1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نکاح شغار کا بیان۔

'باطل نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏مئی 19، 2012۔

  1. ‏مئی 19، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    حدیث نمبر: 5112
    حدثنا عبد الله بن يوسف،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا مالك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن نافع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الشغار،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والشغار أن يزوج الرجل ابنته على أن يزوجه الآخر ابنته،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ليس بينهما صداق‏.‏

    ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو حضرت امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”شغار“ سے منع فرمایا ہے۔ شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح اس شرط کے ساتھ کرے کہ وہ دوسرا شخص اپنی (بیٹی یا بہن) اس کو بیاہ دے اور کچھ مہر نہ ٹھہرے۔


    کتاب النکاح صحیح بخاری
     
  2. ‏مئی 20، 2012 #2
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    آج کل اس قسم کی شادیاں ”وٹہ سٹہ“ کہلاتی ہیں۔ جس میں یہ ”شرط“ ہوتی ہے کہ تم اپنی بہن یا بیٹی میرے یا میرے بیٹے کے نکاح میں دو تو میں اپنی بہن یا بیٹی تمہارے یا تمہارے بیٹے کے نکاح میں دیتا ہوں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ ایسی وٹہ سٹہ کی شادیوں میں طرفین کی دونوں لڑکیوں کا ”مہر“ بھی مقرر ہوتا ہے، جو عموما" ایک جیسی رقم ہوتی ہے۔ اس وٹہ سٹہ کی شادی میں اگر کسی ایک لڑکی کے ساتھ کوئی ناروا سلوک ہوتا ہے تو جوابا" دوسری لڑکی کے ساتھ بھی یہی ناروا سلوک زبردستی کیا یا کروایا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر ایک لڑکی کو بوجہ تنازعہ طلاق ہوتی ہے تو جوابا" دوسری لڑکی کو بھی طلاق دی یا دلوائی جاتی ہے، خواہ اس دوسرے جوڑے کے درمیان کوئی تنازعہ نہ بھی ہو اور وہ ایک دوسرے سے علیحدہ نہ بھی ہونا چاہ رہے ہوں۔

    اس قسم کی ”مشروط شادیوں “ کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟
     
  3. ‏مئی 20، 2012 #3
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,279
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
  4. ‏مئی 20، 2012 #4
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    بوسف ثانی بھائی ما شا ء اللہ بہت عمدہ کمنٹس دیئے ہیں آپ نے جزاک اللہ خیرا
    اللہ آپ کے علم وعمل میں برکت دے.آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں