1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

نکاح سے پہلے شرط

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏مئی 08، 2016۔

  1. ‏مئی 09، 2016 #11
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,679
    موصول شکریہ جات:
    2,015
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    اللہ خیر کرے ۔۔۔۔۔۔
     
  2. ‏مئی 09، 2016 #12
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,585
    موصول شکریہ جات:
    6,511
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اللہ تعالی آپ کی محنتیں قبول فرمائے.آمین!
    مجھے اس بات کا احساس تھا کہ یقینا آپ جواب لکھ رہے ہوں گے..اس لیے محترم عمر بھائی کی درخواست کو موخر کر دیا تھا بلکہ مشورے کے لیے محترم شیخ خضر حیات صاحب کو بھی لکھ دیا تھا...ابتسامہ!
     
  3. ‏مئی 09، 2016 #13
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,943
    موصول شکریہ جات:
    1,019
    تمغے کے پوائنٹ:
    331

    ایک بار پھر معذرت شیخ.
    لیکن محترم جناب کنعان صاحب کے بولنے کی وجہ سے ایسا لکھا. انھوں نے بھی صحیح کہا کہ مجھے چھانٹ پھٹک کر لینی چاہیۓ تھے.
    خیر آپ نے جواب دیا ھے اسکے لۓ میں آپ کا شکر گزار ھوں.
    یقین جانئے میں آپکا بے حد منمون ومشکور ھوں.
    شکرا جزیلا وجزاک اللہ خیرا.
    اللہ سے دعا گو ھوں کہ وہ آپکو دنیا وآخرت میں اسکا بہتر بدلہ عطا فرماۓ.
    اللہ آپکے علم میں، عمل میں اور وقت میں برکت عطا فرماۓ.
    اللہ آپکی ان محنتوں کو قبول فرماۓ.
    میری کسی بات یا کسی عادت کی وجہ سے تکلیف ھوئ ھو تو معافی چاہتا ھوں.

    والسلام.

     
  4. ‏مئی 09، 2016 #14
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,943
    موصول شکریہ جات:
    1,019
    تمغے کے پوائنٹ:
    331

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.
    محترم!
    آپ کو بھی بلا وجہ پریشان کیا. براہ کرم اس کو باقی رکھیں. تاکہ لوگ بشمول میں مستفید ھو سکیں.
    بچہ سمجھ کہ معاف کیجۓ گا.
     
  5. ‏مئی 09، 2016 #15
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,943
    موصول شکریہ جات:
    1,019
    تمغے کے پوائنٹ:
    331

    مؤخر نہ کریں بلکہ رد کر دیں.
     
  6. ‏مئی 09، 2016 #16
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,585
    موصول شکریہ جات:
    6,511
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    جب بڑے ہو جائیں تو مطلع کرنا نا بھولیئے گا....ابتسامہ!
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏مئی 09، 2016 #17
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,943
    موصول شکریہ جات:
    1,019
    تمغے کے پوائنٹ:
    331

    اگر آپ جیسے لوگ فورم پر موجود ھوں تو ان شاء اللہ کسی کو کسی کی بات سے تکلیف یا شکایت نہیں پہونچے گی. اور اگر پہونچی بھی تو فورا رفع ھو جاۓ گی.
    جزاک اللہ خیرا. ایک بے ساختہ ہنسی لانے کے لۓ.
     
  8. ‏مئی 09، 2016 #18
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,943
    موصول شکریہ جات:
    1,019
    تمغے کے پوائنٹ:
    331

    اگلی نشست کا انتظار ھے. جب آپ کو موقع ملے تب لکھ دیجۓ گا. جزاک اللہ خیرا
    محترم شیخ!
    کیا یہ اس مہر کے علاوہ ھوگی جو نکاح سے پہلے لڑکا لڑکی کو دیتا ھے؟؟؟
    میرا مطلب یہ ھیکہ دو مہر صحیح ھیں نا؟؟؟
     
  9. ‏جنوری 25، 2017 #19
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,943
    موصول شکریہ جات:
    1,019
    تمغے کے پوائنٹ:
    331

     
  10. ‏جنوری 25، 2017 #20
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,679
    موصول شکریہ جات:
    2,015
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    دوسری شادی نہ کرنے کی شرط پر نکاح کا حکم

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    ایک اسلامی اسکالر کا کہنا ہے کہ نکاح دو فریقین کے درمیان ایک معاہدہ جیسا ہے۔ لہٰذا ایک لڑکی یا س کے گھر والوں کو یہ شرعی حق حاصل ہے کہ اگر وہ چاہیں تو نکاح نامے میں یہ ’’شرط‘‘ شامل کروا سکتے ہیں کہ لڑکا اس بیوی کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کرے گا۔
    اور اگر لڑکا اس شرط کو مان لے تو پھر وہ اس بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کرسکتا۔ موصوف کا کہنا ہے کہ شادی بیاہ میں فریقین اپنی پسند کی کوئی بھی شرط لکھوا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ شرط کارفرائض سے روکنے اور کار حرام کو کرنے سے متعلق نہ ہو۔ چونکہ دوسری شادی کرنا فرض نہیں ہے، لہٰذا پہلی بیوی نکاح نامے میں یہ شرط شامل کرواسکتی ہے اور شوہر کے مان لینے کی صورت میں شوہر بیوی کی زندگی میں دوسری شادی نہ کرنے کا پابند ہوگا۔
    کیا یہ شرط ایک جائز کام کو اپنے اوپر از خود حرام کرلینے کے مترادف نہیں ہے؟ کیا کوئی شخص (ہونے والی) بیوی کی فرمائش پر اپنے اوپر اس قسم کی پابندی لگا سکتا ہے ؟ مثلا" اگر کوئی لڑکی یہ کہے کہ مجھے شہد کی بو پسند نہیں لہٰذا شادی کے بعد تم شہد نہیں پیوگے تو کیا مرد اس شرط کو تسلیم کرکے اپنے اوپر شہد کو حرام کرسکتا ہے؟۔ازراہ کرم تسلی بخش جواب مطلوب ہے۔

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    نکاح میں کوئی بھی ایسی شرائط جو شریعت کے خلاف نہ ہو ، دونوں فریق کی طرف سے لگائی جاسکتی ہیں۔ چونکہ نکاح میاں بیوی کے اکٹھے زندگی گزارنے کا ایک معاہدہ ہوتا ہے۔اور وہ دونوں اپنی اپنی طبیعت اور رجحان کے پہلو سے ایک دوسرے کو کسی بھی شرط پر مطمئن کرلیں تو اس میں شریعت کوئی قدغن نہیں لگاتی۔
    مذکورہ بالا مسئلہ کہ ’’ اگر کوئی عورت نکاح میں یہ شرط رکھے کہ میں تب تم سے نکاح کروں گی اگر تم دوسری شادی نہ کرواؤ گے‘‘ کیا اس کی یہ شرط باندھنا درست ہے؟
    سب سے پہلے کسی بھی شرط کو دو طرح سے دیکھا جائے گا کہ
    1۔وہ شرط اللہ کے حلال کردہ کو حرام تو نہیں ٹھہرا رہی
    2۔ شرط انسانی غیرت و حمیت اورانس و محبت سے تعلق رکھنے والی مستحبہ چیز تو نہیں جس کا چھوڑنے کی شرط لگائی جارہی ہے اور یہ شرط محدود وقت تک ہو۔​
    1۔اگر تو ایسی چیز ہے کہ جس کے ترک کرنے سے کسی حلال کو حرام ٹھہرایا جارہا ہے اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے اپنے آپ پر حرام کرنا جیسا کہ نبیﷺ نے ازواج مطہرات کے کہنے پر شہد کو اپنے آپ پر روک لیا تھا تو یہ آیت اتری :
    يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّ‌مُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْ‌ضَاتَ أَزْوَاجِكَ (التحریم:1)
    ’’اے نبی! کیوں آپ نے اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام ٹھہرایا اپنی بیویوں کی رضا کی خاطر‘‘​
    لہٰذا اس طرح کی اشیاء کہ جس میں اللہ کی حلال کردہ حرام میں بدل جائے یہ درست نہیں او رنہ ہی ان چیزوں کی قسم کھانا اور معاہدہ کرنا جائز ہے۔
    2۔وہ اشیاء کہ جو مستحب ہوں اور غیر ت وحمیت اور محبت کی خاطر خاص مدت کے لیے شرائط یا معاہدہ میں باندھ لی جائیں وہ درست ہیں۔ جس طرح کہ حضرت علیؓ نےابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنا چاہی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے عقد میں تھیں تونبیﷺ نے فرمایا:
    إن فاطمۃ منی وأناأ تخوف أن تفتن فی دینھا وإنی لست أحرم حلالا ولا أحل حراما ولکن واللہ لا تجتمع بنت رسول اللہ و بنت عدواللہ۔ (صحیح بخاری :3109)
    ’’بے شک فاطمہ رضی اللہ عنہا مجھ سے ہے اور میں اس کے دین میں فتنہ میں پڑ جانے سے ڈرتا ہوں اور میں حلال کو حرام او رحرام کو حلال نہیں ٹھہرا رہا ،لیکن اللہ کی قسم اللہ کے دشمن کی بیٹی اور رسول اللہ ﷺ کی بیٹی اکٹھے نہیں ہوسکتے۔‘‘​
    گویا دوسری شادی کرنا چونکہ مباح تھا او رآپﷺ نے غیرت میں یہ پسند نہ کیا او رحضرت علی کو روک دیا۔
    اس پر قیاس کرتے ہوئے آج بھی اگر کوئی عورت دوسری شادی نہ کرانے کا معاہدہ یا شرط لگائے تو جائز ہے کیونکہ یہ حلال کو حرام ٹھہرانے کے زمرے میں نہیں آتا۔
    وبالله التوفيق
    فتویٰ کمیٹی


    محدث فتویٰ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں