1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

وحدت الوجود اور اکابرینِ دیوبند

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از mominbachaa, ‏مارچ 07، 2016۔

  1. ‏جنوری 11، 2018 #21
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,922
    موصول شکریہ جات:
    2,540
    تمغے کے پوائنٹ:
    525

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جی میرے بھائی! اور جو عقیدہ غلط ہو وہ کفریہ ہوتا ہے!
    اور آپ کا درج ذیل قول اس کے کفریہ ہونے کی نفی کرتا تھا!
    کہ ناقدین وحدت الوجوداس کے کفری ہونے کے دلائل ڈھونڈنے کے لئے اپنی مرضی کے مطابق تعریف پیش کرتے ہیں!
    خیر آپ کے بیان میں ذرا غلطی ہو گئی!
    مگر جیسا آپ نے کہا کہ یہ عقیدہ غلط ہے!
    تو ناقدین وحدت الوجود جو اسے کفر قرار دیتے ہیں ان کا مؤقف درست ہے!
    ویسے یہ استاد قاسمی صاحب کون ہیں؟ ان کا تعارف کروا دیں!
    یہ بھی بتلا دیں کہ آیا یہ وحدت الوجود کے قائل ہیں!
     
  2. ‏جنوری 12، 2018 #22
    الیاس سعید

    الیاس سعید مبتدی
    جگہ:
    وزیرستان
    شمولیت:
    ‏جنوری 11، 2018
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    جو اپنے طرف سے خود ایسی تعریف کرلیں جسے خود صوفیہ بھی بیزار ہوں اور پھر اسی تعریف والے عقیدے کو کفری کہے پر یہ تو وحدت الوجود کی تکفیر نہیں ہے یہ تو ایک خیالی عقیدے کا تکفیر ہوگیا
     
  3. ‏جنوری 12، 2018 #23
    الیاس سعید

    الیاس سعید مبتدی
    جگہ:
    وزیرستان
    شمولیت:
    ‏جنوری 11، 2018
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    استاد قاسمی کا تعلق پکتیکا افغانستان سے ہے منطق ,فلسفہ اور علم کلام میں کمال مہارت رکھتا ہے
     
  4. ‏جنوری 12، 2018 #24
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,635
    موصول شکریہ جات:
    722
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    مزید تفصیل عنایت فرمائیے.

    ویسے میرا خیال ہے کہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی تعریفات کے حوالے سے خود صوفیاء میں اختلاف ہے. جب تعریف ایک نہ ہو تو پھر تبصرہ بجائے نام کے اس عقیدے پر کرنا چاہیے.
    مثلا شیعوں کا ایک عقیدہ امامیت کا ہے. ان میں اول تو خود اس کی تعبیر میں اختلاف ہے. پھر ان میں اور اہل سنت میں بھی اس میں اختلاف ہے. اہل سنت بھی امام کا لفظ استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے ہاں اس کا بالکل الگ معنی ہے.
    ایسی صورت میں اس پر یوں حکم نہیں لگایا جا سکتا کہ جو امامیت کا قائل ہو وہ کافر ہے.
    اسی طرح یہاں بھی ہونا چاہیے.
    وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی ایک عمدہ تفصیل بہت پہلے احسن الفتاوی میں پڑھی تھی. اب وہ مقام یاد نہیں ہے. بہرحال ڈھونڈی جا سکتی ہے.
     
  5. ‏جنوری 12، 2018 #25
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,922
    موصول شکریہ جات:
    2,540
    تمغے کے پوائنٹ:
    525

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اسی لئے میں ''ابن عربی کا عقیدہ وحدت الوجود'' کہہ کراس پر کلام کرنا بہتر سمجھتا ہوں!
    کیونکہ بعض نے نام تو وحدت الوجود کا ہی اختیار کیا ہے، لیکن اس کے بیان اور تاویل میں وہ ابن عربی والا عقیدہ نہیں ہوتا!
     
  6. ‏جنوری 12، 2018 #26
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,922
    موصول شکریہ جات:
    2,540
    تمغے کے پوائنٹ:
    525

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    غالباً اسی کا ذکر کیا ہے، جو آپ نے یہاں لکھی تھی:
     
    Last edited: ‏جنوری 12، 2018
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 12، 2018 #27
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,635
    موصول شکریہ جات:
    722
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    ابن عربی کی اپنی کتابیں کافی مشتبہ ہیں خصوصاً فتوحات وغیرہ۔ ان کی کتب میں کئی جگہ بنیادی تضادات ہیں۔ بعض محققین کا یہ کہنا ہے کہ ابن عربی کی کتابوں میں بڑے پیمانے پر رد و بدل ہوئی ہے اور بعض فرقوں نے ان کی شہرت سے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے۔
    یہ بات قرین قیاس اس لیے بھی معلوم ہوتی ہے کہ ابن عربی کی کتابیں ہم تک اس طرح نہیں آئیں جس طرح عام کتابیں آئی ہیں۔ یہ طریقہ نہیں ہوا کہ ابن عربی نے املاء کروائی ہو یا ان کے اصل نسخے سے ان کتب کو نقل کیا گیا ہو۔ بلکہ ان کے بعد ان کی کتابیں مختلف ذرائع سے منظر عام پر آئی ہیں۔
    اس حوالے سے یہ لنک دیکھیے۔ میں نے اس کی تحقیق نہیں کی ہے۔ اگر کوئی بھائی اس کی تحقیق کر دیں تو بہت اچھا ہوگا۔
    https://www.naseemalsham.com/ar/Pages.php?page=readTourism&pg_id=6870
     
  8. ‏جنوری 12، 2018 #28
    الیاس سعید

    الیاس سعید مبتدی
    جگہ:
    وزیرستان
    شمولیت:
    ‏جنوری 11، 2018
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    ابن عربی کا ھم عصر ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالٰی نے بھی انکے عقائد کی تردید کی ہے ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالٰی تک تو انکے عقائد جیسے تھے ویسے ہی پھنچے ہوں گے
     
  9. ‏جنوری 12، 2018 #29
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,635
    موصول شکریہ جات:
    722
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    علامہ ذہبیؒ نے بھی رد کیا ہے لیکن اگر اس زمانے کے حالات اور ابن عربی اور ابن تیمیہؒ کے اپنے حالات کو دیکھا جائے تو یہ بالکل بعید نہیں لگتا کہ وہاں بھی عقائد تبدیلی کے ساتھ پہنچے ہوں۔ خاص طور پر جبکہ ابن تیمیہؒ نے ان کی کسی کتاب یا تحریر کا ذکر نہیں کیا۔ اس دور میں تاتاریوں کے حملوں کے ساتھ ساتھ بے شمار گروہوں اور فرقوں کے مسائل بھی موجود تھے۔ باطنیوں کا خطرناک ترین گروہ بھی عروج پر تھا اور تصوف کے ذریعے لوگوں میں اپنی باتیں پھیلانا تو ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ جو غلط باتیں ابن عربی کی طرف منسوب ہیں وہ تقریباً وہی ہیں جو باطنی اپنے لیے استعمال کرتے تھے اور خصوصاً وحدت الوجود اور حلول کے عقیدے تو ان کی بنیاد تھے ۔ اگر ان کی کتب میں واقعی اس کے مخالف باتیں بھی ملتی ہیں تو پھر ایک ہی بات درست ہو سکتی ہے، یا صحیح والی اور یا غلط والی۔
    اسلامی تاریخ کا غالباً سب سے زیادہ افرا تفری والا دور یہ تاتاریوں اور باطنیوں کا ہے جس میں عقیدے سے لے کر حکومتوں تک سب کچھ تباہ ہو گیا تھا۔ اسی میں ہمارا بہت بڑا علمی ذخیرہ بھی ضائع ہوا ہے۔
     
  10. ‏جنوری 12، 2018 #30
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,635
    موصول شکریہ جات:
    722
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    ابن تیمیہؒ کے بارے میں ابن بطوطہ کے ساتھ جو اقوال آگے پھیلے ہیں وہ بھی اسی کی ایک مثال ہیں حالانکہ ابن بطوطہ کی ابن تیمیہ سے کوئی ذاتی پرخاش ظاہر نہیں ہوتی۔ اس کا کام ملکوں کے حالات بیان کرنا تھا اور اس میں اس کی کہی ہوئی اکثر باتیں ہمیں دوسرے ذرائع سے بھی بعینہ ملتی ہیں۔ نہ اس کا ابن تیمیہؒ سے کوئی فقہی اختلاف تھا اور نہ وہ اس لائن کا کوئی مشہور بندہ تھا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں