1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نکاح کے احکام و مسائل صحیح مسلم شریف سے اخذ شدہ (ظفر اقبال ظفر)

'جدید مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از ظفر اقبال, ‏مارچ 10، 2016۔

  1. ‏مارچ 10، 2016 #1
    ظفر اقبال

    ظفر اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2015
    پیغامات:
    238
    موصول شکریہ جات:
    18
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    نکاح کے احکام و مسائل:
    باب 2: جو شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کے دل میں بس جائے تو اس کے لئے مستحب ہے کہ اپنی بیوی یا زرخرید کنیز کے پاس آ کر اس سے صحبت کر لے
    (3407) ہشام بن ابی عبداللہ نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک عورت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑ گئی تو آپ اپنی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ وہ اپنے لیے ایک چمڑے کو رنگ رہی تھیں، آپ نے (گھر میں) اپنی ضرورت پوری فرمائی، پھر اپنے صحابہ کی طرف تشریف لے گئے، اور فرمایا: "بلاشبہ (فتنے میں ڈالنے کے حوالے سے) عورت شیطان کی صورت میں سامنے آتی ہے اور شیطان ہی کی صورت میں مڑکر واپس جاتی ہے۔ تم میں سے کوئی جب کسی عورت کو دیکھے تو وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے، بلاشبہ یہ چیز اس خواہش کو ہتا دے گی جو اس کے دل میں (پیدا ہوئی) ہے،"
    فائدہ: شیطان عورتوں کو مردوں کے دل میں برائی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس میں عورت قصوروار نہیں البتہ اس کا فرض ہے کہ وہ خود کو ڈھانپ کر رکھے۔ اگر ایسا نہیں کرتی تو وہ بھی قصوروارہو گی۔ حلال کی طرف رجوع کرنے سے حرام کی جھوٹی چمک دمک ماند پڑ جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑی تو اس موقع پر آپ کو یہ علم عطا کیا گیا کہ اس سے مردوں کی آزمائش ہو سکتی ہے۔ اللہ کے حکم سے آپ اپنے گھر گئے اور اس وقت آپ کو علم عطا کیا گیا کہ یہ شیطان کے فتنے پر قابو پانے کا ذریعہ ہے۔
    (3408) حرب بن ابوعالیہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک عورت پر پڑ گئی ۔۔۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا، البتہ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جبکہ وہ چمڑے کو رنگ رہی تھیں۔ اور یہ نہیں کہا: "وہ شیطان کی صورت میں واپس آ جاتی ہے۔"


    (3409) معقل نے ابوزبیر سے روایت کی، کہا: حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "جب تم میں سے کسی کو، کوئی عورت اچھی لگے، اور اس کے دل میں جاگزیں ہو جائے تو وہ اپنی بیوی کا رخ کرے اور اس سے صحبت کرے، بلاشبہ یہ (عمل) اس کیفیت کو دور کر دے گا جو اس کے دل میں (پیدا ہوئی) ہے۔"
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں