1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

نکاح کے بعد کبھی ہمبستری نہیں کی کیا نکاح باقی رہے گا؟

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏جولائی 06، 2017۔

  1. ‏جولائی 06، 2017 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,943
    موصول شکریہ جات:
    1,019
    تمغے کے پوائنٹ:
    331

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

    محترم شیوخ!
    ایک بھائی کا سوال ہے. براہ کرم جلد از جلد رہنمائی فرمائیں:
    جناب آپ کو پرسنل میسج کر رہا ہوں. اس کے لئے معافی چاہوں گا. بہت ضروری ہے مجھے جواب جاننا کیونکہ یہ میری کزن بہن کا مسئلہ ہے.

    بھائی مجھے آپ سے یہ بتانا ہے اور جواب چاہئے کہ میری کزن بہن جس کی شادی قریب ٤ سال ہونے کو ہے لیکن نکاح سے لے کر آج تک میاں بیوی میں ہمبستری نہی ہوئی ہے. بس دونوں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں.

    کیا نکاح برقرار رہے گا؟

    کیا میری کزن بہن اب بھی اپنے شوہر کی بیوی ہی رہے گی یا نکاح ٹوٹ جائے گا؟

    ایسے مسئلہ پر کیا کرنا ہوگا میری کزن بہن کو؟

    میری بہن نے کافی کوشش کی ہے اور سمجھایا ہے اپنے شوہر کو لیکن مان نہیں رہے ہیں تو کیا کرنا چاہیے؟

    پلیز جناب جواب دیں.

    نوٹ: مجھے اسکا جواب معلوم ہے لیکن میں علماء کرام کے فتاوے چاہتا ہوں کیونکہ میں ایک طالب علم ہوں فتوی نہیں دے سکتا. اور تلاش بسیار کے باوجود مجھے کوئی فتوی نہیں مل سکا.
     
  2. ‏جولائی 06، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,679
    موصول شکریہ جات:
    2,015
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بیوی کے خاوند پر حقوق میں اہم ترین اور مؤکد حق ہم بستری ہے ، جس کی ادائیگی واجب ہے ، سوائے ان مواقع کے جن میں شرعی موانع موجود ہوں ،
    جنسی تعلقات نہ رکھنے ، یعنی یہ حق ادا نہ کرنے کے متعلق قرآن مجید میں درج ذیل حکم وارد ہے ،
    لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ ۚ فَاِنْ فَاۗءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (226 )
    ترجمہ :
    جو لوگ اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھا بیٹھیں ان کے لیے چار مار ماہ کی مہلت ہے * پھر اگر وہ رجوع کرلیں تو اللہ معاف کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔ (سورۃ البقرۃ 226 )
    وَاِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ (227 )
    اور اگر وہ طلاق کا فیصلہ کرلیں تو (وہ اچھی طرح جان لیں کہ) اللہ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ سورۃ البقرۃ 227 )
    ان آیات کی تفسیر میں علامہ صلاح الدین یوسف لکھتے ہیں :
    "
    یعنی کوئی شوہر اگر قسم کھالے کہ اپنی بیوی سے ایک مہینہ یا دو مہینے تعلق نہیں رکھوں گا پھر قسم کی مدت پوری کر کے تعلق قائم کرلیتا ہے تو کوئی کفارہ نہیں ہاں اگر مدت پوری ہونے سے قبل تعلق قائم کرے گا کفارہ قسم ادا کرنا پڑے گا اور اگر چار مہینے سے زیادہ مدت کے لئے یا مدت مقرر کئے بغیر قسم کھاتا ہے تو اس آیت میں ایسے لوگوں کے لئے مدت کا تعین کردیا گیا ہے کہ وہ چار مہینے گزرنے کے بعد یا تو بیوی سے تعلق قائم کرلیں یا پھر اسے طلاق دے دیں پہلی صورت میں اسے کفارہ قسم ادا کرنا ہوگا اگر دونوں میں سے کوئی صورت اختیار نہیں کرے گا تو عدالت اسکو دونوں میں سے کسی ایک بات کے اختیار کرنے پر مجبور کرے گی کہ وہ اس سے تعلق قائم کرے یا طلاق دے تاکہ عورت پر ظلم نہ ہو۔ (ابن کثیر)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس مسئلہ پر ذیل کا فتوی پیش ہے جو شرعی حکم واضح کرتا ہے ؛

    هجرها زوجها في الفراش سنة ونصف
    السؤال:
    امرأة تشتكي من تقصير زوجها معها وانه لم يجامعها منذ سنة وستة أشهر وأنه لم يعطها حقها في المعاشرة الزوجية ، رغم أنه إذا دعاها لم ترفض ، لكن هو لم يدعها إلى ذلك ؛ فما حكم ذلك؟ وما ينبغي لها أن تفعل ؟ وهل يجوز لها طلب الطلاق ؛ لأنه يرفض معاشرتها ، ويقول : إنها تهجره ، لكن هي لم تفعل ذلك ؟
    -----------------------------------
    الجواب

    الحمد لله :

    أولا :
    ينبغي أن يحرص الزوجان على أداء الحقوق والواجبات ، وإحسان العشرة ، وبذل الفضل والمعروف ، وحل المشكلات التي قد تواجههما ، في جو من الود والتفاهم ، عملا بقوله تعالى : ( وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ) النساء/19 ، وقوله : ( وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ) البقرة/228

    ثانيا :
    لا يجوز للرجل أن يهجر زوجته هذه المدة في الفراش ، إلا أن تكون ناشزا ، أي : عاصية له ، لا تقوم بحقه الواجب عليها له ، فيباح هجرها حينئذ حتى تتوب ، لقوله تعالى : ( وَاللاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا ) النساء/34.

    وأما مع عدم النشوز فلا يحل هذا الهجر لأمرين :
    الأول : أنه يجب على الزوج أن يعف زوجته ، وأن يجامعها بقدر حاجتها ، وقُدرته .
    سئل شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله : عن الرجل إذا صبر على زوجته الشهر ، والشهرين ، لا يطؤها ، فهل عليه إثم أم لا ؟ وهل يطالب الزوج بذلك ؟
    فأجاب : " يجب على الرجل أن يطأ زوجته بالمعروف ، وهو من أوكد حقها عليه ، أعظم من إطعامها ، والوطء الواجب ، قيل : إنه واجب في كل أربعة أشهر مرة ، وقيل : بقدَر حاجتها وقُدْرته ، كما يطعمها بقدَر حاجتها وقُدْرته ، وهذا أصح القولين " . انتهى من "مجموع الفتاوى ( 32 / 271 ) .
    والثاني : أن من امتنع عن وطء امرأته - غير الناشز - أربعة أشهر ، كان في حكم المولي ، فيؤمر بالوطء أو بالطلاق ، فإن أبى الطلاق طلّق عليه القاضي .
    قال علماء اللجنة الدائمة : " مَن هجر زوجته أكثر من ثلاثة أشهر : فإن كان ذلك لنشوزها ، أي : لمعصيتها لزوجها فيما يجب عليها له من حقوقه الزوجية ، وأصرت على ذلك بعد وعظه لها وتخويفها من الله تعالى ، وتذكيرها بما يجب عليها من حقوق لزوجها : فإنه يهجرها في المضجع ما شاء ؛ تأديبا لها حتى تؤدي حقوق زوجها عن رضا منها ..

    أما إن هجر الزوج زوجته في الفراش أكثر من أربعة أشهر ، إضراراً بها ، من غير تقصير منها في حقوق زوجها : فإنه كمُولٍ ، وإن لم يحلف بذلك ؛ تُضرب له مدة الإيلاء ، فإذا مضت أربعة أشهر ولم يرجع إلى زوجته ويطأها في القبل ، مع القدرة على الجماع ، إن لم تكن في حيض أو نفاس : فإنه يؤمر بالطلاق ، فإن أبى الرجوع لزوجته ، وأبى الطلاق :طلَّق عليه القاضي ، أو فسخها منه ، إذا طلبت الزوجة ذلك " انتهى من " فتاوى اللجنة الدائمة " برقم : (20443) .

    ثالثا:
    النصيحة لك أن تتأملي في سبب هجره لك ، لعلك قصّرتِ في التزّين له ، أو لعله يعاني من أمراض أو مضايقات يحتاج من يعينه على علاجها .
    فاجلسي معه جلسة هادئة لا جلسة لوم وتقريع لمناقشة أسباب هذا الأمر ، فإذا لم يفد ذلك فوسطي من عقلاء أهلك أو أهله من يستطيع حل الأمر ، فإذا لم يفد ذلك كله ، فلا حرج عليك عندئذ أن ترفعي أمرك إلى القاضي وتطلبي الطلاق دفعاً للضرر الواقع عليك .

    وإن اخترت الصبر رجاء أن يهدي الله تعالى زوجك ويرجع عن ظلمه : فلا حرج عليك إن شاء الله تعالى بشرط ألا يكون في ذلك عنت لك ، ولا تعريض للفتنة بسبب هجره .

    نسأل الله أن يجمع بينكما في خير .
    والله أعلم .

    موقع الإسلام سؤال وجواب
     
  3. ‏جولائی 06، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,679
    موصول شکریہ جات:
    2,015
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    پیش نظر مسئلہ کا شرعی حکم ذیل کی عبارت میں ہے ، اسلئے اس کا مفہوم اردو میں پیش خدمت ہے ؛

    أما إن هجر الزوج زوجته في الفراش أكثر من أربعة أشهر ، إضراراً بها ، من غير تقصير منها في حقوق زوجها : فإنه كمُولٍ ، وإن لم يحلف بذلك ؛ تُضرب له مدة الإيلاء ، فإذا مضت أربعة أشهر ولم يرجع إلى زوجته ويطأها في القبل ، مع القدرة على الجماع ، إن لم تكن في حيض أو نفاس : فإنه يؤمر بالطلاق ، فإن أبى الرجوع لزوجته ، وأبى الطلاق :طلَّق عليه القاضي ، أو فسخها منه ، إذا طلبت الزوجة ذلك " انتهى من " فتاوى اللجنة الدائمة " برقم : (20443)
    یعنی اگر خاوند چار ماہ سے زائد عرصہ ہم بستری نہیں کرتا حالانکہ بیوی نے خاوند کے حقوق کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی بھی نہ کی ہو،
    تو اس صورت خاوند کیلئے مدۃ ایلاء مقرر کی جائے گی ، اور اگر چار ماہ عدم تعلق میں گزر جائیں اور اس کے بعد بھی شوہر جماع کی قدرت کے باوجود تعلق قائم نہ کرے ( جبکہ بیوی حیض و نفاس کی حالت میں بھی نہ ہو ) تو اسے طلاق دینے کا حکم دیا جائے گا ،
    اگر طلاق بھی نہ دے اور ہم بستری پر بھی آمادہ نہ ہو تو اگر اس کی بیوی علیحدگی چاہے تو عدالت نکاح فسخ کرنے کا اختیار رکھتی ہے " فتاوی اللجنۃ الدائمہ "
     
  4. ‏جولائی 07، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,679
    موصول شکریہ جات:
    2,015
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    اسمسئلہ پر ایک اور فتوی بھی پیش ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    أرجو من فضيلتكم الإجابة على كل سؤال على حدة.

    السؤال الأول: إذا عزم الإنسان على أن لا يجامع زوجته لمدة سنة، ولكنه لم ينطق بذلك، وإنما نوى في قلبه بعد أن غضبها، فهل تطلق منه بعد أربعة أشهر؟ أم أن الإيلاء لا يقع إلا بالتلفظ، ولا يقع بالنية من غير التلفظ؟ .

    السؤال الثاني: إذا تلفظ الإنسان بالإيلاء، ولكن ليس أمام الزوجة، وإنما في غرفة ثانية في الشقة، بحيث لم تسمع الزوجة الإيلاء بعد أن غضب منها، فهل يقع الإيلاء؟ أم لا بد من وجود الزوجة أمامه، بحيث تسمعه وهو يتلفظ بالإيلاء؟.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الإجابــة

    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه، أما بعـد:


    فعزمُ الزوج على عدم وطء زوجته ليس بإيلاء عند جمهور أهل العلم خلافا للمالكية القائلين بكونه إيلاء إذا قصد الزوج الإضرار بها وهي رواية عند الحنابلة، قال ابن رشد في بداية المجتهد: وأما لحوق حكم الإيلاء للزوج إذا ترك الوطء بغير يمين، فإن الجمهور على أنه لا يلزمه حكم الإيلاء بغير يمين، ومالك يلزمه ذلك إذا قصد الإضرار بترك الوطء، وإن لم يحلف على ذلك، فالجمهور اعتمدوا الظاهر، ومالك اعتمد المعنى، لأن الحكم إنما لزمه باعتقاده ترك الوطء، وسواء شد ذلك الاعتقاد بيمين أو بغير يمين، لأن الضرر يوجد في الحالتين جميعا. انتهى.

    وإذا عزم الزوج على عدم الوطء لعذر كمرض مثلا لم يضرب له أجل الإيلاء، وإن كان لغير عذر فعلى رواية لبعض أهل العلم يضرب له أجل الإيلاء، فإن مضت له أربعة أشهر أمر بالطلاق أو الوطء، قال ابن قدامة في المغني: فإن ترك الوطء بغير يمين لم يكن موليا، لأن الإيلاء الحلف، ولكن إن ترك ذلك لعذر من مرض أو غيبة ونحوه لم تضرب له مدة, وإن تركه مضرا بها, فهل تضرب له مدة ؟ على روايتين: إحداهما: تضرب له مدة أربعة أشهر, فإن وطئها, وإلا دعي بعدها إلى الوطء, فإن امتنع منه أمر بالطلاق, كما يفعل في الإيلاء سواء، لأنه أضر بها بترك الوطء في مدة الإيلاء فيلزم حكمه, كما لو حلف. انتهى.

    وحتى على تقدير حلف الزوج، فإن الزوجة لا تطلق بمجرد انتهاء المدة عند الجمهور، وإنما يكون للزوجة الحق في الرفع إلى القاضي، فيأمر الزوج بالطلاق أو يطلقها القاضي إن امتنع الزوج، وذهب الحنفية إلى أن الطلاق يحصل بمجرد انتهاء المدة.

    ويمين الإيلاء ينعقد بمجرد التلفظ به ولا يشترط فى وقوعه سماع الزوجة ولا حضورها، ولكن الزوجة إذا لم ترفع زوجها إلى القضاء حتى انتهت المدة التي حلف على ترك الوطء فيها، فإن إيلاءه ينحل ولا تلزمه كفارة إذا لم يكن وطئ في المدة التي حلف عليها.

    والله أعلم.

    اسلام ويب مركز الفتوى
     
  5. ‏جولائی 07، 2017 #5
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    2,474
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    شیخ @اسحاق سلفی بھائی! جہان تک مجھے سوال سمجھ آیا ہے، وہ یہ ہے کہ اگر شوہر ہمبستری نہیں کرتا ، اور نکاح و شادی کو ایک مدت گزر چکی ہے اور ایک بار بھی شوہر نے بیوی سے ہمبستری نہ کی!
    تو کیا ایسی صورت میں نکاح از خود ختم ہو جاتا ہے، یا فسخ ہو جاتا ہے! اور وہ میاں بیوی نہیں رہتے!
    آپ کے جواب میں یہ پہلو تو ہے کہ بیوی کو اس نکاح کو فسخ قرار دینے کا شرعی جواز موجود ہے!
    جہاں تک میں اس مسئلہ میں سمجھا ہوں کہ نکاح از خود تو فسق نہیں ہوتا، مگر عورت کو نکاح فسق قرار دلوانے کا شرعی حق حاصل ہے، اور قاضی اسے بیوی کے حقوق ادا کرنے یا پھر طلاق دینے کا حکم کرسکتا ہے! یا نکاح کو فسق قرار دہے سکتا ہے!
    لیکن جب تک یہ نہیں کیا جاتا، ان مردو و عورت کا نکاح برقرار ہے، وہ ایک دوسرے کے شوہر اور بیوی ہیں!
    اس مسئلہ پر تصحیح فرما دیں! جزاک اللہ!
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 07، 2017 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,679
    موصول شکریہ جات:
    2,015
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    بالکل درست سمجھا آپ نے ۔ یہاں پیش کئے گئے فتوی کا یہی مطلب ہے ،
     
  7. ‏جولائی 07، 2017 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,943
    موصول شکریہ جات:
    1,019
    تمغے کے پوائنٹ:
    331

    جزاکم اللہ خیرا محترم شیخ
     
  8. ‏جولائی 07، 2017 #8
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,615
    موصول شکریہ جات:
    5,223
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    زیر بحث معاملہ کے شرعی پہلوؤں پر تو شیوخ محترم نے مندرجہ بالا مراسلوں میں بخوبی جواب دے دیا ہے کہ گو کہ ایسی صورتحال میں بیوی کو نکاح فسخ کرانے کا شرعی حق حاصل ہے، اگر بیوی کے مطالبہ پر شوہر طلاق نہیں دیتا تو۔ لیکن جب تک شوہر طلاق نہیں دیتا یا عورت عدالت سے فسخ نکاح نہیں کروالیتی، دونوں بدستور میاں بیوی ہی رہیں گے۔ خواہ بیوی ساری عمر باکرہ ہی رہے۔

    اس سماجی مسئلہ کا ایک طبی اور نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ طبی اور نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مرد جسمانی اور نفسیاتی طور پر نارمل ہو تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ کسی نارمل عورت کے ساتھ تخلییہ میں رہنے کے باوجود عورت کے ساتھ ہم بستری نہ کرے۔ اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے کہ وہ بوجوہ دخول (انٹر کورس) کے قابل ہی نہیں ہے۔ خواہ وہ اس بات کا اقرار کرے یا نہ کرے۔ عموما عورتیں اس بات کو نہیں سمجھتیں کہ بظاہر صحت مند اور نارمل نظر آنے والا شوہر اس کے ساتھ انٹر کورس کیوں نہیں کرتا۔

    بہت سے مردوں کو شادی سے قبل اپنی اس خامی کا پتہ ہی نہیں چلتا اور شادی کے بعد بوجہ شرم بیوی کو اس بات سے دوٹوک آگاہ نہیں کرتے یا اس خوف سے نہیں کرتے کہ پھر بیوی طلاق مانگے گی اور وہ شادی شدہ زندگی سے محروم ہوجائے گا۔ بعض مردوں کو اپنی اس خامی کا پتہ تو ہوتا ہے لیکن وہ اسے چھپا کر شادی کرلیتے ہیں اور بیوی کو یہ بات تادیر نہیں بتلاتے۔

    سماج میں ایسے متعدد جوڑوں کا انکشاف ہوتا رہتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان اسی وجہ سے کبھی ازدواجی تعلقات استوار نہیں ہوئے۔ ایسے میں بیوی کے پاس دونوں آپشن موجود ہوتے ہیں۔ یا تو طلاق یا فسخ نکاح کے ذریعہ ایسے نامرد شوہر سے چھٹکارا حاصل کرکے کسی اور سے شادی کرلے۔ لیکن چونکہ ہمارے معاشرے میں کسی مطلقہ کی شادی کا امکان بہت کم ہوتا ہے اس لئے ایسی صورتحال سے دوچار بیویاں اپنے ارمانوں کی قربانی دے کر شوہر کے ساتھ زندگی گذارلیتی ہیں۔ بلکہ ایسی خواتین کا بھی پتہ چلا ہے جنہیں شادی کے بعد اپنے شوہر کی نامردی کا علم ہوا، شوہر نے بیوی کو دونوں آپشن (یعنی طلاق دینے یا ساتھ رہنے) دیا اور بیوی نے بوجوہ ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اور دونوں کامیاب زندگی گزارتے رہے۔

    ایسی عورت کو یہ بتلانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ تمہارا شوہر عملا نامرد ہے اور وہ انٹر کورس کرنے ہی کے قابل نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ شرم یا انا کی وجہ سے اس بات کا اقرار نہیں کرتا۔ اب تم اپنا جائزہ لے لو کہ اس کے ساتھ اسی طرح ساری زندگی گزار نا تمہارے لئے بہتر ہے یا اس سے طلاق لینے کے بعد والی زندگی بہتر ہوگی۔ فیصلہ کا اختیار تمہارے ہاتھ میں ہے۔ شرعا تم اپنا یہ شرعی حق چھوڑ کر بھی زندگی گذارسکتی ہو

    واللہ اعلم بالصواب
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  9. ‏جولائی 08، 2017 #9
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,615
    موصول شکریہ جات:
    5,223
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    اسلام کو دین فطرت بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے جملہ قوانین اور ضابطے انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ شوہر اور بیوی کے مابین ازدواجی تعلقات بالخصوص سیکس سے متعلق شرعی ضابطے گو مرد و زن کی جسمانی و ذہنی ساخت کے عین مطابق ہیں لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر فرد اس بات کو سمجھ بھی سکے۔

    کہا جاتا ہے اور بالکل درست کہا جاتا ہے کہ مرد نسوانی حسن کو آنکھوں سے دیکھ کر بہت جلد جنسی طور پر "مشتعل" ہوجاتا ہے اسی لئے خواتین سے کہا گیا ہے کہ وہ نامحرم کی آنکھوں سے اپنے جملہ نسوانی حسن کو حجاب میں رکھیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے اور درست کہا جاتا ہے کہ خواتین کانوں سے مردانہ و ہمدردانہ گفتگو سن کر "بتدریج مشتعل" ہونے لگتی ہے۔ اسی لئے خواتین کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ نامحرم مردوں سے ضرورت پڑنے پر بھی نرم اور میٹھے لہجہ میں بات نہ کریں۔ مردوں کی آنکھوں کو زنانہ حسن سے مشتعل ہونے سے بچانے اور ہمدردانہ و مردانہ آوازوں سے زنانہ کانوں کو "مشتعل" ہونے سے بچانے کی تلقین عورتوں کو خصوصی طور پر اس لئے کی گئی ہے کہ نامحرم سے روابط کے دوران مرد مشتعل ہو یا عورت، دنیوی نقصان کا سامنا بالعموم عورت ہی کو کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے خود کو نقصان سے بچانے کی اولین ذمہ داری بھی عورت پر ہی عائد کی گئی ہے۔

    یہی دو کام جو نامحرموں کے مابین "ناخوب" ہیں، میاں بیوی کے درمیان "بہت خوب" اور مطلوب ہیں۔ لیکن مستقل ساتھ رہنے کی وجہ سے مرد و زن دونوں اس طرف کم کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ دین بے زار طبقوں اور عام مسلم بیویوں کو بھی حقوق زوجیت سے متعلق شرعی ضابطے بہت ناگوار لگتے ہیں کہ شوہر جب اور جیسے بیوی کو بستر پر طلب کرے، اسے سارے کام چھوڑ کر پہنچنا چاہئیے۔ اور جو بیوی شوہر سے خفا ہوکر رات کو اس کے ساتھ نہ سوئے تو رات بھر اس پر لعنت کی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ اس کے برعکس شوہروں کو یہ تلقین نہیں کی گئی ہے کہ بیوی کو جب بھی جنسی خواہش ہو، مرد اسے فورا اس خواہش کی تکمیل کرے۔

    نیٹ کی معرفت اس احقر تک متعدد مرتبہ اس بارے میں شکایت کی گئی کہ صرف بیوی ہی کیوں مرد کو "لبیک" کہے، مرد بیوی کو "لبیک" کیوں نہ کہے۔ شکایت کنندگان کو بارہا یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ انٹرکورس کے علاوہ مرد، عورت کی ہر طلب کو فوری طور پر پورا کرسکتا ہے اور اسے ایسا کرنا بھی چاہئیے لیکن "جنسی دخول" ایک ایسا فعل ہے جو عورت کی نا تیاری، نارضامندی، ناگواری بلکہ مزاحمت کے باجود ظہور پذیر ہوجاتا ہے۔ جبکہ مرد اگر اس فعل کے لئے جسمانی و ذہنی طور پر بخوبی تیار نہ ہو تو یہ ممکن ہی نہیں۔ خواہ عورت کی طلب کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو۔ اسی لئے مرد کو اس بات کا پابند نہیں کیا گیا، جیسا کہ عورت کو کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زوج کی "جنسی کال" پر فورا "لبیک" کہے۔ مرد ہر وقت جنسی طور پر "مردانگی" کا حامل نہیں ہوتا۔ مرد کی جنسی مردانگی صرف "چند لمحوں" کی مہمان ہوتی ہے اور مرد صرف ان لمحات ہی میں عورت کی خواہش کو پورا کرسکتا ہے۔ لہذا بیویوں کو چاہئیے کہ وہ مرد کی طرف سے "جنسی پہل" کو غنیمت جان کر انہی لمحات میں جنسی خوشیاں کشید کریں۔ اور دیگر گھریلو معاملات کی طرح اس معاملہ میں بھی شوہر کو اپنا "معمول" بنانے کی کوشش نہ کریں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شکایت کنندگان میں سے اکثر پڑھی لکھی بیویاں بھی اس بات کی گہرائی تک پہنچنے سے قاصر رہتی ہیں۔ اور ان کی "شکایت" اپنی جگہ موجود رہتی ہے کہ شوہر صاحب کو "ہماری طلب" کو پورا کرنے کی تو فکر ہوتی نہیں۔ بس "اپنی طلب" کو ہی پورا کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔

    پس نوشت:اس مراسلہ میں ایک بیوی کی "ذاتی شکایت" کو "جرنلائز" کرکے متعلقہ معاملہ کی واضح تصویر کشی کی کوشش کی گئی ہے تاکہ اس قسم کی دیگر "ان کہی شکایت" کا ازالہ ہوسکے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  10. ‏جولائی 13، 2017 #10
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    352
    موصول شکریہ جات:
    114
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    جزاك الله خير محترم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں