1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وتر رہ جائے تو ؟؟؟

'ترک نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از ام عبدالرحمٰن, ‏اگست 17، 2014۔

  1. ‏اگست 17، 2014 #1
    ام عبدالرحمٰن

    ام عبدالرحمٰن رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 10، 2013
    پیغامات:
    365
    موصول شکریہ جات:
    314
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    السلام علیکم ۔۔۔
    وتر نماز کے بارے میں مدد چاہیے ۔۔۔ اگر رات کو ہم وتر بغیر پڑھے سو جائیں تو اس کے لیے کیا احکام ہیں ۔۔۔ یا کبھی ایسا ہوتا ہے آپ وتر اس لیے عشآء ساتھ نہ پڑھیں کہ آپ کا ارادہ ہو رات کو اٹھ کہ تحجد پڑھنے کا لیکن ایسا ہو جائے کہ آپ کی آنکھ ہی فجر پر کھلے تو کیا کریں۔۔۔۔
    رہنمائی فرمائیں ۔۔۔ جزاک اللہ ۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 17، 2014 #2
    محمد بن محمد

    محمد بن محمد مشہور رکن
    جگہ:
    كراتشى
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    223
    تمغے کے پوائنٹ:
    114

    و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    میرے ناقص علم کے مطابق حکم یہ ہے کہ اگر تو کسی کا تھجد کے وقت اٹھنے کا معمول ہو اور اسے قوی امید ہو کہ وہ اٹھ جائے گا تو اسے رات کو وتر پڑھے بغیر سونا چاہئے اور صبح اٹھ کر نماز تھجد پڑھ کر وتر پڑھنے چاہئیں اور اگر ایسا معمول نہ ہو تو پھر اسے رات کو وتر پڑھ کر سونا چاہئے۔
    اب اگر معمول کے مطابق وتر چھوڑے تھے لیکن خلاف معمول صبح بیدار نہ ہو سکے تو پھر طلوع آفتاب کے تقریبا پندرہ منٹ بعد معمول کے مطابق تھجد کے وقت پڑھی جانے والی نماز پڑھے اور پھر وتر پڑھ لے۔
    اس کے برعکس اگر کسی کا روز کا معمول تو نہیں ہے لیکن کسی دن فجر سے پہلے بیدار ہو گیا ہے تو اب اس کے لئے کیا حکم ہے جبکہ وہ وتر رات کو پڑھ چکا ہے تو اس بارہ میں دو آرا ہیں کچھ علماء تو کہتے ہیں کہ اب وہ تھجد کی نماز پڑھ لے لیکن وتر چونکہ وہ رات کو پڑھ چکا ہے اس لئے اب نہ تو ایک رکعت کے ساتھ وتر کو جفت کرے اور پھر آخر میں دوبارہ وتر پڑھے اور نہ ہی ایسا کئے بغیردوبارہ وتر پڑھے کیونکہ وتر تو وہ رات کو پڑھ چکا ہے۔ اور کچھ علماء کہتے ہیں کہ چونکہ رات کی آخری نماز وتر کو بنانے کا حکم ہے اس لئے اب وہ تھجد کی نماز نہ پڑھے لیکن تحیۃ الوضوء اور تحیۃ المسجد کی نیت سے دو دو کرکے چار رکعات پڑھ لے، اس کے لئے یہی کافی ہے۔ لیکن اکثرعلماء کی رائے یہی ہے کہ وہ تھجد پڑھ سکتا ہے لیکن وتر دوبارہ نہیں پڑھے گا کیوں کہ ایک رات میں دو دفعہ وتر پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
     
  3. ‏اگست 17، 2014 #3
    ام عبدالرحمٰن

    ام عبدالرحمٰن رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 10، 2013
    پیغامات:
    365
    موصول شکریہ جات:
    314
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    "میرے ناقص علم کے مطابق حکم یہ ہے کہ اگر تو کسی کا تھجد کے وقت اٹھنے کا معمول ہو اور اسے قوی امید ہو کہ وہ اٹھ جائے گا تو اسے رات کو وتر پڑھے بغیر سونا چاہئے اور صبح اٹھ کر نماز تھجد پڑھ کر وتر پڑھنے چاہئیں اور اگر ایسا معمول نہ ہو تو پھر اسے رات کو وتر پڑھ کر سونا چاہئے۔"

    کوئی سند ہے اس کی ؟؟؟
    جزاک اللہ ۔۔۔
     
  4. ‏اگست 17، 2014 #4
    محمد بن محمد

    محمد بن محمد مشہور رکن
    جگہ:
    كراتشى
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    223
    تمغے کے پوائنٹ:
    114

    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ
    اوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
    عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا
    دونوں روایات صحیح بخاری کی ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏اگست 18، 2014 #5
    ضدی

    ضدی رکن
    جگہ:
    برطانیہ
    شمولیت:
    ‏اگست 23، 2013
    پیغامات:
    291
    موصول شکریہ جات:
    234
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 18، 2014 #6
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    قال الشيخ العثيمين ـ رحمه الله: فالوتر ينتهي بطلوع الفجر، فإذا طلع الفجر وأنت لم توتر فلا توتر، لكن ماذا تصنع؟ الجواب: تصلي في الضحى وتراً مشفوعاً بركعة، فإذا كان من عادتك أن توتر بثلاث صليت أربعاً، وإذا كان من عادتك أن توتر بخمس فصل ستاً، لحديث عائشة ـ رضي الله عنها: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا غلبه نوم أو وجع عن قيام الليل، صلى من النهار ثنتي عشرة ركعة.

    شیخ محمد بن صالح العثیمین فرماتے ہیں: ’’وتر کا وقت طلوعِ فجر کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے۔ اگر فجر طلوع ہوجائے (صبح کی آذان کا وقت ہوجائے) اور تم نے وتر نہیں پڑھے تو پھر (اس وقت) وتر نہ پڑھو۔ بلکہ ایسا کرو کہ صبح چاشت کے وقت وہ وتر ایک رکعت کے اضافے کے ساتھ ادا کرو۔ اگر تمہاری روٹین تین وتر کی ہے تو چار پڑھو، پانچ کی ہے تو چھ پڑھو۔ اس کی دلیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ رسول کریمﷺ جب کبھی غلبۂ نیند یا کسی تکلیف کی بنا پر قیام اللیل نہ کر پاتے تو دن میں 12 رکعتیں ادا فرماتے۔‘‘
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏اگست 18، 2014 #7
    محمد بن محمد

    محمد بن محمد مشہور رکن
    جگہ:
    كراتشى
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    223
    تمغے کے پوائنٹ:
    114

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ انس بھائی اس فتویٰ میں اس سے آگے دوسری رائے بھی ہے۔
    هذا، وفي قضاء الوتر ووقته للعلماء أقوال أوصلها الشوكاني في شرح المنتقى إلى ثمانية، والراجح أنه يقضى أبداً، وهو قول الشافعية والصحيح عند الحنابلة، ويقضيه على هيئته، وذلك لحديث أبي سعيد ـ رضي الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من نام عن وتره أو نسيه فليصله إذا ذكره.
    رواه أبو داود.

     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 18، 2014 #8
    محمد بن محمد

    محمد بن محمد مشہور رکن
    جگہ:
    كراتشى
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    223
    تمغے کے پوائنٹ:
    114

    قَالَ صَاحِبُ عَوْنِ الْمَعْبُودِ :
    ( مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّهِ إِذَا ذَكَرَهُ )
    : وَالْحَدِيث لَيْسَ لَهُ تَعَلُّق بِالْبَابِ وَلَعَلَّهُ سَقَطَ لَفْظ الْبَاب قَبْل الْحَدِيث وَاَللَّه أَعْلَم . قَالَ الشَّوْكَانِيُّ : الْحَدِيث يَدُلُّ عَلَى مَشْرُوعِيَّة قَضَاء الْوِتْر إِذَا فَاتَ ، وَقَدْ ذَهَبَ إِلَى ذَلِكَ مِنْ الصَّحَابَة عَلِيّ بْن أَبِي طَالِب وَسَعْد اِبْن أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْد اللَّه بْن مَسْعُود وَعَبْد اللَّه بْن عُمَر وَعُبَادَةُ بْن الصَّامِت وَعَامِر بْن رَبِيعَة وَأَبُو الدَّرْدَاء وَمُعَاذ بْن جَبَل وَفُضَالَة بْن عُبَيْد وَعَبْد اللَّه بْن عَبَّاس ، كَذَا قَالَ الْعِرَاقِيُّ . قَالَ وَمِنْ التَّابِعِينَ عَمْرو بْن شُرَحْبِيل وَعُبَيْد السَّلْمَانِيّ وَإِبْرَاهِيم النَّخَعِيُّ وَمُحَمَّد بْن الْمُنْتَشِر وَأَبُو الْعَالِيَة وَحَمَّاد بْن أَبِي سُلَيْمَان ، وَمِنْ الْأَئِمَّة سُفْيَان الثَّوْرِيُّ وَأَبُو حَنِيفَة وَالْأَوْزَاعِيُّ وَمَالِك وَالشَّافِعِيّ وَأَحْمَد وَإِسْحَاق وَأَبُو أَيُّوب سُلَيْمَان بْن دَاوُدَ الْهَاشِمِيّ وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، ثُمَّ اِخْتَلَفَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَتَى يُقْضَى عَلَى ثَمَانِيَةِ أَقْوَال أَحَدهَا مَا لَمْ يُصَلِّ الصُّبْح ، وَهُوَ قَوْل اِبْن عَبَّاس وَعَطَاء بْن أَبِي رَبَاح وَمَسْرُوق وَالْحَسَن الْبَصْرِيّ وَإِبْرَاهِيم النَّخَعِيِّ وَمَكْحُول وَقَتَادَةَ وَمَالِك وَالشَّافِعِيّ وَأَحْمَد وَإِسْحَاق وَأَبِي أَيُّوب وَأَبِي خَيْثَمَةَ حَكَاهُ مُحَمَّد بْن نَصْر : ثَانِيهَا أَنَّهُ يَقْضِي الْوِتْر مَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْس وَلَوْ بَعْد صَلَاة الصُّبْح ، وَبِهِ قَالَ النَّخَعِيُّ : ثَالِثُهَا أَنَّهُ يُقْضَى بَعْد الصُّبْح وَبَعْد طُلُوع الشَّمْس إِلَى الزَّوَال ، رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ الشَّعْبِيّ وَعَطَاء وَالْحَسَن وَطَاوُوس وَمُجَاهِد وَحَمَّاد بْن أَبِي سُلَيْمَان ، وَرُوِيَ أَيْضًا عَنْ اِبْن عُمَرَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِي الْأَقْوَال لَا نُطِيلُ الْكَلَام بِذِكْرِهَا . وَقَدْ اِسْتَدَلَّ بِالْأَمْرِ بِقَضَاءِ الْوِتْر عَلَى وُجُوبِهِ وَحَمَلَهُ الْجُمْهُور عَلَى النَّدْب ، قَالَ الْمُنْذِرِيُّ : وَأَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَهْ وَأَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيّ أَيْضًا مُرْسَلًا وَقَالَ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ الْحَدِيث الْأَوَّل .
     
  9. ‏اگست 23، 2014 #9
    ام عبدالرحمٰن

    ام عبدالرحمٰن رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 10، 2013
    پیغامات:
    365
    موصول شکریہ جات:
    314
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    جزاک اللہ
     
  10. ‏اگست 25، 2014 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    @انس
    @محمد بن محمد
    برادران! اگر کسی شخص کی صبح اس وقت آنکھ کھلے جب سورج نکل آیا ہو، یا جنابت کی حالت میں اٹھے تو وہ فجر کی نماز قضا کس وقت پڑھ سکتا ہے؟ زوال کے وقت کے بعد، اور یہ بھی بتا دیں کہ ہماری آج کی گھڑیوں کے مطابق زوال کا وقت کب سے کب تک ہوتا ہے اور قضا نماز کب پڑھی جا سکتی ہے، اور صبح کے اذکار بھی کیا سورج نکلنے کے بعد پڑھے جا سکتے ہیں۔ میری رہنمائی کریں۔ جزاکم اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں