1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نکاح کے مسائل

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏جنوری 12، 2012۔

  1. ‏فروری 23، 2012 #51
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حُقُوْقُ الزَّوْجَۃِ​

    بیوی کے حقوق

    نان و نفقہ عورت کا حق ہے جسے برضا و رغبت ادا کرنا مرد پر واجب ہے۔
    عَنْ حَکِیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ عَنْ اَبِیْہِ ص اَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ ا مَا حَقُّ الْمَرْأَۃِ عَلَی الزَّوْجِ ؟ قَالَ (( اَنْ یَطْعَمَہَا اِذَا طَعِمَ وَ اَنْ یَکْسُوَہَا اِذَا اکْتَسٰی وَ لاَ یَضْرِبُ الْوَجْہَ وَ لاَ یُقَبِّحُ وَ لاَ یَہْجُرُ اِلاَّ فِی الْبَیْتِ )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
    مہر عورت کا حق ہے جسے ادا کرنا شوہر کے ذمہ واجب ہے۔
    والدین کے بعد سب سے زیادہ حسن سلوک کی حقدار بیوی ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُہُمْ خُلْقًا وَ خِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَائِہِمْ )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا (( دِیْنَارٌ اَنْفَقْتَہٗ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ دِیْنَارٌ اَنْفَقْتَہٗ فِیْ رَقَبَۃٍ وَ دِیْنَارٌ تَصَدَّقْتَ بِہٖ عَلٰی مِسْکِیْنٍ وَ دِیْنَارٌ اَنْفَقْتَہٗ عَلٰی اَہْلِکَ ، اَعْظَمُہَا اَجْرًا اَلَّذِیْ اَنْفَقْتَہٗ عَلٰی اَہْلِکَ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    عَنْ عَمْرِو بْنِ اُمَیَّۃَ الضَّمَرِیِّص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ ((مَا اَعْطَی الرَّجُلُ اِمْرَأَتَہٗ فَہُوَ صَدَقَۃٌ )) رَوَاہُ اَحْمَدُ (صحیح)
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا (( لاَ یَفْرَکْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَۃً اِنْ کَرِہَ مِنْہَا خُلُقًا رَضِیَ مِنْہَا آخَرَ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَمْعَۃَ ص قَالَ : لاَ یَجْلِدْ اَحَدُکُمُ امْرَأَتَہٗ جِلْدَ الْعَبْدِ ثُمَّ یُجَامِعُہَا فِیْ آخِرِ الْیَوْمِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    عورت کے جنسی حقوق ادا کرنا مرد پر واجب ہے۔
    عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ رَحِمَہُ اللّٰہُ یَقُوْلُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصٍص یَقُوْلُ : رَدَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا عَلٰی عُثْمَانَ ابْنِ مَظْعُوْنَ ص اَلتَّبَتُّلَ وَ لَوْ اَذِنَ لَہٗ لَاَخْتَصَیْنَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    وضاحت : اس بارے میں مزید احکام جاننے کے لئے کتاب الطلاق میں ایلاء کے مسائل مسئلہ نمبر 127تا132کا ملاحظہ فرمائیں ۔
    بیوی کو قرآن و حدیث کی تعلیم دینا اور اللہ سے ڈرتے رہنے کی تاکید کرتے رہنا مرد پر واجب ہے۔
    عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ص اَنَّ النَّبِیَّ ا قَالَ ((اَنْفِقْ عَلٰی عَیَالِکَ مِنْ طَوْلِکَ وَ لاَ تَرْفَعْ عَنْہُمْ عَصَاکَ اَدَبًا وَ اَخْفِہِمْ فِی اللّٰہِ)) رَوَاہُ اَحْمَدُ
    عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ ص فِیْ قَوْلِہٖ عَزَّوَجَلَّ { قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا(6:66)} قَالَ : عَلِّمُوْا اَنْفُسَکُمْ وَ اَہْلِیْکُمُ الْخَیْرَ۔ رَوَاہُ الْحَاکِمُ
    بیوی کی عزت اور ناموس کی حفاظت کرنا مرد پر واجب ہے۔
    عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((ثَلاَ ثَۃٌ لاَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ اَلْعَاقُ لِوَالِدَیْہِ وَالدَّیُّوْثُ وَ رَجْلَۃُ النِّسَائِ )) رَوَاہُ الْحَاکِمُ وَالْبَیْہَقِیُّ (صحیح)
    وضاحت : دیوث اس شخص کو کہتے ہیں جس کی بیوی کے پاس غیرمحرم مرد آئیں اور اسے غیرت محسوس نہ ہو۔
    قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ ص لَوْ رَأَیْتُ رَجُلاً مَعَ اِمْرَأَتِیْ لَضَرَبْتُہٗ بِالسَّیْفِ غَیْرَ مُصْفِحٍ ، فَقَالَ النَّبِیُّ ا ((أَ تَعْجَبُوْنَ مِنْ غَیْرَۃِ سَعْدٍص ؟ لَاَنَا اَغْیَرُ مِنْہُ وَ اللّٰہُ اَغْیَرُ مِنِّیْ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    اگر ایک سے زائد بیویاں ہوں تو ان کے درمیان عدل کرنا مرد پر واجب ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ((مَنْ کَانَتْ لَہٗ اِمْرَأَتَانِ فَمَالَ اِلٰی اِحْدَاہُمَا جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ شِقُّہٗ مَائِلٌ )) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (صحیح)
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 23، 2012 #52
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    أَلْحُقُوْقُ الْمُشْتَرَکَۃُ بَیْنَ الزَّوْجَیْنِ​

    میاں بیوی کے ایک دوسرے پر مشترک حقوق

    خیر اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کو تاکید کرتے رہنا دونوں پر واجب ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا (( رَحِمَ اللّٰہُ رَجُلاً قَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلّٰی وَ اَیْقَظَ اِمْرَأَتَہٗ فَصَلَّتْ فَاِنْ اَبَتْ رَشَّ فِیْ وَجْہِہَا الْمَائَ ، رَحِمَ اللّٰہُ اِمْرَأَۃً قَامَتْ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّتْ وَ اَیْقَظَتْ زَوْجَہَا فَصَلّٰی فَاِنْ اَبٰی رَشَّتْ فِیْ وَجْہِہِ الْمَائَ)) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (صحیح)
    ازدواجی زندگی کے راز افشا نہ کرنا دونوں پر واجب ہے۔
    عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا (( اِنَّ مِنْ اَشِرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللّٰہِ مَنْزِلَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الرَّجُلُ یُفْضِیْ اِلٰی اِمْرَأَتِہٖ وَ تُفْضِیْ اِلَیْہِ ثُمَّ یَنْشُرُ سِرَّہَا)) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا دونوں پر واجب ہیں۔
    عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ ((کُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ ، وَالْاَمِیْرُ رَاعٍ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلٰی اَہْلِ بَیْتِہٖ وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ زَوْجِہَا وَ وَلَدِہٖ فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 28، 2012 #53
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,506
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    جزاک اللہ​
     
  4. ‏مارچ 05، 2012 #54
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

     
  5. ‏مارچ 05، 2012 #55
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    یہ پوسٹ ہر تھریڈ میں پوسٹ ہو رہی ہے
     
  6. ‏مارچ 18، 2012 #56
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اِسْلاَمُ اَحَدِ الزَّوْجَیْنِ

    غیر مسلم میاں،بیوی میں سے کسی ایک کا مسلمان ہونا

    کافر میاں بیوی میں سے جب کوئی ایک فریق مسلمان ہو جائے تو ان کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے مسلمان عورت کافر شوہر کے لئے حلال نہیں رہتی اور مسلمان مرد کے لئے کافر عورت حلال نہیں رہتی۔
    جو منکوحہ عورت مسلمان ہو کر دارالکفرسے دار الاسلام میں ہجرت کر آئے اس کا نکاح اپنے آپ ٹوٹ جاتا ہے اور وہ جب چاہے عدت گزارے بغیر دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔
    دارالکفر سے آنے والی منکوحہ عورتیں جو مسلمان ہو کر آئیں ،اسلامی حکومت کو ان عورتوں کے مہر کافر شوہروں کو واپس کرنے چاہئیں اور مسلمانوں کی منکوحہ کافر عورتیں جو دارالکفر میں رہ گئی ہوں ان کے مہر کفار سے واپس لینے چاہیں۔

    { یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا جَائَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ ط اللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِہِنَّ ج فَاِنْ عَلِمْتُمُوْہُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلاَ تَرْجِعُوْہُنَّ اِلَی الْکُفَّارِ ط لاَ ہُنَّ حِلٌّ لَہُمْ وَ لاَ ہُمْ یُحِلُّوْنَ لَہُنَّ وَ اٰتُوْہُمْ مَا اَنْفَقُوْا ط وَ لاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اَنْ تَنْکِحُوْہُنَّ اِذَا اٰتَیْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ ط وَ لاَ تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ وَاسْئَلُوْا مَا اَنْفَقْتُمْ وَلْیَسْئَلُوْا مَا اَنْفَقُوْا ط ذٰلِکُمْ حُکْمُ اللّٰہِ ط یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ،}(10:60)
    وضاحت :1دار الکفر سے آنے والی مسلمان خواتین کو نکاح کے وقت اس مہر سے الگ مہر ادا کرنا ہو گا جو اسلامی حکومت دارالکفر کے کافر شوہروں کو واپس کرے گی۔
    2اگر مسلمان ہونے والے شوہر کی بیوی عیسائی یا یہودی (یعنی اہل کتاب میں سے )ہو اور وہ اپنے دین پر قائم رہے تب بھی میاں بیوی کا نکاح باقی رہے گا۔
    مشرک یا کافر میاں بیوی بیک وقت دونوں مسلمان ہو جائیں یا آگے پیچھے کچھ وقفے سے مسلمان ہوں تو ان کا ازدواجی تعلق ایام جاہلیت کے نکاح پر ہی قائم رہتا ہے۔
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا رَدَّ اِبْنَتَہٗ عَلٰی اَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیْعِ بَعْدَ سَنَتَیْنِ بِنِکَاحِہَا الْاَوَّلِ ۔ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
     
  7. ‏مارچ 18، 2012 #57
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    أَلنِّکَاحُ الثَّانِیْ

    نکاح ثانی کے مسائل

    بیک وقت زیادہ سے زیادہ چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے۔
    چار بیویوں کی اجازت عدل کے ساتھ مشروط ہے ،عدل کرنا کسی وجہ سے ممکن نہ ہوتو پھر صرف ایک بیوی رکھنے کا حکم ہے۔

    { فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنٰی اَلاَّ تَعُوْلُوْا} (3:4)
    کنواری عورت کے ساتھ دوسرا نکاح کیا ہو تو اس کے ساتھ مسلسل سات دن رات رہنے کی اجازت ہے اس کے بعد دونوں کی مساوی باری مقرر کرنی چاہئے۔
    بیوہ عورت سے دوسرا نکاح کیا ہو تو اس کے پاس مسلسل تین دن رات رہنے کی اجازت ہے اس کے بعد دونوں کی مساوی باری مقرر کرنی چاہئے۔

    عَنْ اَنَسٍ ص قَالَ : مِنَ السُّنَّۃِ اِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِکْرَ عَلَی الثَّیِّبِ اَقَامَ عِنْدَہَا سَبْعًا وَ قَسَمَ وَ اِذَا تَزَوَّجَ الثَّیِّبَ عَلَی الْبِکْرِ اَقَامَ عِنْدَہَا ثَلاَ ثًا ثُمَّ قَسَمَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    اپنی سوکن کو جلانے کے لئے کوئی ایسی بات کہنا جو خلاف حقیقت ہو جائز نہیں۔
    عَنْ اَسْمَائَ (بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ ) رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ امْرَأَۃً قَالَتْ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا اِنَّ لِیْ ضَرَّۃً فَہَلْ عَلَیَّ جُنَاحٌ اَنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِیْ غَیْرَ الَّذِیْ یُعْطِیْنِیْ ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((أَلْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ یُعْطِ کَلاَ بِسِ ثَوْبِیْ زُوْرٍ)) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    اگر ایک بیوی باہمی افہام و تفہیم کی خاطر از خود اپنا کوئی حق شوہر کو معاف کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ سَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَہَبَتْ یَوْمَہَا لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَ کَانَ النَّبِیُّ ا یُقْسِمُ لِعَائِشَۃَ بِیَوْمِہَا وَ یَوْمِ سَوْدَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    مساویانہ حقوق والے معاملہ میں کسی ایک بیوی کے حق میں فیصلہ کرنا مشکل ہو تو تمام بیویوں کی رضامندی سے بذریعہ قرعہ فیصلہ کرنا چاہئے۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِیَّ ا کَانَ اِذَا اَرَادَ سَفْرًا اَقْرَعَ بَیْنَ نِسَائِہٖ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    کسی ایک بیوی کے ساتھ زیادہ محبت ہونا قابل مذمت نہیں جب تک تمام بیویوں کے باقی حقوق (مثلًا رہناسہنا ،کھانا، پہنانا، خرچ دینا ، مقررہ باری پر قیام کرنا وغیرہ )مساویانہ طریقے سے ادا ہوتے رہیں۔
    عَنْ عُمَرَص دَخَلَ عَلٰی حَفْصَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَقَالَ : یَا بُنَیَّۃُ ! لاَ یَغُرَّنَّکِ ہٰذِہِ الَّتِیْ اَعْجَبَہَا حُسْنُہَا وَ حُبُّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ا اِیَّاہَا ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (اپنی بیٹی اور ام المومنین )حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا ’’اے میری بیٹی!اس خاتون (یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے بارے میں بھول میں نہ رہنا جسے اپنے حسن و جمال اور رسول اکرم ﷺ کی محبت پر فخر ہے۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔
    نکاح ثانی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت لینا سنت سے ثابت نہیں۔
     
  8. ‏مارچ 18، 2012 #58
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ​

    تمہارے لئے اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے

    رسول اکرم ﷺ اور ازواج مطہرات کے باہمی پیار و محبت کا ایک دلچسپ واقعہ۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِیَّ ا کَانَ اِذَا خَرَجَ اَقْرَعَ بَیْنَ نِسَائِہٖ فَطَارَتِ الْقُرْعَۃُ لِعَائِشَۃَ وَ حَفْصَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَ کَانَ النَّبِیُّ ا اِذَا کَانَ بِاللَّیْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا یَتَحَدَّثُ ، فَقَالَتْ حَفْصَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا : اَلاَ تَرْکَبِیْنَ اللَّّیْلَۃَ بَعِیْرِیْ وَ اَرْکَبُ بَعِیْرَکِ تَنْظُرِیْنَ وَ اَنْظُرُ ، فَقَالَتْ : بَلٰی ، فَرَکِبَتْ ، فَجَائَ النَّبِیُّ ا اِلٰی جَمَلِ عَائِشَۃَ وَ عَلَیْہِ حَفْصَۃُ ، فَسَلَّمَ عَلَیْہَا ثُمَّ سَارَ حَتّٰی نَزَلُوْا وَ افْتَقَدَتْہُ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، فَلَمَّا نَزَلُوْا جَعَلَتْ رِجْلَیْہَا بَیْنَ الْإِذْخِرِ وَ تَقُوْلُ : یَا رَبِّ ! سَلِّطْ عَلَیَّ عَقْرَبًا اَوْ حَیَّۃً تَلْدَغُنِیْ ، وَ لاَ اَسْتَطِیْعُ اَنْ اَقُوْلَ لَہٗ شَیْئًا ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    میاں بیوی کے راز کی بات۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ((اِنِّیْ لَاَعْلَمُ اِذَا کُنْتِ عَنِّیْ رَاضِیَۃً ، وَ اِذَا کُنْتِ عَلَیَّ غَاضِبَۃً )) قَالَتْ : فَقُلْتُ : مِنْ اَیْنَ تَعْرِفُ ذٰلِکَ ؟ فَقَالَ ((اَمَّا اِذَا کُنْتِ عَنِّیْ رَاضِیَۃً فَاِنَّکَ تَقُوْلِیْنَ لاَ وَ رَبِّ مُحَمَّدٍ ا ، وَاِذَا کُنْتِ عَلَیَّ غَاضِبَۃً قُلْتِ لاَ وَ رَبِّ اِبْرَاہِیْمَ )) قَالَتْ : قُلْتُ : اَجَلْ وَاللّٰہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا مَا أَہْجُرُ اِلاَّ اسْمَکَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    اظہار محبت کا ایک انوکھاانداز ۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : رَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا مِنَ الْبَقِیْعِ فَوَجَدَنِیْ وَ اَنَا اَجِدُ صُدَاعًا فِیْ رَأْسِیْ وَ اَنَا اَقُوْلُ : وَ رَأْسَاہُ ، فَقَالَ (( بَلْ اَنَا ، یَا عَائِشَۃُ ! وَرَأْسَاہُ ، ثُمَّ قَالَ : مَا ضَرَّکِ لَوْ مِتِّ قَبْلِیْ فَقُمْتُ عَلَیْکِ فَغَسَّلْتُکِ وَ کَفَّنْتُکِ وَ صَلَّیْتُ عَلَیْکِ وَدَفَّنْتُکِ)) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (حسن)
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : کُنْتُ اَشْرَبُ وَ اَنَا حَائِضٌ ثُمَّ اُنَاوِلُہُ النَّبِیَّ ا فَیَضَعُ فَاہُ عَلٰی مَوْضِعِ فِیَّ فَیَشْرَبُ وَ اَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَ اَنَا حَائِضٌ ثُمَّ اُنَاوِلُہُ النَّبِیَّ ا فَیَضَعُ فَاہُ عَلٰی مَوْضِعِ فِیَّ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    کاشانہ نبوی ﷺ میں سوکناپے کی نازبرداری۔
    عَنْ اَنَسٍ ص قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ ا عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِہٖ فَاَرْسَلَتْ اِحْدَی اُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِصَفْحَۃٍ فِیْہَا طَعَامٌ ، فَضَرَبَتِ الَّتِیْ النَّبِیُّ ا فِیْ بَیْتِہَا یَدَ الْخَادِمِ فَسَقِطَتِ الصَّفْحَۃُ فَانْفَلَقَتْ ، فَجَمَعَ النَّبِیُّ ا فِلَقَ الصَّفْحَۃِ ثُمَّ جَعَلَ یَجْمَعُ فِیْہَا الطَّعَامَ الَّذِیْ کَانَ فِی الصَّفْحَۃِ وَ یَقُوْلُ : غَارَتْ اُمُّکُمْ ثُمَّ حَبَسَ الْخَادِمَ حَتّٰی أَتٰی بِصَفْحَۃٍ مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ ا ہُوَ فِیْ بَیْتِہَا ، فَدَفَعَ الصَّفْحَۃَ الصَّحِیْحَۃَ اِلَی الَّتِیْ کُسِرَتْ صَفْحَتُہَا وَ اَمْسَکَ الْمَکْسُوْرَۃَ فِیْ بَیْتِ الَّتِیْ کُسِرَتْ فِیْہِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    وضاحت : رسول اکرم ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن انہیں کے ہاں مقیم تھے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ابھی کھانا پکار رہی تھیں کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا یا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کھانا پکا کر بھجوا دیا جو حضرت عائشہ کو ناگوار گزرا۔
    عَنْ اَنَسٍص قَالَ : بَلَغَ صَفِیَّۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ حَفْصَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، قَالَتْ : اِنَّہَا بِنْتُ یَہُوْدِیٍّ فَبَکَتْ فَدَخَلَ عَلَیْہَا النَّبِیُّ ا وَ ہِیَ تَبْکِیْ فَقَالَ ((مَا یُبْکِیْکِ ؟)) قَالَتْ: قَالَتْ لِیْ حَفْصَۃُ اِنِّیْ اِبْنَۃُ یَہُوْدِیٍّ ، فَقَالَ النَّبِیُّ ا (( اِنَّکِ لَاِبْنَۃُ نَبِیٍّ وَ اِنَّ عَمَّکِ لَنَبِیٌّ وَ اِنَّکِ لَتَحْتَ نَبِیٍّ فَفِیْمَ تَفْخَرُ عَلَیْکِ ؟ ثُمَّ قَالَ : اِتَّقِی اللّٰہَ یَا حَفْصَۃُ )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    وضاحت : یاد رہے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا یہودی سردار حیی بن اخطب کی صاحبزادی تھیں۔
    ازواج مطہرات رضی اللہ عنہھم کی نازک مزاجی کا لحاظ۔
    عَنْ اَنَسٍ ص اَنَّ النَّبِیَّ ا اَتٰی عَلٰی اَزْوَاجِہٖ وَ سَوَّاقٌ یَّسُوْقُ بِہِنَّ یُقَالُ لَہٗ اَنْجِشَۃُ ، فَقَالَ (( وَیْحَکَ یَا اَنْجِشَۃُ ! رُوَیْدًا سُوْقَکَ بِالْقَوَارِیْرِ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    رضی اللہ عنہھم رضی اللہ عنہھم رضی اللہ عنہھم
     
  9. ‏مارچ 18، 2012 #59
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اَلْمُحْرَّمَاتُ ​

    حرام رشتے

    حرام رشتے دو طرح کے ہیں(ا)مستقل حرام رشتے(ب)عارضی حرام رشتے ۔
    (ا) اَلْمُحَرَّمَاتُ الدَّائِمَۃُ
    (ا)مستقل حرام رشتے

    مستقل حرام رشتوں کے اسباب تین ہیں
    1نسب(خونی تعلق) 2 مصاہرت (سسرالی تعلق)3رضاعت (دودھ پلانا)
    نسبی (خونی تعلق کے باعث )حرام ہونے والے رشتے سات ہیں ، مصاہرت (شادی کے باعث )حرام ہونے والے رشتے بھی سات ہیں۔
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا حُرِّمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ وَ مِنَ الصَّہْرِ سَبْعٌ ثُمَّ قَرَئَ {حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّہَاتُکُمْ … (اَ لْاٰیَۃُ )} رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    ماں(بشمول دادی و نانی سگی ہویاسوتیلی)بیٹی(بشمول پوتی و نواسی) بہن (سگی ہویاسوتیلی)پھوپھی(سگی ہویاسوتیلی)خالہ(سگی ہویا سوتیلی) بھتیجی (سگی ہویاسوتیلی)بھانجی (سگی ہو یا سوتیلی) سے نکاح کرنا حرام ہے۔
    باپ ،دادا اور نانا کی منکوحہ ،بیوی کی ماں ،دادی اور نانی ،مدخولہ بیوی کی پہلے شوہر سے بیٹیوں ،حقیقی بیٹے ،پوتے اور نواسے کی بیوی سے نکاح حرام ہے۔
    دودھ پلانے والی عورت (رضاعی ماں )اور اس کی بیٹی (رضاعی بہن (بشمول رضاعی بہن کی بیٹی )سے نکاح حرام ہے۔

    { حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّہٰتُکُمْ وَ بَنٰتُکُمْ وَ اَخَوَاتُکُمْ وَ عَمّٰتُکُمْ وَ خٰلٰتُکُمْ وَ بَنٰتُ الْأَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّہٰتُکُمُ الَّتِیْ اَرْضَعْنَکُمْ وَ اَخَوَاتُکُمْ مِنَ الرَّضَاعَۃِ وَاُمَّہٰتُ نِسَائِکُمْ وَ رَبَائِبُکُمُ الَّتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِنْ نِّسَائِکُمُ الَّتِیْ دَخَلْتُمْ بِہِنَّ ز فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ وَ حَلاَ ئِلُ اَبْنَآئِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلاَبِکُمْ لا وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا، } (23:4)
    دودھ پلانے سے ویسے ہی حرام رشتے قائم ہو جاتے ہیں جیسے ولادت سے قائم ہوتے ہیں لہٰذا جو رشتے ولادت کے بعد حرام ہیں وہی رشتے رضاعت کے بعد بھی حرام ہیں۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَۃِ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    وضاحت : مذکورہ حدیث شریف کی روشنی میں درج ذیل رشتے حرام ہیں1رضاعی ماں2رضاعی بیٹی3رضاعی بہن4رضاعی پھوپھی5رضاعی خالہ6رضاعی بھتیجی7رضاعی بھانجی۔
    کم از کم پانچ مرتبہ پستان چوسنے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے،اس سے کم ہوتو رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّہَا قَالَتْ : نَزَلَ فِی الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضْعَاتٍ مَعْلُوْمَاتٍ ثُمَّ نَزَلَ اَیْضًا خَمْسٌ مَعْلُوْمَاتٌ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ ((لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّۃُ وَلاَ الْمَصَّتَانِ )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
    وضاحت : یادرہے کہ بچہ کا پستان منہ میں لیکر چوسنااور پستان سے منہ ہٹا کر وقفہ کرنا ایک مرتبہ شمار ہوتاہے اس طرح وقفے وقفے سے پانچ مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوگی،ایک یا دو مرتبہ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
    دو سال کی عمر تک دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے اس کے بعد نہیں۔
    عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((لاَ یُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ اِلاَّ مَا فَتَقَ الْأَمْعَائَ فِی الثَّدْیِ وَ کَانَ قَبْلَ الْفِطَامِ )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
    وضاحت : رضاعت سے صرف دودھ پینے والے آدمی پر نکاح حرام ہوتا ہے دودھ پینے والے کا بھائی دودھ پلانے والی یا اس کی ماں یا اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے ۔اسی طرح دودھ پینے والے کی بہن دودھ پلانے والی عورت کے خاوند یا اس کے باپ یا اس کے بیٹے سے نکاح کر سکتی ہے۔
    (ب) اَلْمُحَرَّمَاتُ الْمُؤَقَّتَۃُ
    (ب)عارضی حرام رشتے

    بیوی کی حقیقی(یا سوتیلی)بہن کو ایک نکاح میں جمع کرنا منع ہے۔
    عَنِ الضَّحَاکِ بْنِ فَیْرُوْزَ الدَّیْلَمِیِّ رَحِمَہُ اللّٰہُ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ اَتَیْتُ النَّبِیَّ ا فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا اِنِّیْ أَسْلَمْتُ وَ تَحْتِیْ اُخْتَانِ ، قَالَ : رَسُوْلُ اللّٰہِ ا لِیْ (( طَلِّقْ اَیَّتُہُمَا شِئْتَ )) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ وَابْنُ مَاجَۃَ (حسن)
    وضاحت : بہن کی وفات یا طلاق کے بعد دوسری بہن سے نکاح کرنا جائز ہے۔
    بیوی اور اس کی پھوپھی یا خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔
    عَنْ جَابِرٍ ص قَالَ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اَنْ تُنْکِحَ الْمَرْأَۃُ عَلٰی عَمَّتِہَا اَوْ خَالَتِہَا)) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    وضاحت : بھتیجی یا بھانجی کی وفات یا طلاق کے بعد اس کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کرنا جائز ہے۔
    منکوحہ عورت سے نکاح کرنا حرام ہے۔
    عدت کے دوران مطلقہ یا بیوہ سے نکاح کرنا حرام ہے۔
    2عدت گزر جانے کے بعدمطلقہ یا بیوہ سے نکاح جائز ہے۔
    تین طلاقیں جدا جدا مجلسوں میں دینے کے بعد اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع اور دوبارہ نکاح کرنا حرام ہے۔
    پاکدامن مرد یا عورت کا زانیہ عورت یا زانی مرد سے نکاح حرام ہے۔
    مومن مرد یا عورت کا مشرک عورت یا مرد سے نکاح کرنا حرام ہے۔
    منہ بولے بیٹے سے دائمی یا عارضی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
     
  10. ‏مارچ 18، 2012 #60
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حُقُوْقُ الْمَوَالِیْدِ​

    نومولود کے حقوق

    لڑکے کی پیدائش پر غیر فطری خوشی اور بچی کی پیدائش پر رنج کا اظہار کرنا درست نہیں۔
    عَنْ صَعْصَۃَ عَمِّ الْاَحْنَفِ رَحِمَہُ اللّٰہُ قَالَ : دَخَلَتْ عَلٰی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اِمْرَأَۃٌ مَعَہَا اِبْنَتَانِ لَہَا فَأَعْطَتْہَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَأَعْطَتْ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا تَمْرَۃً ، ثُمَّ صَدَعَتِ الْبَاقِیَۃَ بَیْنَہُمَا قَالَتْ : فَأَتَی النَّبِیُّا فَحَدَّثْتُہٗ ، فَقَالَ (( مَا عَجَبَکِ ؟ لَقَدْ دَخَلَتْ بِہِ الْجَنَّۃَ )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
    عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ص قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا یَقُوْلُ ((مَنْ کَانَ لَہٗ ثَلاَثُ بَنَاتٍ فَصَبَرَ عَلَیْہِنَّ وَ سَقَاہُنَّ وَ کَسَاہُنَّ مِنْ جِدَّتِہٖ کُنَّ لَہٗ حِجَابًا مِنَ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
    عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((مَنْ عَالَ جَارِیَتَیْنِ حَتّٰی تَبْلُغَا جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَنَا وَ ہُوَ وَ ضَمَّ اَصَابِعَہٗ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    پیدائش کے بعد بچہ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنی چاہئے۔
    عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ ص قَالَ : رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا اَذَّنَ فِیْ اُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا حِیْنَ وَلَدَتْہُ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا بِالصَّلاَۃِ ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (حسن)
    پیدائش کے ساتویں دن بچہ کے نام کا اعلان کرنا چاہئے،اس کے سر کے بال منڈوانے چاہئیں اور اس کا عقیقہ کرنا چاہئے۔
    عَنْ سَمُرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا (( أَلْغُلاَمُ مُرْتَہَنٌ بِعَقِیْقَتِہٖ یُذْبَحُ عَنْہُ یَوْمَ السَّابِعِ وَ یُسَمّٰی وَ یُحْلَقُ رَأْسُہٗ )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    لڑکے کے عقیقہ میں دوجانور(بھیڑ یابکری) لڑکی کے عقیقہ میں ایک جانور ذبح کرنا چاہئے۔
    عَنْ اُمِّ کَرْزٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّہَا سَأَلَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا عَنِ الْعَقِیْقَۃِ فَقَالَ ((عَنِ الْغُلاَمِ شَاتَانِ وَ عَنِ الْجَارِیَۃِ وَاحِدَۃٌ لاَ یَضُرُّکُمْ ذُکْرَانًا اَمْ اِنَاثًا ))رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    عقیقہ ساتویں ،چودھویں یا اکیسویں دن کرنا مسنون ہے۔
    عَنْ بُرَیْدَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اَلْعَقِیْقَۃُ لِسَبْعٍ اَوْ لِاَرْبَعٍ عَشْرَۃَ اَوْ لِاَحْدٰی وَ عِشْرِیْنَ )) رَوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ (صحیح)
    وضاحت : اگر کسی وجہ سے ساتویں ،چوہودیں یا اکیسویں روز عقیقہ نہ کیا جا سکا ہو تو پھر عمر بھر میں کسی وقت بھی کیا جا سکتا ہے۔واللہ اعلم بالصواب!
    پیدائش کے بعد کسی نیک آدمی سے کوئی میٹھی چیز چبوا کر بچہ کے منہ میں ڈالنی چاہئے۔
    عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ص قَالَ : وُلِدَ لِیْ غُلاَمٌ فَأَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ ا فَسَمَّاہُ اِبْرَاہِیْمَ فَحَنَّکَہٗ بِتَمْرَۃٍ وَ دَعَا لَہٗ بِالْبَرَکَۃِ وَ دَفَعُہٗ اِلَیَّ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    پیدائش کے بعد لڑکے کا ختنہ کرنا بھی مسنون ہے۔
    عَنْ اَبِیُ ہُرَیْرَۃَص عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ ((خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَۃِ اَلْخِتَانُ وَالْاِسْتِحْدَادُ وَ نَتْفُ الْاِبِطِ وَ تَقْلِیْمُ الْاَظْفَارِ وَ قُصُّ الشَّوَارِبَ )) مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ
    عبداللہ اور عبدالرحمن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام ہیں۔
    عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اِنَّ اَحَبَّ اَسْمَائِکُمْ اِلَی اللّٰہِ عَبْدُاللّٰہِ وَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ)) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    برے نام بدل دینے چاہئیں۔
    عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اِنَّ ابْنَۃً لِعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَانَتْ یُقَالُ لَہٗ عَاصِیَۃُ فَسَمَّاہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ا جَمِیْلَۃً۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    اولاد کو دینی تعلیم دینا واجب ہے۔
    عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہا ((طَلَبُ الْعِلْمُ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا (( مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ اِلاَّ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ وَ اَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں