1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وتر کا طریقہ

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از salfisalfi123456, ‏ستمبر 04، 2015۔

  1. ‏ستمبر 04، 2015 #1
    salfisalfi123456

    salfisalfi123456 مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 13، 2015
    پیغامات:
    84
    موصول شکریہ جات:
    39
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    وتر نماز کا مکمل طریقہ کیا ہے اور کیا وتر میں سورہ اخلاص کے بعد اور قنوت سے پہلے رفع الیدین کرنا چاہیے اور یہ کہ اگر دعائے قنوت کے بغیر وتر کیسا ہے؟
     
  2. ‏ستمبر 04، 2015 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,749
    موصول شکریہ جات:
    2,262
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    نماز وتر کا مسنون طریقہ
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    نماز وتر کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ ایک وتر اور تین وتر دونوں میں کونسی سورت پڑھنی چاہیے ۔ ؟ عشاء کی نماز میں ایک وتر پڑھنا چاہیے یا تین؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    وتر کے معنی طاق (Odd Number) کے ہیں۔ احادیث نبویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں نمازِ وتر کی خاص پابندی کرنی چاہیے؛ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفروحضر ہمیشہ نمازِ وتر کا اہتمام فرما یا کرتے تھے۔

    آپ کی قولی و فعلی احادیث سے ایک، تین، پانچ ،سات اور نو رکعات کے ساتھ وتر ثابت ہے۔

    ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

    «الوتر حق علی کل مسلم فمن أحب أن یوتر بخمس فلیفعل ومن أحب أن یوتر بثلاث فلیفعل،ومن أحب أن یوتر بواحدۃ فلیفعل »صحیح ابوداود:۱۲۶۰
    ’’وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ وتر ادا کرنا پسند کرے وہ پانچ پڑھ لے اور جو تین وتر پڑھنا پسند کرے وہ تین پڑھ لے اور جو ایک رکعت وتر پڑھنا پسند کرے وہ ایک پڑھ لے۔‘‘

    سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

    «کان رسول اﷲ یوتر بسبع أو بخمس… الخ»صحیح ابن ماجہ:۹۸۰
    1-تین وتر پڑھنے کے لئے دو نفل پڑھ کر سلام پھیرا جائے اور پھر ایک وتر الگ پڑھ لیا جائے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے : کان یوتر برکعۃ وکان یتکلم بین الرکعتین والرکعۃ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت کے ساتھ وتر بناتے جبکہ دو رکعت اور ایک کے درمیان کلام کرتے۔ مزید ابن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے کہ:«صلی رکعتین ثم سلم ثم قال أدخلو إلیّ ناقتي فلانة ثم قام فأوتر برکعة»(مصنف ابن ابی شیبہ)

    ’’انہوں نے دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیر دیاپھر کہا کہ فلاں کی اونٹنی کو میرے پاس لے آؤ پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت کے ساتھ وتر بنایا۔‘‘

    2- پانچ وتر کا طریقہ یہ ہے کہ صرف آخری رکعت میں بیٹھ کر سلام پھیرا جائے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    «کان رسول اﷲ! یصلي من اللیل ثلاث عشرۃ رکعة یوتر من ذلک بخمس لا یجلس فی شیئ إلا فی آخرها»(صحیح مسلم:۷۳۷)


    3- سات وتر کے لئے ساتویں پر سلام پھیرنا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے۔ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:« کان رسول اﷲ! یوتر بسبع أو بخمس لا یفصل بینهن بتسلیم ولا کلام» (صحیح ابن ماجہ :۹۸۰)
    ’’نبی سات یا پانچ وتر پڑھتے ان میں سلام اور کلام کے ساتھ فاصلہ نہ کرتے۔‘‘

    4- نو وتر کے لئے آٹھویں رکعت میں تشہد بیٹھا جائے اور نویں رکعت پر سلام پھیرا جائے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں فرماتی ہیں:
    «ویصلي تسع رکعات لایجلس فیھا الا في الثامنة … ثم یقوم فیصلي التاسعة»


    ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعت پڑھتے اور آٹھویں رکعت پر تشہد بیٹھتے …پھر کھڑے ہوکر نویں رکعت پڑھتے اور سلام پھیرتے۔‘‘ (صحیح مسلم:۷۴۶)

    (آخری رکعت میں) رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے۔

    دلیل:ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
    «أن رسول اﷲ کان یوتر فیقنت قبل الرکوع»(صحیح ابن ماجہ:۹۷۰)
    ’’بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھتے تو رکوع سے پہلے قنوت کرتے تھے۔‘‘

    «اَللّٰھُمَّ اھْدِنِيْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنِيْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِيْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لِيْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَقِنِيْ شَرَّ مَاقَضَیْتَ فَإنَّکَ تَقْضِيْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ إنَّہٗ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ»(صحیح ترمذی:۳۸۳،بیہقی :)
    ’’اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں کے ساتھ جن کو تو نے ہدایت دی، مجھے عافیت دے ان لوگوں کے ساتھ جن کو تو نے عافیت دی، مجھ کو دوست بنا ان لوگوں کے ساتھ جن کو تو نے دوست بنایا۔ جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما اور مجھے اس چیز کے شر سے بچا جو تو نے مقدر کردی ہے، اس لئے کہ تو حکم کرتا ہے، تجھ پر کوئی حکم نہیں چلا سکتا ۔جس کو تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاسکتا۔ اے ہمارے رب! تو برکت والا ہے، بلند و بالا ہے۔‘‘

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
    فتوی کمیٹی
    محدث فتوی
     
    Last edited: ‏مئی 27، 2018
    • شکریہ شکریہ x 3
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 04، 2015 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,749
    موصول شکریہ جات:
    2,262
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    قنوت وتر میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    کیا نماز وتر میں ہاتھ اٹھا کر دعاء قنوت کر سکتے ہیں۔؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    جمہور اہل علم کے نزدیک دعاء قنوت میں ہاتھ اٹھانا ایک مستحب عمل ہے،خواہ وہ قنوت نازلہ ہو یا قنوت وتر ہو ۔کیونکہ نبی کریم سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے بئر معونہ پر صحابہ کرام کو شہید کرنے والے کفارکے خلاف ہاتھ اٹھا کر دعا کروائی تھی۔

    سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
    فلقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الغداة رفع ‏يديه فدعا عليهم ( رواه أحمد والطبراني في الصغير. )
    میں نے نبی کریم کو نماز صبح میں ان کے خلاف ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

    نیزسیدنا عمر سمیت بعض صحابہ کرام سے بھی یہ ثابت ہے کہ وہ قنوت وتر میں ہاتھ اٹھا کر دعا کیا کرتے تھے۔

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
    فتوی کمیٹی
    محدث فتوی
     
    Last edited: ‏مئی 27، 2018
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 04، 2015 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,749
    موصول شکریہ جات:
    2,262
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    فتاویٰ جات: اذکار وادعیہ
    فتویٰ نمبر : 12179
    [​IMG]
    دعائے قنوت رکوع سے پہلے یا بعد میں؟
    شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 27 May 2014 09:27 AM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    قنوت کے متعلق وضاحت کریں کہ رکوع سےپہلے ہے یا بعد میں ،نیز اس میں ہاتھ اٹھائے جائیں یا اٹھائے بغیر بھی قنوت پڑھی جاسکتی ہے جبکہ بخاری شریف میں ہے کہ قنوت رکوع سے پہلے بھی ہے اور بعد میں بھی کی جاسکتی ہے؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    عبادات میں قنوت کی دواقسام ہیں :

    (۱)قنوت نازلہ۔ (۲)قنوت وتر۔ان دونوں کے لوازمات اور خصوصیات کی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔

    (۱)قنوت نازلہ سے مراد جو جنگ ،مصیبت ،وبائی امراض اور غلبہ دشمن کے وقت دوران نماز پڑھی جاتی ہے،ان ہنگامی حالات کے پیش نظر قنوت نازلہ کےمندرجہ ذیل لوازمات ہیں:

    ٭اسے رکوع کےبعد پڑھا جاتا ہے،جیسا کہ رسول اللہﷺ نماز فجر میں رکوع کےبعد کفار پر لعنت کرتے تھے یہ سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا۔ (صحیح بخاری،التفسیر:۴۵۵۹)

    ٭دوران جماعت امام سے بآواز بلند پڑھتا ہے،جیساکہ رسول اللہﷺ کےمتعلق احادیث میں آیا ہے کہ آپ قنوت نازلہ بآواز بلند پڑھا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری،التفسیر:۴۵۶۰)

    ٭قنوت نازلہ ہاتھ اٹھا کر پڑھی جاتی ہے ،جیسا کہ رسول اللہﷺ ہاتھ اٹھا کر قنوت نازلہ کیا کرتے تھے۔ (مسند امام احمد،ص:۱۳۷،ج۳)

    ٭مقتدی حضرات قنوت نازلہ کےلئے آمین کہیں۔ (ابوداؤد،الوتر:۱۴۴۳)

    ٭قنوت نازلہ تمام نمازوں میں کی جاسکتی ہے۔ (مسند امام احمد،ص:۳۰۱ج۱)

    ٭ہنگامی حالات ختم ہونے پر موقوف کردیا جائے۔ (صحیح مسلم ،المساجد:۱۵۴۲)

    (۲)قنوت وتر سے مراد وہ دعا ہے جو وتروں کی آخری رکعت میں پڑھی جاتی ہے،اس کی خصوصیات حسب ذیل ہیں:

    ٭یہ دعا صرف وتروں میں پڑھی جاتی ہے اگر صرف وتروں سےمتعلقہ دعا پڑھنا ہوتو اسے رکوع سے پہلے پڑھا جائے ،جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ تین وتر ادا کرتے اوردعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔ (نسائی ،قیام اللیل :۱۷۰۰)

    ٭اگر وتر کی دعا کو ہنگامی حالات کےپیش نظر قنوت نازلہ کی شکل دے دی جائے تو اسے رکوع کےبعد پڑھنا چاہیے،جیسا کہ حضرت ابی بن کعب ؓ وتروں میں مخالفین اسلام کے خلاف بددعا رکوع کے بعد کرتے تھے۔ (صحیح ابن خزیمہ،ص:۵۶ج۱)

    ٭رسول اللہﷺ سے صراحت کے ساتھ قنوت وترمیں ہاتھ اٹھانا ثابت نہیں ،البتہ بعض صحابہ کرام ؓ کے آثار ملتے ہیں کہ وہ وتروں میں دعا کرتے وقت ہاتھ اتھایا کرتے تھے۔ (مختصر قیام اللیل ،ص:۲۳۰طبع ہند)

    ٭امام کا بآواز بلند قنوت وتر پڑھنا اور مقتدی حضرات کا آمین کہنا بھی کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے،البتہ قنوت نازلہ پر قیاس کیا جائے تو گنجائش نکل سکتی ہے ،ہمارے نزدیک اس مسئلہ میں توسیع ہے۔قنوت وتر ہاتھ اٹھا کریا ہاتھ اٹھائے بغیر دونوں طرح کی جاسکتی ہے،کسی ایک طریقے پر تشدد اور دوام درست نہیں ہے،البتہ وتروں میں تکبیر تحریمہ کی طرح ہاتھ اٹھانا ،پھر انہیں باندھ لینا کسی صحیح حدیث سےثابت نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)

    سوال کے آخر میں صحیح بخاری کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے کہ قنوت رکوع سےپہلے بھی ہے اور رکوع کےبعد بھی کی جاسکتی ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ امام بخاریؒ کے عنوانات انتہائی خامو ش او ر بہت ٹھوس ہواکرتے ہیں۔

    چنانچہ امام بخاریؒ نے ابواب وتر میں ایک عنوان بایں الفاظ بیان کیا ہے‘‘رکوع سےپہلے اور اس سے بعد قنوت کرنا۔’’پھر محمد بن سیرینؒ کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ حضرت انس ؓ سےسوال ہوا کہ آیا رسول اللہﷺ نے صبح کی نماز میں قنوت کی تھی؟ فرمایا:ہاں !پھر سوال ہوا کہ قنوت رکوع سےپہلے تھی ،جواب دیا رکوع کےبعد تھوڑا عرصہ کی تھی۔ (صحیح بخاری،الوتر:۱۰۰۱)

    پھر اس کی مزید وضاحت کےلئے عاصم الاحوال کی روایت پیش فرمائی ،وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے نماز میں قنوت کےمتعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ رکوع سےپہلے ہے،پھر میں نے عرض کیا کہ فلاں شخص آپ سے بیان کرتا ہے کہ قنوت رکوع کے بعد ہے آپ نے جواب کےطورپر فرمایا غلط کہتا ہے کیونکہ رسول اللہﷺ نے رکوع کےبعد صرف ایک ماہ قنوت فرمائی۔یہ اس وقت ہوا جب مشرکین نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے ستر قراءکو شہید کردیا تو آپ نے رکوع کے بعد صرف ایک ماہ ان پر بددعا فرمائی۔ (صحیح بخاری،الوتر:۱۰۰۲)

    اس روایت سےیہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہنگامی حالات کے پیش نظر جو دعا کی جائے وہ رکوع کےبعد ہے اور حضرت انس ؓ نے جس قنوت کو رکوع سےپہلے بیان کیا ہے وہ ہنگامی حالات کے پیش نظر نہیں بلکہ وہ قنوت وتر ہے کیونکہ جو قنوت ہنگامی حالات کے پیش نظر نہیں بلکہ عام حالات میں کی جاتی ہے وہ صرف قنوت وتر ہے،تفصیلی روایت سے امام بخاریؒ کےموقف کی وضاحت ہوتی ہے کہ وہ قنوت وتر رکوع سےپہلے کرنے کے قائل ہیں۔ (واللہ اعلم )

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
    فتاویٰ اصحاب الحدیث
    ج2ص179

    محدث فتویٰ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 04، 2015 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,749
    موصول شکریہ جات:
    2,262
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانے کا حکم
    شروع از بتاریخ : 24 October 2012 10:15 AM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    میرا سوال یہ ہے کہ وتر کے وقت جب قنوت پڑھی جاتی ہے تو اکثر امام دعا کے لئے ہاتھ اُٹھاتے ہیں اور مقتدی بھی ہاتھ اُٹھا تے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔ کیا یہ کسی حدیث سے ثابت ہے۔

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانے کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے ۔لیکن راجح مسلک یہ کہ قنوت نازلہ پر قیاس کرتے ہوئے قنوت وتر میں بھی ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا مستحب ہے۔ قنوت نازلہ کے حوالے سے ثابت ہے کہ نبی کریم نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی تھی۔ سیدنا انس فرماتے ہیں:

    ’’فلقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الغداة رفع ‏يديه فدعا عليهم‘‘ (مسند أحمد [19 /394] ط. الرسالة)

    میں نے نماز فجر میں نبی کریمﷺ کو ہاتھ اٹھا کر ان پر بد دعا کرتے ہوئے دیکھا

    سیدنا عمر بن خطاب ،سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور سیدنا ابو ہریرہ سے بھی یہی ثابت ہے کہ وہ قنوت نازلہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا کیا کرتے تھے۔اور صحابہ کرام کا یہ عمل ان اپنا نہیں ہو سکتا ۔بلکہ ضرور انہوں نے نبی کریم ﷺکو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہوگا۔

    اگرچہ قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانے کے بارے میں کوئی صریح روایت ثابت نہیں ہے ،لیکن قنوت نازلہ پر قیاس کرتے ہوئے ہم قنوت وتر میں بھی ہاتھ اٹھا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ صالح العثیمین اور شیخ ابن باز کا بھی یہی موقف ہے۔

    هذا ما عندي والله اعلم بالصواب
    فتویٰ کمیٹی
    محدث فتویٰ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 04، 2015 #6
    abusadbaig

    abusadbaig مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 03، 2015
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    جزاك الٰله
     
  7. ‏ستمبر 04، 2015 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,749
    موصول شکریہ جات:
    2,262
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    اگر وتر میں دعائے قنوت بھول جائے

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    اگر وتر میں دعائے قنوت بھول جائے اور تشہد پڑھنے کےوقت یاد آئے تو اس حال میں کیا کرے۔ ؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!


    دعائے قنوت محدثین کے نزدیک فرض واجب یا سنت موکدہ نہیں اس لئے اس کے ترک پر کوئی مواخذہ نہیں واللہ اعلم (19 مئی 33ء؁)

    تشریح
    دعائے قنوت وتر میں پڑھنی ضروری نہیں ہے۔ نہ رمضان میں نہ غیر رمضان میں اس کے وجوب پر کوئی شرعی دلیل قائم نہیں ہے۔ اور ا یجاب کا حق اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی کو نہیں ہے۔ البتہ قصدا اس کا ترک کردینا ٹھیک نہیں ہے۔ وتر ادا ہوجائے گا لیکن وہ بات نہیں حاصل ہوگی جو دعا کے ساتھ ادا کرنے میں ہوگی۔ حنفیہ وجوب دعا قنوت وتر کے قائل ہیں۔ صاحب ہدایہ نے ایک بے سند و بے ثبوت و بے اصل روایت پیش کردی ہے۔ (حضرت مولانا عبید اللہ صاحب۔ شیخ الحدیث مبارکپوری۔ مرسلہ مولانا عبد الروف صاحب جھنڈے نگری۔ )


    فتاویٰ ثنائیہ
    جلد 01 ص 559
    محدث فتویٰ
     
  8. ‏ستمبر 04، 2015 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,749
    موصول شکریہ جات:
    2,262
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    دعا قنوت اور اس میں ہاتھ اٹھانا

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    دریافت طلب امر یہ ہے کہ جب باجماعت وتر پڑھے جائیں اور رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھی جائے تو اس کا کیا طریقہ ہے۔:
    ۱۔کیا ہاتھ اُٹھائے جائیں۔؟
    ۲۔ دعائے قنوت اونچی آواز سے پڑھی جائے۔؟
    ۳۔ اگر ہاں تو پھر کیا دعائے قنوت کے لیے جو واحد کے صیغے ہیں ،انہیں جمع کے صیغوں سے بدلا جا سکتا ہے۔؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    1۔جی ہاں ! ہاتھ اٹھا کر دعا کی جاءے۔شیخ صالح المنجد اس بارے ایک سوال کا جواب دیے ہوئے فرماتے ہیں:

    اور اس ميں وہ ہاتھ اٹھائے، عمر رضى اللہ تعالى عنہ سے يہ ثابت ہے، جيسا كہ بيھقى رحمہ اللہ تعالى نے روايت كى اور اسے صحيح كہا ہے. سنن بيھقى ( 2 / 210 ).

    اور دعاء كے ليے سينہ كے برابر ہاتھ اٹھائے اس سے زيادہ نہيں، كيونكہ يہ دعاء ابتھال يعنى مباہلہ والى نہيں كہ انسان اس ميں ہاتھ اٹھانے ميں مبالغہ سے كام لے، بلكہ يہ تو رغبت كى دعاء ہے، اور وہ اپنے ہاتھوں كو اس طرح پھيلائے كہ اس كى ہتھيلياں آسمان كى جانب ہوں...

    اور اہل علم كے كلام سے ظاہر ہوتا ہے كہ وہ اپنے ہاتھوں كو ملا كر ركھے جس طرح كہ كوئى شخص دوسرے سے كچھ دينے كا كہہ رہا ہو.

    2۔قنوت نازلہ کی طرح قنوت الوتر کو بھی جہری وتر کی نماز جہری ہونے کی وجہ سے جہرا پڑھا جائے گا۔

    3۔ اگر ہاں تو پھر کیا دعائے قنوت کے لیے جو واحد کے صیغے استعمال کیے گئے ہیں، ان کو جمع میں بدلا جاسکتا ہے؟

    بعض اہل علم واحد کے صیغہ کی جمع کے صیغہ کے ساتھ تبدیلی کے قائل ہیں جبکہ بعض دوسرے قائل نہیں ہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کہنا یہ ہے کہ اگر تو مقتدی نے امام کی دعا پر آمین کہنا ہو تو پھر امام جمع کو صیغہ استعمال کرے۔ اور اگر سری دعا ہو تو پھر امام واحد کا صیغہ استعمال کرے جیسا کہ احادیث میں استعمال ہوا ہے۔

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

    فتویٰ کمیٹی
    محدث فتویٰ
     
  9. ‏ستمبر 04، 2015 #9
    اویس تبسم

    اویس تبسم رکن
    جگہ:
    گجرات،پاکستان
    شمولیت:
    ‏جنوری 27، 2015
    پیغامات:
    366
    موصول شکریہ جات:
    133
    تمغے کے پوائنٹ:
    80

    اسحاق بھائی نے بہت اچھی وضاحت کر دی ہے ،
    میں آپ کی آسانی کیلئے اسے تھوڑا مختصر کرنا چاہتا ہوں آپ کم از کم 2 رکعات پڑھ لیں پھر1 رکعت، سورۃ اخلاص کے بعد
    (ہاتھ اٹھائے بغیر) دعا قنوت پڑھیں اگر کسی دکھ،پریشانی کیلئے دعا مانگنی ہے تو سورۃ اخلاص کے بعد دعا قنوت نہ پڑھیں بلکہ رکوع میں چلے جائیں پھر رکوع سے اٹھنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگیں، دعا مانگنے کے بعد سیدھا سجدے میں چلے جائیں اس طرح سے ایک رکعت مکمل کر لیں ۔
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب​
     
  10. ‏ستمبر 04، 2015 #10
    salfisalfi123456

    salfisalfi123456 مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 13، 2015
    پیغامات:
    84
    موصول شکریہ جات:
    39
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    اے علماء اسلام جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں