1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نکاح میں لڑکی والوں کی طرف سے دعوت کا حکم

'رسوم ورواج' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏جولائی 27، 2016۔

  1. ‏جولائی 27، 2016 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,333
    موصول شکریہ جات:
    1,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

    محترم شیوخ!
    میرا سوال یہ ہیکہ لڑکی والوں کے یہاں لڑکی کے نکاح پر عام طور پر جو دعوت دی جاتی ہے کیا وہ صحیح ہے؟؟؟
    اسی طرح نکاح کرنے کے بعد لڑکے والوں کو جو کھانا پلانا ہوتا ہے اسکی شرعی حیثیت کیا ہے؟؟؟
    ولیمہ کیا ہے؟؟؟ اور یہ کس کی طرف سے ہوتا ہے؟؟؟
    کیا جو دعوت لڑکوں کی طرف سے ہوتی ہے صرف اسی پر ولیمہ کا اطلاق ہوتا ہے؟؟؟

    نوٹ: ہر سوال کو الگ الگ بیان کریں تو مہربانی ہوگی اقر سمجھنے میں آسانی.
    جزاکم اللہ خیر
     
  2. ‏جولائی 27، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,333
    موصول شکریہ جات:
    1,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

  3. ‏جولائی 27، 2016 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    و علیکم السلام ورحمۃ الله وبركاتہ
    پیارے بھائی :
    ان سوالات کے جوابات کیلئے آپ علامہ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب حفظہ اللہ کا درج ذیل لنک پر دیا گیا مضمون پڑھیں
    بہت مفید ہے ،ان شاء اللہ
    بارات اور جہیز کا تصور
     
  4. ‏جولائی 27، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,333
    موصول شکریہ جات:
    1,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    محترم شیخ!
    بس اس سوال کا جواب دے دیں اگر ممکن ہو تو کیونکہ یہ ضروری ہے:
    بقیہ میں مضمون پورا پڑھ لوں گا.
     
  5. ‏جولائی 28، 2016 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,661
    موصول شکریہ جات:
    8,301
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آپ نے سوال کے اندر جتنی چیزوں کا ذکر کیا ہے ، ان میں سے ’ ولیمہ ‘ مسنون ہے ، یعنی کرنا چاہیے ، شریعت نے اس کی ترغیب دلائی ہے ، بلکہ بعض علماء نے اس کو واجب قرار دیا ہے ۔ کیونکہ اللہ کےر سول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی کو حکم دیا تھا ، ولیمہ ضرور کرو ، چاہے ایک بھیڑ ہی کیوں نہ ہو ۔
    باقی تمام چیزیں ، مباحات میں سے ہیں ، ان کو کرنے کی کوئی پابندی نہیں ، اور نہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ، یا کسی سنت کا ترک نہیں ۔ واللہ اعلم ۔
     
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 28، 2016 #6
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,138
    موصول شکریہ جات:
    2,633
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    میں ایک طالب علم کی حیثیت سے کچھ گزارش کرنا چاہوں گا؛
    لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے کھانا اکثر نکاح کے بعد ہوا کرتا ہے، جس میں وہ بارات اور اپنے مہمانوں کو کھانا کھلاتے ہیں، یا کبھی کوکا کولا ، یا شربت و آئسکریم وغیرہ!
    یا پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض لڑکی والوں کے مہمان کئی روز لڑکی کے گھر والوں کے مہمان ہوا کرتے ہیں ، بعض کے ہاں یہ رسوم ہیں اور بعض کے ہاں مجبوری اور بعض کے ہاں محبت و قربت کی وجہ سے ہوا کرتا ہے!
    اب آپ غور کریں کہ آپ کے گھر مہمان ہو تو اس کے لئے کھانا وغیرہ کھلانا تو مہانداری میں آتا ہے جو شریعت میں مستحب ہے! اور معقول بھی ہے کہ آپ کے کھر کوئی مہمان ہو وجہ بھی اس کی آپ کی تقریب وخوشی میں شرکت ہو، اور اسے کھانے کا بندوبست خود ہی کہیں اور کرنا ہو، یہ تو ویسے بھی کوئی معقول بات نہیں!
    دوم کہ یہ لڑکی کے گھر کے مہمان خود میزبان کی حیثیت میں گھر کے امور بھی سر انجام دیتے ہیں، جو اس تقریب کے حوالہ اور گھر میں لوگوں کی تعداد کے اضافہ سے ہوتے ہیں!
    اب رہی بات کہ نکاح کے روز نکاح کے بعد کی دعوت؛
    بارات ہو یا لڑکی والوں کے اپنے بلائے ہوئے مہمان! اگر کوئی صاحب مال ہو اور اس کی استطاعت میں ہو کہ وہ ان مہمانوں کی خاطرداری کر سکے تو اس میں شریعی ممانیت نہیں! بلکہ ایک مستحب عمل ہے۔ لیکن لڑکے والوں کا پہلے سے یہ طے کرنا کہ آپ نے ہمارے اتنے مہمانوں کا کھانا کرنا ہے، ایسی صورت میں لڑکی والوں پر جبر ہے۔ یہ اختیار لڑکی کے گھر والوں کا ہے کہ وہ اپنی اسطتاعت کے مطابق جس قدر چاہیں مہمانوں کی دعوت کریں! اور اگر وہ اس قابل نہ ہوں تو ان پر کوئی جبر نہیں۔ یا اگر کوئی صاحب مال نہ بھی کرنا چاہے تو کوئی جبر نہیں!
    اکثر یہ معاملہ بھی پیش آتا ہے کہ بعض لوگون کے ہاں بارات کافی دور سے آتی ہے، اور ایسی صورت میں بارات والوں کو کھانا تو کھانا ہے، لڑکے والے کریں یا لڑکی والے! اور اگر لڑکی والے صاحب مال ہوں اور اپنی اسطتاعت کے مطابق کھانے وغیرہ کا بندوبست کریں ، تو معقول بھی ہے اور مستحب بھی!
    یہی معاملہ لڑکی والوں کے ان مہمانوں کے لئے ہے جو دور سے آتے ہیں!
    یہ تو وہ صورت ہے جو دین ہمیں مہمان نوازی اور خیر خواہی سکھلاتا ہے!

    لیکن ہمارے معاشرے میں لڑکی کی طرف سے کھانے وغیرہ کی دعوت کو ایسا سمجھ لیا گیا ہے کہ جیسے لڑکی والوں پر لازم ہو! اور لڑکے والے باقاعدہ لڑکی والوں سے اس دعوت کا مطالبہ کرتے ہیں! خواہ وہ گلی کے اگلے کونے پر ہی رہتے ہوں! اور حد تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسی شادی میں شریک بھی نہیں ہوتے جہاں کھانے کا اہتمام نہ ہو!
    اور یہ لڑکی کی طرف سے کھانے کی دعوت کو ہمارے معاشرے نے نکاح کے لازمی جزء کی طرح قرار دے کر لڑکی والوں کے لئے مشکل بھی پیدا کردی ہے، مشکل تو میں نے بہت ہلکا لفظ استعمال کیا ہے۔

    میرا اپنا یہ مؤقف ہے کہ اگر حکومت وقت واقعتاً اس طرح کے معاملہ میں قانون سازی کرتی ہے، لڑکی والوں کی طرف سے کھانے کی دعوت پر پابندی وغیرہ تو میں اس پابندی کو موجودہ صورت حال میں بہتر سمجھتا ہوں، کہ لڑکی کے گھر میں جو مہمان ہو انہیں تو کھان وگیرہ کھلایا جا سکتا ہو، مگر شادی حال وغیرہ میں نہیں!

    کہ لوگوں نے ایسے امر میں جس کی اجازت شریعت میں ہے، لیکن اس اجازت کا غلط استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں لوگوں کے لئے مشکل پیدا کردی ہے، اس اجازت کو وقتی طور پر تعزیراً روکا جا سکتا ہے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایک وقت مین تین طلاق کے معاملہ میں رجوع سے روکنا اس کی مثال ہے!
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 28، 2016 #7
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    آپ یقین مانیئے اس برصغیر میں کون سے اتنے دیندار ہیں جو مستحبات اور مباحات کا اتنا دیہان رکھتے ہیں ۔
    بلکہ حقیقت میں وہ یہ رسم کے طور پر ہی کرتے ہیں ۔
    اگر ۱۰ آدمی تمام شرائط کو ملحوظ بھی رکھیں تو تقویت تو پھر اس مسئلے کو ملے گی کہ یہ دعوت کی اصل ضرور ہے ۔۔کبھی کوئی چھوڑ دے ۔۔نہیں ۔
    اسے مطلق مستحب دعوت کے تحت نہیں لایا جاسکتا ۔ اور جہاں پہ اتنا بڑا منکر ہو کہ لڑکی والوں پہ ایک ایکسٹرا بھوج لاد دیا جائے۔اور ہمارے ارد گرد لوگ قرضے لے لے کر یہ کام کرتے ہوں ۔ اس میں اور ولیمہ میں سو فیصد برابری سمجھی جائے۔
    اور ۹۰ فیصد لوگوں کو یہ’’کرنی پڑتی‘‘ ہو۔ ایسے حالات میں تو مستحب قابل ترک ہو جاتا ہے ۔ چہ جائیکہ مباح ۔
    اور پھر نکاح ایک عبادت ہے اس میں ایک دعوت مقرر ہے ۔ پھر دوسری دعوت اشتباہ کا باعث ہے ۔ اور غالباََ عرب وغیرہ میں ابھی بھی اس کا کسی کو نہیں پتا ۔۔۔یہ اس برصغیر کی ہی پیداوار ہے ۔ مثال کے طور پہ ہندو رائٹرز کی ایک کتاب ہے ۔

    Human Rights Among Indian Populations:
    Knowledge, Awareness and Practice
    By shilpy gupta,
    A.K. Kapoor
    اس میں انہوں نے ہندووں کی رسومات وغیرہ کو بھی بتایا ہے ۔
    Page 168
    Rites de passage:
    يعنی کِسی شخص کی زندگی کا کوئی اہم واقعہ یا رسم یا موڑ
    پھر اس کے تحت عنوان ہے ۔
    (A) Marriage Rituals: شادی کی رسومات
    پھر اس میں ہندووں میں موجود شادی کی رسومات کو نمبروائز بیان کیا ہے ۔ ترجمہ کا خلاصہ یہ ہے ۔
    ۱۔ لگان۔ جس میں پنڈت کے زائچے سے تاریخ تہ ہوتی ہے ۔ جس میں دن وغیرہ کی پابندی ہوتی ہے۔
    ۲۔ بان۔ سرسوں کا تیل پیروں میں ، گھٹنوں میں وغیرہ۔۔۔۔
    ۳۔ روٹی۔لڑکے والے کھانا دیتے ہیں ۔عجیب بات ہے وہ شادی سے ایک دن پہلے دیتے ہیں ۔۔۔مجھے یاد پڑتا ہے کہیں پڑھا تھا کہ زمانہ جاہلیت میں ولیمہ اسی طرح ہوتا تھا۔یعنی پہلے۔
    ۴۔سہرا بندی۔۔۔اس رسم کو باقاعدہ نمبر دیا گیا ہے ۔۔اس سے ہمارے مسلمانوں کے شادی کارڈ ذہن میں لائیں جس میں سہرا بندی کا ٹائم لکھا ہوتا ہے ۔افسوس
    ۵۔ سواگت ملائی۔ دلہن کی بڑی بہن پوجا کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔
    ۶۔ ورمالا اور پھیرے۔۔۔ہار پہنانا اور پھیرے۔۔۔
    ۷۔ بھوج۔ پھیروں کے بعد لڑکی والوں کی طرف سے کھانا۔
    ۸۔ ودائی۔ رخصتی۔
    ۹۔کنگنا کھیلنا۔ دودھ کے بڑے برتن میں انگوٹھی ڈال کے دونوں کا اسے ڈھونڈنا۔۔۔۔
    یہ میں نے مختصر ترجمہ کیا اصل اس لنک پر دیکھیں۔

    https://books.google.com.pk/books?i...AF#v=onepage&q=food from bride's side&f=false
    ابھی مجھے لگ رہا ہے کچھ انہوں نے بھی کم بیان کی ہیں ۔ شاید بہت اہم والی بیان کی ہیں۔
    اس میں ۷ نمبر پر بھوج کی رسم ہے ۔یعنی لڑکی والوں کی طرف سے کھانا کھلانا۔
    یہ ہے اس رسم کا ماخذ۔
    اور کیسی عجیب بات ہے ۔۔بھوج۔۔ شاید ہندی ، سنسکرت وغیرہ کا لفظ ہوگا ۔۔۔لیکن
    یہاں۔۔ بوجھ ۔۔سے ملتا جلتا ہے ۔ ۔اور یہ رسم لڑکی والوں پر ایکسٹرا بوجھ مسلط کیا جاتا ہے ۔
    بعض علما کا اس کو مباح قرار دینا ،یا ان بعض صورتوں کا ذکر جس کو برادرم ابن داود نے بیان کیا ہے ۔ تو اس کا یہاں ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ اس کو بیان کرنے کی بھی ضرورت نہیں ۔ وہ ایک گھریلو ذاتی معاملہ ہے اگر خاص گھر کے لوگ دور سے آئے تو گھر میں کھانا ہو جائے ۔ اس کو اس باب میں بیان ہی نہ کریں ۔ تاکہ کوئی اس کے پیچھے چھپ کر ایک رسم کے لئے دلیل نہ لے ۔
    جیسے ہمارے بعض علما بیٹی کو اپنی خوشی سے کوئی چیز دینا بھی مستحب کہتے ہیں ۔۔۔لیکن دوسری طرف جہیز کو لعنت بھی کہتے ہیں۔
    اور یہ بھی کونسا ضرور ی ہے کہ لڑکی کو لایا جائے ۔ کئی دیندار علما سنے وہ خود اپنی بیٹی کو چھوڑ آتے ہیں۔
    اور ہمارے دور میں تو ولیمہ جیسی سنت کے بارے میں بحث ہوتی ہے کہ آج کل اس میں اتنے مفاسد ۔۔ڈال دئے گئے ہیں کہ اس میں جانا چاہیے کہ نہیں ۔۔۔چہ جائیکہ لڑکی والوں کی دعوت۔
    اس لئے میرے ناقص خیال میں اس مباح کا ترک لازمی ہے ۔تاکہ ہندووں سے مشابہت بھی نہ ہو۔ اور لڑکی والوں پر بوجھ بھی نہ پڑے ۔ واللہ اعلم۔
     
  8. ‏جولائی 28، 2016 #8
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,333
    موصول شکریہ جات:
    1,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    لیکن بھوج اور بوجھ کے معنی میں زمین آسمان کا فرق ہے
     
  9. ‏جولائی 28، 2016 #9
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    ارے نہیں میں معنی نہیں ملا رہا ۔ یہ بالکل مختلف ہی ہیں ۔۔۔
    یہ تو ویسے ہی لطیف بات کی ہے ۔
     
  10. ‏جولائی 28، 2016 #10
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,333
    موصول شکریہ جات:
    1,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    ویسے کیا یہ انکے مذہب میں ہے؟؟؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں