1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نوجوان لڑکیوں کے نام

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از مشکٰوۃ, ‏فروری 17، 2014۔

  1. ‏مارچ 08، 2014 #11
    مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ سینئر رکن
    جگہ:
    اللہ کی رحمتوں کے زیر سائے ان شاء اللہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 23، 2013
    پیغامات:
    1,466
    موصول شکریہ جات:
    926
    تمغے کے پوائنٹ:
    237

    جمعہ کے دن کرنے کے خصوصی کام
    اے میری بہنو!۔۔جمعہ کے دن میں اپنے نفوس کا محاسبہ کرنا اور رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی طرف لوٹنا ہم پر لازم ہے۔
    ان سنتوں میں چند ایک حسبِ ذیل ہیں:
    1)سورۃ الکھف کی تلاوت۔اس کی تلاوت سے دجال کے فتنہ کا مقابلہ کرنے کی استعداد نیز دنیا و آخرت میں ایک نو ر حاصل ہو تاہے آفتاب سے لے کر غروبِ آفتاب تک کسی بھی وقت تلاوت کی جا سکتی ہے۔
    2)رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی کثرت۔
    3)کثرتِ دعا کا اہتمام کرنا تاکہ جمعہ کے دن کی وہ مخصوص گھڑی مل جائے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبولیت کا وقت قرار دیا ہے۔
    4)مسواک کا استعمال ،خاوند اور بچوں کو صاف ستھرا رکھنا اور مسجد کی صفائی کے لئے اکٹھا ہونا ۔
    5)نمازِ عصر سے لے لر غروبِ آفتاب تک جائے نماز پر ہی بیٹھے رہنا اور ذکر اللہ ،دعا اور توبہ استغفار سے زبان کو تر رکھنا
    یومِ جمعہ کو دیگر ایام پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ یہ پورے ہفتے کا میزان ہے ۔جیسے کہ رمضان المبارک کا مہینہ پورے سال اور حج تمام عمر کا میزان ہے۔
     
  2. ‏مارچ 08، 2014 #12
    مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ سینئر رکن
    جگہ:
    اللہ کی رحمتوں کے زیر سائے ان شاء اللہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 23، 2013
    پیغامات:
    1,466
    موصول شکریہ جات:
    926
    تمغے کے پوائنٹ:
    237

    دنیا وآخرت کی کامیابی زبان کی حفاظت میں
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
    "من یضمن لی ما بین فکیہ وما بین رجلیہ اضمن لہ الجنۃ"(1)
    "جو مجھے زبان اور شرمگاہ کی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔"
    نیز حدیث میں ہے:
    "سئل النبی ﷺ عن اکثر ما یدخل الناس النار؟فقال :الفم والفرج"(2)
    "لوگوں کو جہنم میں زیادہ داخل کرنے والی کون سی چیزیں (بنیادی گناہ) ہیں ؟جواب دیا منہ اور شرمگاہ(کے گناہ)۔"
    اسی طرح پیغمبرِ اسلام نے عورتوں کو درج ذیل الفاظ میں وعظ کیا:
    "یا معشر النساء تصدقن فانکن اکثر اھل النار"(3)
    "اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ و خیرات کیاکرو کیونکہ جہنمیوں کی اکثریت تم ہو۔"
    دریافت کیاگیا کہ اے اللہ کے رسول وہ کس وجہ سے؟فرمایا اس لئے کہ تم خاوند کی ناشکری کرتی ہو اور لعنت ملامت (یعنی زبان کا ناجائز استعمال)بہت کرتی ہو ۔
    عورتوں کی آزمائش ان کی زبانوںمیں ہے ۔چنانچہ ہمارے دیکھنے کے مطابق ان کی اکثر مجالس بے فائدہ ہوتی ہیں ،مگر جس پر اللہ رحم کرے ۔کسی سلف کا قول ہے کہ عورتوں کی اکثر باتیں اپنے خاوندوں کے متعلق اور مردوں کی تجارت کے متعلق ہوتی ہیں،یعنی عمومی طور پر خاوندوں کے متعلق یا اپنی ہم جنس عورتوں کے بارہ میں باتیں کرتی ہیں ،سب سے بڑی فکر یہ ہوتی ہے کہ فلاں کو طلاق ہوگئی ۔۔فلاں عورت نے آج یہ فیشن کیاتھا ،فلاں نے اس طرح کا لباس زیب تن کیا ۔۔۔فلاں عورت اور اس کے خاوند میں یا سسرالیوں کے مابین لڑائی ہوئی ہے۔۔۔وغیرہ۔
    ان کی مجالس نئے نئے فیشنوں اور کپڑوں کے متعلق ہوں گی یا کپڑوں کی دنیا میں کمرشلوں پر گفتگو ہو گی ۔مشکل یہ ہے کہ اس قسم کی باتوں سے نہ تو زبانیں تھکتی ہیں اور نہ ہی کان سننے سے بے زار ہوتے ہیں ۔حالانکہ اس طرح کی تمام باتیں غیبت یا لغویات میں شمار ہوتی ہیں ،جو کہ گناہ ہیں اور ان کے بارے سختی سے ممانعت آئی ہے۔اور اگر کوئی اسی فضول گوئی کی عادی بہنوں کو اللہ کی یاد دلائے اور وعظ و نصیحت کرنا چاہے تو اکثریت ناراض ہو جاتی ہیں۔۔۔۔بعض تو نصیحت کرنے والی کی بات کاٹ کر لڑنا اور طعنے دینا شروع کر دیتی ہیں ۔فیشنوں کے متعلق باتیں کرتی ہماری بہنیں کب تھکیں گی؟انہیں کب علم ہوگا کہ عورت کا جمال ،آب و تاب اور سعادت مندی،شکل و صورت ،کپڑوں ،ہیئت اور باہر جانے میں نہیں بلکہ ربِ کعبہ کی قسم ان کا جمال و خوبصورتی اور نیک بختی تقوٰ ی میں ہے اور ان کا ایمان معاشرہ میں اپنے فرائض سر انجام دینے اور نسلوں کی تربیت کرنے میں ہے ۔یقینا جو عورت اپنی زبان اور کان کی محافظت کرتی اور گندگی کی آلودگیوں سے بچاتی ہے وہی دنیا و آخرت میں حقیقی نیک بختی اور سعادت مندی حاصل کرتی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (1)بخاری کتاب الرقاق باب حفظ اللسان
    (2)صحیح ترمذی البانی رقم 2004 ،کتاب البر والصلۃ ۔باب ماجاء فی حسن الخلق
    (3)بخاری،کتاب الحیض: باب ترک الحائض الصوم۔ صحیح ترمذی البانی رقم 2107
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 10، 2014 #13
    مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ سینئر رکن
    جگہ:
    اللہ کی رحمتوں کے زیر سائے ان شاء اللہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 23، 2013
    پیغامات:
    1,466
    موصول شکریہ جات:
    926
    تمغے کے پوائنٹ:
    237

    اصل حسن،حسنِ اخلاق میں بدصورتی بدخلقی میں
    ذیل میں ہم ان قباحتوں کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں جو عوتوں میں عام ہو چکی ہے اور نیز ہم ان قباحتوں کی اصلاح کے آرزو مند ہیں تاکہ معاشرہ اسلامی راہ پر گامزن ہوسکے۔اور تاکہ مسلمان بہنیں حقیقی جمال کی حامل بنیں اور بدخلقی جیسی اصل بد صورتی اورقباحت سے خود کو صاف کر سکیں۔
    1) دوسروں کی بات سننے میں سوء ادب اختیار کیا جاتا ہے ،یعنی بات کرنے والی کی بات درمیان میں اس لئے کاٹ دی جاتی ہے تا کہ ظاہر کیا جائے کہ ہماری بات زیادہ اہم اور اس کی فضول ہے۔ہماری عورتیں یہ قبیح عادت کب ترک کریں گی؟
    2) بعض عورتیں ملاقات کے وقت السلام علیکم کہنے سے کتراتی ہیں اور ملتے وقت گڈ مارننگ ،گڈ ایوننگ اور الوداع ہوتے وقت بائے بائے یا ٹا ٹا جیسے غیر اسلامی آداب بجا لاتی ہیں یا اپنے معاشرتی ذوق کے مطابق الفاظ استعمال کرتی ہیں۔اور اس چیز سے بے بہرہ ہوتی ہیں کہ ملاقات کا تحفہ السلام علیکم پیش کرنے سے سنت زندہ ہوتی ہے۔
    3)بات کرتے وقت اکھڑ پن کا مظاہرہ اور ایسے الفاظ کا استعمال کرتی ہیں جو مقابل کے شعور کو ٹھیس پہنچانے والے ہوتے ہیں ،ایسی بہنوں کو ہم رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد دلاتی ہیں:
    "الکلمۃ الطیبۃ صدقۃ"(1)
    "اچھی بات بھی صدقہ ہے۔"
    لہذا گفتگو کرتے وقت شائستگی ،ہونٹوں پر مسکراہٹ ،عمدہ الفاظ کا ستعمال ہو نا چاہیئے کیونکہ پیغمبر َ اخلاق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "تبسمک فی وجہ اخیک لک صدقۃ"(2)
    "تیرا اپنے بھائی کے روبرو مسکرانا تیرے لئے صدقہ ہے۔"
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (1)بخاری ،کتاب الصلح: باب فضل الاصلاح بین الناس
    (2)صحیح ترمذی ،البانی رقم 1956
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 10، 2014 #14
    مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ سینئر رکن
    جگہ:
    اللہ کی رحمتوں کے زیر سائے ان شاء اللہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 23، 2013
    پیغامات:
    1,466
    موصول شکریہ جات:
    926
    تمغے کے پوائنٹ:
    237

    پھول سے بچوں کو بد دعائیں نہیں نیک دعائیں دیں
    اکثر وبیشتر اولاد کے لئے بد دعا کی جاتی ہے اور معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا۔بعض عورتوں کو دیکھتے ہیں کہ جب ان کا بیٹا کہیں پر غلطی کر بیٹھے تو بددعا کرنا شروع ہو جاتی ہیں اور اتنی مگن ہو جاتی ہیں کہ تقریا آدھ آدھ گھنٹہ اس پر صرف کر ڈالتی ہیں،ہمیں علم ہوناچاہیئے کہ والدین کی دعا شرفِ قبولیت پا لیتی ہے۔چنانچہ صحیح مسلم میں سیدنا جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان حسبِ ذیل الفاط میں بیان کرتے ہیں:
    "لا تدعوا علی انفسکم ولا تدعوا علی اولادکم ولا تدعوا علی اموالکم لا توافقوامن اللہ ساعۃ یسال فیھاعطاء فیستجیب لکم"(1)
    "تم اپنے لئے اپنی اولاد کے لئے اور اپنے مال و کاروبار کے لئے بد دعائیں مت کیا کرو ،کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھاری بددعائیں اس گھڑی کو پالیں جس میں اللہ کی طرف سے دعائیں قبول کی جاتی ہیں پس وہ تمھاری بد دعائیں قبول فرما لے۔"
    اے میری بہن!۔۔۔تیرا دل اپنے بیٹے کوبد دعا دینے کو کیسے چاہتا ہے ؟ حالانکہ یہ وہی بیٹا ہے جسے معمولی سا زخم بھی آجاتا ہے تو قیامت برپا ہو جاتیَ۔اللہ رحم فرمائے ذرا غور و فکر کر۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مسلم،کتاب الزھد:حدیث جابر الطویل وقصۃ ابی الیسر رقم 3009۔ ابو داؤد ،کتاب الوتر: باب النھی علی ان یدعو الانسان علی اھلہ ومالہ
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 10، 2014 #15
    مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ سینئر رکن
    جگہ:
    اللہ کی رحمتوں کے زیر سائے ان شاء اللہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 23، 2013
    پیغامات:
    1,466
    موصول شکریہ جات:
    926
    تمغے کے پوائنٹ:
    237

    لباس یاہیئر سٹائل میں کفار کی مشابہت کریں تو کیوں؟
    بالوں اور لباس میں یورپ کا اسٹائل اپنانا اور ایسا مغربی فیشن کرنا جس کا دین ِ اسلام اور سنت کے ساتھ ذرا بھی تعلق نہیں۔خاص کر بعض عورتیں اہلِ مغرب کی مشابہت میں بالوں کو گولڈن یا زرد کر لیتی ہیں اور دلیل دیتی ہیں کہ بالوں کو سیاہ کرنا حرام ہے یا کہ علما نے ایسے رنگوں کی اجازت دی ہے۔
    ہمارا جواب یہ ہے کہ اگر علماء کو پتہ چل جاتا کہ تم بندر کی اولاد (یہودیوں ) کی تقلید کرو گی تو ہر گز جواز کا فتوٰی نہ دیتے ۔دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تو یہ ہے:
    " من تشبھہ بقوم فھو منھم"(1)
    "جو کسی (کافر) قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے۔"
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (1)ابو داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشھرۃ
     
  6. ‏مارچ 10، 2014 #16
    مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ سینئر رکن
    جگہ:
    اللہ کی رحمتوں کے زیر سائے ان شاء اللہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 23، 2013
    پیغامات:
    1,466
    موصول شکریہ جات:
    926
    تمغے کے پوائنٹ:
    237

    اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
    فی سبیل اللہ خرچ کرنے سے گریز خاص کر مجاہدینِ اسلام کے لئے چندہ دینے سے بھاگتی ہیں۔
    ہم تمنا کرتے ہیں کہ ہماری بہنیں جیسے شادی بیاہ کے فنکشنز میں اس رقص کی وجہ سے پیسے لٹاتی ہیں جس میں ہماری اکثر نوجوان لڑکیاں مبتلا ہو چکی ہیں اور اس سے بڑھ کر اللہ کے راستے میں بھی خرچ کریں گی(اور میرے خیال میں اگر وہ ناچنے والی اپنی آپ کو شیشے میں ڈانس کرتا دیکھ لے تو خود کو پاگل کہنا شروع کر دے۔)
     
  7. ‏مارچ 10، 2014 #17
    مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ سینئر رکن
    جگہ:
    اللہ کی رحمتوں کے زیر سائے ان شاء اللہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 23، 2013
    پیغامات:
    1,466
    موصول شکریہ جات:
    926
    تمغے کے پوائنٹ:
    237

    لوگوں کے عیب تلاش مت کیا کریں اس لئے کہ
    بعض عورتوں کا لوگوں کی پوشیدہ باتیں جاننا محبوب مشغلہ ہے،خاص کر ان گھروں کی رپورٹیں جن میں زیادہ بہوویں رہتی ہیں۔
    ہماری بہنوں کو کب معلوم ہو گا کہ گھروں کی حرمتیں اور راز ہوتے ہیں جن پر وہی لو گ مطلع ہو سکتے ہیں جو اس کے اہل ہیں۔ایسی حرکتیں کرنے والی تما م بہنوں کو ڈرنا چاہیئے کہ کہیں اللہ تعالٰی قیامت کے دن تمام دنیا کے سامنے ان کے راز افشاء نہ کردے۔
    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو فرمایا:
    "یا معشر من امن بلسانہ لا توذوا المسلمین ولا تتبعوا عوراتھم فانہ من یتبع عورۃ اخیہ المسلم تتبع اللہ عورتہ ومن یتبع اللہ عورتہ یفضحہ ولو فی جوف رحلہ"(1)۔
    "اے لوگو! جو زبان سے مسلمان ہو چکے ہو۔۔۔تم مسلمانوں کو تکلیف نہ پہنچاؤ اور نہ ان کے عیب تلاش کرو۔(یاد رکھو) جو شخص اپنے بھائی کے عیب تلاش کرتا ہے اللہ تعالٰی اس کے عیبوں کو تلاش کرے گا اور جس کے عیوب اللہ تلاش کرنا شروع کر دے اسے رسوا کر کے رکھ دے گا خواہ وہ اپنے گھر میں ہی ہو رہے ۔"
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صحیح ترمذی البانی رقم 1655۔کتاب البر والصلۃ: باب ماجاء فی تعظیم المومن
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 10، 2014 #18
    مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ سینئر رکن
    جگہ:
    اللہ کی رحمتوں کے زیر سائے ان شاء اللہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 23، 2013
    پیغامات:
    1,466
    موصول شکریہ جات:
    926
    تمغے کے پوائنٹ:
    237

    کزن خواہ اپنے ہوں یا خاوند کے نیز خاوند کے بھائی سے پردہ:
    یہ نقطہ خاص بہوؤں کے لئے ہے یعنی دیور سے پردہ کرنے میں بڑی سستی کا مظاہرہ کرتی ہیں حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
    "الحموا الموت "(1)
    "(عورت کے لئے)دیور توموت ہے۔"
    حمو کی تشریح میں ہر قسم کے کزن بھی شامل ہیں۔لہذا اس معاملے میں خصوصی طور پر اللہ سے ڈرنا چاہیئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (1)بخاری ،کتاب النکاح: باب لا یخلون رجل بامراۃ الاذو محرم والدخول علی المغیبۃ
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏مارچ 10، 2014 #19
    مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ سینئر رکن
    جگہ:
    اللہ کی رحمتوں کے زیر سائے ان شاء اللہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 23، 2013
    پیغامات:
    1,466
    موصول شکریہ جات:
    926
    تمغے کے پوائنٹ:
    237

    ادھورا نہیں مکمل پردہ کریں:
    کچھ بہنیں ہاتھ،کلائی اور پاؤں کے اظہار میں متساہل ہیں۔اور جن کے بال ذرا لمبے ہیں وہ اوپر والے بال چھپا لیتی ہیں مگر نچلے ویسے ہی چھوڑ دیتی ہیں ،جو چادر سے باہر جھانکتے رہتے ہیں ۔کئی کی تو حیاء کافور ہو چکی ہوتی ہے اور وہ سفید شفاف کپڑے یا اتنے تنگ کپڑے پہنتی ہیں جس سے جسم کا ہر اعضاء نمایاں ہو جاتا ہے اور بسا اوقات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں جو آدھی کمر تک پہنچتے ہیں باقی آدھی کا خدا حافظ ہوتا ہے۔
    ربِ ذوالجلال کی قسم یہ بہت بڑا خطرہ اور کبیرہ گناہ ہے،اللہ سے حیاء کرنا کہاں گیا؟
    اے مومن بہنو!۔۔۔اکثر تم میں سے ربِ تعالٰی سے ستر پوشی کا سوال کرتی ہیں لیکن خود اپنے سر کا خیال تک نہیں رکھتیں اور اسے کھولے پھرتی ہیں۔۔۔کچھ ایسی ہوتی ہیں جو دیور سے ہنسی مذاق اور مزاح کرتی اور بلند آواز سے ہنستی ہیں۔،بعض کا معاملہ تو مصافحہ تک جا پہنچتا ہے گویا ان کے کانوں اور آنکھوں پر مہریں ثبت ہو چکی ہیں۔
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏مارچ 10، 2014 #20
    مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ سینئر رکن
    جگہ:
    اللہ کی رحمتوں کے زیر سائے ان شاء اللہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 23، 2013
    پیغامات:
    1,466
    موصول شکریہ جات:
    926
    تمغے کے پوائنٹ:
    237

    اونچی ایڑھی والے جوتے ،چکنے لوشن اور پالش:
    بعض عورتیں ہمیشہ بلند ایڑھی والی جوتی استعمال کرتی ہیں ۔جس سے چلتے ہوئے ٹک ٹک کی آواز پیدا ہوتی ہے ۔شاید اسے علم نہیں کہ اکثر مشائخ نے اس کی حرمت کا فتوٰی دیتے ہوئے کہا ہے کہ۔۔۔۔اگر ایڑھی کی وجہ سے آواز پیدا ہوتی ہو تو سورۃ نور کی آیت میں منع کردہ پازیب کی آواز سے زیادہ سخت حرام ہے۔
    اسی طرح کئی عورتیں ہمیشہ ایسے لوشن اور پالش استعمال کرتی ہیں جن کے نام بے ہودہ قسم کے ہیں اور پانی کو جلد تک پہنچنے نہیں دیتے ،جس سے وضو درست نہیں ہو سکتا ۔اور اگر وضو صحیح نہیں تو نماز کیسے ہو جائے گی؟نیل پالش کی صورت میں اس کی مثال خاص طور پر ہمارے سامنے رہتی ہے۔۔
    اس طرح کی ردی اشیاء کے استعمال سے ہماری عقلیں کب بیزار ہوں گی۔۔۔۔۔؟
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں