1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نور الدین زنگی کا واقعہ اور اس کی حقیقت

'تذکرہ مشاہیر' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد المالكي, ‏جنوری 10، 2018۔

  1. ‏جنوری 10، 2018 #11
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,404
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے درج ذیل الفاظ میں اس مسئلہ پر ۔۔ ماشاء اللہ بالکل صحیح اور حق لکھا ،جزاہ اللہ تعالی احسن الجزاء
    اور فرمایا :
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ایک اور حوالہ مزید پیش ہے ؛
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    یہ صحیح ہے کہ انسان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نیند میں دیدار کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی اپنی اصلی صورت میں دیکھے۔ چونکہ ہمارے پاس ایسا کوئی پیمانہ نہیں کہ رؤیت کا دعویدار مصیب ہے یا مخطی لہٰذا ہم اس کے دعویٰ رؤیت کے بارے میں سکوت کرتے ہیں بشرطیکہ اس کا بیان کردہ خواب کتاب و سنت کے مخالف نہ ہو اوروہ شخص صحیح العقیدہ ہو۔
    را یہ مسئلہ کہ جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھے وہ عنقریب بیداری میں دیکھے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرے گا۔ واللہ اعلم۔
    عربی علماء کے فتاویٰ میں ہے کہ ’’لانہ یحتمل ان المراد بانہ: فسیرانی یوم القیامۃ و یحتمل ان المراد: فسیری تاویلہ‘‘ اس کا احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ ہو: وہ مجھے قیامت کے دن دیکھے گا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ ہو: وہ اس کی تاویل دیکھ لے گا۔ (فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ للجوث العلمیۃ والافتاء ج۲ ص۶۷، بحوالہ المکتبۃ الشاملۃ)

    یاد رہے کہ دنیا میں اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بیداری میں ناممکن (اور کسی دلیل سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے محال) ہے۔
    دیکھئے فتاویٰ دارالافتاء سعودی عرب (ج۲ ص۱۷۷، ۱۷۸)
    آپ نے پیشانی پر سجدے والی جو حدیث ذکر کی ہے اسے امام احمد (۲۱۴/۵ ح۲۱۸۶۴) وغیرہ نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ صحیح ابن حبان (الاحسان: ۷۱۰۵، دوسرا نسخہ: ۷۱۴۹) مں اس کا ایک شاہد بھی ہے اور دوسری سندیں بھی اس کی مؤید ہیں لہٰذا یہ روایت مضطرب نہیں بلکہ صحیح ہے۔ دیکھئے اضواء المصابیح (۴۶۲۴)
    شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھئے ہدایۃ الرواۃ (۳۰۶/۴ ح۴۵۴۸)

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


    ج2ص64

    محدث فتویٰ
     
  2. ‏جنوری 10، 2018 #12
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,404
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا دیدار ممکن ہے
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    سوال :: آپ نے لکھا ہے کہ ’’یاد رہے کہ اس فانی دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہونا کسی صحیح حدیث یا آثارِ سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے۔ اگر اس طرح دیدار ہوتا تو صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کو ضرور ہوتا، مگر کسی سے بھی اس کا کوئی ثبوت نہیں آیا۔ رہے اہلِ تصوف اور اہلِ خرافات کے دعوے تو علمی میدان میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔‘‘ (ماہنامہ الحدیث: ۶۲ ص۱۱)
    اس عبارت کا کیا مطلب ہے؟ کیا خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ممکن نہیں ہے؟
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں عالم بیداری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کسی صحیح حدیث یا آثارِ سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے لہٰذا شعرانی وغیرہ قسم کے مبتدعین جو دعوے کرتے رہے ہیں، وہ سارے دعوے غلط اور باطل ہیں، علمی و تحقیقی مدیان میں ان کو کوئی حیثیت نہیں ہے۔
    شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ نے فرمایا: بیداری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت محال (ناممکن) ہے۔ (التحذیر من البدع لابن باز ص۱۸، الرؤی والاحلام فی سیرۃ خیر الانام لاسامۃ بن کمال ص۹۸)
    رہا عالم خواب اور نیند میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہونا تو یہ بالکل صحیح اور برحق ہے، بشرطیکہ دیدار کا دعویٰ کرنے والا ثقہ اور اہل حق میں سے ہو، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی صورتِ مبارکہ پر ہی دیکھا ہو اور یہ خواب دلائل شرعیہ کے خلاف نہ ہو۔

    بطورِ فائدہ عرض ہے کہ راقم الحروف نے کافی عرصہ پہلے لکھا تھا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا جا سکتا ہے بشرطیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی صورت پر دیکھا جائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں جو دیکھا تو یہ بالکل صحیح ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مبارک پہچانتے تھے۔ ان کے بعد جو بھی دیکھنے کا دعویٰ کرے گا تو اگر اس کا عقیدہ صحیح ہے تو پھر اس کے خواب کو قرآن و حدیث و فہم سلف صالحین پر پیش کیا جائے گا، ورنہ ایسے خوابوں سے دوسرے لوگوں پر حجت قائم کرنا صحیح نہیں ہے۔
    یہ بات بالکل صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل مبارک میں شیطان لعین ہرگز نہیں آسکتا مگر کسی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ شیطان جھوٹ نہیں بول سکتا اور کسی دوسری شکل میں آکر کذب بیانی سے اسے کسی مومن اور صالح شخص کی طرف منسوب نہیں کرسکتا۔
    (۲)
    اگر اس حدیث کو عام سمجھا جائے تو پھر دیکھنے والا قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیداری میں دیکھے گا۔‘‘ (دیکھئے ماہنامہ الحدیث: ۴۰ص۱۳-۱۲)
    فی الحال تین خواب پیشِ خدمت ہیں، جن کی سندیں بھی صحیح ہیں اور خواب دیکھنے والے ثقہ بلکہ فوق الثقہ تھے:

    ۱: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کو خواب میں دیکھا۔ (دیکھئے مسند احمد (۲۴۲/۱ و سندہ حسن لذاتہ) اور ماہنامہ الحدیث (عدد ۱۰ص۱۶-۱۴)
    ۲: مشہور ثقہ امام ابوجعفر احمد بن اسحاق بن بہلول نے فرمایا: میں اہلِ عراق کے مذہب پر (یعنی تارکِ رفع یدین) تھا پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ آپ پہلی تکبیر، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھا کر رفع یدین کرتے تھے۔ (سنن الدارقطنی ۲۹۳/۱ ح۱۱۱۲، و سندہ صحیح)



    ۳: حافظ الضیاء المقدسی نے فرمایا کہ میں نے حافظ عبدالغنی (بن عبدالواحد بن علی المقدسی رحمہ اللہ) کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، میں آپ کے پیچھے چل رہا تھا اور میرے اور آپ کے درمیان ایک دوسرا آدمی تھا۔ (سیر اعلام النبلاء ۴۶۹/۲۱)

    یہ بالکل جھوٹی حکایت ہے (چاہے اس سے خواب مراد ہو یا عالم بیداری کا واقعہ جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپ نے غیر عورت کے چہرے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے شرم و حیا والے تھے کہ آپ نے اپنی ساری زندگی میں کسی غیر عورت سے ہاتھ تک نہیں ملایا تھا۔ یہ حکایت نزہۃ المجالس نامی کتاب میں نہیں ملی اور اگر اس کتاب میں مل بھی جائے تو بھی باطل ہے۔ عبدالرحمن صفوری (متوفی ۸۹۴ھ) کی (بے سند روایات والی) کتاب: ’’نزہۃ المجالس و منتخب النفائس‘‘ ناقابل اعتمھاد کتاب ہے۔ برہان الدین محدث دمشق نے اس کتاب کو پڑھنے سے منع کیا اور جلال لادین سیوطی نے اس کے مطالعے کو حرام قرار دیا۔ دیکھئے کتاب: کتب حذرمنھا العلماء (ج۲ ص۱۹)
    تنبیہ:


    اس قسم کا ایک ضعیف و مردود واقعہ ایک مردمیت کے بارے میں ابن ابی الدنیا کی کتاب المنامات (ح۱۱۸) میں لکھا ہوا ہے لیکن غیر عورت کے بارے میں اس طرح کا واقعہ کہیں بھی نہیں ملا اور نہ ابونعیم کی کسی کتاب میں اس کا کوئی نام و نشان ہے۔

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

    فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

    ج2ص66

    محدث فتویٰ
     
    Last edited: ‏جنوری 10، 2018
  3. ‏جنوری 10، 2018 #13
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,404
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا امکان
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    سوال :

    کیا کسی شخص کو خواب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت ہو سکتی ہے۔ ؟ خصوصاً جب کسی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنی آنکھ سے نہیں دیکھا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پہچان کیسے کرے گا جب کہ اس سلسلہ میں کئی لوگ کہتے ہیں کہ انہیں بتا دیا جاتا ہے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی ہیں ۔ ؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    مذکورہ بالا سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا زبیر علی زئی حفظہ اللہ فرماتے ہیں۔:
    عالَم خواب اور نیند میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہونا تو بالکل صحیح اور برحق ہے، بشرطیکہ دیدار کا دعویٰ کرنے والا ثقہ اور اہل حق میں سے ہو، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی صورتِ مبارکہ پر ہی دیکھا ہو اور یہ خواب دلائلِ شرعیہ کے خلاف نہ ہو۔
    بطور فائدہ عرض ہے کہ راقم الحروف نے کافی عرصہ پہلے لکھا تھا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا جا سکتا ہے بشرطیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت پر دیکھا جائے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ عیہ وسلم کو خواب میں جو دیکھا تو یہ بالکل صحیح ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مبارک پہچانتے تھے۔ ان کے بعد جو بھی دیکھنے کا دعویٰٰ کرے گا تو اگر اس کا عقیدہ صحیح ہے تو پھر اس کے خواب کو قرآن و حدیث و فہم سلف صالحین پر پیش کیا جائے گا، ورنہ ایسے خوابوں سے دوسرے لوگوں پر حجت قائم کرنا صحیح نہیں ہے۔
    یہ بات بالکل صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل مبارک میں شیطان لعین ہرگز نہیں آ سکتا مگر کسی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ شیطان جھوٹ نہیں بول سکتا اور کسی دوسری شکل میں آ کر کذب بیانی سے اسے کسی مؤمن اور صالح شخص کی طرف منسوب نہیں کر سکتا۔
    بیداری میں دیکھنے کے دو ہی مطلب ہو سکتے ہیں:
    1۔ عہد نبوی میں جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو وہ پھر بیداری میں بھی ضرور دیکھے گا لہٰذا یہ حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خاص ہے:
    2۔ اگر اس حدیث کو عام سمجھا جائے تو پھر دیکھنے والا قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیداری میں دیکھے گا۔ ‘‘ (دیکھئے ماہنامہ الحدیث: ۴۰ ص ۱۲-۱۳)​
    فی الحال تین خواب پیش خدمت ہیں، جن کی سندیں بھی صحیح ہیں اور خواب دیکھنے والے ثقہ بلکہ فوق الثقہ تھے:
    1۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کو خواب میں دیکھا۔ دیکھئے مسند احمد (۲۴۲/۱و سندہ حسن لذاتہ) اور ماہنامہ الحدیث (عدد ۱۰ص ۱۴-۱۶)
    2: مشہور ثقہ امام ابو جعفر احمد بن اسحاق بن بہلول نے فرمایا: میں اہلِ عراق کے مذہب (یعنی تارکِ رفع یدین) پر تھا پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ آپ پہلی تکبیر، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھا کر رفع یدین کرتے تھے۔ (سنن الدارقطنی ۲۹۳/۱ ح ۱۱۱۲، و سندہ صحیح)
    3: حافظ الضیاء المقدسی نے فرمایا کہ میں نے حافظ عبدالغنی (بن عبدالواحد بن علی المقدسی رحمہ اللہ) کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، میں آپ کے پیچھے چل رہا تھا اور میرے اور آپ کے درمیان ایک دوسرا آدمی تھا۔ (سیر اعلام النبلاء 469/21)​
    بہت سے لوگ جھوٹے خواب اور باطل روایات بھی بیان کرتے ہیں، مثلاً محمد زکریا دیوبندی نے لکھا ہے:
    ’’حافظ ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ باہر جا رہا تھا۔ میں نے ایک جوان کو دیکھا کہ جب وہ قدم اٹھاتا ہے یا رکھتا ہے تو یوں کہتا ہے: اللھم صل علیٰ محمد وعلیٰ اٰل محمد۔ میں نے اس سے پوچھا کیا کسی علمی دلیل سے تیرا یہ عمل ہے؟ (یا محض اپنی رائے سے) اس نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا: سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ۔۔میں نے پوچھا یہ درود کیا چیز ہے؟ اس نے کہا، میں اپنی ماں کے ساتھ حج کو گیا تھا۔ میری ماں وہیں رہ گئی (یعنی مر گئی) اس کا منہ کالا ہو گیا اور اس کا پیٹ پھول گیا جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ کوئی بہت بڑا سخت گناہ ہوا ہے۔ اس سے میں نے اللہ جل شانہ کی طرف دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو میں نے دیکھا کہ تہامہ (حجاز) سے ایک ابر آیا اس سے ایک آدمی ظاہر ہوا۔ اس نے اپنا مبارک ہاتھ میری ماں کے منہ پر پھیرا جس سے وہ بالکل روشن ہو گیا اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو ورم بالکل جاتا رہا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کون ہیں کہ میری اور میری ماں کی مصیبت کو آپ نے دور کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تیرا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ میں نے عرض کیا مجھے کوئی وصیت کیجئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی قدم رکھا کرے یا اٹھایا کرے تو اللھم صل علیٰ محمد وعلیٰ اٰل محمد ۔ پڑھا کر۔ (نزہۃ) ۔ ‘‘ [فضائل درود ص ۱۲۳-۱۲۶، تبلیغی نصاب ص ۷۹۳، ۷۹۴)​
    یہ بالکل جھوٹی حکایت ہے۔ (چاہے اس سے خواب مراد ہو یا عالم بیداری کا واقعہ)۔ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپ نے غیر عورت کے چہرے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے شرم و حیا والے تھے کہ آپ نے اپنی ساری زندگی میں کسی غیر عورت سے ہاتھ تک نہیں ملایا تھا۔ یہ حکایت نزہۃ المجالس نامی کتاب میں نہیں ملی اور اگر اس کتاب میں مل بھی جائے تو بھی باطل ہے۔ عبدالرحمٰن صفوری (متوفی ۸۹۴ ھ) کی ( بے سند روایات والی) کتاب : ’’نزہۃ المجالس و منتخب النفائس‘‘ ناقابل اعتماد کتاب ہے ۔ برہان الدین محدث دمشق نے اس کتاب کو پڑھنے سے منع کیا اور جلال الدین سیوطی نے اس کے مطالعے کو حرام قرار دیا۔ دیکھئے کتاب: کتب حذر منھا العلماء (ج ۲ص ۱۹)
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
    فتاویٰ علمائے حدیث


     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں