1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

نکاح کیے بارے میں معلومات

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از mzada256, ‏مارچ 26، 2017۔

  1. ‏مارچ 26، 2017 #1
    mzada256

    mzada256 مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 26، 2017
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    السلام علیکم میرا سوال ھے اگر ایک بیوی کا شوہر گھوم ہوجاے تو کیا بیوی کتنے سال بعد دوسرا نکاح کریگی

    Sent from my SM-N910C using Tapatalk
     
  2. ‏مارچ 26، 2017 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,577
    موصول شکریہ جات:
    938
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    گم شدہ خاوند کی بیوی کتنا عرصہ انتظار کرے
    سوال:
    اگر کسی شادی شدہ عورت کا خاوند گم ہو جائے تو اسے کتنا عرصہ انتظار کرنا ہوگا، قرآن و حدیث کے مطابق وہ کتنی دیر تک عقد ثانی نہیں کر سکتی؟

    جواب:
    گم شدہ خاوند کی بیوی کے متعلق ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لاپتہ شوہر کی بیوی اس وقت تک اس کی بیوی ہی رہے گی جب تک گم شدہ آدمی کے متعلق کوئی واضح اطلاع نہ موصول ہو جائے۔‘‘ (دارقطنی ص ۳۱۲ ج ۳)

    لیکن یہ روایت ناقابل حجت اور بے کار ہے کیونکہ اس کی سند میں محمد بن شرحبیل صمدانی نامی ایک راوی ہے جسے محدثین نے متروک قرار دیا ہے نیز وہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے منکر اور باطل روایات کرنے میں مشہور ہے۔ اس کے علاوہ آگے بیان کرنے والا اس کا شاگرد ’’سوار بن مصعب بھی اسی قسم کا ہے البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اس طرح کا ایک معاملہ آیا تو انہوں نے فرمایا: ’’لاپتہ شوہر کی بیوی چار سال تک انتظار کرے پھر شوہر کے فوت ہونے کی عدت چار ماہ دس دن گزارے، اس کے بعد اگر چاہے تو شادی کر سکتی ہے۔‘‘ (بیہقی ص ۴۴۵ ج ۷)

    بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اسی موقف کو اختیار کیا تھا اور اس کے مطابق فیصلہ دیا تھا۔(مصنف عبدالرزاق ص ۸۵ ج ۷)

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بھی یہی موقف ہے۔ (بیہقی ص ۴۴۵ ج ۷)

    امام بخاری رحمہ اللہ کا رجحان ایک سال تک انتظار کرنے کی طرف معلوم ہوتا ہے، چنانچہ انہوں نے اپنی صحیح میں ایسے شخص کے متعلق ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’گم شدہ خاوند کی بیوی اور اس کے مال و متاع کا حکم۔‘‘ (بخاری، الطلاق باب نمبر: ۲۲)

    لیکن آپ نے واضح طور پردوٹوک الفاظ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا البتہ پیش کردہ آثار واحادیث سے آپ کا رجحان معلوم کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ آپ نے حضرت سعید بن مسیب کا ایک فتویٰ نقل کیا ہے کہ جب کوئی سپاہی میدان جنگ میں گُم ہو جائے تو اس کی بیوی ایک سال تک انتظار کرے، نیز آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا ہے کہ انہوں نے کسی سے ادھار لونڈی خریدی پھر لونڈی کا مالک گُم ہو گیا تو انہوں نے ایک سال تک اس کا انتظار کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنا رجحان بیان کرنے کیلئے حدیث لقطہ بیان کی ہے کہ اگر کسی کو گِرا پڑا سامان ملے تو وہ اس کا سال بھر اعلان کرے۔ (صحیح بخاری، الطلاق: ۵۲۹۲)

    ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک گم شدہ خاوند کی بیوی کیلئے انتظار کا وقت ایک سال مقرر کیا جا سکتا ہے موجودہ احوال و ظروف اور ذرائع مواصلات کے پیش نظر یہ موقف انتہائی قرین قیاس ہے۔ ہمارے نزدیک بھی ایک سال کا انتظار کافی معلوم ہوتا ہے بصورت دیگر قدیم فتویٰ چار سال والا تو اپنی جگہ جمہور علماء اسلام اور مفتیانِ کرام کے ہاں رائج چلا آ رہا ہے لیکن عقد نکاح کوئی کچا دھاگہ نہیں کہ جسے آسانی سے توڑ دیا جائے اور یہ ایک ایسا حق ہے جو خاوند کیلئے لازم ہو چکا ہے، اس بناء پر اس عقد نکاح کو کھولنے کا مجاز عورت کا خاوند ہے جو گم ہو چکا ہے۔ اب دفع مضرت کیلئے عدالت‘ خاوند کے قائم مقام ہوگی اور اس نکاح کو فسخ قرار دینے کی مجاز ہوگی، جیسا کہ خلع وغیرہ میں ہوتا ہے۔ اس لئے ہمارے نزدیک گم شدہ خاوند سے خلاصی کیلئے یہ طریقہ اختیار کیا جائے کہ عورت فیملی کورٹ کی طرف رجوع کرے، رجوع سے قبل جتنی مدت گزر چکی ہو گی اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے ہاں بعض عورتیں مدت دراز تک انتظار کرنے کے بعد عدالت کے نوٹس میں معاملہ لائے بغیر یا اس کا فیصلہ حاصل کرنے سے قبل محض فتویٰ لے کر آگے نکاح کر لیتی ہیں، ان کا یہ اقدام نکاح انتہائی محل نظر ہے۔

    امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی عورت عدالت کے نوٹس میں لائے بغیر اپنے مفقود شوہر کا چار سال تک انتظار کرے تو کیا اس مدت کا اعتبار کیا جائے گا تو آپ نے جواب دیا: ’’اگر وہ اس طرح بیس سال بھی گزار دے تو بھی اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔‘‘ (المدونۃ الکبریٰ ص ۹۳ ج ۲)

    اس بناء پر ضروری ہے کہ جس عورت کا خاوند لاپتہ ہو جائے تو وہ فوری طور پر عدالت کی طرف رجوع کرے پھر اگر عدالت اس نتیجہ پر پہنچے کہ واقعی اس کا خاوند گم شدہ ہے تو وہ اسے ایک سال تک انتظار کرنے کا حکم دے گی۔ اگر اس مدت تک اس کا شوہر نہ آئے توایک سال کے اختتام پر عدالت فسخ نکاح کی ڈگری جاری کرنے کی مجاز ہوگی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد عورت اپنے شوہر کو مردہ تصور کر کے عدتِ وفات یعنی چار ماہ دس دن گزارے گی۔ اس کے بعد نکاح ثانی کرنے کی مجاز ہوگی۔ اگر عدالت بلاوجہ معاملہ کو طول دے اور عورت مجبور ہو کر صبر نہ کر سکے تو مسلمانوں کی ایک جماعت تحقیق کر کے اس کے گم شدہ خاوند کے متعلق فیصلہ کرے، ایسے حالات میں پنچائتی فیصلہ بھی عدالت مجاز کا فیصلہ ہی تصور ہوگا۔ (واللہ اعلم)
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 26، 2017 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,577
    موصول شکریہ جات:
    938
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    یہ فتوی کسی جمیعت اہلحدیث کا ہے.
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 26، 2017 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,361
    موصول شکریہ جات:
    6,444
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اسی معاملے کے تعلق سے میرا بھی ایک سوال ہے کہ:
    شوہر کی گمشدگی کے دوران بیوی اور بچوں کے خرچے کا کون ذمہ دار ہو گا؟
     
  5. ‏مارچ 26، 2017 #5
    mzada256

    mzada256 مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 26، 2017
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    ماشاء اللہ بہت خوب جواب

    Sent from my SM-N910C using Tapatalk
     
  6. ‏مارچ 26، 2017 #6
    کنعان

    کنعان سینئر رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,405
    موصول شکریہ جات:
    4,347
    تمغے کے پوائنٹ:
    483

    السلام علیکم

    میری رائے کے مطابق شوہر کی گمشدگی کے دوران بیوی اور بچوں کا خرچہ بیت المال کے ذمہ ہے۔

    والسلام
     
  7. ‏مارچ 26، 2017 #7
    حافظ عبدالکریم

    حافظ عبدالکریم مبتدی
    جگہ:
    کڑمور
    شمولیت:
    ‏دسمبر 01، 2016
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    وعلیکم السلام
    اس سلسلہ میں کوی نص ہو تو پیش کریں یا کم از کم یہ بتلا دیں کہ آپ کس بنیاد پر بیت المال کو ذمہ دار قرار دے سکتے ہیں یا پھر آپ نے قیاس کس طرح کیا ہے اسکی وضاحت کردیں تو بہتر ہوگا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں