1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نکاح کے مسائل

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏جنوری 12، 2012۔

  1. ‏فروری 10، 2012 #41
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مَایَجُوْزُ عِنْدَ الْفَرْحِ​

    خوشی کے موقع پر جائز امور

    مردوںکو ایسی خوشبو لگانا جائزہے جس کی خوشبو نمایاںہو لیکن رنگ نمایاں نہ ہو جبکہ عورتوں کو ایسی خوشبو لگانی جائز ہے جس کا رنگ نمایاں ہولیکن خوشبو نمایاں نہ ہو۔
    عَنْ اَبِیُ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ص طِیْبُ الرِّجَالِ مَا ظَہَرَ رِیْحُہٗ وَ خَفِیَ لَوْنُہٗ وَ طِیْبُ النِّسَآئِ مَا ظَہَرَ لَوْنُہٗ وَ خَفِیَ رِیْحُہٗ )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    فتنہ کا ڈر نہ ہو تو چھوٹی بچیاں خوشی کے موقع پر دف کے ساتھ ایسے اشعار پڑھ سکتی ہیں جو کفر و شرک ،فسق و فجور ،عورت کے حسن و جمال اور جنسی جذبات میں ہیجان پیدا کرنے والے نہ ہوں۔
    عَنِ الرَّبِیْعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : جَائَ النَّبِیُّ ا یَدْخُلُ حِیْنَ بُنِیَ عَلَیَّ فَجَلَسَ عَلٰی فِرَاشِیْ کَمَجْلَسِکَ مِنِّیْ فَجَعَلَتْ جُوَیْرِیَاتٌ لَنَا یَضْرِبْنَ بِالدَّفِّ وَ یُنْدِبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِیْ یَوْمَ بَدْرٍ اِذْ قَالَتْ اِحْدَاہُنَّ وَ فِیْنَا نَبِیٌّ یَعْلَمُ مَا فِیْ غَدٍ فَقَالَ ((دَعِیْ ہٰذِہٖ وَ قُوْلِیْ بِالَّذِیْ کُنْتِ تَقُوْلِیْنَ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    خواتین کے لئے سونے کا زیور اور ریشمی لباس پہننا جائز ہے۔
    عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ ((اُحِلَّ الذَّہَبُ وَ الْحَرِیْرُ لِإِنَاثَاتِ اُمَّتِیْ وَ حُرِّمَ عَلٰی ذُکُوْرِہَا )) رَوَاہُ النِّسَائِیُّ (صحیح)
    سفید بالوں میں مہندی یا وسمہ لگانا جائز ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اِنَّ اَحْسَنَ مَا غُیِّرَ بِہٖ ہٰذَا الثَّیِّبُ الْحَنَّائُ وَالْکَتَمُ)) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ وَابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 23، 2012 #42
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مَایَجُوْزُ عِنْدَ الْفَرْحِ​

    خوشی کے موقع پر جائز امور

    مردوںکو ایسی خوشبو لگانا جائزہے جس کی خوشبو نمایاں ہو لیکن رنگ نمایاں نہ ہو جبکہ عورتوں کو ایسی خوشبو لگانی جائز ہے جس کا رنگ نمایاں ہولیکن خوشبو نمایاں نہ ہو۔
    عَنْ اَبِیُ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ص طِیْبُ الرِّجَالِ مَا ظَہَرَ رِیْحُہٗ وَ خَفِیَ لَوْنُہٗ وَ طِیْبُ النِّسَآئِ مَا ظَہَرَ لَوْنُہٗ وَ خَفِیَ رِیْحُہٗ )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    فتنہ کا ڈر نہ ہو تو چھوٹی بچیاں خوشی کے موقع پر دف کے ساتھ ایسے اشعار پڑھ سکتی ہیں جو کفر و شرک ،فسق و فجور ،عورت کے حسن و جمال اور جنسی جذبات میں ہیجان پیدا کرنے والے نہ ہوں۔
    عَنِ الرَّبِیْعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : جَائَ النَّبِیُّ ا یَدْخُلُ حِیْنَ بُنِیَ عَلَیَّ فَجَلَسَ عَلٰی فِرَاشِیْ کَمَجْلَسِکَ مِنِّیْ فَجَعَلَتْ جُوَیْرِیَاتٌ لَنَا یَضْرِبْنَ بِالدَّفِّ وَ یُنْدِبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِیْ یَوْمَ بَدْرٍ اِذْ قَالَتْ اِحْدَاہُنَّ وَ فِیْنَا نَبِیٌّ یَعْلَمُ مَا فِیْ غَدٍ فَقَالَ ((دَعِیْ ہٰذِہٖ وَ قُوْلِیْ بِالَّذِیْ کُنْتِ تَقُوْلِیْنَ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    خواتین کے لئے سونے کا زیور اور ریشمی لباس پہننا جائز ہے۔
    عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ ((اُحِلَّ الذَّہَبُ وَ الْحَرِیْرُ لِإِنَاثَاتِ اُمَّتِیْ وَ حُرِّمَ عَلٰی ذُکُوْرِہَا )) رَوَاہُ النِّسَائِیُّ (صحیح)
    سفید بالوں میں مہندی یا وسمہ لگانا جائز ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اِنَّ اَحْسَنَ مَا غُیِّرَ بِہٖ ہٰذَا الثَّیِّبُ الْحَنَّائُ وَالْکَتَمُ)) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ وَابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 23، 2012 #43
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مَا لاَ یَجُوْزُ عِنْدَ الْفَرْح​

    خوشی کے موقع پرناجائز امور

    بالوں میں جوڑا یا وگ لگانے والوں پر لعنت کی گئی ہے۔
    اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کے معاملے میں عورت پر شوہر کی اطاعت جائز نہیں۔
    عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ امْرْأَةً مِنَ الْاَنْصَارِ زَوَّجَتْ اِبْنَتَہَا فَتَمَعَّطَ شَعْرُ رَأْسِہَا فَجَائَ تْ اِلَی النَّبِِیِّ ا فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہ فَقَالَتْ اِنَّ زَوْجَہَا أَمَرَنِیْ اَنْ اَصِلَ فِیْ شَعْرِہَا فَقَالَ : لاَ ، اِنَّہ قَدْ لُعِنَ الْمُؤْصِلاَتُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    سونے یا چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے والا اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ڈالتا ہے۔
    عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا مَنْ شَرِبَ فِیْ اِنَائٍ مِنْ ذَہَبٍ اَوْ فِضَّةٍ فَاِنَّمَا یُجَرْجِرُ فِیْ بَطْنِہ نَارًا مِنْ جَہَنَّمَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِم
    سونے کی انگوٹھی پہننے والا مرد اپنے ہاتھ میں آگ کا انگارہ پہنتا ہے۔
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا رَاٰی خَاتَمًا مِنْ ذَہَبٍ فِیْ یَدِ رَجُلٍ فَنَزَعَہ فَطَرَحَہ وَ قَالَ ((یَعْمِدُ اَحَدُکُمْ اِلٰی جَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ فَیَجْعَلُہَا فِیْ یَدِہ )) رَوَاہُ مُسْلِم
    ٹخنوں سے نیچے تک پہنا ہوا کپڑا مرد کو جہنم میں لے جائے گا۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَةَ ص عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ ((مَا اَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الِْزَارِ فِی النَّارِ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    دوسروں کے مقابلے میں اپنی بڑائی اور فخر جتلانے کی سزا۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَةَ ص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ (( بَیْنَمَا رَجُل یَتَبَخْتَرُ یَمْشِیْ فِیْ بُرْدَیْہِ قَدْ اَعْجَبَتْہُ نَفْسُہ فَخَسَفَ اللّٰہُ بِہِ الْاَرْضَ فَہُوَ یَتَجَلْجَلُ فِیْہَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ )) رَوَاہُ مُسْلِم
    مردوں کے لئے ریشم کا لباس پہننا حرام ہے
    مشین کے ساتھ جسم پر بیل بوٹے بنوانے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہے۔
    خوبصورتی کے لئے چہرے سے بال اکھاڑنے یا اکھڑوانے والی عورت پر اللہ کی لعنت ہے۔
    خوبصورتی کے لئے دانتوں کو کشادہ کرنے یا کروانے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہے۔

    عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ص لَعَنَ اللّٰہُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَیِّرَاتِ خَلْقِ اللّٰہِ تَعَالٰی ، مَالِیَ لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ النَّبِیُّا ؟ وَ ہُوَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ ( مَا اٰتُکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَ مَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    قیامت کے روز سخت ترین عذاب تصویریں بنانے والوں کو ہو گا۔
    عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ عَبَّاسٍ) رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا یَقُوْلُ ((اِنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللّٰہِ الْمُصَوِّرُوْنَ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    ایساتنگ لباس جس سے جسم کے حصے نمایاں ہوتے ہوں یا ایسا باریک لباس جس سے جسم نظر آئے ،پہننے والی عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَةَص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((صِنْفَانِ مِنْ اَہْلِ النَّارِ لَمْ اَرَہُمَا قَوْم مِنْہُمْ سِیَاط کَأْذُنَابِ الْبَقَرِ یَضْرِبُوْنَ بِہِمَا النَّاسَ وَ نِسَآئ کَأْسِیَات عَارِیَات مَمِیْلاَت مَائِلاَت رُؤُوْسُہُنَّ کَأَسْنُمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لَا یَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَ لاَ یَجِدْنَ رِیْحَہَا وَ اِنَّ رِیْحَہَا لَیُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَةِ کَذَا وَ کَذَا)) رَوَاہُ مُسْلِم
    مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر اور عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا الْمُتَشِّبِہَاتِ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَآئِ وَ الْمُتَشَبِّہِیْنَ بِالنِّسَآئِ مِنَ الرِّجَالِ ۔ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْدَاؤدَ وَابْنُ مَاجَةَ وَالتِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    شراب خریدنے ،پینے اور پلانے والے سب افراد پر لعنت کی گئی ہے۔
    عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((لُعِنَتِ الْخَمْرُ عَلٰی عَشْرَةَ اَوْجُہٍ بِعَیْنِہَا وَ عَاصِرِہَا وَ مُعْتَصِرِہَا وَبَائِعِہَا وَ مُبْتَاعِہَا وَ حَامِلہِاَ وَالْمَحْمُوْلَةِ اِلَیْہِ وَ آکِلِ ثَمَنِہَا وَ شَارِبِہَا وَ سَاقِیْہَا )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَةَ (صحیح)
    عورتوں کو خوشبو لگا کر مردوں کے درمیان سے گزرنا منع ہے۔
    عَنْ اَبِیْ مُوْسَی اْلاَشْعَرِیِّ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اَیُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلٰی قَوْمٍ لِیَجِدُوْا مِنْ رِیْحِہَا فَہِیَ زَانِیَة )) رَوَاہُ النِّسَائِیُّ (حسن)
    داڑھی منڈانا منع ہے۔
    عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ اَمَرَ بِاِحْفَائِ الشَّوَارِبِ وَ اِعْفَائِ اللُّحٰی۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    چالیس یوم سے زیادہ ناخن بڑھانا منع ہے۔
    عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ص عَنِ النَّبِیِّ ا اَنَّہ وَقَّتَ لَہُمْ فِیْ کُلِّ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً تَقْلِیْمَ الْاَظَْفَارِ وَ اَخْذَ الشَّارِبِ وَ حَلْقَ الْعَانَةِ ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    عورتوں کا مردوں کے سامنے بے پردہ آنا منع ہے۔
    عورتوں کا پائوں میں گھنگھرو باندھنا منع ہے۔
    عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا زَوْجِ النَّبِیِّ ا قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ یَقُوْلُ ((لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَ ئِکَةُ بَیْتًا فِیْہِ جُلْجُل وَ لاَ جَرَس وَ لاَ تَصْحَبُ الْمَلاَ ئِکَةُ رُفْقَةَ فِیْہَا جَرَس)) رَوَاہُ النِّسَائِیُّ (حسن)
    کفر و شرک،فسق و فجور،عورت کے حسن و جمال اور جنسی جذبات کو بھڑکانے والے اشعار پڑھنا یا سننا منع ہے۔
    عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ص قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ نَسِیْرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ا بِالْعَرْجِ اِذْ عَرَضَ شَاعِر یُنْشِدُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((خُذُوا الشَّیْطَانَ اَوْ اَمْسِکُوا الشَّیْطَانَ لَأَنْ یَمْتَلِیَ جَوْفُ رَجُلٍ قَیْحًا خَیْر لَہ مِنْ اَنْ یَمْتَلِیَ شِعْرًا)) رَوَاہُ مُسْلِم
    مردوں اور عورتوں کو کالے رنگ کا خضاب لگانا منع ہے۔
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((یَکُوْنُ قَوْم یَخْضِبُوْنَ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ بِالسَّوَادِ ، کَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ ، لاَ یَرِیْحُوْنَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ )) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ النِّسَائِیُّ (صحیح)
    عورتوں اور مردوکی مخلوط مجالس کا اہتمام کرنا منع ہے۔
    موسیقی اور گانابجانا،سننا کانوں کازناہے۔

    غیرمحرم مردوں ،عورتوں کا ایک دوسرے سے بات چیت کرنا،ایک دوسرے کو چھونا اور آپس میں گھلنا ملنا منع ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَةَص عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ ((کُتِبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّہ مِنَ الزِّنَا مُدْرِک لاَ مَحَالَةَ فَالْعَیْنَانِ زِنَاہُمَا النَّظْرُ ، وَالْاُذُنَانِ زِنَاہُمَا الْاِسْتِمَاعُ ، وَاللِّسَانُ زِنَاہُ الْکَلاَمُ ، وَ الْیَدُ زِنَاہَا الْبَطْشُ ، وَالرِّجْلُ زِنَاہَا الْخُطَی ، وَالْقَلْبُ یَہْوِیْ وَ یَتَمَنّٰی وَ یُصَدِّقُ ذٰلِکَ الْفَرْجُ وَیُکَذِّبُہ )) رَوَاہُ مُسْلِم
    مو سیقی ،گانا بجانا اور ناچ رنگ کرنے والوں پر یا عذاب آئے گا یا اللہ! انہیں بندر اور سور بنا دے گا۔
    عَنْ اَبِیْ مَالِکِ نِ الْاَشْعَرِیِّ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((لَیَشْرَبَنَّ نَاس مِنْ اُمَّتِیْ الْخَمْرَ یُسَمُّوْنَہَا بِغَیْرِ اِسْمِہَا یُعْزَفُ عَلٰی رُؤُوْسِہِمْ بِالْمُعَازِفِ وَالْمُغَنِّیَاتِ یَخْسِفُ اللّٰہُ بِہِمُ الْاَرْضَ وَ یَجْعَلُ مِنْہُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِیْرَ)) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَةَ (صحیح)
    عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ ((فِیْ ہٰذِہِ الْاُمَّةِ خَسْف وَ مَسْخ وَ قَذْف )) فَقَالَ رَجُل مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا ! مَتٰی ذٰلِکَ ؟ قَالَ (( اِذَا ظَہَرَتِ الْقَیْنَاتِ وَالْمُعَازِفُ وَشُرِبَتِ الْخُمُوْرُ)) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)

    نکاح کے متعلق وہ اُمور جو سنت سے ثابت نہیں

    1. نکاح سے قبل منگنی کی رسم اداکرنا۔
    2. لڑکے والوںکا لڑکی والوں کے لئے''بد''لے کرجانا۔
    3. منگنی کے وقت لڑکے کو سونے کی انگوٹھی پہنانا ۔
    4. مہندی اور ہلدی کی رسم اداکرنا۔
    5. لڑکے اور لڑکی کو سلامیاں دینا۔
    6. نکاح سے قبل منگیتر کو محرم سمجھنا۔
    7. 32 روپے حق مہر مقرر کرنانیزمردکی حیثیت سے بڑھ کر حق مہر مقرر کرنا۔
    8. بیٹی کو گھر بنانے کے لئے (جہیز) سامان مہیا کرنا۔
    9. جہیز کا مطالبہ کرنا۔
    10. دولہا کو سہراباندھنا۔
    11. بارات میں کثیر تعداد لے جانا۔
    12. بارات کے ساتھ بینڈ باجے لے جانا۔
    13. خطبہ نکاح سے قبل لڑکے اور لڑکی کو کلمہ شہادت پڑھوانا۔
    14. نکاح کے بعد حاضرین مجلس میں چھوہارے لٹانا۔
    15. دولہا کے جوتے چرانااور پیسے لے کر واپس آنا۔
    16. لڑکی کو قرآن کے سائے میںگھرسے رخصت کرنا۔
    17. منہ دکھائی اور گود بھرائی کی رسم اداکرنا۔
    18. مائیاں پڑنے کی رسم اداکرنا۔
    19. محرم اور عید کے مہینوںمیںشادی نہ کرنا۔
    20. اپنی حیثیت سے بڑھ کر ولیمہ کی دعوت کرنا۔
    21. یونین کونسل میں رجسٹریشن کے بغیر نکاح(یاطلاق)کو غیر موثر سمجھنا۔
    22. ناچ گانے کا اہتمام کرنا۔
    23. مردوں،عورتوںکی الگ الگ یا مخلوط محفلوںکی تصاویربنانااور ویڈیوفلمیں تیارکرنا۔
    24. قرآن مجید سے نکاح کرنا۔(1)
    25. نکاح کے وقت مسجد کے لئے کچھ روپے وصول کرنا۔
    26. لڑکے والوں سے پیسے لے کر ملازموںکو''لاگ''دینا۔
    27. طلاق کی نیت سے نکاح کرنا۔
    28. دوران حمل نکاح کرنا۔
    29. نکاح ثانی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت حاصل کرنا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (1) یادرہے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک صوبے،سندھ میںجاگیرداراور وڈیرے آج بھی وہی سوچ رکھتے ہیںجوچودہ سو سال پہلے زمانہ جاہلیت میں عربوں میں پائی جاتی تھی جس کا قرآن مجید نے ان الفاظ میں ذکر کیاہے''وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْہُہ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٍ¡یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْئِ مَا بُشِّرَ بِہ اَیُمْسِکُہ عَلٰی ہُوْنٍ اَمْ یَدُسُّہ فِیْ التُّرَابِ'' ''جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ خون کا گھونٹ پی کر رہ جاتاہے لوگوں سے چھپتا پھرتاہے کہ اس بری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے سوچتاہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لئے رہے یا مٹی میں دبادے؟(سورہ نحل،آیت نمبر59-58)
    چنانچہ وڈیرے اور جاگیرداراپنی جاگیروں کو تحفظ دینے کے لئے اور کسی کو اپنا داماد بنانے کی ''ذلت''سے بچنے کے لئے اپنی بیٹیوں کا نکاح قرآن سے کردیتے ہیں جس کے لئے لڑکی کو باقاعدہ ہار سنگھار کرکے سرخ عروسی جوڑا پہنایا جاتاہے،مہندی لگائی جاتی ہے،گیت گائے جاتے ہیں لڑکی کا گھونگھٹ نکال کر سہیلیوں کے جھرمٹ میں بٹھایا جاتا ہے اور اس کے برابر ریشمی جزداں میں سجاہوا قرآن رحل پر رکھا جاتاہے''مولوی صاحب''کچھ الفاظ پڑھتے ہیں تب بڑی بوڑھیاں قرآن اٹھا کر دلہن کی گود میں رکھ دیتی ہیں دلہن قرآن کو بوسہ دیتی ہے اور اقرار کرتی ہے کہ اس نے اپنا حق (نکاح) قرآن کو بخش دیا۔اس پر حاضرین مجلس ظالم باپ اور مظلوم بیٹی کو مبارکباد دیتے ہیں،اپنا حق نکاح قرآن کو بخشنے کے بعد اس لڑکی کا نکاح کسی مرد سے حرام پاتاہے دلہن لڑکی سے''بی بی''بن کر روحانیت کے درجہ پر فائز ہوجاتی ہے یوں جاگیر داراپنی جاگیریں اور ''عزت''تو بچالیتاہے لیکن بیٹی کے ارمانوں کو ہمیشہ کے لئے درگور کردیتاہے ظلم کی ریت وہی ہے صرف طریق واردات بدلاہے۔ عقل عیار ہے سو بھیس بنالیتی ہے۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ہفت روزہ تکبیر29جون،1995ء قرآن سے شادی کی ایک ظالمانہ رسم)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 23، 2012 #44
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اَلْاَدْعِیَۃُ فِی الزِّوَاجِ​

    نکاح سے متعلق دعائیں

    نکاح کے بعد زوجین کو یہ دعا دینی چاہئے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص اَنَّ النَّبِیَّ ا کَانَ اِذَا رَفَّأَ الْإِنْسَانُ اِذَا تَزَوَّجَ قَالَ ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ وَ بَارِکْ عَلَیْکُمَا وَ جَمَعَ بَیْنَکُمَا فِیْ خَیْرٍ )) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (صحیح)
    پہلی ملاقات پر شوہر کو بیوی کے لئے درج ذیل دعا مانگنی چاہئے۔
    عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ ((اِذَا تَزَوَّجَ اَحَدُکُمْ اِمْرَأَۃً اَوْ اِشْتَرٰی خَادِمًا فَلْیَقُلْ ] أَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَہَا وَ خَیْرَ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّہَا وَ شَرِّ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ [ )) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (حسن)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏فروری 23، 2012 #45
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    صِفَاتُ الزَّوْجِ الْاَمْثِلَ​

    مثالی شوہر کی خوبیاں

    بیوی سے حسن سلوک کرنے والا مرد بہترین شوہر ہے۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَہْلِہٖ وَ اَنَا خَیْرُکُمْ لِاَہْلِیْ وَاِذَا مَاتَ صَاحِبُکُمْ فَدَعَوْہُ )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِلنِّسَائِ)) رَوَاہُ الْحَاکِمُ (صحیح)
    بیوی کو نہ مارنے والا شخص بہترین شوہر ہے۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : مَا ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا خَادِمًا وَ لاَ اِمْرَأَۃً قَطُّ ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (صحیح)
    آزمائش اور مصیبت میں صبر کرنے والا شخص بہترین شوہر ہے۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((مَنِ ابْتُلِیَ بِشَیْئٍ مِنَ الْبَنَاتِ فَصَبَرَ عَلَیْہِنَّ کُنَّ لَہٗ حِجَابًا مِنَ النَّارِ )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    بیٹیوں کو دینی تعلیم دلوانے اور اچھی تربیت کرنے والا شخص بہترین شوہر ہے۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((مَنِ ابْتُلِیَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَیْئٍ فَاَحْسَنَ اِلَیْہِنَّ کُنَّ لَہٗ سِتْرًا مِنَ النَّارِ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    بیوی کے معاملے میں در گزر کرنے والا، نرمی سے کام لینے والا، نیز بیوی کے حق میں خیر اور بھلائی کی بات قبول کرنے والا شخص اچھا شوہر ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَإِذَا شَہِدَ أَمْرًا فَلْیَتَکَلَّمْ بِخَیْرٍ اَوْ لِیَسْکُتْ وَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآئِ خَیْرًا فَاِنَّ الْمَرْأَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضَلَعٍ وَ اِنَّ اَعْوَجَ شَیْئٍ فِی الضَّلَعِ اَعْلاَ ہُ اِنْ ذَہَبْتَ تُقِیْمُہٗ کَسَرْتَہٗ وَ اِنْ تَرَکْتَہٗ لَمْ یَزَلْ اَعْوَجَ اِسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآئِ خَیْرًا)) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    اہل و عیال پر خوشدلی سے خرچ کرنا اچھے شوہر کی صفت ہے۔
    عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدِ الْاَنْصَارِیِّ ص عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ ((نَفْقَۃُ الرَّجُلِ عَلٰی اَہْلِہٖ صَدَقَۃٌ)) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((دِیْنَارٌ اَنْفَقْتَہٗ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ دِیْنَارٌ اَنْفَقْتَہٗ فِیْ رَقَبَۃٍ وَ دِیْنَارٌ تَصَدَّقْتَ بِہٖ عَلٰی مِسْکِیْنٍ وَ دِیْنَارٌ اَنْفَقْتَہٗ عَلٰی اَہْلِکَ اَعْظَمُہَا اَجْرًا اَلَّذِیْ اَنْفَقْتَہٗ عَلٰی اَہْلِکَ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    گھر کے کام کاج میں بیوی کا ہاتھ بٹانے والا شوہر بہترین شوہر ہے۔
    عَنِ الْاَسْوَدٍ ص قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا مَا کَانَ النَّبِیُّ ا یَصْنَعُ فِیْ اَہْلِہٖ قَالَتْ کَانَ فِیْ مِہْنَۃِ اَہْلِہٖ فَاِذَا حَضَرِتِ الصَّلاَۃُ قَامَ اِلَی الصَّلاَۃِ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    وضاحت : دوسری روایت میں ہے کہ آپ بازار سے سودہ سلف خرید لایا کرتے اور اپنا جوتا وغیرہ خود مرمت فرما لیا کرتے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏فروری 23، 2012 #46
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    أَہَمِیَّۃُ الزَّوْجَۃِ الصَّالِحَۃِ​

    نیک بیوی کی اہمیت

    رفیقہ حیات کے انتخاب کے لئے زبردست احتیاط کی ضرورت ہے۔
    عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِیَّ ا قَالَ (( مَا تَرَکْتُ بَعْدِیْ فِتْنَۃً اَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَائِ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اَلدُّنْیَا حُلْوَۃٌ خَضِرَۃٌ وَ اِنَّ اللّٰہَ مُسْتَخْلِفُکُمْ فِیْہَا فَیَنْظُرُ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ فَاتَّقُوا الدُّنْیَا وَاتَّقُوا النِّسَائَ فَاِنَّ اَوَّلَ فِتْنَۃِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کَانَتْ فِی النِّسَائِ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    نیک ،پرہیزگار اور وفادار بیوی دنیا کی ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے۔
    عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ (( اَلدُّنْیَا مَتَاعٌ وَ خَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا أَلْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ دنیا فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے ۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔
    عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اَرْبَعٌ مِنَ السَّعَادَۃِ أَلْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ وَالْمَسْکَنُ الْوَاسِعُ وَالْجَارُ الصَّالِحُ وَالْمَرْکَبُ الْہَنِیْئُ وَاَرْبَعٌ مِنَ الشِّقَائِ أَلْمَرْأَۃُ السُّوْئُ وَالْجَارُ السُّوْئُ اَلْمَرْکَبُ السُّوْئُ وَالْمَسْکَنُ الضَّیِّقُ )) رَوَاہُ اَحْمَدُ وَابْنُ حَبَّانَ (حسن)
    ناقص العقل ہونے کے باوجود عورتیں اچھے بھلے مردوں کی مت مار دیتی ہیں۔
    عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ا اَنَّہٗ قَالَ (( یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ ! تَصَدَّقْنَ وَ اَکْثِرْنَ مِنَ الْاِسْتَغْفَارِ فَاِنِّیْ رَأَیْتُکُنَّ اَکْثَرَ أَہْلِ النَّارِ)) فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ ، جَزْلَۃٌ وَ مَا لَنَا ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا ! اَکْثَرُ اَہْلِ النَّارِ ؟ قَالَ (( تُکْثِرْنَ اللَّعَنَ وَ تَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ ، مَا رَأَیْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَ دِیْنٍ اَغْلَبَ لِذِیْ لُبٍّ مِنْکُنَّ )) قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا ! مَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَ الدِّیْنِ؟ قَالَ (( اَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ فَشَہَادَۃُ امْرَأَتَیْنِ تَعْدِلُ شَہَادَۃَ رَجُلٍ ، فَہٰذَا مِنْ نُقْصَانِ الْعَقْلِ وَ تَمْکُثُ اللَّیَالِیَ مَا تُصَلِّیْ وَ تُفْطِرُ فِیْ رَمَضَانَ فَہٰذَا مِنْ نُقْصَانِ الدِّیْنُ )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
    عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ ((اِنَّ اَقَلَّ سَکَنِی الْجَنَّۃِ النِّسَائُ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    بیوی انسان کے لئے سخت آزمائش ہے۔
    عَنْ حُذَیْفَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اِنَّ فِیْ مَالِ الرَّجُلِ فِتْنَۃً وَ فِیْ زَوْجَتِہٖ فِتْنَۃً وَ وَلَدِہٖ )) رَوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ (صحیح)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏فروری 23، 2012 #47
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    صِفَاتُ الزَّوْجَۃِ الْاَمْثِلَۃِ​

    مثالی بیوی کی خوبیاں

    کنواری ،شریں گفتار ،خوش مزاج ،قناعت پسند ،شوہر کا دل لبھانے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت بہترین رفیقہ حیات ہے۔
    عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ عَدِیْمِ بْنِ سَاعَدَۃِ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ ث قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((عَلَیْکُمْ بِالْأَبْکَارِ فَاِنَّہُمْ اَعْذَبُ اَفْوَاہًا وَاَنْتَقُ اَرْحَامًا اَرْضٰی بِالْیَسِیْرِ)) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
    عَنْ جَابِرٍص قَالَ : کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ا فِیْ غَزْوَۃٍ فَلَمَّا قَفَلْنَا کُنَّا قَرِیْبًا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ، قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا ! اِنِّیْ حَدِیْثُ عَہْدٍ بِعُرْسٍ ، قَالَ ((تَزَوَّجْتَ )) قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ ((أَ بِکْرًا اَمْ ثَیِّبًا؟)) قُلْتُ : بَلْ ثَیِّبًا ، قَالَ ((فَہَلاًّ بِکْرًا تُلاَعِبُہَا وَ تُلاَعِبُکَ )) مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ
    شوہر کی عدم موجودگی میں اس کے مال اور اس کی عزت کی محافظ نیز اپنے شوہر کی اطاعت گزار اور وفادار خاتون بہترین بیوی ہے۔
    عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلاَمٍ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((خَیْرُ النِّسَائِ مَنْ تَسُرُّکَ اِذَا بَصَرْتَ وَ تُطِیْعُکَ اِذَا اَمَرْتَ وَ تَحْفَظُ غَیْبَتَکَ فِیْ نَفْسِہَا وَ مَالَکَ )) رَوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ (صحیح)
    اولاد سے محبت کرنے والی اور اپنے شوہر کے تمام معاملات کی امین خاتون بہترین بیوی ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا نِسَائُ قُرَیْشٍ خَیْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ الْاِبِلَ أَحْنَاہُ عَلٰی طِفْلٍ وَ اَرْعَاہُ عَلٰی زَوْجٍ فِیْ ذَاتِ یَدِہٖ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    شوہر کے جنسی جذبات کا احترام کرنے والی خاتون پر اللہ تعالیٰ راضی رہتا ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا مِنْ رَجُلٍ یَدْعُوْا اِمْرَأَتَہٗ اِلٰی فِرَاشِہَا فَتَابٰی عَلَیْہِ اِلاَّ کَانَ الَّذِیْ فِی السَّمَائِ سَاخِطًا عَلَیْہَا حَتّٰی یَرْضَی عَنْہَا )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    شوہر سے بہت زیادہ محبت کرنے والی اور بہت زیادہ بچے جننے والی عورت بہترین رفیقہ حیات ہے۔
    پانچ نمازوں کی پابندی کرنے والی ،رمضان کے روزے رکھنے والی ، پاکدامن اور شوہر کی اطاعت گزار خاتون بہترین رفیقہ حیات ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَۃُ خَمْسَہَا وَ صَامَتْ شَہْرَہَا وَ حَصَّنَتْ فَرْجَہَا وَ اَطَاعَتْ زَوْجَہَا قِیْلَ لَہَا ادْخُلِی الْجَنَّۃَ مِنْ اَیِّ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شِئْتِ )) رَوَاہُ ابْنُ حَبَّانَ (صحیح)
    شوہر کو خوش رکھنے ،شوہر کی اطاعت کرنے اور اپنی جان و مال شوہر کے حوالے کرنے والی خاتون بہترین رفیقہ حیات ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِا ! اَیُّ النِّسَآئِ خَیْرٌ ؟ قَالَ ((اَلَّتِیْ تَسُرُّہٗ اِذَا نَظَرَ وَ تُطِیْعُہٗ اِذَا اَمَرَ وَ لاَ تُخَالِفُہٗ فِیْ نَفْسِہَا وَ مَالِہَا بِمَا یَکْرَہُ )) رَوَاہُ النِّسَائِیُّ (حسن)
    ہر معاملے میں شوہر کی آخرت کا خیال رکھنے والی ،ایمان والی ہونا مثالی بیوی کی صفت ہے۔
    عَنْ ثَوْبَانَ ص قَالَ : لَمَّا نَزَلَ فِی الْفِضَّۃِ وَالذَّہَبِ مَا نَزَلَ ، قَالُوْا : فَأَیُّ الْمَالِ نَتَّخِذُ ؟ قَالَ عُمَرَ : فَأَنَا اَعْلَمُ لَکُمْ ذٰلِکَ ، فَأَوْضَعَ عَلٰی بَعِیْرِہٖ فَأَدْرَکَ النَّبِیَّ ا وَ اَنَا فِیْ اَثَرِہٖ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا اَیُّ الْمَالِ نَتَّخِذُ ؟ فَقَالَ ((لِیَتَّخِذْ اَحَدُکُمْ قَلْبًا شَاکِرًا ، وَ لِسَانًا ذَاکِرًا ، وَ زَوْجَۃً مُؤْمِنَۃً ، تُعِیْنُ اَحَدَکُمْ عَلٰی اَمْرِ الْآخِرَۃِ ۔ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
    مثالی بیوی بننے کے لئے چار قابل تقلید مثالیں۔
    عَنْ اَنَسٍ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((خَیْرُ نِسَائِ الْعَالَمِیْنَ اَرْبَعٌ مَرْیَمُ بِنْتِ عِمْرَانَ وَ خَدِیْجَۃُ بِنْتِ خَوَیْلَدٍ وَ فَاطِمَۃُ بِنْتِ مُحَمَّدٍ وَ آسِیَۃُ اِمْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ )) رَوَاہُ اَحْمَدُ وَالطِّبْرَانِیُّ (صحیح)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 23، 2012 #48
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اَہَمِیَّۃُ حُقُوْقِ الزَّوْجِ​

    شوہر کے حقوق کی اہمیت

    جو عورت اپنے شوہر کا حق ادا نہیں کر سکتی وہ اللہ کا حق بھی ادا نہیں کر سکتی۔
    عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا (( وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لاَ تُؤَدِّی الْمَرْأَۃُ حَقَّ رَبِّہَا حَتّٰی تُؤَدِّیَ حَقَّ زَوْجِہَا وَ لاَ سَأَلَہَا نَفْسَہَا وَ ہِیَ عَلٰی قَتَبٍ لَمْ تَمْنَعْہُ )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
    کسی عورت کے لئے اپنے شوہر کے حقوق کما حقہ ادا کرنا ممکن نہیں۔
    عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ص عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ (( حَقُّ الزَّوْجِ عَلٰی زَوْجَتِہٖ اَنْ لَوْ کَانَتْ بِہٖ قَرْحَۃٌ فَلَحَسَتْہَا مَا اَدَّتْ حَقَّہٗ )) رَوَاہُ الْحَاکِمُ وَابْنُ حَبَّانَ وَابْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَالدَّارُ قُطْنِیُّ وَ الْبَیْہَقِیُّ (صحیح)
    شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے والی بیوی کے لئے جنت کی حوریں بددعا کرتی ہیں۔
    عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((لاَ تُوْذِیْ امْرَأَۃٌ زَوْجَہَا اِلاَّ قَالَتْ زَوْجَتُہٗ مِنَ الْحُوْرِ الْعَیْنِ لاَ تُؤْذِیْہِ قَاتَلَکِ اللّٰہُ فَاِنَّمَا ہُوَ عِنْدَکِ دَخِیْلٌ اَوْشَکَ اَنْ یُفَارِقَکِ اِلَیْنَا)) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 23، 2012 #49
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حُقُوْقُ الزَّوْجِ​

    شوہر کے حقوق

    خاندانی نظم کے اعتبار سے (ایمان اور تقوی کے اعتبار سے نہیں )شوہر کی برتر حیثیت (قوامیت )کو تسلیم کرنا بیوی پر واجب ہے۔
    اپنی ہمت اور بساط کے مطابق شوہر کی اطاعت اور خدمت کرنا بیوی پر واجب ہے۔
    شوہر ،بیوی کی جنت یا جہنم ہے۔

    عَنْ حُصَیْنِ بْنِ مِحْصَنٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَمَّتِیْ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ فِیْ بَعْضِ الْحَاجَۃِ ، فَقَالَ ((اَیُّ ہٰذِہٖ أَذَاتُ بَعْلٍ ؟)) قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ ((کَیْفَ أَنْتِ لَہٗ ؟)) قُلْتُ : مَا آلُوْہُ اِلاَّ مَا عَجِزْتُ عَنْہُ ، قَالَ ((فَانْظُرِیْ ، أَیْنَ أَنْتِ مِنْہُ ؟ فَاِنَّمَا ہُوَ جَنَّتُکِ وَ نَارُکِ )) رَوَاہُ اَحْمَدُ وَالطِّبْرَانِیُّ وَالْحَاکِمُ وَالْبَیْہَقِیُّ (صحیح)
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ ((لَوْ کُنْتُ آمِرًا اَنْ یَسْجُدَ لِاَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ اَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    وضاحت : جس معاملے میں شوہر اللہ اور اس کے رسول ﷺکی نافرمانی کا حکم دے اس معاملے میں شوہر کی اطاعت واجب نہیں ۔ رسول اکرمﷺکا ارشاد مبارک ہے ’’اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے معاملہ میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (مسند احمد)
    شوہر کی ہر جائز خواہش کا احترام کرنا بیوی پر واجب ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ (( لاَ یَحِلُّ لِلْمَرْأَۃِ اَنْ تَصُوْمَ زَوْجُہَا شَاہِدٌ ، وَ لاَ تَأْذَنُ فِیْ بَیْتِہٖ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ وَ مَا اَنْفَقَتْ مِنْ نَفَقَۃٍ عَنْ غَیْرِ اَمْرِہٖ فَاِنَّہٗ یُؤَدَّیْ اِلَیْہِ شَطْرُہٗ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَہٗ لِحَاجَتِہٖ فَلْیَأْتِہٖ ، وَ اِنْ کَانَتْ عَلَی التَّنُّوْرِ)) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    شوہر کی غیر حاضری میں اس کے مال ومتاع کی حفاظت کرنا بیوی پر واجب ہے۔
    عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ ص قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا یَقُوْلُ ((فِیْ خُطْبَۃِ عَامِ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ لاَ تُنْفِقْ اِمْرَأَۃٌ شَیْئًا مِنْ بَیْتِ زَوْجِہَا اِلاَّ بِاِذْنِ زَوْجِہَا )) قِیْلَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا ! وَلاَ الطَّعَامَ ؟ قَالَ (( ذٰلِکَ اَفْضَلُ اَمْوَالِنَا )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (حسن)
    بیوی اپنے شوہر کی اطاعت نہ کرے تو پہلے مرحلے میں اسے سمجھانے، دوسرے مرحلے میں اپنی خوابگاہ میں بستر الگ کرنے اور تیسرے مرحلے میں ہلکی مار مارنے کی اجازت ہے۔
    شوہر کی غیر حاضری میں اس کی عزت کی حفاظت کرنا بیوی پر واجب ہے۔
    عَنْ جَابِرٍ ص فِیْ خُطْبَۃِ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ا قَالَ ((فَاتَّقُوا اللّٰہَ فِی النِّسَائِ فَاِنَّکُمْ اَخَذْتُمُوْہُنَّ بِاَمَانِ اللّٰہِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوْجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اللّٰہِ عَلَیْہِنَّ اَنْ لاَ یُؤْطِئْنَ فُرَشَکُمْ اَحَدًا تَکْرَہُوْنَہٗ فَاِنْ فَعَلْنَ ذٰلِکَ فَاضْرِبُوْہُنَّ ضَرْبًا غَیْرَ مُبَرِّحٍ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    اچھے برے ،تمام حالات میں اپنے شوہر کا احسان مند اور شکر گزار رہنا بیوی پر واجب ہے۔
    عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ ((رَأَیْتُ النَّارَ فَلَمْ اَرَ کَالْیَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَ رَأَیْتُ اَکْثَرَ اَہْلِہَا النِّسَائَ )) قَالُوْا : لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا ؟ قَالَ ((بِکُفْرِہِنَّ )) قِیْلَ : یَکْفُرْنَ بِاللّٰہِ ؟ قَالَ ((یَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ وَ یَکْفُرْنَ لِإِحْسَانٍ لَوْ اَحْسَنْتَ اِلٰی اِحْدَاہُنَّ الدَّہْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْکَ شَیْئًا )) قَالَتْ : مَا رَأَیْتُ مِنْکَ خَیْرًا قَطُّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏فروری 23، 2012 #50
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اَہَمِیَّۃُ حُقُوْقِ الزَّوْجَۃِ​

    بیوی کے حقوق کی اہمیت

    عورت کے حقوق کی قانونی حیثیت وہی ہے جو مرد کے حقوق کی ہے۔
    عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْاَحْوَصِ ص قَالَ : حَدَّثَنِیْ اَبِیْ اَنَّہٗ شَہِدَ حَجَّۃَ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ا فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاثْنٰی عَلَیْہِ وَ ذَکَرَ وَ وَعَظَ وَ ذَکَرَ فِی الْحَدِیْثِ قِصَّۃً فَقَالَ ((أَلاَ وَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَائِ خَیْرًا فَاِنَّمَا ہُنَّ عَوَانٌ عِنْدَکُمْ … أَلاَ اِنَّ لَکُمْ عَلٰی نِسَائِ کُمْ حَقًّا وَ لِنِسَائِکُمْ عَلَیْکُمْ حَقًّا…)) اَلْحَدِیْثُ ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (حسن)
    عورت کے حقوق ادا کرنا واجب ہے۔
    عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((یَا عَبْدَ اللّٰہِ ! اَلَمْ اُخْبِرْ اَنَّکَ تَصُوْمُ النَّہَارَ وَ تَقُوْمُ اللَّیْلَ ؟)) قُلْتُ : بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا! قَالَ ((فَلاَ تَفْعَلْ وَ اَفْطِرْ وَ نَمْ فَاِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَ اِنَّ لِعَیْنِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَاِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    عورت کے حقوق ادا نہ کرناباعث ہلاکت ہے۔
    عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((کَفٰی اِثْمًا اَنْ یَحْبِسَ عَمَّنْ مَنْ یَمْلِکُ قُوْتَہٗ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    عورت کے حقوق ادانہ کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِیْفَیْنِ ، اَلْیَتِیْمِ وَالْمَرْأَۃِ )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (حسن)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اے اللہ!میں دو ضعیفوں کا حق (مارنا )حرام کرتا ہوں یتیم کا اور عورت کا۔‘‘اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ ((لَتَؤُدَّنَّ الْحُقُوْقَ اِلٰی اَہْلِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُقَادَ لِلشَّاۃِ الْجَلْحَائِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَائِ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    وضاحت : جانوروں کے لئے اگرچہ عذاب اور ثواب نہیں لیکن قیامت کے روز ایک دوسرے کے حقوق دلوانے کے لئے ایک بار جانوروں کو زندہ کیا جائے گا،اس سے حقوق العباد کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
    بیوی پر ظلم کرنے سے بچنا چاہئے۔
    عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اِتَّقُوْا دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَاِنَّہَا تَصْعَدُ اِلَی السَّمَآئِ کَاَنَّہَا شَرَارَۃٌ )) رَوَاہُ الْحَاکِمُ (صحیح)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں