1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

والدین کے حقوق

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏نومبر 19، 2011۔

  1. ‏نومبر 19، 2011 #1
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    والدین کے حقوق

    اولاد پر والدین کو جو فضیلت حاصل ہے،وہ ایک معروف اور مسلم حقیقت ہے کیونکہ والدین ہی اولاد کے وجود میں آنے کا ذریعہ ہیں،لہذا ان کا اولاد پر بڑا حق ہے۔ان دونوں نے اسے بچپن میں پالا۔اسے ہر طرح کا آرام پہنچانے کے لیے خود تکلیفیں برداشت کیں۔اے انسان! تیری ماں نے تقریبا نو ماہ تک تجھے اپنے پیٹ میں اٹھائے رکھا اور اس کا خون تیری غذا کا باعث بنا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
    حَمَلَتْهُ أُمُّهُۥ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍۢ
    پھر اس کے بعد دو سال دودھ پلانے کا معاملہ ہے جس میں تھکن بھی ہوتی ہے ،کوفت اور صعوبت بھی۔اسی طرح باپ تیری زندگی اور بقا کے لیے تیرے بچپن ہی سے دوڑ دھوپ کرنے لگا۔حتی کہ تو کود اپنے بل پر کھڑا ہونے کے قابل ہو گیا اور وہ تجھے قابل عزت بنانے کے لیے کوشش کرتا رہا،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اولاد کو والدین سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے،ارشاد ربانی ہے:
    وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُۥ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍۢ وَفِصَٰلُهُۥ فِى عَامَيْنِ أَنِ ٱشْكُرْ لِى وَلِوَٰلِدَيْكَ إِلَىَّ ٱلْمَصِيرُ ﴿14﴾
    نیز فرمایا:
    وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ ٱلْكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّۢ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًۭا كَرِيمًۭا ﴿23﴾وَٱخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرًۭا ﴿24﴾
    والدین کا تم پر حق یہ ہے کہ ان سے نیکی کرو اور یہ اس طرح ہو گا کہ تم ہر لحاظ سے ان سے بہتر سلوک کرو۔ان کا حکم بجا لاؤ۔اگر اُن کے کسی حکم میں اللہ کی نافرمانی ہوتی ہو تو وہ حکم نہ مانو۔ان سے نرمی سے بات کرو اور خندہ پیشانی سے پیش آؤ۔ان کے مناسب حال ان کی خدمت کرو۔بڑھاپے،بیماری اور کمزوری کے وقت ان کو جھڑکو نہیں اور اس بات کو بوجھ بھی محسوس نہ کرو۔کیونکہ کچھ وقت بعد تم بھی ان کے مقام پر پہنچنے والے ہو۔تم بھی باپ بن جاؤ گے جیسا کہ یہ تمہارے والدین ہیں۔عنقریب تم بھی اولاد کے سامنے بوڑھے ہو جاؤ گے جس طرح یہ تمہارے سامنے بوڑھے ہوئے ہیں اور تم بھی اپنی اولاد سے نیکی کے محتاج ہو گے جیسا کہ آج یہ ہیں۔اگر آج تم ان سے نیکی کر رہے ہو تو تمہیں بہت بڑے اجر اور اولاد سے ایسے ہی سلوک کی خوشخبری ہو۔کیونکہ جس نے اپنے والدین سے نیکی کی اس کی اولاد اس سے نیکی کرے گی اور جس نے والدین کو ستایا اس کی اولاد ضرور اسے ستائے گی۔یہ مکافات عمل ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ۔اللہ تعالیٰ نے والدین کے حق کو بڑی اہمیت دی ہے۔اس لیے اس نے اپنے حق (عبادت) کے ساتھ والدین کے حق کا ذکر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا
    نیز فرمایا:
    أَنِ ٱشْكُرْ لِى وَلِوَٰلِدَيْكَ
    نبی کریم ﷺ نے والدین سے نیکی کرنے کے عمل کو جہاد فی سبیل اللہ پر مقدم رکھا ہے۔جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے،وہ کہتے ہیں ،میں نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول ! اللہ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے؟"
    آپ نے فرمایا:
    (الصلاة على وقتها). قال: ثم أي؟ قال: (ثم بر الوالدين). قال: ثم أي؟ قال: (الجهاد في سبيل الله) (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
    اس حدیث کو بخاری اور مسلم دونوں نے روایت کیا ہے اور والدین کے اس حق کی اہمیت پر دلیل ہے جسے اکثر لوگوں نے ضائع کر رکھا ہے وہ ان کو ستاتے اور قطع رحمی کرتے ہیں،پھر کچھ ایسے بھی ہیں جو انہیں حقیر سمجھتے ،ڈانٹتے اور ان پر آوازیں بلند کرتے ہیں۔ایسے لوگ عنقریب اس کی سزا پائیں گے۔
    اسلام میں بنیادی حقوق از شیخ محمد بن صالح العثیمین
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  2. ‏فروری 18، 2012 #2
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    جزاک الله خیرا ارسلان بھائی
    الله ہمیں عمل کی توفیق دے آمین
     
  3. ‏فروری 18، 2012 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    آمین
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ‏فروری 24، 2012 #4
    مفتی عبداللہ

    مفتی عبداللہ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 21، 2011
    پیغامات:
    516
    موصول شکریہ جات:
    2,176
    تمغے کے پوائنٹ:
    171

    رضی الرب فی رضی الوالدین وسخظ الرب فی سخط الوالدین
     
  5. ‏مارچ 11، 2012 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    السلام علیکم
    مفتی صاحب ترجمہ بتائیں اور حوالہ دیں.
     
  6. ‏اکتوبر 03، 2015 #6
    احمد ندیم

    احمد ندیم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 19، 2014
    پیغامات:
    91
    موصول شکریہ جات:
    47
    تمغے کے پوائنٹ:
    58

    والدین کو دیکھنا باعث ثواب،،،،،اس متعلق کوئی روایت یا تحقیق کیا ایسا ہی ہے؟؟؟
     
  7. ‏اکتوبر 03، 2015 #7
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    5,773
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    شیعہ اس کی دلیل یہ دیتے ہیں۔حوالہ لنک
    '' النظر الی وجہ الوالدین عبادۃ ''
    ماں باپ کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے یعنی باعث نجات اور سعادت ہے
    ''النظرالی الو الدین برأ فۃ ورحمۃ عبادۃ۔''۔
    ماں باپ کی طرف مہرو محبت کے ساتھ دیکھنا عبادت ہے
    '' نظرالولد الی والدیہ حبا لھما عبادۃ''۔
    ماں باپ سے مہر ومحبت کی نگاہ سے دیکھنا عبادت ہے
    ' قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نظرالولد الی والدیہ حبالھما عبادۃ''
    پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا فرزند کا ماں باپ کی طرف محبت بھری نگاہ سے دیکھنا عبادت ہے ۔
    'عن ابن عباس قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ما من ولد بار ینظر الی والد یہ نظر رحمۃ الا کا ن لہ بکل نظرۃ حجۃ مبرورۃ فقالو یا رسول اللّٰہ وان نظر فی کل یوم مائۃ قال نعم اللّٰہ واطیب ۔''۔
    ابن عباس نے کہا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کوئی بھی فرزند محبت کی نگاہ سے والدین کی طرف دیکھے تو ہر نظر کے بدلے حج مقبول کے برابر ثواب ہے اس وقت لوگوں نے کہا اے رسول خدا اگر ایک دن میں سودفعہ دیکھے پھر بھی حج کے برابر ہے ؟ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہا ں حج کے برابر ہے (کیو نکہ ) خدا ہر چیز سے بزرگ تر اور ہر عیب سے منزہ ہے ۔
    @احمد ندیم
    @محمد ارسلان
     
  8. ‏اکتوبر 04، 2015 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,361
    موصول شکریہ جات:
    2,184
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    والدین کی خدمت، ان سے حسن سلوک ،اور محبت کرنا اسلام میں بہت ضروری اور بڑا افضل کام ہے ۔
    جس پر قرآن و حدیث سے بے شمار دلائل موجود ہیں ۔
    اور سب کو معلوم ہے کہ محبت و احترام سے ان کو دیکھنا بھی ان سے محبت اور حسن سلوک میں شامل ہے ۔
    اور عمومی فضائل ۔ انکو محبت سے دیکھنے کو بھی شامل ہیں ۔

    لیکن خاص دیکھنے کی فضیلت میں کوئی صحیح ،ثابت حدیث موجود نہیں۔
    اور سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی روایت جسے بیہقی نے ’’ شعب الایمان ‘‘میں نقل کیا :
    (ما من ولد بار ينظر نظرة رحمة؛ إلا كان له بكل نظرة حجة مبرورة، قالوا: وإن نظر كل يوم مائة مرة؟ قال:
    نعم، الله أكبر وأطيب)

    جناب ابن عباس نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خدمت گذار بیٹا اپنے والدین پر رحمت وشفقت سے نظر ڈالتا ہے تو ہر نظر کے بدلے میں ایک حج مقبول کا ثواب ملتا ہے لوگوں نے عرض کیا کہ اگر وہ دن میں سومرتبہ ان پر نظر کرے آپ نے فرمایا کہ ہاں سومرتبہ بھی (ہر نظر پر ثواب ملتا رہے گا)۔اللہ بہت بڑا ہے،اور بہت پاک ہے۔
    علامہ الالبانی رحمہ اللہ نے ’’ سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة ‘‘ میں اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔

    موضوع.
    أخرجه البيهقي في "الشعب " (1/186/7858) : أخبرنا أبو عبد الله
    الحافظ في "التاريخ": أنا محمد بن حامد: ثني مكي بن إبراهيم: نا الحسن بن
    هارون: نا منصور بن جعفر: نا نهشل بن سعيد عن الضحاك عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ
    مرفوعاً. وقال:

    ’’ سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة ‘‘ ج۱۳ ، ص۵۹۰
     
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏اکتوبر 04، 2015 #9
    احمد ندیم

    احمد ندیم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 19، 2014
    پیغامات:
    91
    موصول شکریہ جات:
    47
    تمغے کے پوائنٹ:
    58

  10. ‏اگست 27، 2017 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,013
    موصول شکریہ جات:
    8,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    علما کے ایک گروپ میں اس حدیث کے متعلق پوچھا گیا ، اسحاق سلفی صاحب کی یہ تحریر ارسال کی ۔ فجزاہ اللہ خیرا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں