1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نیکیوں کا دارومدار اختتام پر ہے! حوالہ درکار ہے؟

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از abu khuzaima, ‏جون 27، 2018۔

  1. ‏جون 27، 2018 #1
    abu khuzaima

    abu khuzaima رکن
    شمولیت:
    ‏جون 28، 2016
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    نیکیوں کا دارومدار اختتام پر ہے! کیا ایسی کوئی روایت کتب احادیث میں موجود ہے؟

    Sent from my SM-G920F using Tapatalk
     
  2. ‏جون 27، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    صحیحین (صحیح بخاری ،صحیح مسلم ) میں حدیث شریف ہے :
    عن سهل بن سعد الساعدي، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ نظر النبي صلى الله عليه وسلم إلى رجل يقاتل المشركين، ‏‏‏‏‏‏وكان من اعظم المسلمين غناء عنهم، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ من احب ان ينظر إلى رجل من اهل النار، ‏‏‏‏‏‏فلينظر إلى هذا، ‏‏‏‏‏‏فتبعه رجل فلم يزل على ذلك حتى جرح فاستعجل الموت، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ بذبابة سيفه فوضعه بين ثدييه فتحامل عليه حتى خرج من بين كتفيه، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ "إن العبد ليعمل فيما يرى الناس عمل اهل الجنة، ‏‏‏‏‏‏وإنه لمن اهل النار، ‏‏‏‏‏‏ويعمل فيما يرى الناس عمل اهل النار وهو من اهل الجنة، ‏‏‏‏‏‏وإنما الاعمال بخواتيمها".
    ترجمہ :
    سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو مشرکین سے جنگ میں مصروف تھا، یہ شخص مسلمانوں کے صاحب مال و دولت لوگوں میں سے تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ کسی جہنمی کو دیکھے تو وہ اس شخص کو دیکھے۔ اس پر ایک صحابی اس شخص کے پیچھے لگ گئے وہ شخص برابر لڑتا رہا اور آخر زخمی ہو گیا۔ پھر اس نے چاہا کہ جلدی مر جائے۔ پس اپنی تلوار ہی کی دھار اپنے سینے کے درمیان رکھ کر اس پر اپنے آپ کو ڈال دیا اور تلوار اس کے شانوں کو چیرتی ہوئی نکل گئی (اس طرح وہ خودکشی کر کے مر گیا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنم میں سے ہوتا ہے۔ ایک دوسرا بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جہنم کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور اعمال کا اعتبار تو خاتمہ پر موقوف ہے۔))
    (صحیح بخاری 6493 ) نیز دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند امام احمد22835 ،معجم کبیر طبرانی 5784 )
     
  3. ‏جون 27، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    صحیح ابن حبان میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث
    أخبرنا عبد الله بن صالح البخاري ببغداد قال حدثنا الحسن بن علي الحلواني قال حدثنا نعيم بن حماد قال حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم عن هشام بن عروة عن أبيه
    عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال " إنما الأعمال بالخواتيم"

    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتی ہیں کہ آپ نے فرمایا : اعمال کا دارو مدار تو خاتمہ پر موقوف ہے "
    (موارد الظمآن 1820 )
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں