1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نوح علیہ السلام کی قوم میں شرک نیک لوگوں کی عقیدت میں غلو سے پیدا ہوا

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏مئی 15، 2012۔

  1. ‏مئی 15، 2012 #1
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں شرک اس وقت پیدا ہوا جب انہوں نے نیک لوگوں کی تعظیم میں غلو کیااور اپنے نبی کی دعوت سے تکبر کی بنا پر انکار کیا:
    وَقَالُوا۟ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّۭا وَلَا سُوَاعًۭا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًۭا ﴿23﴾
    امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اپنی کتاب "الصحیح" میں نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
    "یہ نوح علیہ السلام کی قوم کے نیک آدمیوں کے نام ہیں،ان کے انتقال کرنے پر شیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ ان مجلسوں میں جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے مورتیاں رکھو اور ان کے نام بزرگوں کے ناموں پر رکھو ۔انہوں نے ایسا ہی کیا لیکن ان مورتیوں کی پوجا نہ کی۔ان کی پوجا اس وقت شروع ہوئی جب مورتیاں رکھنے والے فوت ہو گئے اور لوگ ان کی اصل حقیقت کو بھول گئے۔(صحیح بخاری6/133)
    اقتباس "حقیقت توحید از صالح بن فوزان
     
  2. ‏مئی 16، 2012 #2
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    کیا ابن عباس اس وقت موجود تھے؟ ان کو یہ باتیں کہاں سے معلوم ہوئیں؟
     
  3. ‏مئی 16، 2012 #3
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    عجیب ہی سوال پوچھا آپ نے بھی۔۔۔ چلیں ایک سوال میں بھی آپ سے کئے لیتا ہوں۔ بخاری جنہوں نے اس روایت کو نقل کیا ہے کیا وہ اُس وقت موجود تھے ؟۔ اور اُن کو یہ روایت کہاں سے معلوم ہوئی؟۔
     
  4. ‏مئی 16، 2012 #4
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    بخاری صاحب نے تو جناب ابن عبّاس کا نام لے کر یہ باتیں لکھی ہیں، حقیقت میں بخاری صاحب ہی ان باتوں کے ذمّہ دار ہیں۔
     
  5. ‏مئی 16، 2012 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بحث کا آغاز کر کے آپ فرار ہو جاتے ہیں۔کئی تھریڈ میں آپ سے انس نضر بھائی اور سرفراز فیضی بھائی نے سوال کیا لیکن آپ پھر بحث کی طرف نہیں آتے۔

    میں شاید پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ آپ کا اور ہمارا بنیادی اختلاف یہ ہے کہ آپ حدیث کو نہیں مانتے اور ہم قرآن و حدیث دونوں کو مانتے ہیں۔

    اگر آپ احادیث مبارکہ کو ماننا شروع کر دیں تو یہ اختلافات ختم ہو جاتے گے۔ان شاءاللہ

    لہذا بنیادی اختلاف کی طرف آؤ،اور ان سوالات کے مدلل جوابات دو (اگر ہیں تو)

    میں آپ سے پہلے دیگر منکرین حدیث مثلا شاہین صاحب اور فیصل ناصر صاحب سے ان سوالات کے جوابات کا مطالبہ کیا تو سارے فرار کا راستہ پکڑتے ہوئے نظر آئے۔

    چلو اب آپ جواب دو۔

    منکرین حدیث سے چار سوالات
     
  6. ‏مئی 16، 2012 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بھائی یہ منکرین حدیث ہے۔
     
  7. ‏مئی 16، 2012 #7
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    اچھا چلیں۔۔۔ ہم آپ کی بات مان لیں۔۔۔ تو کیا اس طرح آپ کا یہ دعوٰی نعوذ باللہ قرآن کے حوالے سے اس کے جمع کرنے پر شکوک وشبہات کو پیدا نہیں کرے گا؟؟؟۔۔۔ اس سوال پر آپ ذرا تفصیل سے روشنی ڈالئے گا۔
     
  8. ‏مئی 17، 2012 #8
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    آدمی جب تک عقل و دماغ کو طاق پر رکھ کر بھولا نہ دے منکر حدیث نہیں بن سکتا ۔
     
  9. ‏مئی 17، 2012 #9
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    میرا بھی یہی سوال ہے ۔
     
  10. ‏مئی 17، 2012 #10
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    سلام ورحمۃ
    میں صرف ایک بات جانتا ہوں۔۔۔ جس نے حدیث کا انکار کیا۔۔۔ تو اُس نے سیدھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلادیا۔۔۔ مگر امام بخاری پر اعتراض اس لئے کیا جاتا ہے کے ان پر اعتراض رکھ کر علماء حق اِن کے خلاف کوئی فتوٰی نہ جاری کردیں جیسا کے قادیانیوں کے لئے جاری کیا جاچکا ہے حالانکہ سامنے سے دونوں مختلف ہیں مگر کڑیاں اگر دیکھا جائے تو پیچھے سے ایک ہیں۔۔۔ ہمارا قرآن تو وہ بھی پڑھتے ہیں اور یہ بھی خود ہو اہل قرآن کہتے ہوئے قرآن کے صحیح ہونے پر اتفاق کرتے ہیں مگر اسی قرآن میں لکھے اللہ واحدہ لاشریک کے فرمان کو یہ کھلی آنکھوں سے نظر انداز کرتے ہوئے گذر جاتے ہیں۔۔۔

    فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ
    اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف (النساء ٥٩)۔

    اچھا ایک بات جو اکثر نوٹ بھی کی ہوگی۔۔۔ کے امام بخاری پر اعتراض کرتے کرتے اہل القرآن اتنا بدمست ہوجاتے ہیں کے وہ احادیث پر بھی اعتراض شروع کردیتے ہیں۔۔۔ جس سے خود ان کے ذہنوں اور دلوں میں چھپی گندی سامنے آجاتی ہے۔۔۔ ایک گروہ صحابہ کو طعن وتشنع کا نشانہ بناتا ہے تو دوسرا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو۔۔۔ تو ذرا غور فرمائیں۔۔۔ کے اللہ نے نبی پاک سے کتنی پیاری بات ارشاد فرمائی۔۔۔

    لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ
    تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے

    تو جو فرقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں مانتا تو وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کو کیا ماننے گا اور صد افسوس کے اس ایسے افراد سے جو خود کو اہل القرآن باور کرواتے ہیں۔۔۔ یہ وہی قرآن جو نبی کے قلب پر اللہ کے حکم سے نازل ہوا۔۔۔
    قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّـهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ (اے نبی!) آپ کہہ دیجیئے کہ جو جبریل کا دشمن ہو جس نے آپ کے دل پر پیغام باری تعالیٰ اتارا ہے، جو پیغام ان کے پاس کی کتاب کی تصدیق کرنے واﻻ اور مومنوں کو ہدایت اور خوشخبری دینے واﻻ ہے۔

    تو اس قرآن کو کیوں مانتے ہو کیونکہ یہ بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے تلاوت ہواتب ہی کاتبوں نے لکھا۔۔۔ سیدھی بات ایسے لوگوں کے لئے صرف ہم یہ ہی دعا کرسکتے ہیں کے اللہ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے۔۔۔ کیونکہ جس کی تابعداری میں یہ دنیا میں توہین رسالت کا بیج بو رہے ہیں آخرت میں دیکھ لیں ان کا انجام کیا ہونے جارہا ہے۔۔۔

    وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ ﴿١٦٧﴾
    اور تابعدار لوگ کہنے لگیں گے، کاش ہم دنیا کی طرف دوبارہ جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہوجائیں جیسے یہ ہم سے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال دکھائے گا ان کو حسرت دﻻنے کو، یہ ہرگز جہنم سے نہ نکلیں گے

    واللہ تعالٰی اعلم۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں