1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نکاح کے مسائل !!!

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مئی 26، 2014۔

  1. ‏جنوری 08، 2018 #11
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,760
    موصول شکریہ جات:
    2,265
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    اس کا مطلب ہے کہ :
    صحیح اور شرعی نکاح اعلانیہ کیا جاتا ہے ، اور غیر شرعی نکاح دوسروں سے چھپاکے بلکہ لڑکی کے ولی سے بھی مخفی رکھا جاتا ہے ؛
    عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ، وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ "
    محمد بن حاطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے اور اس کا اعلان کیا جائے ۱؎“۔
    (سنن نسائی 3669 ، سنن الترمذی/النکاح ۶ (۱۰۸۸)، سنن ابن ماجہ/النکاح ۲۰ (۱۸۹۶)مسند احمد (۳/۴۱۸ و۴/۲۵۹) (حسن)
    وضاحت: ۱؎: یعنی زنا چوری چھپے ہوتا ہے اور شرعی نکاح لوگوں کو بتا کر اور اعلان کر کے کیا جاتا ہے۔
    مظاہر حق شرح مشکاۃ میں حنفی شارح لکھتے ہیں :
    آواز سے مراد لوگوں کے درمیان نکاح کا ذکر و اعلان کرنا ہے حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بغیر آواز اور دف کے نکاح ہوتا ہی نہیں کیونکہ نکاح دو گواہوں کے سامنے بھی ہوجاتا ہے بلکہ اس حدیث کا مقصد لوگوں کو اس بات کی ترغیب دلانا ہے کہ نکاح کی مجلس علانیہ طور پر منعقد کی جائے اور لوگوں میں اس کی تشہیر کی جائے اب رہی یہ بات کہ تشہیر کی حد کیا ہے ؟ تو وہ یہ ہے کہ اگر ایک مکان میں نکاح ہو تو دوسرے مکان میں یا پڑوس میں اس کا علم ہوجائے اور یہ چیز دف بجانے یا آواز کے ذریعہ یعنی گوئی نظم وگیت پڑھنے گانے سے) حاصل ہوتی ہے تشہیر کا مطلب قطعًا نہیں ہے کہ محلوں اور شہروں میں شہنائی نوبت اور باجوں کے شور و شغب کے ذریعہ نکاح کا اعلان کیا جائے۔
    اس حدیث کی شرح میں مشہور حنفی عالم حضرت ملا علی قاری ؒ لکھتے ہیں :
    «فصل ما بين الحلال والحرام» ) أي: فرق بينهما (الصوت) أي: الذكر والتشهير بين الناس (والدف) أي: ضربه (في النكاح) فإنه يتم به الإعلان، قال ابن الملك: " ليس المراد أن لا فرق بين الحلال والحرام في النكاح إلا هذا الأمر فإن الفرق يحصل بحضور الشهود عند الضد بل المراد الترغيب إلى إعلان أمر النكاح بحيث لا يخفى على الأباعد، فالسنة إعلان النكاح بضرب الدف وأصوات الحاضرين بالتهنئة أو النغمة في إنشاد الشعر المباح، وفي شرح السنة: معناه إعلان النكاح واضطراب الصوت به والذكر في الناس كما يقال فلان قد ذهب صوته في الناس وبعض الناس يذهب به إلى السماع وهذا خطأ يعني السماع المتعارف بين الناس الآن "
    یعنی : حدیث شریف جو ارشاد ہے کہ :
    ((حلال اور حرام میں فرق دف اور آواز ہے )) سے مراد نکاح کا لوگوں میں تذکرہ و تشہیر ہے ، اور دف بجا کر شرعی نکاح کا اعلانیہ ہونا تمام ہوتا ہے ،علامہ ابن الملکؒ فرماتے ہیں کہ یہاں یہ مراد نہیں کہ صرف دف اور اعلان ہی حلال و حرام کے درمیان تفریق کا ذریعہ ہے ،کیونکہ یہ مقصد تو نکاح کے گواہوں کی موجودگی سے بھی حاصل ہوتا ہے ،یہاں مطلوب معاملہ نکاح کو اعلانیہ کرنے کی ترغیب دلانا ہے ، یعنی اسطرح اعلان ہو کہ دور والے بھی آگاہ ہوجائیں ،
    اور سنت یہ ہے کہ نکاح کا اعلان دف سے کیا جاوے ،اور حاضرین کی تہنیت و مبارکباد اور مباح شعر و نغمہ سے کیا جائے ؛
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس سے مروج سماع (گانا ،بجانا ) مراد لینا خطا ہے ،
     
  2. ‏اپریل 22، 2018 #12
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,086
    موصول شکریہ جات:
    315
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    شیخ، سید ، مغل اور پٹھان اگر بنی آدم میں سے ہیں تو انصاری، جولاہا، تیلی ، جاٹ وغیرہ کس نسل انسانی سے تعلق رکھتے ہیں ؟ اگر کچھ لوگ اس تفریق کےقائل ہیں کہ ذاتوں میں کوئی اعلیٰ اور کوئی ادنٰی ہے تو پھر اسلام اور ھندومت میں کوئی فرق نہیں۔میری سمجھ سے یہ بات بالا تر ہے کہ اسلام جیسے دین کو اپنا کر بھی لوگوں کی ایک کثیر تعداد خصوصاً سید اب تک نسل پرستی اور نسبی تفاخر کے بتوں کے پجاری بنے ہوئے ہیں اور ان کو پاش پاش کرنے کی ہمت نہیں رکھتے ؟ اگر سید خاندان میں پیدا ہونا باعثِ شرف اور دیگرذاتوں میں پیدا ہونا باعثِ شرم ہے تو پھر اس معاملے میں انسان نہیں بلکہ خالق قصور وار ہے اور اگر یہ تفریق الہامی نہیں بلکہ انسانی ہے تو اس تفریق کو جنم دینے والے بدترین خلائق میں شمار ہیں ۔ لہذا اس حقیقت کے باوجود کہ سب مسلمان بنی آدم کی اولا د ہیں تو نسلی پرستی کے شکار لوگوں کو اخلاقی جرات و شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام سے توبہ کر لینی چاہیے کیونکہ ایسے لوگوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں