1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ننگے سر نماز پڑھنے کو شعار نہ بنائیں

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏اکتوبر 31، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 31، 2017 #1
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    ننگے سر نماز کی عادت

    دینی اقدار سے دوری کا یہ حال ہے کہ لوگ سر ڈھانپنے کو معیوب، داڑھی کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ شلوار ٹخنوں سے اونچی رکھنا دقیانوسیت کی علامت جیسے خیالات رکھتے ہیں۔ سر ننگا رکھنے کا رواج ہؤا اور مساجد میں ٹوپیوں کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ حالانکہ اس سے بہتر یہ تھا کہ مسجد انتظامیہ لوگوں کو مفت ٹوپیاں فراہم کر دیتی۔ مسجد کی ٹوپیاں اس قابل نہیں ہوتیں کہ انہیں پہن کر کسی ذی حیثیت شخص کے سامنے جایا جا سکے۔ ایسا لباس پہن کر بڑوں سے بڑے کے سامنے کس منہ سے جاتا ہے۔
    میرے علم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے سوائے حج کے ننگے سر نماز پڑھی ہونہ ہی ننگے سر نماز کی کوئی ترغیب کسی حدیث میں موجود ہے۔ اگر کسی صاحب کے علم میں ہو تو ضرور بتائے۔ لہٰذا جو مشروع نہ ہو اسے شعار بنانا یا اگر کسی کا شعار بن جائے تو اس کا ترک ضروری ہے۔​
     
    • ناپسند ناپسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 31، 2017 #2
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    @عمر اثری صاحب ناپسندیدگی کی وجہ بھی بتا دیں تا کہ اصلاح ہوجائے۔
     
  3. ‏اکتوبر 31، 2017 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,198
    موصول شکریہ جات:
    1,060
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    مجھے بحث کرنے کا شوق نہیں کہ آپ سے بحث میں صرف اور صرف وقت ہی ضائع ہوا ہے.
    وجہ: آپ کے دعوی اتحاد کا اور ہر جگہ اختلافی مسائل میں گفتگو کرتے ہیں. بلکہ اختلافی مسائل کو ہوا دیتے ہیں. گویا آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں.
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 31، 2017 #4
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    جب تک کسی کو ان اختلافات کی حقیقت معلوم نہ ہوگی تب تک وہ اتحاد کے لئے اسے کیوں کر چھوڑے گا؟
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 31، 2017 #5
    ٹرومین

    ٹرومین رکن
    جگہ:
    کہیں دور گمنام فضاؤں میں
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2011
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    اتحاد کی ایک ہی صورت ہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ،کتاب وسنت کو مضبوطی سے پکڑ کر ہی اکھٹا ہواجاسکتا ہے۔
     
  6. ‏اکتوبر 31، 2017 #6
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,198
    موصول شکریہ جات:
    1,060
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    فورم پر پہلے سے ہی گفتگو موجود ہے. لوگوں کو اسکی حقیقت سے واقفیت کے لئے کافی ہے. آپ کو گھوم پھر کر اختلافی مسائل میں پڑنے کی ضرورت نہیں. ویسے بھی یہ مسئلہ اتنا آسان ہے جسے بعض متعصب حضرات نے نزع کا سبب بنایا ہوا ہے
     
  7. ‏نومبر 02، 2017 #7
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    بھائی جان چاروں فقہاء اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اطاعت کرتے تھے اور اسی میں کوشاں تھے۔ مجتہد فیہ امور میں اختلاف ایک فطری امر ہے۔
    نہ کسی کا قرآن الگ تھا اور نہ ہی رسول (شیعوں کی بات نہیں)پھر بھی ان میں اختلافات تھے۔
    مقصود یہ ہے کہ مجتہد فیہ اختلافات میں نرمی اختیار کی جائے اور اکثریت سے اتحاد کر لیا جائے تا کہ فتنہ سے بچ سکیں۔
     
  8. ‏نومبر 02، 2017 #8
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    آپ اسے تسلیم بھی کر رہے ہیں کہ یہ نزع کا سبب ہے تو اس کا علاج ہونا چاہیئے۔ مرشد جی یہی کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔
    ننگے سر نماز اہل حدیث کا شعار بن چکا اور ایسا کرنے کا حکم کسی حدیث میں بھی نہیں تو اس کو چھوڑ دینا چاہیئے جو نزاع کا باعث ہے۔
     
  9. ‏نومبر 02، 2017 #9
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,198
    موصول شکریہ جات:
    1,060
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    پہلے سمجھ لینا چاہئے پھر کچھ لکھنا چاہئے. میں نے کہا تھا کہ یہ مسئلہ بہت آسان ہے جسے بعض متعصب حضرات نے نزاع کا سبب بنا لیا ہے.
    یہ جھوٹ ہے. میں خود سر ڈھکنے کو اچھا عمل سمجھتا ہوں. اور میرے کئی ساتھی بھی اسی موقف کے قائل ہیں. اسکے علاوہ ہمارے کئی اساتذہ اسکے قائل ہیں. مزید کئی شیوخ کا بھی یہی موقف ہے.
    اب بس مجھے آپ سے بحث نہیں کرنی.
     
    • متفق متفق x 2
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 02، 2017 #10
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    آپ کی بات سو فی صحیح سچ اور ٹھیک ہے۔ جو اہل حدیث غیر عالم عامی ہیں ان میں یہ چیز عام پائی جاتی ہے اور اس کو کچھ اہل حدیث علماء کی تائید بھی حاصل ہے۔
    مقصود یہ ہے کہ اسے شعار نہ بنایا جائے اور جہاں شعار بن چکا وہاں اسے چھوڑنے کی ترغیب دی جائے نہ کہ جواز کی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں