس سے روایتاً بھی منقول ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ٹوپی استعمال فرماتے تھے، عمامے کے ساتھ بھی، بلاعمامے کے بھی۔ (جامع صغیر120/2)

    یہ تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا معمول او رعادت شریفہ تھی، احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں صحابہ کرام کا رواج بھی یہی تھا اور کیوں نہ ہوتا؟ وہ لوگ تو آپ صلی الله علیہ وسلم کی ہر ہر ادا کے عاشق اور اس کے متبع تھے، بخاری شریف میں ہے کہ جب حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم سے مُحرِم کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کون کون سے کپڑے پہن سکتا ہے ؟ تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” قمیص، شلوار، عمامہ اور ٹوپی نہ پہنے۔“ (بخاری:24/2)

    معلوم ہوا کہ ٹوپی او رعمامہ کا پہننا صحابہ کرام کے معاشرے کی عام بات تھی، تب ہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے دوسرے لباس کے ساتھ اس کا بھی ذکر فرمایا۔ ا بن عاصم سے مروی ہے کہ جب وہ حضور صلی الله علیہ وسلم سے ملنے کے لیے پہنچے تھے تو صحابہ کرام کو کپڑوں اور ٹوپیوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ ( مجمع الزوائد:184/2)

    اسی طرح ترمذی میں ہے کہ حضرت عمر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے شہید کے فضیلت بیان کرتے ہوئے بتلا رہے تھے کہ ” اس کے بلند ترین مقام کو یوں سر اٹھا کر دیکھا جائے گا، جب آپ نے سر پیچھے کیا تو ٹوپی سر سے گر گئی۔“ (ترمذی:241/3)

    اس کے علاوہ متعدد صحابہ کرام او رتابعین عظام کے بارے میں روایات موجود ہیں کہ وہ ٹوپی کا استعمال فرمایا کرتے تھے ، بخاری شریف میں ہے ، حضرت انس ریشم کی ٹوپی پہنے ہوئے دیکھے گئے۔ (270/4)
    اسی طرح ابو اسحاق کے بارے میں ہے کہ انہوں نے نماز کی حالت میں ٹوپی نکال کے رکھی، پھر اٹھا کر پہن لی۔ (515/1)

    مصنف ابن ابی شیبہ میں تو متعدد احادیث موجود ہیں، مثلاً جلد دوم کتاب الصلوٰة میں حضرت شریح، اسود، عبدالله بن زید، سعید بن جبیر، علقمہ، مسروق رحمہم الله کے بارے میں اور جلد(12) کتاب اللباس میں حضرت علی بن حسین، حضرت عبدالله بن زبیر، حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت انس بن مالک اور ابراہیم نخعی اور ضحاک کے بارے میں ٹوپیوں کا استعمال کرنا منقول ہے، اسی طرح
    حضرت حسن بصری سے بخاری شریف میں مروی ہے کہ صحابہ کرام ٹوپیوں او رعمامے کی کوروں پر سجدہ کر لیا کرتے تھے۔ (بخاری:232/1)

    اس سے تو صحابہ کرام کا عمومِ استعمال صراحتاً معلوم ہو گیا، فتح الباری میں عبدالله بن ابی بکر سے مروی ہے کہ قرآن کریم کے تمام قراء( صحابہ) کے پاس ٹوپیاں ہوا کرتی تھیں۔ (34/16)

    مذکورہ بالا احادیث وآثار، جن میں بعض صحیح اور بعض ان کی مؤید ہیں، یہ بتلا رہی ہیں کہ سر کو ڈھکنا یعنی ٹوپی یا عمامہ سے آراستہ رکھنا، بالخصوص نماز کے اندر ننگے سر ہونے سے بچنا اسلامی تہذیب کا حصہ اور مسنون لباس میں داخل وشامل ہے ، اس کے برخلاف ٹوپی نہ پہننے یا ننگے سر رہنے کی ترغیب وفضیلت کا کوئی ثبوت نہیں ہے ، نہ صحیح حدیثوں میں، نہ ہی ضعیف روایتوں میں ۔معلوم ہوا کہ موجودہ زمانے کا یہ فیشن اور آزادی چاہنے والوں کا چلایا ہوا چلن غیر اسلامی اورناپسندیدہ ہے، جس سے احتیاط ضروری ہے۔

    جہاں تک ان لوگوں کا ان روایتوں سے استدلال کرنے کا تعلق ہے جن میں ایک اور دو کپڑوں میں نماز پڑھنے کا ذکر ہے وہ یا تو وقتی ضرورت پر محمول ہے یا بیان جواز کے لیے ہے ، ورنہ دائمی معمول نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا سر ڈھانک کر رہنا ہی ہے ، بالخصوص نمازوں میں تو کبھی ننگے سرامامت فرمائی ہی نہیں۔

    شیخ ناصر الدین البانی ایک بڑے عالم گزرے ہیں (اہلحدیث) علماء اور عوام کا ایک طبقہ انہیں خاتمة المحدثین سمجھتا ہے ، چوں کہ ننگے سر کا کلچر عام ہو رہا ہے، بلکہ باقاعدہ عام کیا جارہا ہے، ان کی چشم کشائی کے واسطے شیخ کی تحقیق ذیل میں نقل کی جارہی ہے، وہ فرماتے ہیں:

    ”جہاں تک ہمار ی تحقیق کا تعلق ہے تو ہمارے نزدیک ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ ہے، اس لیے کہ نماز کا مکمل ہیئت اسلامی میں ادا کرنے کا پسندیدہ ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے ، کیوں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” الله تعالیٰ اس بات کا سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لیے اپنے آپ کو سنوارا جائے “، نیز ننگے سررہنے کی عادت ڈال لینا ،یا بازاروں میں ننگے سر گھومنا یا مقامات عبادت میں ننگے سر داخل ہونا، سلف صالحین کے مبارک عرف میں ہئیت حسنہ کے خلاف اور غیر اسلامی تہذیب کا امتیاز ہے ، جو کفار کے بلاد اسلامی میں داخل ہونے کے بعد شائع ہوا ہے، وہاں کے مسلمانوں نے بلاد لیل شرعی ان بری عادتوں کو قبول کرکے اس مسئلے میں اسی طرح بعض او رتہذیبی مسائل میں بھی اپنے بڑوں کی تقلید ترک کر دی ہے ، پس یہ نئی رسم اس لائق نہیں ہے کہ اسلام کے سابقہ عرف اور طریقے کے مقابل بن سکے اور نہ ہی اس رسم کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھنے کا جواز نکالا جاسکتا ہے۔“

    اس کے بعد بعض علماء کے غلط استدلال کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ”جہاں تک مصر کے بعض علماء کا حج کے دوران سر کھلے رکھنے اور اسی طرح نماز پڑھ لینے سے استدلال کا تعلق ہے تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ ان کا یہ قیاس، قیاس مع الفارق ہونے کی وجہ سے فاسد ہے، اس لیے کہ اولاً تو وہ مناسک حج کے ساتھ خاص ہے اور شعائر حج میں سے ہے، اس کو عام نہیں کیا جاسکتا او راگر اس سے ہر حال میں سرکھلے رکھ کر نماز پڑھنے کا ثبوت نکل سکتا ہے تو پھر وجوباً ماننا پڑے گا، جوازاً نہیں، کیوں کہ احرام میں سرکھلا رکھنا واجب ہے ، یعنی ننگے سر نماز پڑھنے کو واجب کہنا پڑے گا جوکوئی نہیں کہتا، پس یہ ایسا الزام ہے کہ ان لوگوں کو اپنے قیاس فاسد سے رجوع کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ، ہمیں امید ہے کہ یہ علماء اپنی غلطی سے رجوع کر لیں گے۔“ (تمام المنہ فی التعلیق علی فقہ السنة:164/65)
     
  5. ‏مارچ 12، 2013 #45
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    سر کے ڈھانپنا/نہ ڈھانپنا آپ اسے عمرہ و حج کے احکامات کے ساتھ کیسے ملا رہے ہیں؟ کیا آپ گھر میں بھی احرام باندھ کر نماز ادا کرتے ہیں؟ جس سے ایک شولڈر بھی ننگا رکھنا ہوتا ھے۔

    والسلام
     
  6. ‏مارچ 13، 2013 #46
    ابو القاسم

    ابو القاسم رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2011
    پیغامات:
    79
    موصول شکریہ جات:
    324
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    یہاں پر مفہوم مخالف کے ذریعے مسئلہ کا استنباط کیا جا رہا ہے۔ میرے خیال سے یہاں پر مفہوم مخالف کو دلیل بنانا درست نہیں ہے۔ علمائے اصول نے مفہوم مخالف کو لینے کی دس کے قریب شروط بیان کی ہیں ان شروط کو ملحوظ رکھے بغیر مفہوم مخالف سے استدلال درست نہیں ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے:
    وَإِذَا ضَرَ‌بْتُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُ‌وا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا ۚ إِنَّ الْكَافِرِ‌ينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا (النساء : 101)
    ’’جب تم سفر میں جا رہے ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناه نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے، یقیناً ’’کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں۔‘‘
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر تمھیں ڈر ہو کہ کافر تمھیں ستائیں گے تو تم پر نمازیں قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
    اب اس آیت کا مفہوم مخالف تویہ ہے کہ اگر کافروں کے ستانے کا ڈر نہ ہو تو نماز قصر نہیں کی جائے گی۔ جبکہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ اور سفر میں حالت امن اور حالت خوف دونوں صورتوں میں نماز قصر کی جا سکتی ہے۔
    اسی طرح اس حدیث سے یہ مفہوم مخالف لینا کہ اللہ مردوں کی ننگے سر نماز قبول کرتا ہے۔ درست نہیں ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جو مرد سر ڈھانپ کر نماز پڑھے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ اس لیے مفہوم مخالف کو لینے کے لیے علمائے کرام نے جو شروط بیان کی ہیں ان کا ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے ہر جگہ پر مفہوم مخالف حجت نہیں ہوتا۔
    میں سمجھتا ہوں کہ جو شخص اس نیت کے ساتھ سر ڈھانپ کر نماز پڑھتا ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے نماز ایسے ہی پڑھی ہے تو اس کو اس کا اجر ملے گالیکن اگر کوئی شخص سر اس لیے ڈھانپ کر نماز پڑھے کہ یہ نماز کا لازمی حصہ ہے اور صرف نماز کے وقت سر ڈھانپ لے تو ایسا کرنا بدعت ہے۔
    اگر ہم سر ڈھانپنا اس وقت کا کلچر بھی قرار دے لیں تب بھی بطور ثواب نبی کریمﷺ والی ہئیت اختیار کرنے والے کو ثواب ہو گا مثلاًابن عمر ایسے کاموں میں بھی رسول اللہﷺ کی اقتدا کو پسند فرماتے تھے جو آپﷺ نے بشری تقاضوں کے تحت بھی انجام دئیے ہوتے تھے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏مارچ 25، 2013 #47
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    اعتموا تزدادوا حلما .
    الراوي: عبدالله بن عباس و أسامة بن عمير المحدث:الألباني - المصدر: ضعيف الجامع - الصفحة أو الرقم: 931
    خلاصة حكم المحدث: ضعيف جداً
    الدرر السنية - الموسوعة الحديثية[]=1420&xclude=



    اعتموا ، خالفوا على الأمم قبلكم
    الراوي: خالد بن معدان المحدث:الألباني - المصدر: السلسلة الضعيفة - الصفحة أو الرقم: 2347
    خلاصة حكم المحدث: موضوع
    الدرر السنية - الموسوعة الحديثية[]=1420&xclude=


     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 25، 2013 #48
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ عبادت کے دوران یا عام حالت میں سر ڈھانپنے یا نہ ڈھانپنے کے بارے میں شریعت میں کوئی واضح حکم نہیں جس کی بنا پر ہم اس کو واجب یا مکروہ قرار دے سکیں- ظاہر ہے نبی کریم صل الله علیہ وسلم کے دور ،میں آپ کے اصحاب رضی الله عنہ ہر وقت تو سر ڈھانپ کر نہیں رکھتے تھے -اور ویسے بھی یہ انسانی طبیعت کے خلاف معلوم ہوتا ہے کہ اتنے گرم علاقے کے رہنے والے ہر وقت سر ڈھانپے رہیں -اور کبھی ایسا بھی نہیں ہوا کہ نبی کرم صل الله علیہ وسلم نے کسی کو ننگے سر دیکھ کر نفرت سےمنہ پھیر لیا ہو - اور نہ ننگے سر نماز پڑھانے والے کو نماز لوٹانے کا حکم دیا ہو -جیسا کہ ایک صیح حدیث کا مطابق ایک شخص کو آپ صل الله علیہ وسلم نے ایسی حالت میں نماز پڑھتے دیکھا کہ اس کا تہبند اس کے ٹخنوں سےنیچے تھا- جب اس نے نماز ختم کر لی تو آپ صل الله علیہ وسلم نے اس کو تہبند ٹخنوں سے اونچا کرنے اور دوبارہ وضو کرنے اور نماز لوٹانے کا حکم دیا-

    کچھ راویات میں سے`سر ڈھانپنے کا تذکرہ ملتا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ ایک مستحسن عمل ہے -اگر نبی کریم صل الله علیہ وسلم کی سنّت سمجھ کر سر ڈھانپ کر عبادت کی جائے تو امید ہے کہ ثواب زیادہ حاصل ہو گا -لیکن نہ ڈھانپنے پر گناہ نہیں (واللہ عالم )

    واسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏ستمبر 17، 2015 #49
    مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 30، 2011
    پیغامات:
    640
    موصول شکریہ جات:
    396
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    مندرجہ ذیل مفہوم کی پوری حدیث بمعہ سند چاہئیے ۔
     
  10. ‏ستمبر 17، 2015 #50
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    محترم بھائی !
    درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیں ۔۔شاید انہی سے درج بالا مفہوم اخذ کیا گیا ہے :
    ۔۔۔۔۔۔۔
    صحیح البخاری
    باب عقد الإزار على القفا في الصلاة:
    باب: نماز میں گدی پر تہبند باندھنے کے بیان میں
    ).
    حدیث نمبر: 352
    حدثنا احمد بن يونس قال:‏‏‏‏ حدثنا عاصم بن محمد قال:‏‏‏‏ حدثني واقد بن محمد عن محمد بن المنكدر قال:‏‏‏‏"صلى جابر في إزار قد عقده من قبل قفاه وثيابه موضوعة على المشجب قال له قائل:‏‏‏‏ تصلي في إزار واحد فقال:‏‏‏‏ إنما صنعت ذلك ليراني احمق مثلك واينا كان له ثوبان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم".

    ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے واقد بن محمد نے محمد بن منکدر کے حوالہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے تہبند باندھ کر نماز پڑھی۔ جسے انہوں نے سر تک باندھ رکھا تھا اور آپ کے کپڑے کھونٹی پر ٹنگے ہوئے تھے۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ آپ ایک تہبند میں نماز پڑھتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ میں نے ایسا اس لیے کیا کہ تجھ جیسا کوئی احمق مجھے دیکھے۔ بھلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو کپڑے بھی کس کے پاس تھے؟


    حدثنا عبد العزيز بن عبد الله قال:‏‏‏‏ حدثني ابن ابي الموالي عن محمد بن المنكدر قال:‏‏‏‏"دخلت على جابر بن عبد الله وهو يصلي في ثوب ملتحفا به ورداؤه موضوع فلما انصرف قلنا:‏‏‏‏ يا ابا عبد الله تصلي ورداؤك موضوع؟ قال:‏‏‏‏ نعم احببت ان يراني الجهال مثلكم رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي هكذا".
    (صحیح البخاری ، باب الصلاة بغير رداء:

    باب: بغیر چادر اوڑھے صرف ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے
    حدیث نمبر: 370
    محمد بن منکدر سے مروی انہوں نے، کہا میں جناب جابر بن عبداللہ انصاری کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ ایک کپڑا اپنے بدن پر لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی چادر الگ رکھی ہوئی تھی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا اے ابوعبداللہ! آپ کی چادر رکھی ہوئی ہے اور آپ (اسے اوڑھے بغیر) نماز پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا، میں نے چاہا کہ تم جیسے جاہل لوگ مجھے اس طرح نماز پڑھتے دیکھ لیں، میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تھا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں