1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

هل يحتج بتفرّد سليمان بن موسى الأشدق؟

'ثقہ رواۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از تبريز بن أبرار, ‏اکتوبر 25، 2016۔

  1. ‏اکتوبر 25، 2016 #1
    تبريز بن أبرار

    تبريز بن أبرار رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2016
    پیغامات:
    51
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    السلام عليكم و رحمت الله و بركاته
    أميد هے تمام علماء کرام اور احباب بخیر ہوگے!
    الله ہم سب پر اسکی رحمتے برکتے نازل کرے آمین

    سليمان بن موسى الدمشقى کو جمہور محدثین نے گوی ثقہ کرار دیا ہے پر امام بخاری رحمہ اللہ نے ان پر شدید جرح بھی کی ہے اور دیگر محدثین نے ان پر اضتراب جیسی جرح بھی کی ہے۔
    امام بخاري رحمه الله :
    سليمان بن موسى منكر الحديث انا لا أروي منه شيأ روى سليمان بن موسى أحاديث عامتها مناكير
    (علل الكبير للترمذي ص:257)

    وقال أَبُو حاتم 1: محله الصدق، وفي حديثه بعض الاضطراب، ولا أعلم أحدا من أصحاب مكحول افق

    أحمد بن شعيب النسائي : أحد الفقهاء ليس بالقوي في الحديث، ومرة: في حديثه شيء

    زكريا بن يحيى الساجي : عنده مناكير

    عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج : عنده مناكير وكان من أهل الفضل

    علي بن المديني : خولط قبل موته بيسير، ومرة: مطعون فيه

    محمد بن إسماعيل البخاري : عنده مناكير، ومرة: عنده أحاديث عجائب، ومرة: منكر الحديث

    دلايل يها سے ملاحظہ فرمائے:
    http://hadithportal.com/show.php?show=show_tragem&id=3631

    حافظ ابن حخر نے بھی انہے لین کہا ہے اور درجہ خامسہ مے شمار کیا ہے اور یے مشھور ہے کہ درجہ خامسہ مے حافظ جنہے درج کرے انسے احتجاج نہی کرتے:
    سليمان بن موسى الأموي مولاهم الدمشقي الأشدق صدوق فقيه في حديثه بعض لين وخولط قبل موته بقليل من الخامسة
    (تقریب)
     
  2. ‏اکتوبر 25، 2016 #2
    تبريز بن أبرار

    تبريز بن أبرار رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2016
    پیغامات:
    51
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    اصل سوال يہ ہے کہ کیا سلیمان بن موسی کے تفرد سے احتجاج کیا جا سکتا ہے؟

    براہے مہربانی اس مسالہ کی وضاحت کردے۔
    جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء
     
  3. ‏اکتوبر 25، 2016 #3
    تبريز بن أبرار

    تبريز بن أبرار رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2016
    پیغامات:
    51
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    اصل سوال يہ ہے کہ کیا سلیمان بن موسی کے تفرد سے احتجاج کیا جا سکتا ہے؟

    براہے مہربانی اس مسالہ کی وضاحت کردے۔
    جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء
     
  4. ‏اکتوبر 25، 2016 #4
    تبريز بن أبرار

    تبريز بن أبرار رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2016
    پیغامات:
    51
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    اصل سوال يہ ہے کہ کیا سلیمان بن موسی کے تفرد سے احتجاج کیا جا سکتا ہے؟

    براہے مہربانی اس مسالہ کی وضاحت کردے۔
    جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء
     
  5. ‏اکتوبر 28، 2016 #5
    تبريز بن أبرار

    تبريز بن أبرار رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2016
    پیغامات:
    51
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    محدث فورم کے علما کرام سے گزارش ہے کے اس مسالہ کی وضاحت کرے۔

    جزاک اللہ خیرا
     
  6. ‏اکتوبر 29، 2016 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم بھائی ۔ جیسا کہ آپ نے لکھا :
    (حافظ ابن حجر نے سلیمان بن موسیٰ کو درجہ خامسہ میں شمار کیا ہے ،اور لکھا ہے کہ :

    (صدوق فقيه في حديثه بعض لين وخولط قبل موته بقليل )
    کہ صدوق اور فقیہہ ہے ، اس میں کچھ کمزوری بھی پائی جاتی ہے ، زندگی کے آخری ایام میں اختلاط کا شکار بھی ہوئے ،
    اور حافظ صاحب کے درجہ خامسہ کے متعلق علامہ احمد شاکر مصری لکھتے ہیں :
    في الباعث الحثيث :
    ( والدرجات من بعد الصحابة :
    فما كان من الثانية والثالثة فحديثه صحيح من الدرجة الأولى ، وغالبه في الصحيحين .
    وما كان من الدرجة الرابعة فحديثه صحيح من الدرجة الثانية ، وهو الذي يحسنه الترمذي ويسكت عنه أبوداود .
    وما بعدها فمردود إلا إذا تعددت طرقه )

    یعنی (جرح و تعدیل کے لحاظ جو طبقات حافظ ابن حجر نے بیان کئے ان میں ) صحابہ کے بعد رواۃ کے دوسرے اور تیسرے درجہ کے رواۃ کی احادیث اول درجہ کی صحیح ہیں ، جن میں غالب صحیحین میں پائی جاتی ہیں ،
    اور چوتھے درجہ کے رواۃ کی احادیث صحت کے لحاظ سے درجہ دوم کی احادیث ہیں ، اور یہ وہی احادیث ہیں جنہیں امام ترمذی حسن کہتے ہیں ،اور ابوداود ان پر سکوت فرماتے ہیں ۔
    اور اس چوتھے درجہ کے رواۃ کے بعد کے درجات کے رواۃ کی روایات مردود ( ضعیف ) ہیں ، ہاں اگر ان کے طرق ایک سے زائد ہوں (تو دیکھا جائے گا ) انتہی

    مطلب یہ کہ علامہ احمد شاکر کے نزدیک حافظ ابن حجر کی درجہ خامسہ والی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اس درجہ کے رواۃ کی احادیث ضعیف ہیں
    البتہ ان کی روایت کے طرق زیادہ ہوں تو قابل قبول ہوسکتی ہے ، ورنہ نہیں ،

    اس لحاظ سے تو
    سلیمان بن موسی کے تفرد سے احتجاج نہیں کیا جا سکتا ہے ،
    لیکن یاد رہے کہ ابھی میں نے ترمذی اور ابوداود میں سلیمان بن موسی کی ایک حدیث دیکھی جسے امام ترمذی ، علامہ البانی اور شیخ زبیر علی زئی رحمہم اللہ تینوں نے حسن کہا ہے ،
    جس کا مطلب ہے کہ سلیمان کی احادیث کے متعلق حاذق عالم ہی مردود و مقبول کا فیصلہ کرے گا ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏نومبر 01، 2016
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 29، 2016 #7
    تبريز بن أبرار

    تبريز بن أبرار رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2016
    پیغامات:
    51
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    جزاك الله خيرا يا شيخ!
     
  8. ‏جولائی 26، 2017 #8
    احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی مبتدی
    جگہ:
    پونہ، مہاراشٹر
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2016
    پیغامات:
    97
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    سلیمان بن موسی پر امام نسائی رحمہ اللہ کی جرح میں کفایت اللہ صاحب کا تعاقب :

    امام نسائ رحمہ اللہ نے کہا:

    احد الفقہاء لیس بالقوی فی الحدیث (الضعفاء والمترکین لنسائی:ص 49)

    سلیمان بن موسی یہ فقہا میں سے ہیں اور حدیث میں قوی نہیں ہے ۔

    اگرچہ کہ 'لیس بالقوی' کا مطلب یہ نہیں کہ سلیمان بن موسی ضعیف ہے لیکن "لیس بالقوی" سے کامل درجہ کے قوت بھی باقی نہیں رہتی اسی طرح شیخ معلمی بھی کہتے ہیں۔

    وكلمة «ليس بالقوي» إنما تنفي الدرجة الكاملة من القوة،
    ''لیس بالقوی'' کے الفاظ سے کامل درجے کی قوت کی نفی ہوتی ہے۔(التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل 1/ 442)

    اسی طرح شیخ البانی بھی کہتے ہیں :
    وأما الآخر فهو قول أبي حاتم ليس بالقوي: فهذا لا يعني أنه ضعيف لأنه ليس بمعني ليس بقوي، فبين هذا وبين ما قال فرق ظاهر عند أهل العلم

    امام ابوحاتم کے قول ''لیس بالقوی'' کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ضعیف ہے کیونکہ یہ ''لیس بقوی'' کے معنی میں نہیں ہے ۔اور اہل علم کے نزدیک ان دونوں کے درمیان واضح فرق ہے۔(النصيحة بالتحذير من تخريب ابن عبد المنان لكتب الأئمة الرجيحة للشیخ الالبانی ص 183)

    اسی طرح مقبل الوادعي لیس بالقوی اور لیس بقوی پر شیخ سے سوال کرتے ہیں تو شیخ جواب دیتے ہیں
    "نعم، هناك فرق بين هذه العبارات، فهي تتفاوت، و(ليس بالقوي) أعلى، و(ليس بقويّ) أدنى... والظاهر أن كليهما يصلح في الشواهد والمتابعات، لكن (ليس بالقوي) أرفع..".
    جی ہاں یہاں ان دونوں عبارتوں میں فرق ہے دونوں کلمات مختلف ہیں اور لیس بالقوی اعلی ہے اور لیس بقوی کمتر ہے۔۔۔۔۔۔۔اور ظاہر ہے یقینا دونوں شواہد اور متابعات میں درست ہوتے ہیں ۔(المقترح في اجوب المصطلح ص 93)

    ان تمام اقوال سے معلوم ہوا کہ امام نسائ کا قول "لیس بالقوی" توثیق کا کلمہ تو نہیں ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ سلیمان بن موسی ،امام نسائی کے نزدیک ثقہ کا مرتبہ بھی نہیں رکھتے۔

    امام مزی التہذیب الکمال میں امام نسائی کا سلیمان بن موسی پر ایک مزید قول نقل کرتے ہیں
    وقال فی موضع آخر فی حديثه شىء (التهذيب الكمال في أسماء الرجال 12/97)
    اور دوسری جگہ فرمایا اس کی حدیث میں کچھ (خرابی) ہے۔

    اس پر کفایت اللہ صاحب تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امام مزی نے وہ دوسری جگہ کا حوالہ نہیں دیا تو عرض ہے کہ کفایت اللہ صاحب خود ان کی کتاب مسنون رکعات تراویح ص 23 میں عیسی بن جاریہ پر امام ابو داود کی جرح "منکر الحدیث" کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امام مزی نے ابو داود سے ہی نقل کیا کہ
    وقال فی موضع آخر ما اعرفه روى مناكير (التهذيب الكمال 22/589)

    دیکہیں جب اپنے مطلب کے راوی کا دفاع کرنا ہو تو ایسے اقوال معتبر ہوں گے لیکن جب کوئی بات اپنے خلاف جارہی ہو تو موصوف کہیں گے سند نہیں،دوسری کتاب کا حوالہ نہیں وغیرہ

    اسی طرح مسنون رکعات تراویح ص 72 پر امام مزی کی یزید بن خصیفہ پر نقل کردہ جرح لکھتے ہیں۔
    وَقَال أبو عُبَيد الآجري ، عَن أبي داود :قال أحمد : منكر الحديث[تهذيب الكمال للمزي: 32/ 173 ]۔
    سوالات آجری مطبوع ہے اور اس کے تین محققین سے تین نسخہ پرنٹیڈ ہے اور تینوں میں ابو داود رحمہ اللہ کا یزید بن خصیفہ پر یہ قول نہیں ملتا کہ امام احمد نے یزید بن خصیفہ کو منکر الحدیث کہا ہو۔

    یعنی کفایت اللہ صاحب کے پاس جب اپنے مطلب کی بات آتی ہے تو انہیں کوئی سند کی ضرورت نہیں کوئی دوسری کتاب کا حوالہ کی ضرورت نہیں ،فلاں محدث کی خود کی کتاب میں ہے یا نہیں اس کی بھی ضرورت نہیں اور جب اپنے خلاف بات جاتی ہے تو انہیں کتاب،سند وغیرہ سب درکار ہوتے ہیں۔

    یہ دوغلہ پن نہیں تو اور کیا ہے۔۔؟؟؟

    امام نسائی کے قول کے مطابق ان کی حدیث میں کچھ خرابی ہے تبھی تو امام نسائی کے نزدیک وہ قوی نہیں ہے جیسا کہ امام نسائی نے اپنی کتاب الضعفاء والمتروکین میں کہا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں