1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نکاح کے مسائل

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏جنوری 12، 2012۔

  1. ‏فروری 06، 2012 #31
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    أَنْوَاعُ النِّکَاحِ​

    نکاح کی اقسام

    نکاح کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں1نکاح مسنون2نکاح شغار 3 نکاح حلالہ 4نکاح متعہ ۔
    (ا) أَلنِّکَاحُ الْمَسْنُوْنِ​

    (ا)نکاح مسنون

    ولی کی سرپرستی میں عمر بھر رفاقت نبھانے کی نیت سے کیا گیا نکاح مسنون کہلاتاہے ،جو کہ جائز ہے۔
    اپنے شوہر کے علاوہ دوسرے مردوں سے اختلاط کی تمام قسمیں حرام ہیں۔
    عورت کے لئے بیک وقت ایک سے زائد مردوں سے نکاح کرنے کا طریقہ اسلام نے حرام قرار دیاہے۔

    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ ا قَالَتْ: اِنَّ النِّکَاحَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ کَانَ عَلٰی أَرْبَعَۃٍ اَنْحَائٍ : فَنکِاَحُ مِنْہَا نِکَاحُ النَّاسِ الْیَوْمَ یَخْطُبُ الرَّجُلُ اِلَی الرَّجُلِ وَلِیَّتَہٗ اَوِ ابْنَتَہٗ فَیُصْدِقُہَا ثُمَّ یُنْکِحُہَا وَ نِکَاحٌ آخَرُ : کَانَ الرَّجُلُ یَقُوْلُ لِإِمْرَأَتِہٖ : اِذَا طَہُرَتْ مِنْ طَمْثِہَا اَرْسِلِیْ اِلٰی فُلاَنٍ فَاسْتَبْضِعِیْ مِنْہُ وَ یَعْتَزِلُہَا زَوْجُہَا وَ لاَ یَمَسُّہَا اَبَدًا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ حَمْلُہَا مِنْ ذٰلِکَ الرَّجُلِ الَّذِیْ تَسْتَبْضِعُ مِنْہُ فَاِذَا تَبَیَّنَ حَمْلُہَا اَصَابَہَا زَوْجُہَا اِذَا اَحَبَّ وَ اِنَّمَا یَفْعَلُ ذٰلِکَ رَغْبَۃً فِیْ نَجَابَۃِ الْوَلَدِ ، فَکَانَ ہٰذَا النِّکَاحُ نِکَاحُ الْاِسْتِبْضَاعِ وَ نِکَاحٌ آخَرُ : یَجْتَمِعُ الرَّہْطُ مَا دُوْنَ الْعَشَرَۃِ فَیَدْخُلُوْنَ الْمَرْأَۃَ کُلُّہُمْ یُصِیْبُہَا فَإِذَا حَمَلَتْ وَ وَضَعَتْ وَ مَرَّ لِیَالٍ بَعْدَ اَنْ تَضَعَ حَمْلَہَا اَرْسَلَتْ اِلَیْہِمْ فَلَمْ یَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْہُمْ اَنْ یَمْتَنِعَ حَتّٰی یَجْتَمِعُوْہَا عِنْدَہَا ، تَقُوْلُ لَہُمْ : قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِیْ کَانَ مِنْ اَمْرِکُمْ وَ قَدْ وَلَدْتُ فَہُوْ اِبْنُکَ یَا فُلاَنُ ، تُسَمّٰی مَنْ اَحَبَّتْ بِاِسْمِہٖ فَیَلْحَقُ بِہٖ وَلَدُہَا ، لاَ یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَمْتَنِعَ بِہِ الرَّجُلُ ، وَ نِکَاحُ الرَّابِعُ : یَجْتَمِعُ النَّاسُ الْکَثِیْرُ فَیَدْخُلُوْنَ عَلَی الْمَرْأَۃِ لاَ تَمْنَعَ مَنْ جَائَ ہَا ، وَ ہُنَّ الْبَغَایَا کُنَّ یَنْصِبْنَ عَلٰی أَبْوَابِہِنَّ رَاْیَاتٍ تَکُوْنُ عَلَمًا لِمَنْ اَرَادَہُنَّ دَخَلَ عَلَیْہِنَّ فَاِذَا حَمَلَتْ اِحْدَاہُنَّ وَ وَضَعَتْ حَمْلَہَا جُمِعُوْا لَہَا وَ دَعَوْا لَہُمُ الْقَافَۃَ ثُمَّ الْحَقُوْا وَلَدَہَا بِالَّذِیْ یَرَوْنَ فَالْتَاطَتْہُ بِہٖ وَ دُعِیَ اِبْنُہٗ لاَ یَمْتَنِعُ مِنْ ذٰلِکَ ، فَلَمَّا بُعِثَ مُحَمَّدٌا بِالْحَقِّ ہَدَمَ نِکَاحَ الْجَاہِلِیَّۃِ کُلَّہٗ اِلاَّ نِکَاحَ النَّاسِ الْیَوْمَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    (ب) نِکَاحُ الشِّغَارِ

    (ب)نکاح شغار

    اپنی بیٹی یا بہن اس شرط پر کسی کے نکاح میں دینا کہ اس کے بدلہ میں وہ بھی اپنی بیٹی یا بہن اس کے نکاح میں دے گا یا کسی کی بیٹی کو اس شرط پر اپنی بہو بنانا کہ وہ بھی اس کی بیٹی کو اپنی بہو بنائے گا،یہ نکاح شغار (وٹہ سٹہ )کہلاتا ہے ایسا نکاح کرنا منع ہے۔
    عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا نَہٰی عَنِ الشِّغَارِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    (ج) نِکَاحُ الْحَلاَ لَۃِ​

    (ج)نکاح حلالہ

    اصغر اپنی بیوی اصغری کو طلاق دینے کے بعد دوبارہ اس (یعنی اصغری) سے نکاح کرنے کے لئے اکبر سے اس شرط پر نکاح کروا دے کہ اکبر ایک یا دو دن بعد اسے (یعنی اصغری کو)طلاق دے دے گا اور اصغر دوبارہ اپنی اور اکبر کی مطلقہ (اصغری )سے شادی کرے گا اس نکاح کو نکاح حلالہ کہتے ہیں ،یہ نکاح قطعی حرام ہے ۔
    حلالہ نکلوانے والا (اصغر )اور حلالہ نکالنے والا (اکبر )دونوں ملعون ہیں۔

    عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍص قَالَ : لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا أَلْمُحَلِّلَ وَ الْمُحَلَّلَ لَہٗ ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ(صحیح)
    (د) نِکَاحُ الْمُتْعَۃِ ​

    (د)نکاح متعہ

    طلاق دینے کی نیت سے مختصر وقت (خواہ چند گھنٹے ہوں چند دن ہوں یا چند ہفتے ہوں یا چند مہینے) کے لئے کسی عورت سے مہر طے کر کے نکاح کرنا ،نکاح متعہ کہلاتا ہے جو کہ حرام ہے۔
    عَنِ الرَّبِیْعِ ابْنِ سَبْرَۃَ الْجُہْنِیِّ ص اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہٗ أَنَّہٗ کَانَ مَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا فَقَالَ ((یَا اَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ قَدْ کُنْتُ آذِنْتُ لَکُمْ فِی الْاِسْتَمْتَاعِ مِنَ النِّسَائِ وَ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ حَرَّمَ ذٰلِکَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَمَنْ کَانَ عِنْدَہٗ مِنْہُنَّ شَیْئٌ فَلْیُخَلِّ سَبِیْلَہَا وَ لاَ تَأْخُذُوْا مِمَّا اٰتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْئًا )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    وضاحت : یاد رہے فتح مکہ سے پہلے تک نکاح متعہ جائز تھا جسے فتح مکہ کے موقع پر رسول اکرم ﷺ نے حرام قرار دے دیا بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جنہیں رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کا علم نہ ہو سکا وہ اسے جائز سمجھتے تھے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں جب سختی سے اس قانون پر عمل کروایا تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو اس کی حرمت کا علم ہو گیا اور اس کے بعد کسی نے اسے جائز نہیں سمجھا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 09، 2012 #32
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اَلنِّکَاحُ فِیْ ضَوْئِ الْقُرْآنِ​

    نکاح،قرآن مجید کی روشنی میں

    پاکدامن عورتوں کا نکاح پاکدامن مردوں سے اور بدکار عورتوں کا نکاح بدکار مردوں سے کرنے کا حکم ہے۔

    { اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَالْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ وَالطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ}(26:24)
    مطلقہ خاتون عدت کے بعد دوسرا نکاح کر لے اور دوسرا شوہر اپنی آزاد مرضی سے اسے طلاق دے دے تو مطلقہ خاتون عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔
    عورتوں کی وراثت زبردستی حاصل کرنا منع ہے ۔
    شوہر کی وفات کے بعد بیوہ کو کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنے سے روکنا منع ہے۔
    عورت کی ناپسندیدہ شکل و صورت یا گفتگو یا عادات وغیرہ کو دیکھ کر فورا علیحدگی کا فیصلہ کرنے کی بجائے حتی الامکان صبر و تحمل اور در گزر سے کام لے کر تعلق ازدواج نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔


    { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَائَ کَرْہًا وَ لاَ تَعْضُلُوْہُنَّ لِتَذْہَبُوْا بِبَعْضٍ مَا اٰتَیْتُمُوْہُنَّ اِلاَّ اَنْ یَّاتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ وَ عَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَاِنْ کَرِہْتُمُوْہُنَّ فَعَسٰی اَنْ تَکْرَہُوْاشَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا }(19:4)
    خاندان کے نظم میں مرد سربراہ اور عورت ماتحت ،مرد حاکم اور عورت محکوم ،مرد مطاع اور عورت مطیع کا درجہ رکھتے ہیں۔
    مرد گھر کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے اپنے اہل و عیال کی تمام ضروریات زندگی مہیا کرنے کا ذمہ دار ہے۔
    شوہر کی اطاعت گزاری اور وفاشعاری ،نیک خواتین کی صفات ہیں۔
    مردوں کی عدم موجودگی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرنا مثالی بیویوں کی صفت ہے۔
    سرکش عورتوں کو راہ راست پر لانے کے لئے پہلا اقدام انہیں سمجھانا بجھانا ہے۔دوسرا اقدام خواب گاہوں کے اندر ان کے بستر الگ کر دینا ہے اگر پھر بھی شوہر کی بات نہ مانیں تو آخری چارہ کار کے طور پر ہلکی مار مارنے کی اجازت ہے۔
    عورت شوہر کی اطاعت گزار بن جائے تو پھر اس پر کسی قسم کی زیادتی کرنا منع ہے۔


    { اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّ بِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ ط فَالصّٰلِحَاتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ ط وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نَشُوْزَہُنَّ فَعِظُوْہُنَّ وَاہْجُرُوْہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْہُنَّ فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلاَ تَبْغُوْا عَلَیْہِنَّ سَبِیْلاً ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیْرًا }(34:4)
    دلی محبت اور رغبت کے اعتبار سے تمام بیویوں کے درمیان عدل قائم کرنا مرد کے بس کی بات نہیں البتہ نان و نفقہ اور دیگر حقوق کے معاملے میں تمام بیویوں کے درمیان عدل قائم کرنا ضروری ہے۔
    { وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآئِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلاَ تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ط وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا }(129:4)
    وضاحت : اللہ تعالی سے ڈرتے ہوئے اپنی بیویوں کے درمیان عدل قائم کرنے کی پوری کوشش کے باوجود غیر ارادی طور پر یا بشری تقاضوں کے باعث کمی بیشی کو اللہ معاف فرمائیں گے۔
    شوہر کی وفات کے بعد عورت چار ماہ دس دن تک نہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے ،نہ زیب و زینت کر سکتی ہے نہ گھر سے باہر رات گزار سکتی ہے شرعی اصطلاح میں اسے ’’عدت ‘‘کہتے ہیں۔

    { وَالَّذِیْنَ یَتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ أَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَ عَشْرًا ج فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْ اَنْفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ط وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ }(234:2)
    وضاحت : نکاح کے بعد شوہر نے بیوی سے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو دونوں صورتوں میں عدت چار ماہ دس دن ہے البتہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے ۔یادرہے جس عورت سے شوہر نے صحبت کی ہواسے مدخولہ اور جس سے ابھی صحبت نہ کی ہواسے غیر مدخولہ کہتے ہیں۔
    مومن عورتوں کے نکاح مشرک مردوں کے ساتھ اور مومن مردوں کے نکاح مشرک عورتوں کے ساتھ کرنے منع ہیں۔
    مومن لونڈی ،آزاد مشرک عورت سے بہتر ہے۔
    مومن غلام ،آزاد مشرک مرد سے بہتر ہے ۔

    { وَ لاَ تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ ط وَ لَاَمَۃٌ مُؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَّلَوْ اَعْجَبَتْکُمْ وَ لاَ تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا ط وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَکُمْ ط اُولٰٓئِکَ یَدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ج وَ اللّٰہُ یَدْعُوْآ اِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِاِذْنِہٖ وَ یُبَیِّنُ آیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ }(221:2)
    دوسرے کی منکوحہ سے نکاح کرنا حرام ہے۔
    جنگ میں حاصل ہونے والی کافروں کی منکوحہ یا غیر منکوحہ عورتیں ان کے مالک مسلمانوں کے لئے نکاح کے بغیر حلال اور جائز ہیں۔
    نکاح کا مقصد زنا ،بدکاری ،اور فحاشی کو ختم کر کے نا پاک ،صاف اور ستھری زندگی بسر کرنا ہے۔

    وضاحت : مذکورہ آیت میں اللہ تعالی نے لونڈیوں سے بغیر نکاح کے گھر میں منکوحہ بیویوں کی طرح رکھنے کی اجازت دی ہے ۔لونڈیوں کے بارے میں شریعت کے دیگر احکام یہ ہیں۔

    1جنگ کے اختتام پر قیدی عورتوں کو صرف حکومت ہی سپاہیوں میں تقسیم کرنے کی مجاز ہے اس سے پہلے اگر کوئی سپاہی از خود کسی قیدی عورت سے صحبت کرے گا تو وہ زنا میں شمار ہو گا۔
    2قیدی حاملہ عورت سے وضع حمل سے پہلے صحبت کرنا اس کے مالک کے لئے بھی منع ہے۔
    3قیدی عورت خواہ کسی بھی مذہب سے (علاوہ اسلام )ہو اس سے صحبت کرنا اس کے مالک کے لئے بھی جائز ہو گا۔
    4لونڈی کے مالک کے علاوہ دوسرا کوئی آدمی اسے ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
    5لونڈی کے مالک سے پیدا ہونے والی اولاد کے حقوق وہی ہوں گے جو صلبی اولاد کے ہوتے ہیں اولاد پیدا ہونے کے بعد لونڈی کو فروخت نہیں کیا جا سکتا اور مالک کے مرتے ہی لونڈی از خود آزاد تصور کی جائے گی۔
    6لونڈی کا مالک اپنی لونڈی کو اولاد ہونے سے پہلے کسی دوسرے کے نکاح میں دے دے تو مالک کا شہوانی تعلق اس سے ختم ہو جائے گا۔
    7کسی عورت کو حکومت کسی مرد کی ملکیت میں دے دے تو پھر حکومت اس عورت کو واپس لینے کی مجاز نہیں رہتی بالکل اسی طرح جس طرح ولی عورت کا نکاح کرنے کے بعد واپس لینے کا حقدار نہیں رہتا۔
    8حکومت کی طرف سے کسی آدمی کو جنگی قیدی کافر کے حقوق ملکیت عطا کرنا ویسا ہی جائز قانونی عمل ہے جیسا کہ نکاح میں ایجاب و قبول کے بعد مرد عورت کا ایک دوسرے کے لئے حلال ہو جانا جائز اور قانونی عمل ہے ۔دونوں قانون ایک ہی شریعت اور ایک ہی شارع سبحانہ و تعالیٰ کے عطا کردہ ہیں۔
    9جنگی حالات کے عدم تعین کی بناء پر لونڈیوں کی بیک وقت ملکیت کی تعداد کا تعین بھی نہیں کیا گیا۔
    10لونڈیوں کا قانون اور حکم منسوخ نہیں ہوا بلکہ حسب حالات اور ضرورت قیامت تک کے لئے باقی اورنافذالعمل ہے۔ (ملخصًا از تفہیم القرآن ،جلد اول ،صفحہ)(341-340)

    اہل کتاب کی پاکدامن عورتوں سے نکاح جائز ہے۔

    { وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصِنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ اِذَا اٰتَیْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسَافِحِیْنَ وَ لاَ مُتَّخِذِیْ اَخْدَانٍ ط وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ وَ ہُوَ فِی الْآخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ }(5:5)
    وضاحت : 1اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت ہے لیکن انہیں اپنی عورتیں نکاح میں دینے کی اجازت نہیں۔
    2اہل کتاب کی عورتیں مشرک ہوں تو ان سے نکاح کرنا منع ہے ۔ملاحظہ ہو مسئلہ نمبر46

    جس بچے نے دو سال کی عمر تک یا اس سے پہلے پہلے کسی عورت کا دودھ پیا ہو اس کی حرمت رضاعت ثابت ہو گی دو سال کے بعد کسی عورت کا دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

    { وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ وَ فِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنَ اَنِ اشْکُرْلِیْ وَلِوَالِدَیْکَ ط اِلَیَّ الْمَصِیْرُ }(14:31)
    وضاحت : دودھ پینے میں پانچ گھونٹ کی شرط ہے۔اس سے کم ہوتورضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ملاحظہ ہو مسئلہ نمبر227
    منہ بولے رشتے سے حرمت نکاح ثابت نہیں ہوتی۔
    { فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنَکَہَا لِکَیْ لاَ یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا ط وَ کَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلاً }(37:33)
    رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں سے صحبت کرنا جائز ہے۔
    میاں بیوی ایک دوسرے کے رازدان ہیں۔

    { اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَائِکُمْ ط ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ}(187:2)
    نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے عورت کے ہاتھ میں نہیں۔
    نکاح انسان کے لئے باعث راحت و سکون ہے۔
    نکاح کے بعد اللہ تعالی فریقین میں محبت اور رحمت کے جذبات پیدا کر دیتے ہیں۔

    { وَ مِنْ آیٰتِہٖ اَنَّ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْ ٓا اِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مُؤَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ }(21:30)
    پاکدامن مرد یا عورت کا نکاح زانیہ عورت یا زانی مرد سے کرنا حرام ہے۔
    { اَلزَّانِیْ لاَ یَنْکِحُ اِلاَّ زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً ز وَالزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُہَآ اِلاَّ زَانٍ اَوْ مُشْرِکٍ ج وَ حُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ }(3:24)
    حیض آنے سے قبل کم سنی میں نکاح جائز ہے۔
    { وَالَّئِیْ لَمْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اَنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍ وَّالّٰئِیْ لَمْ یَحِضْنَ ط وَ اُوْلاَتُ الْأَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا}(4:65)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 09، 2012 #33
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اَحْکَامُ النِّکَاحِ

    نکاح کے احکام

    مرد و عورت کا ایجاب و قبول نکاح کا رکن ہے اس کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
    عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا جَائَ تْہُ اِمْرَأَة فَقَالَتْ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا ! اِنِّیْ قَدْ وَہَبْتُ نَفْسِیْ لَکَ فَقَامَتْ قِیَامًا طَوِیْلاً فَقَامَ رَجُل فَقَالَ زَوِّجْنِیْہَا اِنْ لَمْ یَکُنْ لَکَ بِہَا حَاجَة قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِا ((ہَلْ عِنْدَکَ شَیْئ؟)) قَالَ : مَا اَجِدُ شَیْئًا قَالَ (( ِلْتَمِسْ وَ لَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِیْدٍ )) فَالْتَمَسَ فَلَمْ یَجِدْ شَیْئًا ، فَقَالَ لَہ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((ہَلْ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ شَیْئ؟ )) قَالَ : نَعَمْ ! سُوْرَة کَذَا وَ سُوْرَة کَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاہَا ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((قَدْ زَوَّجْتُکَہَا عَلٰی مَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ )) رَوَاہُ النِّسَائِیُّ(صحیح)
    قَالَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ رضی اللہ عنہ لِاُمِّ حَکِیْمٍ بِنْتِ قَارِظٍ أَ تَجْعَلِیْنَ اَمْرَکِ اِلَیَّ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ ! فَقَالَ قَدْ تَزَوَّجْتُکِ۔ ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ
    قَالَ عَطَائ رَحِمَہُ اللّٰہُ : لِیَشْہَدْ اَنِّیْ قَدْ نَکَحْتُکِ ۔ ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ
    دینداری میں کفو کا لحاظ رکھنا واجب و فرض ہے
    حسب و نسب شکل و صورت اور مال و دولت میں کفو کا لحاظ رکھنا منع نہیں۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ (( تُنْکِحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِہَا ، وَلِحَسْبِہَا وَ لِجَمَالِہَا وَلِدِیْنِہَا فَاظْفُرْ بِذَاتِ الدِّیْنِ تَرِبَتْ یَدَاکَ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    نکاح کے لئے کم از کم دو پرہیز گار اور عادل گواہوں کی شہادت و گواہی ضروری ہے۔
    عَنْ عِمْرَانِ بْنِ حُصَیْنٍ رضی اللہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((لاَ یَحِلُّ نِکَاح اِلاَّ بِوَلِیٍّ وَ صِدَاقٍ وَ شَاہِدَیْ عَدْلٍ )) رَوَاہُ الْبَیْہَقِیُّ (صحیح)
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : لاَ نِکَاحَ اِلاَّ بِبَیِّنَةٍ۔رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    نکاح کے بعد کسی جائز طریقے سے نکاح کا اعلان کرنا چاہئے۔
    عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ رضی اللہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا فَصْلُ مَا بَیْنَ الْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ الدَّفُ وَالصَّوْتُ فِیْ النِّکَاحِ ۔رَوَاہُ النِّسَائِیُّ
    شب عروسی بیوی کو ہدیہ دینا مستحب ہے۔
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِیّ فَاطِمَةَ قَالَ لَہ رَسُوْلُ اللّٰہِا (( اَعْطِہَا شَیْئًا )) قَالَ : مَا عِنْدِیْ شَیْئ ، قَالَ (( أَیْنَ دِرْعُکَ الْحَطَمِیَّةُ؟ )) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ (صحیح)
    نکاح سے قبل طے کی گئی جائز شرائط پر نکاح کے بعد عمل کرنا واجب ہے۔
    عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اَحَقُّ الشُّرُوْطِ اَنْ تُوْفُوْا بِہ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِہِ الْفُرُوْجِ )) مُتَّفَق عَلَیْہِ
    غیر شرعی اور ناجائز شرائط طے کرنا منع ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ ((لاَ یُحِلُّ لِِمْرَأَةٍ تَسْأَلُ طَلاَقَ اُخْتِہَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَہَا فَاِنَّمَا لَہَا مَا قُدِّرَلَہَا )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    حد استطاعت سے باہر پوری نہ کرنے کی نیت سے شرائط تسلیم کرنا یا کرواناحرام ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَةَ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ ((مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنَّا)) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    بیٹی کو گھربنانے کے لئے سامان مہیا کرنا (جہیز دینا)سنت سے ثابت نہیں۔واللہ اعلم بالصواب!
     
  4. ‏فروری 09، 2012 #34
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اَلْوَلِیُّ فِی النِّکَاحِ​

    نکاح میں ولی کی موجودگی

    نکاح کے لئے ولی کی موجودگی ضروری ہے۔
    عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((لاَ نِکَاحَ اِلاَّ بِوَلِیٍّ )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    اگر اقرب ولی ،لڑکی کا واقعی خیرخواہ نہ ہو تو اس کا حق ولایت از خود ختم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد اقرب رشتہ دار ولی بننے کا مستحق ٹھہرتا ہے ۔
    اقرب ولی نہ ہونے پر ابعد ولی یا سلطان (قاضی یا حاکم مجاز )ولی ہو گا۔

    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ (( لاَ نِکَاحَ اِلاَّ بِإِذْنِ وَلِیٍّ مُرْشِدٍ اَوْ سُلْطَانٍ)) رَوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ (صحیح)
    وضاحت : یادرہے غیر مسلم جج یا کافر ملک کی عدالت مسلمان عورت کی ولی نہیں بن سکتی۔
    (ا) حُقُوْقُ الْوَلِیِّ​

    ولی کے حقوق

    عورت اپنا نکاح خود نہیں کر سکتی۔
    ولی کو عورت کی مرضی کے خلاف جبراً کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔

    { وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوْہُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ط ذٰلِکَ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِط ذٰلِکُمْ اَزْکٰی لَکُمْ وَ اَطْہَرُ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ }(232:2)
    وضاحت : آیت مذکورہ میں نکاح کے لئے خطاب عورت کو نہیں کیا گیابلکہ ولی کو کیاگیاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عورت (کنواری ہویامطلقہ)ازخودنکاح نہیں کرسکتی۔
    ولی کی اجازت ورضاکے بغیر کیاگیا نکاح سراسر باطل ہے۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ ((اَیُّمَا امْرَأَۃٍ نَکَحَتْ بِغَیْرِ اِذْنِ وَلِیِّہَا فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ ، فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ ، فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ ، فَاِنْ دَخَلَ بِہَا فَلَہَا الْمَہْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا فَاِنِ اشْتَجَرُوْا فَالسُّلْطَانُ وَلِیٌّ مَنْ لاَ وَلِیَّ لَہَا )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیّ(صحیح)
    وضاحت : 1عورت کا باپ اس کا ولی ہے باپ نہ ہو تو بھائی یا چچا یا دادا یا نانا یا ماموں ولی بن سکتے ہیں ۔یاد رہے اقرب کی موجودگی میں ابعد ولی نہیں بن سکتا۔
    2اولیاء میں اختلاف کی صورت یہ ہے کہ ولایت کاپہلا حق رکھنے والا (خواہ باپ ہو یا بھائی یا چچا ہو)بے دین ہو یا ظالم ہو اور وہ زبردستی کسی بے دین یا فاسق و فاجر سے نکاح کرناچاہتا ہو جبکہ ولایت کا دوسرا یا تیسرا حق رکھنے والے اسے ایسا نہ کرنے دیں ،ایسی صورت میں ظالم یا بے دین ولی کا حق ولایت از خود ختم ہو جاتا ہے اور گائوں کی پنچایت یا شہر کا دیندار حاکم یا شہر کی عدالت اپنا حق ولایت استعمال کر سکتی ہے۔
    کنواری اور بیوہ دونوں کے نکاح کے لئے ولی کا ہونا ضروری ہے۔
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِیَّا قَالَ ((اَلْأَیِمُّ اَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِیِّہَا وَ الْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ فِیْ نَفْہِسَا وَاِذْنُہَا صَمَاتُہَا )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    وضاحت : بیوہ کا بیٹا اس کا ولی بن سکتاہے۔
    عورت کسی دوسری عورت کی ولی نہیں بن سکتی۔
    ولی کے بغیر عورت از خود اپنا نکاح نہیں کرسکتی۔
    ولی کے بغیر نکاح کرنے والی عورت زانیہ ہے۔

    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((لاَ تَزَوَّجُ الْمَرْأَۃُ الْمَرْأَۃَ وَ لاَ تَزَوَّجُ الْمَرْأَۃُ نَفْسَہَا فَاِنَّ الزَّانِیَۃَ ہِیَ الَّتِیْ تَزَوِّجُ نَفْسَہَا )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
    (ب) مَا یَجِبُ عَلَی الْوَلِیِّ​

    ولی کے فرائض

    ولی کو عورت کی مرضی کے خلاف جبراًکوئی فیصلہ نہیں کرناچاہئے۔
    کنواری یا بیوہ کے ولی کو ان کی اجازت اور رضا کے بغیر نکاح نہیں کرناچاہئے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ا اَنَّ النَّبِیَّ ا قَالَ (( لاَ تُنْکَحُ الْأَیِّمُ حَتّٰی تُسْتَاْمَرَ وَ لاَ تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتّٰی تُسْتَاْذَنَ )) قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَ کَیْفَ اِذْنُہَا ؟ قَالَ ((اَنْ تَسْکُتَ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    ولی کو عورت کی مرضی کے خلاف نکاح کرنے کے لئے زبردستی نہیں کرنی چاہئے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا (( تُسْتَاْمَرُ الْیَتِیْمَۃُ فِیْ نَفْسِہَا فَاِنْ سَکَتَتْ فَہُوَ اِذْنُہَا وَ اِنْ اَبَتْ فَلاَ جَوَازَ عَلَیْہَا )) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (حسن)
    وضاحت : لڑکا یا لڑکی اگر ناسمجھی کے باعث کوئی غلط فیصلہ کر رہے ہیں تو ولی ان کو غلط فیصلہ کے برے نتائج سے آگاہ کر کے فیصلہ بدلنے پر آمادہ کر سکتا ہے لیکن زبردستی نکاح نہیں کر سکتا۔
    عورت چاہے تو اپنی مرضی کے برعکس زبردستی کیا گیا نکاح عدالت سے منسوخ کرا سکتی ہے۔
    عَنْ خُنَسَائَ بِنْتِ حَزَامٍ الْاَنْصَارِیَّۃِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ اَبَاہَا زَوَّجَہَا وَہِیَ ثَیِّبٌ فَکَرِہَتْ ذٰلِکَ فَأَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا فَرَدَّ نِکَاحَہَا ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : اِنَّ جَارِیَۃً بِکْرٌ اَتَتِ النَّبِیَّ ا فَذَکَرَتْ اَنَّ اَبَاہَا زَوَّجَہَا وَہِیَ کَارِہَۃٌ فَخَیَّرَہَا النَبِیُّ ا ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (صحیح)
    مرد اور عورت رجعی طلاق کے بعد عدت گزرنے پر دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہوں تو ولی کو روکنا نہیں چاہئے۔
    عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ص قَالَ : کَانَتْ لِیْ اُخْتٌ تَخْطِبُ اِلَیَّ فَأَتَانِیْ ابْنُ عَمٍّ لِیْ ، فَانْکَحْتُہَا اِیَّاہُ ثُمَّ طَلَّقَہَا طَلاَ قًا لَہٗ رَجْعَۃٌ ، ثُمَّ تَرَکَہَا حَتّٰی انْقَضَتْ عِدَّتُہَا ، فَلَمَّا خَطَبَتْ اِلَیَّ اَتَاْنِیْ یَخْطُبُہَا فَقُلْتُ : لاَ وَاللّٰہِ ! لاَ اُنْکِحُہَا اَبَدًا ، قَالَ : فَفِیَّ نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃ ُ{ وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوْہُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ …} قَالَ : فَکَفَّرْتُ عَنْ یَمِیْنِیْ فَانْکَحْتُہَا اِیَّاہُ ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (صحیح)
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏فروری 09، 2012 #35
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اَلصِّدَاقُ​

    حق مہر کے مسائل

    بیوی کو حق مہر ادا کرنا فرض ہے۔
    { فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْہُنَّ فَآتُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ فَرِیْضَۃً } (24:4)
    عورت اپنی خوشی سے سارا مہر یا مہر کا کچھ حصہ معاف کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔
    { آتُو النِّسَآئَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحْلَۃً ط فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْئٍ مِنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ہَنِیْئًا مَّرِیْئًا } (4:4)
    فریقین کی باہمی رضامندی سے عورت کا حق مہر نکاح کے وقت ادا کرنا (مہر معجل )یا موخر کرنا (مہر مؤجل )دونوں جائز ہیں ۔
    نکاح سے پہلے فریقین مہر طے نہ کر سکیں تو نکاح کے بعد بھی طے کیا جا سکتا ہے۔
    نکاح کے بعد ،اگرصحبت کرنے سے پہلے جبکہ مہربھی ابھی ادانہ ہوا ہو، کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے تو اس پر مہرادا کرناواجب نہیںالبتہ اپنی استطاعت کے مطابق عورت کو کچھ نہ کچھ ہدیہ دینا چاہئے۔
    نکاح کے بعد ،اگر صحبت کرنے سے پہلے جبکہ مہرطے ہو چکاہو،کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس پر نصف مہر اداکرنا واجب ہے۔

    { لاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اَنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ مَا لَمْ تَمَسُّوْہُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَہُنَّ فَرِیْضَۃً ج وَ مَتِّعُوْہُنَّ عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَ عَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ مَتَاعًا م بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ¡ وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلاَّ اَنْ یَعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃَ النِّکَاحِ وَ اَنْ تَعْفُوْا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَ لاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ } (237-236:2)
    حق مہر کی مقدار مقررنہیں۔
    عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ص اَنَّ النَّبِیَّ ا قَالَ ((لِرَجُلٍ تَزَوَّجْ وَ لَوْ بِخَاتِمٍ مِنْ حَدِیْدٍ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    عَنْ اَبِیْ سَلْمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ رَحِمَہُ اللّٰہُ اَنَّہٗ قَالَ : سُئِلَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ ا کَمْ کَانَ صِدَاقُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ا ؟ قَالَتْ : کَانَ صِدَاقُہٗ لِاَزْوَاجِہٖ اثْنَتَیْ عَشَرَۃَ اُوْقِیَۃً وَ نِشًّا قَالَتْ : أَ تَدْرِیْ مَا النِّشُّ ؟ قَالَ : قُلْتُ لاَ ! قَالَتْ : نِصْفُ اُوْقِیَۃٍ فَتِلْکَ خَمْسُ مِائَۃَ دِرْہَمٍ فَہٰذَا صِدَاقُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ا لِاَزْوَاجِہٖ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    وضاحت : ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی یا پانچ سو درہم موجودہ حساب سے ساڑھے دس ہزار روپے بنتا ہے۔
    عَنْ اُمِّ حَبِیْبَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کَانَتْ تَحْتَ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ جَحْشٍص فَمَاتَ بِاَرْضِ الْحَبَشَۃِ فَزَوَّجَہَا النَّجَاشِیُّ النَّبِیَّ ا وَ أَمْہَرَہَا عَنْہُ اَرْبَعَۃَ آلاَفٍ وَ بَعَثَ بِہَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ مَعَ شَرَحْبِیْلِ ابْنِ حَسَنَۃَ ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (صحیح)
    کم مہر مقرر کرنا افضل ہے
    نبی اکرم ﷺ کی بیویوں اور بیٹیوں کا مہر بارہ اوقیہ(تقریباًدس ہزار روپے)تھا۔
    عَنْ اَبِی الْعَجْفَائِ السَّلَمِیِّ ص قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرَ بْنُ الْخَطَّابِ ص فَقَالَ : أَلاَ لاَ تَغَالُوْا بِصُدُقِ النِّسَآئِ فَاِنَّہَا لَوْ کَانَتْ مَکْرَمَۃً فِی الدُّنْیَا أَوْ تَقْوِیَ عِنْدَ اللّٰہِ لَکَانَ اَوْلاَکُمْ بِہَا النَّبِیَّ ا مَا اَصْدَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا اِمْرَأَۃً مِنْ نِسَآئِ ہٖ وَ لاَ اَصْدَقَ امْرَأَۃً مِنْ بَنَاتِہٖ اَکْثَرُ مِنْ ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ اُوْقِیَۃً ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ
    عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((خَیْرُ النِّکَاحِ اَیْسَرُہٗ )) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (صحیح)
    مہر کے لئے کوئی چیز بھی مقرر کی جا سکتی ہے حتیٰ کہ مرد کا اسلام قبول کرنایا عورت کو کتاب و سنت کی تعلیم دینا یا اسے آزاد کرنا بھی مہر مقرر کیا جا سکتا ہے۔
    عَنْ اَنَسٍ ص قَالَ : تَزَوَّجَ اَبُوْ طَلْحَۃَ اُمَّ سُلَیْمٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَکَانَ صِدَاقُ مَا بَیْنَہُمَا الْاِسْلاَمُ ، اَسْلَمَتْ اُمُّ سُلَیْمٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَبْلَ اَبِیْ طَلْحَۃَ ص فَخَطَبَہَا فَقَالَتْ : اِنْی قَدْ اَسْلَمْتُ فَاِنْ اَسْلَمْتَ نَکَحْتُکَ فَأَسْلَمَ فَکَانَ صِدَاقُ مَا بَیْنَہُمَا۔ رَوَاہُ النِّسَائِیُّ (صحیح)
    وضاحت : دوسری حدیث مسئلہ نمبر52کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔
    اگر شوہر نکاح کے بعد اور ہمبستری سے پہلے فوت ہو جائے تو عورت پورے حق مہر کی مستحق ہو گی اور وراثت سے بھی اسے پورا حصہ ملے گا۔
    حق مہر نکاح کے وقت ادا کرنا ضروری نہیں۔
    نکاح کے وقت فریقین حق مہر طے نہ کر سکیں تو نکاح کے بعد بھی طے کیا جا سکتا ہے۔

    عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ) ص فِیْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَمَاتَ عَنْہَا وَ لَمْ یَدْخُلْ بِہَا وَ لَمْ یَفْرِضْ لَہَا الصِّدَاقَ ۔ فَقَالَ : لَہَا الصِّدَاقُ کَامِلاً وَ عَلَیْہَا الْعِدَّۃُ وَ لَہَا الْمِیْرَاثُ ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سَنَانٍص : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَضٰی بِہٖ فِیْ بِرْوَعِ بِنْتِ وَاشِقٍ ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (صحیح)
    بتیس (32)روپے حق مہر مقرر کرنا سنت سے ثابت نہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏فروری 09، 2012 #36
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    خُطْبَۃُ النِّکَاحِ​

    خطبہ نکاح کے مسائل

    نکاح کے وقت درج ذیل خطبہ پڑھنا مسنون ہے۔
    عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ) ص قَالَ عَلَّمْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ا خُطْبَۃَ الْحَاجَۃِ ((اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَ نَسْتَغْفِرُہٗ وَ نَعُوْذُ بِہٖ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہٗ ، وَ مَنْ یُضْلِلْ فَلاَ ہَادِیَ لَہٗ ، وَ اَشْہَدُ اَنْ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا وَ رَسُوْلُہٗ { یٰـٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَ خَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَ بَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْرًا وَّ نِسَآئً وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامُ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا ¡} {یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ وَلاَ تَمُوْتُنَّ اِلاَّ وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ ¡} { یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًا یُصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا¡ })) رَوَاہُ اَحْمَدُ وَ اَبُوْدَاؤٗدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَالنِّسَائِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَالدَّارِمِیُّ (صحیح)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏فروری 09، 2012 #37
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اَلْوَلِیْمَۃُ​

    ولیمہ کے مسائل

    ولیمہ کی دعوت کرنا سنت ہے۔
    عَنْ اَنَسٍ ص اَنَّ النَّبِیَّ ا رَآیَ عَلٰی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ص اَثَرَ صُفْرَۃٍ قَالَ ((مَا ہٰذَا ؟)) قَالَ : اِنِّیْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً عَلٰی وَزْنِ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ ، قَالَ ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ اُوْلِمْ وَ لَوْ بِشَاۃٍ )) مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ
    وضاحت : نوا ۃکی مقدارتقریباً3گرام کے برابر ہے۔
    دعوت ولیمہ کو قبول کرنا واجب ہے۔
    عَنْ جَابِرٍ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اِذَا دُعِیَ اَحَدُکُمْ اِلٰی طَعَامٍ فَلْیَجِبْ فَاِنْ شَائَ طَعِمَ وَ اِنْ شَائَ تَرَکَ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ’’جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرے ،چاہے تو کھانا کھائے چاہے نہ کھائے ۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔
    جس دعوت ولیمہ میں عام آدمیوں کو نہ بلایا جائے خواص کی دعوت کی جائے وہ بدترین ولیمہ ہے۔
    بلا عذر دعوت قبول نہ کرنے والا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا نافرمان ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص اَنَّ النَّبِیَّ ا قَالَ ((شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیْمَۃِ یُمْنَعُہَا مَنْ یَاْتِیْہَا وَ یُدْعٰی اِلَیْہَا مِنْ بَابِہَا وَ مَنْ لَمْ یُجِبِ الدَّعْوَۃِ فَقَدَ عَصَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلَہٗ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    جس دعوت میں حرام کام (ناچ گانا وغیرہ)یا حرام اشیاء (مثلاً شراب وغیرہ )کا اہتمام کیا گیا ہو اس میں شرکت کرنا منع ہے۔
    عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ فَلاَ یَقْعُدُ عَلٰی مَائِدَۃٍ یُدَارُ عَلَیْہَا الْخَمْرُ)) رَوَاہُ اَحْمَدُ (صحیح)
    دَعَا ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَبَا اَیُّوْبَ فَرَاٰی فِی الْبَیْتِ سِتْرًا عَلَی الْجِدَارِ فَقَالَ ابِنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا غَلَبَنَا عَلَیْہِ النِّسَآئُ مَنْ کُنْتُ اَخْشٰی عَلَیْہِ فَلَمْ اَکُنْ اَخْشٰی عَلَیْکَ وَاللّٰہِ لاَ اَطْعَمُ لَکُمْ طَعَامًا فَرَجَعَ ۔ ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ
    ریا،تکبر ،فخر اور بڑائی ظاہر کرنے والے لوگوں کی دعوت میں شرکت کرنا منع ہے۔
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : اَنَّ النَّبِیَّ ا نَہٰی عَنِ الطَّعَامِ الْمُتَبَارِیِیّـْنَ اَنْ یُؤْکَلَ ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (صحیح)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 09، 2012 #38
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اَلنَّظْرُ اِلَی الْمَخْطُوْبَۃِ​

    منگیتر کو دیکھنے کے مسائل


    نکاح سے قبل منگیتر کو دیکھنا جائزہے۔
    عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اِذَا خَطَبَ اَحَدُکُمُ الْمَرْأَۃَ فَاِنِ اسْتَطَاعَ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی مَا یَدْعُوْہُ اِلٰی نِکَاحِہَا فَلْیَفْعَلْ)) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (حسن)
    گھر کی روز مرہ زندگی میں آپ سے آپ ظاہر ہونے والے اعضاء یعنی ہاتھ اور چہرہ کے علاوہ منگیتر کے باقی کسی حصہ کو دیکھنا یا دکھانا منع ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ ا فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَاَخْبَرَہٗ اَنَّہٗ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنَ الْاَنْصَارِ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((أَ نَظَرْتَ اِلَیْہَا؟)) فَقَالَ : لاَ ، قَالَ ((فَاذْہَبْ فَانْظُرْ فَاِنَّ فِیْ اَعْیُنِ الْاَنْصَارِ شَیْئًا )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    غیرمحرم عورت( منگیتر)سے تنہائی میں ملاقات کرنا، گفتگو کرنا یا پاس بیٹھنا منع ہے۔
    عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ (( اِیَّاکُمْ وَالدَّخُوْلَ عَلَی النِّسَائِ)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا ! أَفَرَأَیْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ ((أَلْحَمْوُ الْمَوْتُ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    وضاحت : عربی زبان میں ’’حمو ‘‘کا لفظ شوہر کے تمام قریبی اعزہ کے لئے بولا جاتا ہے ۔جیسا کہ شوہر کے حقیقی بھائی ،چچازاد بھائی ، ماموں زاد بھائی وغیرہ۔
    عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍص قَالَ : لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ اِلاَّ کَانَ ثَالِثَہُمَا الشَّیْطَانُ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    غیر محرم عورت(منگیتر)سے ہاتھ ملانامنع ہے۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : مَا مَسَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا بِیَدِہِ امْرَأَۃً قَطُّ اِلاَّ اَنْ یَاْخُذُ عَلَیْہَا فَاِذَا اَخَذَ عَلَیْہَا فَأَعْطَتْہُ ، قَالَ (( اِذْہَبِیْ فَقَدْ بَایَعْتُکِ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    جب عورت بناؤ سنگھار کرکے بے پردہ مردوں کے سامنے آتی ہے تو شیطان کے لئے فتنہ پیداکرنا آسان ہوجاتاہے۔
    عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ) ص عَنِ النَّبِِیِّ ا قَالَ : اَلْمَرْأَۃُ عَوْرَۃٌ فَاِذَا خَرَجَتْ اِسْتَشْرَفَہَا الشَّیْطَانُ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 09، 2012 #39
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مُبَاحَاتُ النِّکَاحِ​

    نکاح میں جائز امور

    عید کے مہینوں میں نکاح کرنا جائز ہے۔
    نکاح اور رخصتی الگ الگ کرنا جائز ہے۔

    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : تَزَوَّجَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا فِیْ شَوَّالٍ وَ بَنٰی بِیْ فِیْ شَوَّالٍ فَأَیُّ نِسَآئِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ا کَانَ أَحْظٰی عِنْدَہٗ مِنِّیْ قَالَ وَکَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا نَسْتَحِبُّ اَنْ تُدْخِلَ نِسَآئَ ہَا فِیْ شَوَّالٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    بلوغت سے قبل بیٹی کا نکاح کرنا جائز ہے۔
    بڑی عمر کے آدمی کا چھوٹی عمر کی عورت سے یا چھوٹی عمر کے مرد کا بڑی عمر کی عورت سے نکاح کرنا جائز ہے۔

    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِیَّ ا تَزَوَّجَہَا وَ ہِیَ بِنْتُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَ زُفَّتْ اِلَیْہِ وَ ہِیَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِیْنَ وَ لُعَبُہَا مَعَہَا وَ مَاتَ عَنْہَا وَہِیَ بِنْتُ ثَمَانِ عَشْرَۃَ ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    وضاحت : یاد رہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے وقت رسول اکرم ﷺ کی عمر مبارک 54 برس تھی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏فروری 09، 2012 #40
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مَمْنُوْعَاتُ فِی النِّکَاحِ​

    نکاح میں ممنوع امور

    جس عورت کو نکاح کا پیغام دیا گیا اوراس نے اسے قبول کر لیا ہوتو اسے کسی دوسرے شخص کی طرف سے نکاح کا پیغام بھجوانا منع ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا (( لاَ یَبِیْعُ الرَّجُلُ عَلَی بَیْعِ اَخِیْہِ ، وَلاَ یَخْطُبُ عَلٰی خِطْبَۃِ اَخِیْہِ )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    حالت احرام میں نکاح کرنا یا نکاح کروانا یا نکاح کا پیغام بھجوانا منع ہے۔
    عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((لاَ یَنْکِحُ الْمُحْرِمُ وَ لاَ یُنْکَحُ وَ لاَ یَخْطُبُ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں