1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نکاح کے مسائل

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏جنوری 12، 2012۔

  1. ‏مارچ 18، 2012 #61
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ​

    والدین کے حقوق

    والدین کی رضا میں اللہ کی رضا ہے والدین کی ناراضی میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہے۔
    عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِا ((رِضَا الرَّبِّ فِیْ رِضَا الْوَالِدَیْنِ وَ سَخَطُہٗ فِیْ سَخَطِہِمَا )) رَوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ (صحیح)
    والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے۔
    عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((اَلاَ اُحَدِّثُکُمْ بِاَکْبَرِ الْکَبَائِرِ ؟)) قَالُوْا : بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! قَالَ ((اَلْإِشْرَاکُ بِاللّٰہِ وَ عُقُوْقُ الْوَالِدَیْنَ )) قَالَ : وَ جَلَسَ وَ کَانَ مُتَّکِأً قَالَ ((وَ شَہَادَۃُ الزُّوْرِ اَوْ قَوْلُ الزُّوْرِ )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح)
    والدین کو ناراض کرنے والے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے تین دفعہ بددعا فرمائی۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص عَنِ النَّبِیِّ ا ((رَغِمَ اَنْفٌ ثُمَّ رَغِمَ اَنْفٌ ثُمَّ رَغِمَ اَنْفٌ مَنْ اَدْرَکَ اَبَوَیْہِ عِنْدَ الْکِبَرِ اَحَدَہُمَا اَوْ کَلَیْہِمَا فَلَمْ یَدْخُلِ الْجَنَّۃَ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    والد جنت کا بہترین دروازہ ہے جو چاہے اس کی حفاظت کرے جو چاہے اسے گرا دے۔
    عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِص قَالَ : اَنَّہٗ سَمِعَ النَّبِیَّا یَقُوْلُ (( اَلْوَالِدُ اَوْسَطُ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ فَأَضِعْ ذٰلِکَ الْبَابَ اَوْ اِحْفَظْہُ )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
    والد کے حکم پر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی محبوب بیوی کو طلاق دے دی۔
    عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَتْ تَحْتِیْ اِمْرَأَۃٌ اُحِبُّہَا وَ کَانَ اَبِیْ یَکْرَہُہَا فَأَمَرَنِیْ اَبِیْ اَنْ اُطَلِّقَہَا ، فَأَبِیْتُ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ا فَقَالَ ((یَا عَبْدَ اللّٰہِ ابْنَ عُمَرَ ! طَلِّقْ اِمْرَأَتَکَ )) قَالَ : فَطَلَّقْتُہَا ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ وَاَحْمَدُ (حسن)
    جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔
    عَنْ جَاہِمَۃَ ص اَنَّہٗ جَائَ عَلَی النَّبِیِّ ا فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا ! اَرَدْتُّ اَنْ اَغْزُوَ وَ قَدْ جِئْتُ اَسْتَشِیْرُکَ ۔ فَقَالَ ((ہَلْ لَکَ مِنْ اُمٍّ ؟)) قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ ((فَالْزَمْہَا ، فَاِنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ رِجْلَیْہَا )) رَوَاہُ النِّسَائِیُّ (صحیح)
    باپ کے مقابلے میں ماں کا درجہ تین گنا زیادہ ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَص قَالَ : جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِا فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا مَنْ اَحَقُّ صَحَابَتِیْ ؟ قَالَ ((اُمُّکَ)) قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ ((اُمُّکَ)) قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ ((اُمُّکَ)) قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ ((اَبُوْکَ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 18، 2012 #62
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مَسَائِلٌ مُتَفَرَّقَۃٌ​

    متفرق مسائل

    عمل قوم لوط کرنے یا کروانے والے دونوں کو قتل کرنے یا سنگسار کرنے کا حکم ہے۔
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ ((مَنْ وَجَدْتُمُوْہُ یَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوْطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُوْلُ بِہٖ )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح)
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص عَنِ النَّبِیِّ ا فِی الَّذِیْ یَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوْطٍ قَالَ ((ارْجُمُوا الْأَعْلٰی وَالْأَسْفَلَ ارْجُمُوْہُمَا جَمِیْعًا )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (حسن)
    میاں بیوی کا باہمی تعلق (نکاح)موت سے ختم نہیں ہوتا۔
    نیک مرد اور نیک عورت جنت میں بھی ایک دوسرے کے میاں بیوی ہوں گے۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ ((اَمَا تَرْضَیْنَ اَنْ تَکُوْنِیْ زَوْجَتِیْ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ؟)) قُلْتُ : بَلٰی ! قَالَ : ((فَأَنْتِ زَوْجَتِیْ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ )) رَوَاہُ الْحَاکِمُ (صحیح)
    زانی اور زانیہ کے ہاں پیدا ہونے والی اولاد ماں باپ کے گناہ سے بری الذمہ ہے۔
    عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ ((لَیْسَ عَلٰی وَلَدِ الزِّنَا مِنْ وِزْرِ اَبَوَیْہِ شَیْئٌ )) رَوَاہُ الْحَاکِمُ (حسن)
    بیوی کو والدین کی ملاقات یا خدمت سے روکنا منع ہے۔
    عَنْ اَسْمَائَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : قَدِمَتْ اُمِّیْ وَ ہِیَ مُشْرِکَۃٌ فِیْ عَہْدِ قُرَیْشٍ وَ مُدَّتِہِمْ اِذَا عَاہَدُوْا النَّبِیَّ ا مَعَ اَبِیْہَا فَاسْتَفْتَیْتُ النَّبِیَّ ا فَقُلْتُ : اِنَّ اُمِّیْ قَدِمَتْ وَ ہِیَ رَاغِبَۃٌ ، قَالَ ((نَعَمْ صِلِیْ اُمَّکِ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    جانتے بوجھتے اپنی ولدیت حقیقی باپ کی بجائے کسی دوسرے کی طرف منسوب کرنے والے پر جنت حرام ہے۔
    عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ص قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا یَقُوْلُ ((مَنِ ادَّعٰی اِلٰی غَیْرِ اَبِیْہِ وَ ہُوَ یَعْلَمُ اَنَّہٗ غَیْرُ اَبِیْہِ فَالْجَنَّۃُ عَلَیْہِ حَرَامٌ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
    حسب نسب پر فخر کرنا یا طعن کرنا دونوں منع ہیں۔
    عَنْ سَلَمَانَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ((ثَلاَ ثَۃٌ مِنَ الْجَاہِلِیَّۃِ أَلْفَخْرُ بِالْأَحْسَابِ وَ الطَّعْنُ فِی الْأَنْسَابِ وَالنِّیَاحَۃُ )) رَوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ (صحیح)
    اپنی بیوی،بیٹی،بہن یا بہو وغیرہ کو کسی غیر محرم کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھ کر قتل کرنا منع ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا لَوْ وَجَدْتُ مَعَ اَہْلِیْ رَجُلاً لَمْ اَمَسَّہٗ حَتّٰی اٰتِیَ بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((نَعَمْ )) قَالَ : کَلاَّ وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ اِنْ کُنْتُ لَاُعَاجِلُہٗ بِالسَّیْفِ قَبْلَ ذٰلِکَ ۔ قَالَ : رَسُوْلُ اللّٰہِ ا (( اِسْمَعُوْا اِلٰی مَا یَقُوْلُ سَیِّدُکُمْ اِنَّہٗ لَغَیُوْرٌ وَ اَنَا اَغْیَرُ مِنْہُ وَ اللّٰہُ اَغْیَرُ مِنِّیْ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    بیوی کے کردار پر بلا وجہ شک کرنا منع ہے۔
    عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ص اَنَّ اَعْرَابِیًّا اَتَی رَسُوْلُ اللّٰہِ ا فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا ! اِنَّ امْرَأَتِیْ وَلَدَتْ غُلاَمًا اَسْوَدَ وَ اِنِّیْ اَنْکَرْتُہٗ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ا ((ہَلْ لَکَ مِنَ الْإِبِلِ ؟)) قَالَ : نَعَمْ ! قَالَ ((مَا لَوْنُہَا ؟)) قَالَ : حُمُرٌ، قَالَ ((فَہَلْ فِیْہَا مِنْ اَوْرَقَ ؟)) قَالَ : نَعَمْ ! قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((فَاَنّٰی ہُوَ؟)) قَالَ : لَعَلَّہٗ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ یَکُوْنُ نَزَعَہٗ عِرْقٌ لَہٗ ، قَالَ لَہُ النَّبِیُّ ا ((وَہٰذِہٖ لَعَلَّہٗ اَنْ یَکُوْنُ نَزَعَہٗ عِرْقٌ لَہٗ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    زنا کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا بچہ باپ کی وارثت نہیں پاتا نہ باپ بچے کی وراثت پاتا ہے۔
    عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا((مَنْ عَاہَرَ اَمَۃً اَوْ حُرَّۃً فَوَلَدُہٗ وَلَدُ زِنًا لاَ یَرِثُ وَ لاَ یُوْرَثُ )) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ وَابْنُ مَاجَۃَ (حسن)
    کنوارے زانی اور زانیہ کی سزا سو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے جب کہ شادی شدہ زانی اور زانیہ کی سزا سو کوڑے اور پتھروں سے سنگسار کرنا ہے۔
    عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا ((خُذُوْا عَنِّیْ خُذُوْا عَنِّیْ فَقَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً اَلْبِکْرُ بِالْبِکْرِ جِلْدُ مِائَۃٍ وَ نَفْیُ سَنَۃٍ وَالثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ جِلْدُ مِائَۃٍ وَالرَّجْمُ)) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
    وضاحت : 1سورہ نساء میں اللہ تعالیٰ نے زانیہ کی سزا یہ مقرر فرمائی تھی کہ اسے موت تک گھر میں قید کر دیا جائے اور ساتھ ارشاد فرمایا تھا کہ اس حکم پر اس وقت تک عمل کرو جب تک اللہ ان کے لئے کوئی دوسری راہ نہیں نکالتا (سورہ نساء آیت نمبر15)حدیث شریف میں اللہ تعالیٰ کے اسی ارشاد مبارک کی طرف اشارہ ہے کہ اب اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے بارے میں یہ راہ نکالی ہے یعنی یہ حکم نازل فرمایاہے۔
    2شادی شدہ زانی اور زانیہ کی سزا کا انحصار عدالت پر ہے وہ چاہے تو دونوں سزائیں دے سکتی ہے کوڑے بھی اور سنگسار کرنا بھی چاہے تو صرف ایک ہی سزا کو کافی سمجھے یعنی سنگسار کرنا۔واللہ اعلم بالصواب!
    ختم شد​
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 13، 2013 #63
    ماریہ الیاس

    ماریہ الیاس مبتدی
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2013
    پیغامات:
    22
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    19

    جزاک الله خیرا
     
  4. ‏جنوری 28، 2014 #64
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جزاک الله خیرا

    ارسلان بھائی اللہ تعالیٰ آپ کو دینا اور آخرت میں اس کا بہترین بدل دیں - اور ھم سب کا خاتمہ ایمان پر کریں - آمین
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 28، 2014 #65
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,377
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    اس صفحہ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
    جزاک اللہ خیرا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 28، 2014 #66
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,377
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اور بعض صفحات پر عربی ٹیگ بھی لگادیں۔جزاک اللہ خیرا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 28، 2014 #67
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
    انکل! پہلے "عربی" ٹیگ کی طرح ایک اور ٹیگ "قرآن" بھی ہوتا تھا، بعد میں وہ ٹیگ ختم کر دیا گیا، جس کی وجہ سے عبارتوں پر عربی قرآن ٹیگ ختم ہو گیا، اس وجہ سے یہ عبارتیں بغیر ٹیگ کے نظر آ رہی ہیں۔

    میں درست کروں گا۔ ان شاءاللہ
     
  8. ‏جنوری 28، 2014 #68
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    جزاک اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں