1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وتر کا طریقہ

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از salfisalfi123456, ‏ستمبر 04، 2015۔

  1. ‏اکتوبر 09، 2015 #21
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,930
    موصول شکریہ جات:
    1,486
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    الحمد للہ :

    نماز وتر اللہ تعالى كے قرب كے ليے سب سے افضل اور عظيم عبادات ميں شامل ہوتى ہے، حتى كہ بعض علماء كرام ـ يعنى احناف ـ تو اسے واجبات ميں شمار كرتے ہيں، ليكن صحيح يہى ہے كہ يہ سنت مؤكدہ ميں شامل ہوتى ہے جس كى مسلمان شخص كو ضرور محافظت كرنى چاہيے، اور اسے ترك نہيں كرنا چاہيے.

    امام احمد رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

    " نماز وتر چھوڑنے والا شخص برا آدمى ہے، اس كى گواہى قبول نہيں كرنى چاہيے"

    جو كہ نماز وتر كى ادائيگى كى تاكيد پر دلالت كرتى ہے.

    نماز وتر كى ادائيگى كى كيفيات كا خلاصہ ہم مندرجہ ذيل نقاط ميں بيان كر سكتے ہيں:

    نماز وتر كى ادائيگى كا وقت:

    اس كا وقت نماز عشاء كى ادائيگى سے شروع ہوتا، يعنى جب انسان نماز عشاء ادا كر لے چاہے وہ مغرب اور عشاء كو جمع تقديم كى شكل ميں ادا كرے تو عشاء كى نماز ادا كرنے سے ليكر طلوع فجر تك نماز وتر كا وقت رہے گا.

    كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " يقينا اللہ تعالى نے تمہيں ايك نماز زيادہ دى ہے اور وہ نماز وتر ہے جو اللہ تعالى نے تمہارے ليے عشاء اور طلوع فجر كے درميان بنائى ہے"

    سنن ترمذى حديث نمبر ( 425 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اسے صحيح ترمذى ميں صحيح كہا ہے.

    اور كيا نماز وتر كو اول وقت ميں ادا كرنا افضل ہے يا كہ تاخير كے ساتھ ادا كرنا افضل ہے ؟

    سنت نبويہ اس پر دلالت كرتى ہے كہ جو شخص رات كے آخر ميں بيدار ہونے كا طمع ركھتا ہو اس كے ليے نماز وتر ميں تاخير كرنا افضل ہے، كيونكہ رات كے آخرى حصہ ميں نماز پڑھنى افضل ہے، اور اس ميں فرشتے حاضر ہو تے ہيں، اور جسے خدشہ ہو كہ وہ رات كے آخر ميں بيدار نہيں ہو سكتا تو اس كے ليے سونے سے قبل نماز وتر ادا كرنا افضل ہے، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے.

    جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " جسے خدشہ ہو كہ وہ رات كے آخر ميں بيدار نہيں ہو سكے گا تو وہ رات كے اول حصہ ميں وتر ادا كر لے، اور جسے يہ طمع ہو كہ وہ رات كے آخرى حصہ ميں بيدار ہو گا تو وہ وتر رات كےآخرى حصہ ميں ادا كرے، كيونكہ رات كے آخرى حصہ ميں ادا كردہ نماز مشھودۃ اور يہ افضل ہے"

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 755 ).

    امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

    اور يہى صحيح ہے، اور باقى مطلق احاديث كو اس صحيح اورصريح افضليت پر محمول كيا جائے گا، ان ميں يہ حديث بھى ہے:

    " ميرى دلى دوست نے مجھے وصيت كى كہ ميں وتر ادا كر سويا كروں"

    يہ اس شخص پر محمول ہو گى جو بيدار نہيں ہو سكتا. اھـ

    ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 3 / 277 ).

    وتر ميں ركعات كى تعداد:

    كم از كم وتر ايك ركعت ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " رات كے آخر ميں ايك ركعت وتر ہے "

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 752 ).

    اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " رات كى نماز دو دو ہے، لہذا جب تم ميں سے كسى ايك كو صبح ہونے كا خدشہ ہو تو وہ ايك ركعت ادا كر لے جو اس كى پہلى ادا كردہ نماز كو وتر كر دے گى "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 911 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 749 )

    لہذا جب انسان ايك ركعت ادا كرنے پر ہى اكتفا كرے تو اس نے سنت پر عمل كر ليا...

    اور اس كے ليے تين اور پانچ اور سات اور نو ركعت وتر بھى ادا كرنے جائز ہيں.

    اگر وہ تين وتر ادا كرے تو اس كے ليے دو طريقوں سے تين وتر ادا كرنے مشروع ہيں:

    پہلا طريقہ:

    وہ تين ركعت ايك ہى تشھد كے ساتھ ادا كرے. اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ميں پائى جاتى ہے:

    عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

    " رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم وتر كى دو ركعتوں ميں سلام نہيں پھيرتے تھے"

    اور ايك روايت كے الفاظ يہ ہيں:

    " نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تين وتر ادا كرتے تو اس كى آخر كے علاوہ نہيں بيٹھتے تھے"

    سنن نسائى ( 3 / 234 ) سنن بيھقى ( 3 / 31 ) امام نووى رحمہ اللہ تعالى المجموع ميں لكھتےہيں: امام نسائى نے حسن سند كے ساتھ اور بيھقى نے صحيح سند كے ساتھ روايت كيا ہے. اھـ

    ديكھيں: المجموع للنووى ( 4 / 7 ).

    دوسرا طريقہ:

    وہ دو ركعت ادا كر كے سلام پھير دے اور پھر ايك ركعت واتر ادا كرے اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

    ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما دو ركعت اور اپنے وتر كے درميان سلام پھيرتے تھے، اور انہوں نے بتايا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ايسا ہى كيا كرتے تھے"

    رواہ ابن حبان حديث نمبر ( 2435 ) ابن حجر رحمہ اللہ تعالى فتح البارى ( 2 / 482 ) ميں كہتے ہيں اس كى سند قوى ہے. اھـ

    ليكن اگر وہ پانچ يا سات وتر اكٹھے ادا كرے تو صرف اس كے آخر ميں ايك ہى تشھد بيٹھے اور سلام پھير دے، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

    عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

    " رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم رات كو گيارہ ركعت نماز ادا كرتے اس ميں پانچ ركعت وتر ادا كرتے اور ان ميں آخرى ركعت كے علاوہ كہيں نہ بيٹھتے"

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 737 ).

    اور ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

    " رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم پانچ اور سات وتر ادا كرتے اور ان كے درميان سلام اور كلام كے ساتھ عليدگى نہيں كرتے تھے"

    مسند احمد ( 6 / 290 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 1714 ) نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں اس كى سند جيد ہے.

    ديكھيں: الفتح الربانى ( 2 / 297 ) اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن نسائى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

    اور جب اكٹھى نو ركعت وتر ادا كرنى ہوں تو تو آٹھويں ركعت ميں تشھد بيٹھ كر پھر نويں ركعت كے ليے كھڑا ہو اور سلام نہ پھيرے اور نويں ركعت ميں تشھد بيٹھ كر سلام پھيرے گا، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

    عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

    " نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نو ركعات ادا كرتے اور ان ميں آٹھويں ركعت ميں بيٹھ كر اللہ تعالى كا ذكر اور اس كى حمد بيان كرتے اور دعاء كرتے اور سلام پھيرے بغير اٹھ جاتے پھر اٹھ كر نويں ركعت ادا كر كے بيٹھتے اور اللہ تعالى كا ذكر اور اس كى حمد بيان كر كے دعاء كرتے اور پھر ہميں سنا كر سلام پھيرتے"

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 746 ).

    اور اگر وہ گيارہ ركعت ادا كرے تو پھر ہر دو ركعت ميں سلام پھيرے اور آخر ميں ايك وتر ادا كرے.

    وتر ميں كم از كم اور اس ميں قرآت كيا ہو گى:

    وتر ميں كم از كم كمال يہ ہے كہ دو ركعت ادا كر كے سلام پھيرى جائے اور پھر ايك ركعت ادا كر كے سلام پھيرے، اور تينوں كوايك سلام اور ايك تشھد كے ساتھ ادا كرنا بھى جائز ہے، اس ميں دو تشھد نہ كرے جيسا كہ بيان ہو چكا ہے.

    اور پہلى ركعت ميں سبح اسم ربك الاعلى پورى سورۃ پڑھے، اور دوسرى ركعت ميں سورۃ الكافرون اور تيسرى ركعت ميں سورۃ الاخلاص پڑھے.

    ابى بن كعب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

    " رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم وتر ميں سبح اسم ربك الاعلى اور قل يا ايھالكافرون اور قل ہو اللہ احد پڑھا كرتے تھے"

    سنن نسائى حديث نمبر ( 1729 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن نسائى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

    نماز وتر كى مندرجہ بالا سب صورتيں اور كيفيات سنت ميں وارد ہيں اور اكمل يہ ہے كہ مسلمان شخص ايك ہى كيفيت ميں نماز وتر ادا نہ كرتا رہے بلكہ اسے كبھى ايك اور كبھى دوسرى كيفيت ميں نماز وتر ادا كرنى چاہيے تا كہ وہ سنت كے سب طريقوں پر عمل كر سكے.

    واللہ اعلم .

    http://islamqa.info/ur/46544
     
  2. ‏اکتوبر 09، 2015 #22
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,930
    موصول شکریہ جات:
    1,486
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ

    جو لوگ تین رکعت پڑھتے ہوئے دو رکعت پہ تشہد کے لئے بیٹھتے ہیں وہ سنت کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ تین رکعت وتر پڑھتے ہوئے مغرب کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین رکعت وتر نہ پڑھو اور مغرب کی مشابہت نہ کرو (مستدرک حاکم ١١٣٨ ، ابن حبان ٢٤٢٩ )

    اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

    مغرب کی مشابہت سے دو طریقوں سے بچا جا سکتا ہے ، ایک یہ کہ تین رکعت اکٹھی پڑھی جائیں،بیچ میں تشہد نہ کیا جائے دوسرا طریقه یہ ہے کہ دو رکعت الگ پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے ، پھر ایک رکعت الگ پڑھی جائے جیساکہ اوپر واضح کیا گیا ہے-
     
  3. ‏اکتوبر 09، 2015 #23
    اویس تبسم

    اویس تبسم رکن
    جگہ:
    گجرات،پاکستان
    شمولیت:
    ‏جنوری 27، 2015
    پیغامات:
    366
    موصول شکریہ جات:
    133
    تمغے کے پوائنٹ:
    80

    وعلیکم السلام
    پہلی بات
    محترم اسی حدیث میں یہ بات بھی ہے کہ رسول اللہﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے اس حدیث میں جو کچھ بیان ہوا ہے اسے اگر آپ رسولﷺ کا آخری عمل سمجھتے ہیں تو بیس رکعات آپ کس حساب سے پڑھتے ہیں؟
    دوسری بات
    اگرچہ رسول اللہﷺ نے گیارہ رکعتیں مع وتر یا اس سے کم یا زیادہ پڑھی لیکن ہمارے لیے انہوں نے یہ فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں،یعنی انہوں اس کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی،یہ نفلی عبادت ہے آدمی اپنی استطاعت کے مطابق جتنی رکعتیں چاہے پڑ لے اور آخر میں ایک رکعت وتر پڑھ لے(اصل میں وتر کا مطلب طاق ہے اور یہ ایک رکعت ہے)
     
  4. ‏اکتوبر 14، 2015 #24
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    281
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    محترم! جب تک آپ لوگ اندھی تقلید کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل کو استعمال میں نہیں لاؤ گے تو پھر یہی ہونا ہے۔
    محترم! ہم تراویح پڑھتے ہیں جو کہ صرف رمضان میں پڑھی جاتی ہے اور وہ بیس ہی ہے۔ اس روایت میں تراویح مراد نہیں کیونکہ وہ سارا سال نہیں ہوتی!!!!!!!!
    محترم! رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں اور ہر دو رکعات پر بیٹھ کر تشہد پڑھنا ہے۔ حدیث میں ہے؛
    حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ الْمُطَّلِبِ
    عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى أَنْ تَشَهَّدَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَأَنْ تَبَاءَسَ وَتَمَسْكَنَ وَتُقْنِعَ بِيَدَيْكَ وَتَقُولَ اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ
    سُئِلَ أَبُو دَاوُد عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ مَثْنَى قَالَ إِنْ شِئْتَ مَثْنَى وَإِنْ شِئْتَ أَرْبَعًا (ابوداؤد)

    لہٰذا وتر کی تین رکعات ایسے پڑھیں گے کہ دو رکعت پر بیٹھ لر تشہد پڑھیں گے پھر ایک رکعت اور پڑھیں گے۔ یہ تین رکعات ہوئیں۔ اگر دو رکعات پر سلام پھیر دیں گے تو یہ تین نہیں ایک ہوگی۔ کما لا یخفیٰ
    باقی رہی یہ بات کہ مغرب کی نماز سے مماثلت نہ ہو تو اس تیری رکعت میں رفع الیدین کر کے دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے جس سے مغرب کی نماز سے مماثلت نہیں رہتی۔
    والسلام
     
  5. ‏اکتوبر 14، 2015 #25
    اویس تبسم

    اویس تبسم رکن
    جگہ:
    گجرات،پاکستان
    شمولیت:
    ‏جنوری 27، 2015
    پیغامات:
    366
    موصول شکریہ جات:
    133
    تمغے کے پوائنٹ:
    80

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    محترم یہ بات تو مجھے کہنی چاہئےتھی!

    کیا آپ نے ان احادیث میں غور نہیں کی؟
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    ۱: اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے’’[بخاری: ۶۴۱۰، مسلم:۲۶۷۷]

    ۲: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر ایک رکعت ہے رات کے آخری حصہ میں سے ’’ [مسلم:۷۵۶]

    ۳: نبی کریم سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو، دو رکعتیں ہیں۔ جب صبح (صادق) ہونے کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔ یہ ایک (رکعت پہلی ساری) نماز کو طاق بنا دیگی’’[بخاری:۹۹۳،۹۹۰مسلم:۷۴۹]

    ۴: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت وتر پڑھتے (آخری ) دو رکعتوں اور ایک رکعت کے درمیان (سلام پھیر کر ) بات چیت بھی کرتے’’ [ابن ماجہ:۷۷، مصنف ابن ابی شیبہ: ۲؍۲۹۱]

    ۵: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء سے فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے ہر دو رکعتوں پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے’’ [مسلم:۷۳۶]

    ۶: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر ہر مسلمان پر حق ہے پس جسکی مرضی ہو پانچ وتر پڑھے اور جس کی مرضی ہو تین وتر پڑھے اور جس کی مرضی ہو ایک وتر پڑھے’’[ابوداؤد:۱۴۲۲،نسائی:۱۷۱۰، ابن ماجہ:۱۱۹۰، صحیح ابن حبان: ۲۷۰، مستدرک۱؍۳۰۲وغیرہ]
     
  6. ‏اکتوبر 14، 2015 #26
    اویس تبسم

    اویس تبسم رکن
    جگہ:
    گجرات،پاکستان
    شمولیت:
    ‏جنوری 27، 2015
    پیغامات:
    366
    موصول شکریہ جات:
    133
    تمغے کے پوائنٹ:
    80

    صحیح احادیث کو چھوڑ کر ضعیف کی طرف کیوں بھاگتے ہو؟
    حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ،‏‏‏‏ عَنِ الْمُطَّلِبِ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ "الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى أَنْ تَشَهَّدَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ،‏‏‏‏ وَأَنْ تَبَاءَسَ وَتَمَسْكَنَ وَتُقْنِعَ بِيَدَيْكَ،‏‏‏‏ وَتَقُولَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ،‏‏‏‏ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ". سُئِلَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ مَثْنَى،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِنْ شِئْتَ مَثْنَى وَإِنْ شِئْتَ أَرْبَعًا.
    مطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز دو دو رکعت ہے، اس طرح کہ تم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور پھر اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر کرو اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو اور کہو: اے اللہ! اے اللہ!، جس نے ایسا نہیں کیا یعنی دل نہ لگایا، اور اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ کا اظہار نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے“۔ ابوداؤد سے رات کی نماز دو دو رکعت ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: چاہو تو دو دو پڑھو اور چاہو تو چار چار۔
    تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۱۷۲ (۱۳۲۵)، (تحفة الأشراف: ۱۱۲۸۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۶۷) (ضعیف) (اس کے راوی عبد اللہ بن نافع مجہول ہیں)
    سنن أبي داود،حدیث نمبر: 1296
     
  7. ‏اکتوبر 15، 2015 #27
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    281
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    محترم اب کیا ہو سکتا ہے؟؟؟؟؟
    محترم! مجھے نہیں معلوم کہ اماں عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ نے ان احادیث پر غور کیا تھا کہ نہیں وہ فرماتی ہیں کہ آقا علیہ السلام کا وتر کی ادائیگی کاآخری طریقہ یہ تھا؛

    صحيح البخاری کتاب الجمعہ بَاب قِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ
    ابوسلمۃ بن عبد الرحمن رحمۃ اللہ علیہ نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہ پڑھتے تھے- چار رکعت اس طرح پڑھتے کہ اس کی ادائیگی کی خوبصورتی اور طوالت کے بارے بس کچھ نہ پوچھو (یعنی بہت ہی خشوع وخضوع والی ہوتیں) پھر چار رکعت پڑھتے کہ اس کی ادائیگی کی خوبصورتی اور طوالت کے بارے بس کچھ نہ پوچھو (یعنی بہت ہی خشوع و خضوع والی ہوتیں) پھر تین رکعت ( وتر ) پڑھتے- عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ میری آنکھیں سوتی ہیں مگر میرا دل نہیں سوتا۔
    والسلام
     
  8. ‏اگست 08، 2017 #28
    فیاض عبدالباری ملتانی

    فیاض عبدالباری ملتانی رکن
    جگہ:
    اسلامک سنٹر محانی الطائف سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 03، 2015
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    11
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    جزاکم اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں