1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نکاح کے مسائل

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏جنوری 12، 2012۔

  1. ‏جنوری 12، 2012 #21
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    والدین کی خدمت میں چند اہم گزارشات

    رسول اکرمﷺکا ارشاد مبارک ہے :
    ’’ہر بچہ فطرت (اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے ، لیکن اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔‘‘ (بخاری) اس حدیث شریف سے اولاد کی تربیت کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اولاد کی تربیت کے معاملے میں ویسے تووالدین پر بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ،لیکن ہم یہاں صرف ازدواجی زندگی کے حوالے سے چند گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 12، 2012 #22
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بلوغت کے مسائل

    بلوغت کی حدوں میں داخل ہونے والے لڑکوں اور لڑکیوںکو بلوغت کے مسائل سے آگاہ کرنا بہت ضروری ہے ۔ ہمارے ہاں اس بارے میں دو متضاد انتہائیں پائی جاتی ہیں ۔ ایک طبقہ تو وہ ہے جو اپنی اولاد کے سامنے نہ خود ایسے مسائل کا ذکر کرنا پسند کرتا ہے نہ ہی بچوں کی زبان سے ان کا تذکرہ سننا پسند کرتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو مغربی طرز معاشرت کا اس حد تک دلدادہ ہے کہ اہل مغرب کی طرح سکولوں میں باقاعدہ جنسی تعلیم کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ یہ دونوں انداز فکر افراط و تفریط کے حامل ہیں۔ اعتدال کا راستہ یہ ہے کہ بلوغت کے قریب پہنچتے ہوئے بچوں کے مسائل کا والدین خود احساس کریں اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کی راہنمائی کریں ورنہ ذرائع ابلاغ کے فتنے، ریڈیو، ٹی وی ، وی سی آر، بازاری ناول ، فحاشی پھیلانے والے روزنامے، ہفت روزے ، رسائل ، جرائد اور دیگر لٹریچر کا سیلاب ناپختہ ذہن اور اٹھتی ہوئی جوانی کی عمر میں بڑی آسانی سے بچوں کو غلط راستے پر ڈال سکتا ہے۔
    یاد رکھئے ! بعض اوقات معمولی سی کوتاہی اور لغزش کی تلافی عمر بھر کی جدوجہد سے بھی ممکن نہیں رہتی۔
    صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور صحابیات رضی اللہ عنھا بلوغت کے مسائل ، طہارت ، نجاست ، جنابت، حیض، نفاس ، استحاضہ وغیرہ، رسول اللہﷺسے آکر دریافت کرتے اور اللہ کے رسولﷺساری مخلوق میں سے سب سے زیادہ حیا دار اور غیرت مند تھے ، لیکن آپ ﷺنے مسائل بتانے میں شرم یا جھجک محسوس نہیں کی ، نہ صحابہ کرام اور صحابیات رضی اللہ عنھم کو ایسے مسائل دریافت کرنے پر کبھی روکا یا ٹوکا بلکہ بعض اوقات اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے مسائل بتا کر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاانصاری خواتین کی اس بات پر بہت تعریف کیا کرتی کہ وہ دینی مسائل دریافت کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتیں۔ (مسلم)
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 12، 2012 #23
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    نکاح میں لڑکیوں کی رضامندی

    اس سے قبل ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ اسلام عورت کو بھی مرد کی طرح اپنا رفیق زندگی منتخب کرنے کی پوری آزادی دیتا ہے ، لیکن ہمارے ہاں رواج یہ ہے کہ لڑکے کی پسند یا ناپسند کو بہت اہمیت دی جاتی ہے ۔ بعض اوقات لڑکے خود بھی ضد کرکے یا کسی نہ کسی طرح اپنے رد عمل کا اظہار کرکے اپنی بات منوا لیتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں لڑکیوں کی پسند یا ناپسند کو قطعاً کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ کچھ تو لڑکیوں میں قدرتی طور پر لڑکوں کی نسبت جھجک زیادہ ہوتی ہے اور وہ اپنی پسند یا ناپسندکا اظہار نہیں کر پاتیں، کچھ مشرقی رسم و رواج ایسا ہے کہ اس معاملے میں لڑکی کا اظہار خیال ’’بے شرمی‘‘ کی بات سمجھی جاتی ہے اور والدین اپنی بیٹیوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ جہاں کہیں ان کے رشتے طے کردیں بیٹیوں کو زبان بند کرکے وہاں چلی جانا چاہئے۔ شرعاً یہ طرز عمل درست نہیں۔ لڑکی کی مرضی کے بغیر کئے گئے نکاح کے معاملے میں رسول اکرمﷺنے لڑکی کو پورا پورااختیار دیا ہے کہ وہ چاہے تو نکاح باقی رکھے چاہے توختم کردے۔ (ابودائود) لہٰذا نکاح سے قبل لڑکوں کی طرح لڑکیوں کو بھی اپنی پسند یا ناپسند کے اظہار کا پورا پورا موقع دینا چاہئے۔ اگر والدین لڑکی کے انتخاب کو کسی وجہ سے غلط سمجھتے ہوں تو اسے زندگی کے نشیب و فراز سے آگاہ کرکے یہ تو کر سکتے ہیں کہ اس کی پسند کو بدل دیں، لیکن یہ نہیں کرسکتے کہ اس کی مرضی کے بغیر زبردستی کسی جگہ اس کا نکاح کردیں۔ یہ طرز عمل نہ صرف شرعاً جائز نہیں بلکہ دنیاوی اعتبار سے بھی اس کے نتائج تکلیف دہ او رپریشان کن برآمد ہوسکتے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 12، 2012 #24
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بے جوڑ رشتے

    رسول اللہﷺکا ارشاد مبارک ہے : ’’عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے ۔ اس کے مال و دولت کی وجہ سے ، اس کے حسب نسب کی وجہ سے ، اس کی خوبصورتی کی وجہ سے یا اس کی دینداری کی وجہ سے ، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں دیندار عورت سے نکاح کرنے میں کامیابی حاصل کر۔‘‘ (بخاری)اس حدیث شریف میں واضح طور پر اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ رشتہ طے کرتے وقت دیندار ی کا خیال ضرور رکھنا چاہئے۔اچھا خاندان ، اچھی شکل ، اچھی معیشت دیکھنا شرعاً منع ہے نہ عیب ۔ اگر یہ سب یا ان میں سے بعض میسر آجائیں توبہت اچھا ہے لیکن شریعت جس چیز کو ان سب پر مقدم رکھنے کا حکم دیتی ہے وہ دینداری ہے۔ بدقسمتی سے جب سے مادہ پرستی کی دوڑ شروع ہوئی ہے کتنے ہی دیندار گھرانے ایسے ہیں جو اپنی بیٹیوں کو کتاب و سنت کی تعلیم دلاتے ہیں۔ پاکیزہ اور صاف ستھرے ماحول میں ان کی تریبت کرتے ہیں ، لیکن نکاح کے وقت دنیا کی چمک دمک سے مرعوب ہو کر بیٹی کے اچھے مستقبل کی تمنا میں بے دین یا بدعتی یا مشرک گھرانوں میں اپنی بیٹیاں بیاہ دیتے ہیں اور یہ تصور کر لیتے ہیں کہ بیٹی نئے گھر میں جا کر اپنا ماحول خود بنا لے گی۔ بعض باہمت ، سلیقہ شعار اور خوش قسمت خواتین کی استثنائی مثالوں سے انکار نہیں کیا جا سکتالیکن عمومی حقائق یہی بتلاتے ہیںکہ ایسی خواتین کو بعد میں بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے خود والدین بھی زندگی بھر ہاتھ ملتے رہتے ہیں ۔ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے مزاج میں دوسروں کو ڈھالنے کی بجائے خود ڈھلنے کی صفت غالب رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کی عورتیں لینے کی اجازت ہے ، دینے کی نہیں۔ کم از کم دیندار گھرانوں میں کفو دین کا اصول کسی قیمت پر نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ رشتہ طے کرتے وقت یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ نیک مرد و عورت کا یہی دنیاوی نکاح قیامت کے ر وز جنت میں دائمی تعلق کی بنیاد بنے گالیکن اگر فریقین میں سے ایک موحد نیک اور متقی ہواور فریق ثانی اس کے برعکس تو اس دنیا میں تعلق نبھانے کے باوجود آخرت میں یہ تعلق ٹوٹ جائے گا اور جنت میں جانے والے مرد یا عورت کا کسی دوسرے موحد اور نیک عورت یا نیک مرد سے نکاح کردیاجائے گا ،لہٰذا نکاح کے وقت اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مبارک یاد کھنا چاہئے
    {اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ وَالطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ}’’
    خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لئے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے ، پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں او رپاکیزہ مرد ، پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں۔‘‘ (سورہ نور ، آیت نمبر26)
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 12، 2012 #25
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جہیز کی رسم

    جہیز کا مادہ ’’جہز‘‘ ہے جس کا مطلب ہے سامان کی تیاری، اسی مادہ سے تجہیز کا لفظ بنا ہے جو میت کے لئے تکفین کے اضافے کے ساتھ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہے میت کو قبر میں پہنچانے کے لئے سامان تیار کرنا۔ جہیز اس سامان کو کہا جاتا ہے جو دلہن کو نیا گھر بنانے یا بسانے کے لئے والدین کی طرف سے دیا جاتا ہے۔
    گزشتہ صفحات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ خاندانی نظم میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کو قوام یا محافظ بنانے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ مرد اپنے خاندان (یعنی بیوی بچوں) پر اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو سورہ نساء ، آیت نمبر33) جس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح کے بعد اول روز سے ہی گھر بنانے اور چلانے کے تمام اخراجات مرد کے ذمہ ہیں۔رسول اکرمﷺنے میاں بیوی کے حقوق متعین کرتے ہوئے یہ بات بیوی کے حقوق میں شامل فرمائی ہے کہ ان کا نان نفقہ ہر صورت میں مرد کے ذمہ ہے ، خواہ عورت کتنی ہی مالدار کیوں نہ ہو (ملاحظہ ہو کتاب ہذا ’’بیوی کے حقوق‘‘) نکاح کے وقت شریعت نے مرد پر یہ فرض عائد کیا ہے کہ وہ حسب استطاعت عورت کو ’’مہر‘‘ ادا کرے یہ بھی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام کی نظر میں مرد عورت پر خرچ کرنے کا پابند ہے، عورت خرچ کرنے کی پابند نہیں۔
    زکاۃ کی ادائیگی میں بھی شریعت نے اسی اصول کو پیش نظر رکھا ہے ۔شوہر چونکہ قانونی طور پر بیوی کے نان نفقہ کا ذمہ دار ہے ،لہٰذا مالدار شوہر اپنی بیوی کو زکاۃ نہیں دے سکتا جبکہ مالدار بیوی اپنے شوہر کو اس لئے زکاۃ دے سکتی ہے کہ وہ قانونی طور پر مرد کے اخراجات کی ذمہ دار نہیں۔ (ملاحظہ ہو صحیح بخاری ، باب الزکاۃ علی الزوج)
    رسول اکرمﷺنے اپنی چار صاحبزادیوں کی شادی کی ۔ ا ن میں سے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنھااور حضرت رقیہ رضی اللہ عنھاکو کسی قسم کا جہیز دینا ثابت نہیں ، البتہ حضرت زینب رضی اللہ عنھاکو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھانے اپنا ایک ہار دیا تھا جو جنگ بدر میں حضرت زینب رضی اللہ عنھانے اپنے شوہر حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ کو چھڑوانے کے لئے بطور فدیہ بھجوایا تھا جسے رسول اکرم ﷺنے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مشورہ کے بعد واپس بھجوا دیا ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھاکو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مہر میں ایک ڈھال دی تھی جسے فروخت کرکے رسول اکرم ﷺنے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھاکو گھر کا ضروری سامان ، پانی کی مشک، تکیہ ، ایک چادرو غیرہ بنا کر دیا ۔ آپ ﷺکے اس اسوہ حسنہ سے زیادہ سے زیادہ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص نادار اور غریب ہو تو عورت کے والدین حسب استطاعت اپنے داماد سے تعاون کرنے کے لئے گھر کا بنیادی اور ضروری سامان دے سکتے ہیں۔
    آج کل جس طرح نکاح سے قبل جہیز کے لئے مطالبات ہوتے ہیں اور پھر نکاح کے موقع پر جس اہتمام کے ساتھ اس کی نمائش ہوتی ہے ، شرعاً حرام ہونے میں کوئی شک نہیں۔
    اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے ’’اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے اور فخر کرنے والے آدمی کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (سورہ لقمان ، آیت نمبر8)حدیث شریف میں رسول اکرم ﷺنے ایک بڑا عبرتناک واقعہ بیان فرمایا ہے ، جسے امام مسلم aنے روایت کیا ہے ۔ رسول اللہﷺفرماتے ہیں ایک آدمی دو چادریں پہن کر اکڑ کر چل رہا تھا اور جی ہی جی میں (اپنے لباس پر) اِترارہا تھا ، اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جارہا ہے۔والدین کی اپنی رغبت اور مرضی کے بغیر محبوراً ان سے جہیز بنوانایقینا باطل طریقے سے مال کھانے کے ضمن میں آتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے : ’’اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھائو۔‘‘(سورہ نساء ، آیت نمبر 29) لہٰذا اگر کسی نے زبردستی جہیز حاصل کیا تو اس آیت کی رُو سے وہ قطعی حرام ہے ، جسے واپس لوٹانا چاہئے یا معاف کروانا چاہئے۔ ایک حدیث شریف میں رسول اکرمﷺنے واضح طو رپر یہ ارشاد فرمایا ہے ہے کہ ایک مسلمان کا خون اس کا مال ، اس کی عزت اور آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہیں۔ (مسلم) ایک روایت میں ارشاد مبارک ہے ’’ظلم ، قیامت کے روز اندھیرا بن کر آئے گا۔‘‘ (بخاری) بیٹی کے والدین سے زبردستی جہیز حاصل کرنا صریحاً ظلم ہے ایسا ظلم کرنے والوں کو ڈرنا چاہئے کہ کہیں دنیا کے اس معمولی لالچ کے بدلے میں آخرت کا عظیم خسارہ مول نہ لینا پڑ جائے ، جہاں حقوق کی ادائیگی مال سے نہیں اعمال سے ہوگی۔ قرآن و حدیث کے ان احکام کے علاوہ ایسے جہیز کے دنیاوی مفسدات اس قدر ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ غریب والدین جو ایک بیٹی کا جہیز بنانے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں ، ان کے ہاں اگر تین یا چار بیٹیاں پیدا ہوجائیں تو ان کے لئے باعث عذاب بن جاتی ہیں ، ماں باپ کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں۔ والدین قرض لے کر جہیز بنانے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور وہی نکاح ، جسے شریعت دو خاندانوں کے درمیان محبت ، مؤدت اور رحمت کا ذریعہ بنانا چاہتی ہے، باہمی نفرت ، عداوت اور دشمنی کا باعث بن جاتا ہے ۔وہی بیٹیاں جن کی پرورش اور نکاح پر جہنم سے رکاوٹ کی خوشخبری دی گئی ہے ، معاشرے کی اس مذموم رسم کی وجہ سے نحوست کی علامت بن جاتی ہیں۔ بیٹیاں الگ ذہنی اذیت اور احساس کمتری کا شکار رہتی ہیں۔ ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد لڑکیاں شادی کے انتظار میں بیٹھی ہیں۔ جن میں سے 40لاکھ لڑکیوں کی شادی کی عمر گزر چکی ہے ۔ والدین اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر میں بوڑھے ہو چکے ہیں۔
    جو لوگ زیادہ جہیز دینے کی استطاعت رکھتے ہیں وہ زیادہ جہیز دینے کے عوض شوہر سے اس کی استطاعت سے کہیں زیادہ حق مہر لکھوا لیتے ہیں او ریہ سمجھتے ہیں کہ ا س طرح ان کی بیٹی کا مستقبل محفوظ ہوجائے گا حالانکہ میاں بیوی کے رشتے کی اصل بنیاد باہمی خلوص ، وفاداری اور اعتماد ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو کروڑوں کے زرو جواہر بھی اس کا متبادل نہیں بن سکتے اور اگر یہ چیز موجود ہو تو فاقہ کشی بھی اس نازک رشتے کو متزلزل نہیں کرسکتی۔ زیادہ جہیز دینا اور پھر زیادہ حق مہر لکھوانا میاں بیوی کے باہمی رشتے کو مضبوط تو نہیں بناتا البتہ دونوںکے تعلقات میں بال ضرور آجاتا ہے جو بسا اوقات مستقبل میں پریشانی کا باعث بنتا ہے۔
    جہیز کی اس مذموم رسم پر مسلمانوں کو اس پہلو سے بھی غور کرنا چاہئے کہ ہندوئوں کے ہاں بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا قانون نہیں ، لہٰذا وہ شادی کے موقع پر جہیز کی شکل میں بھی اپنی بیٹیوں کو زیادہ سے زیادہ سامان دے کر اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، ہندوئوں کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی نہ صرف جہیزکے معاملے میں بلکہ وراثت کے معاملے میں بھی ہندوئوں جیسا طرز عمل اپنا نا شروع کردیا ہے بہت سے لوگ بیٹیوں کوجہیز دینے کے بعد یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کاحق وراثت بھی ادا کر دیا گیا ہے حالانکہ یہ سراسر شریعت کی خلاف ورزی اور کفار کی اتباع ہے جس سے مسلمانوں کو ہر حال میں بچنا چاہئے۔
    ہم لڑکوں کے والدین سے گزارش کرناچاہتے ہیں کہ معاشرے میں اس خطرناک ناسور کو ختم کرنے کے لئے پہلا قدم وہی اٹھا سکتے ہیں اور انہیں ہی اٹھانا چاہئے ۔ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جہیز کی رسم کے خلاف جہاد کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے دنیاو آخرت میں بے پناہ انعامات سے نواز دے اور بعیدنہیں کہ ظلم سے جہیز حاصل کرنے والوں کو کل کلاں خود اپنی ہی بیٹیوں کے معاملے میں بہت زیادہ پریشان کن اور تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑے۔ { وَ تِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ} ’’یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں ، جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔‘‘ (سورہ آل عمران ، آیت نمبر140)

    نکاح کے مسائل ہماری عملی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں ہم نے امکانی حد تک مسائل اور صحت ِ احادیث کے سلسلے میں مختلف علمائے کرام سے راہنمائی حاصل کرنے کا پورا پورا اہتمام کیا ہے تاہم اگر کوئی غلطی رہ گئی ہو تو اس کی نشاندہی پر ہم ممنون ہوں گے۔ ابتدأً کتاب دوحصوں پر مشتمل تھی Ý نکاح کے مسائل اور Þ طلاق کے مسائل ۔ کتاب کے صفحات زیادہ ہونے کی وجہ سے دونوں حصوں کو الگ الگ کرنا پڑا ۔ امید ہے کہ اس سے کتاب کی افادیت پر ان شاء اللہ کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
    واجب الاحترام علمائے کرام اور دیگر حضرات ، جنہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے کتاب کی تیاری میں تعاون فرمایا ہے ، ان سب کا تہ دل سے شکرگزار ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا اور آخرت میں اپنے انعامات سے نوازے۔ آمین !
    { رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ }
    اے ہمارے پروردگار! ہماری اس خدمت کو قبول فرما تو یقینا خوب سننے اور خوب جاننے والا ہے۔

    محمد اقبال کیلانی،عفی اللہ عنہ
    جامعہ ملک سعود،الریاض
    المملکۃ العربیۃ السعودیۃ
    11 ذیقعدہ،1497ہـ​
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 15، 2012 #26
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    تحریکات حقوق نسواں کے نام!


    ¤¤¤¤​
    ہم پورے خلوص اور جذبہ ہمدردی کے ساتھ تمام تحریکات حقوق نسواں کو یہ دعوت دیتے ہں کہ وہ پیغمبر اسلام ﷺ کے لائے ہوئے طرز معاشرت کا، عقیدہ کے طور پر نہ سہی، ایک اصلاحی تحریک کے طور پر ہی سہی، سنجید گی سے مطالعہ کریں اور پھر بتائیں کہ …!
    * بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی سنگ دلانہ رسم کا خاتمہ کس نے کیا؟
    * ایک ایک عورت کے ساتھ بیک وقت دس دس مردوں کے نکاح کی جاہلانہ رسم کس نے مٹائی؟
    * عورتوں کو مردوں کے ظلم اور جبر سے بچانے کے لئے لامحدود طلاقوں کا ظالمانہ قانون کس نے منسوخ کا؟؟
    * بیٹی کی پرورش اور تربیت پر جہنم کی آگ سے بچنے کا مژدہ جانفزا کون لے کر آیا؟
    * عورت کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی بنیاد کس نے ڈالی؟
    * عورت کی مرد کے ساتھ فطری مساوات کا علم کس نے بلند کا؟
    * عورت کو فکر معاش سے باعزت اور باوقار آزادی کس نے دلائی؟
    * بیوہ اور مطلقہ عورتوں سے نکاح کر کے عورت کو عزت اور عظمت کس نے بخشی؟
    * عورت کو عفت والی زندگی بسر کرنے پر جنت کی ضمانت کس نے دی؟
    * عورت کی عزت اور آبرو سے کھیلنے والے مجرموں کو سنگسار کرنے کا قانون کس نے نافذ کیا؟
    * عورت کو بحیثیت ماں کے، مرد کے مقابلے میں تین گنا زیادہ حسن سلوک کا مستحق کس نے قرار دیا؟
    * عورت کے بڑھاپے کو باعزت اور پُروقار تحفظ کس نے عطا فرمایا؟ ہم پوری بصیرت اور فہم و شعور سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ…! تاریخ انسانی میں پیغمبرِ اسلام، محسن انسانیت محمد ﷺ ہی وہ پہلے اور آخری شخص ہیں، جنہوں نے کائنات کی مظلوم ترین اور حقیر ترین مخلوق عورت کو بے رحم، ظالم اور جابر جنسی درندوں کے چنگل سے نکال کر دنیائے انسانیت سے متعارف کرایا، عورت کے حقوق متعین کئے اور ان کا تحفظ فرمایا، اسے معاشرے میں بڑی عزت اور وقار کے ساتھ ایک قابل احترام مقام سے نوازا۔ حق بات یہ ہے کہ …! عورت تاقیامت محسن انسانیت ﷺ کے احسانات کے بارگراں سے سبکدوش ہونا چاہے بھی تو نہیں ہو سکتی۔
    وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی آلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 01، 2017
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 15، 2012 #27
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اَلنِّیَّۃُ

    نیت کے مسائل

    اعمال کا دارومدارنیت پر ہے
    عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ص قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا یَقُوْلُ : اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّاَّ تِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِیٍٔ مَا نَوَی فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ اِلَی الدُّنْاَ یُصِیْبُہَا اَوْاِلیَ امْرَاَۃٍ یَنْکِحُہَا فَہِجْرَتُہُ اِلَی مَا ہَاجَرَ اِلَہِ ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 06، 2012 #28
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اَلنِّیَّۃُ​

    نیت کے مسائل

    اعمال کا دارومدارنیت پر ہے۔
    عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ص قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا یَقُوْلُ : اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِیٍٔ مَا نَوَی فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ اِلَی الدُّنْیَا یُصِیْبُہَا اَوْاِلیَ امْرَاَۃٍ یَنْکِحُہَا فَہِجْرَتُہُ اِلَی مَا ہَاجَرَ اِلَیْہِ ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
     
  9. ‏فروری 06، 2012 #29
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    فَضْلُ النِّکَاحِ​

    نکاح کی فضیلت

    نکاح انسان میں شرم و حیا پیدا کرتا ہے
    نکاح آدمی کو بدکاری سے بچاتا ہے

    عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ص قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَائَ ۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ فَاِنَّہٗ اَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَاَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَ مَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَاِنَّہٗ لَہٗ وِجَائٌ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    نکاح جنسی آلودگی ،جنسی ہیجان اور شیطانی خیالات و افعال سے محفوظ رکھتا ہے
    عَنْ جَابِرٍص قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ ا یَقُوْلُ ((اِذَا اَحَدُکُمْ اَعْجَبَتْہُ الْمَرْأَۃُ فَوَقَعَتْ فِیْ قَلْبِہٖ فَلْیَعْمَدْ اِلَی امْرَأَتِہٖ فَلْیُوَاقِعْہَا فَاِنَّ ذٰلِکَ یَرُدُّ مَا فِیْ نَفْسِہٖ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    عَنْ جَابِرٍ ص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ ((اِنَّ الْمَرْأَۃَ اِذَا اَقْبَلَتْ اَقْبَلَتْ فِیْ صُوْرَۃِ شَیْطَانٍ فَإِذَا رَاٰی اَحَدُکُمُ امْرَأَۃً فَأَعْجَبَتْہُ فَلْیَأْتِ اَہْلَہٗ فَاِنَّ مَعَہَا مَثْلَ الَّذِیْ مَعَہَا)) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ(صحیح)
    نکاح باہمی محبت اور اخوت کا موثر ترین ذریعہ ہے
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا((لَمْ نَرَ لِلْمُتَحَابِّیْنَ مِثْلَ النِّکَاحِ )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
    نکاح انسان کے لئے باعث راحت و سکون ہے
    عَنْ اَنَسٍ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((حُبِّبَ اِلَیَّ النِّسَائُ وَالطِّیْبُ وَجُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلاَۃِ )) رَوَاہُ النِّسَائِیُّ (صحیح)
    نکاح سے دین مکمل ہوتا ہے
    عَنْ اَنَسٍ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ نِصْفَ الدِّیْنِ فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ فِی النِّصْفِ الْبَاقِیْ)) رَوَاہُ الْبَیْہَقِیُّ (حسن)
    جو شخص گناہ سے بچنے کے لئے نکاح کا ارادہ کرے ،اللہ تعالیٰ اس کی ضرور مدد فرماتا ہے
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ ((ثَلاَ ثَۃٌ حَقٌّ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عَوْنَہُمُ الْمَکَاتِبُ الَّذِیْ یُرِیْدُ الْاَدَائَ وَالنَّاکِحُ الَّذِیْ یُرِیْدُ الْعَفَافَ وَالْمُجَاہِدُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ )) رَوَاہُ النِّسَائِیُّ(حسن)
    نکاح نسل انسانی کی بقا کا ذریعہ ہے
    قیامت کے روز رسول اکرم ﷺ اپنی امت کی کثرت پر فخر فرمائیں گے
    عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ص قَالَ جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ا فَقَالَ : اِنِّیْ اَصَبْتُ امْرَأَۃً ذَاتَ حَسَبٍ وَ جَمَالٍ وَ اِنَّہَا لاَ تَلِدُ ،اَفَأَتَزَوَّجُہَا؟ قَالَ ((لاَ !)) ثُمَّ اَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَنَہَاہُ ، ثُمَّ اَتَاہُ الثَّالِثَۃَ، فَقَالَ ((تَزَوَّجُو الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ )) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (صحیح)
    عَنْ اَنَسٍص عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ ((تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاَنْبِیَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ )) رَوَاہُ اَحْمَدُ وَالطَّبْرَانِیُّ (صحیح)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏فروری 06، 2012 #30
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    أَہَمِیَّۃُ النِّکَاحِ​

    نکاح کی اہمیت

    نکاح نہ کرنے والا نکاح کی سنت کے اجر و ثواب سے محروم رہتا ہے۔
    عَنْ اَنَسٍص اَنَّ نَفَرًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ا سَأَلُوْا اَزْوَاجَ النَّبِیِّا عَنْ عَمَلِہٖ فِی السِّرِّ فَقَالَ : بَعْضُہُمْ لاَ اَتَزَوَّجُ النِّسَائَ وَ قَالَ بَعْضُہُمْ لاَ آکُلُ اللَّحْمَ وَ قَالَ بَعْضُہُمْ لاَ أَنَامُ عَلَی الْفِرَاشِ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ فَقَالَ ((مَا بَالُ اَقْوَامٍ قَالَ کَذَا وَ کَذَا لٰکِنِّیْ اُصَلِّیْ وَ أَنَامُ وَ أَصُوْمُ وَ اُفْطِرُ وَ أَتَزَوَّجُ النِّسَآئَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    نکاح نہ کرنے سے معاشرے میں زبردست فتنہ و فساد برپا ہو گا ۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اِذَا خَطَبَ اِلَیْکُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِیْنَہٗ وَ خُلُقَہٗ فَزَوِّجُوْہُ اِلاَّ تَفْعَلُوْہُ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ عَرِیْضٌ )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (حسن)
    نکاح نہ کرنے سے بدکاری میں پڑنے کا خدشہ ہے۔
    نکاح کے بغیر دین نا مکمل رہتا ہے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں