1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

وحدت الوجود اور اکابرینِ دیوبند

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از mominbachaa, ‏مارچ 07، 2016۔

  1. ‏جنوری 13، 2018 at 8:48 AM #31
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,902
    موصول شکریہ جات:
    2,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    بندہ پوچھے :
    جب قرآن مجید اور سنت نبویہ اور اقوال صحابہ میں سیدھا ،صاف اور آسان اسلامی عقیدہ موجود ہے ،
    تو " وحدۃ الوجود ،، وحدۃ الشہود " جیسے نوپید اور الجھے ہوئے باطنیت زدہ اندھیروں میں پڑنے کی ضرورت کیوں ؟؟؟؟
    یہ تو وہی " بندر سے انسان " والا معاملہ ہے ؟
     
    • پسند پسند x 5
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 14، 2018 at 11:24 AM #32
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,635
    موصول شکریہ جات:
    722
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    بندہ اس کے جواب میں عرض کرے:
    اگر ایک شخص اللہ کی ذات کو کامل اور اصلی مانے اور باقی سب کو اس کے سامنے ہیچ نداند سمجھےاور اس بات کو کوئی نام دے تو اس نام دینے سے اس کو منع کرنےکی حاجت کیوں؟؟؟؟
    یہ بندر سے انسان والا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ایک اضافی سوچ ہے جس سے آپ اس وقت تک منع نہیں کر سکتے جب تک اس کے خلاف کوئی دلیل نہ ہو۔ اگر یہ ان عقائد میں سے ہوتا جن پر کفر و اسلام کا دار و مدار ہے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم والا ایمان کافی ہے۔ لیکن یہ وہ چیز تو ہے نہیں۔ اب اگر ایک شخص کوئی اضافی سوچ رکھتا ہے تو اسے سوچ رکھنے سے تو منع نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں اس کی سوچ کے غلط اور صحیح ہونے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
    جب "عقیدے" کا نام لیا جاتا ہے تو عموماً ہمارے ذہن میں وہ چیز آتی ہے جس سے انسان کافر یا مسلمان ہوتا ہے۔ حالانکہ اصطلاح میں عقیدہ دل کے فعل یعنی سوچ کو کہتے ہیں۔ مثلاً نماز کو فرض سمجھنا عقیدے کا مسئلہ ہے اور سماع موتی بھی۔ اول الذکر تو کفر و ایمان کا مسئلہ ہے لیکن دوسرے میں تو خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہے تو یہ تو کفر اور ایمان کا مسئلہ ہو نہیں سکتا۔ لیکن اسے عقیدہ ہی کہا جاتا ہے۔
    اسی طرح کے کئی مسائل ہیں جو "عقیدے" کی کیٹگری کے تحت آتے ہیں یعنی ان میں جسمانی اعضاء کا عمل نہیں ہوتا لیکن اس سے وہ عقیدہ مراد نہیں ہوتا جو ہم اردو والے فوراً سمجھتے ہیں۔
     
  3. ‏جنوری 14، 2018 at 12:20 PM #33
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,902
    موصول شکریہ جات:
    2,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    اور بزگوں نے فرمایا ہے :
    معلوم شد کہ در عابد و معبود فرق کردن شرک است
    یعنی معلوم شدہ حقیقت ہے کہ عابد(مخلوق) اور معبود(خالق) میں فرق کرنا شرک ہے،
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 14، 2018 at 5:51 PM #34
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,635
    موصول شکریہ جات:
    722
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    شاید آگے یہ جملے آپ کی نظر سے گزرنے سے رہ گئے:
    اگر آپ اس سوچ کو غلط سمجھتے ہیں تو اس کا ضرور رد فرمائیے. اس سے تو میں نے انکار نہیں کیا.
     
  5. ‏جنوری 14، 2018 at 6:03 PM #35
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,922
    موصول شکریہ جات:
    2,540
    تمغے کے پوائنٹ:
    525

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اب ایک ایسی سوچ و نظریہ جو خالق و مخلوق کے درمیان فرق کو ختم کردے، اور فرق کرنے کو شرک قرار دے، ایسی سوچ کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟
    کیا آپ کے نزدیک یہ درست سوچ ہے، یا صرف غلط سوچ یا یہ کفر بھی ہے؟
     
  6. ‏جنوری 14، 2018 at 6:23 PM #36
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,902
    موصول شکریہ جات:
    2,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    ہم نے تو عرض گزار دی ۔۔۔۔۔
    بہ دیار عشق تو ماندہ ام زکسے ندیدہ عنایتے
     
  7. ‏جنوری 14، 2018 at 7:06 PM #37
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,635
    موصول شکریہ جات:
    722
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    ظاہرا غلط سوچ ہے لیکن میرے سامنے نہ اس کا سیاق ہے اور نہ سباق۔ وہ عنایت فرمائیں تو کچھ عرض کروں.
     
  8. ‏جنوری 15، 2018 at 3:36 PM #38
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,901
    موصول شکریہ جات:
    1,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم -

    آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اس امّت کی گمراہی کی اصل وجہ ہی یہ "اضافی سوچ ہے" - یہی کفر اور بدعت کی طرف پہلی سیڑھی ہے- اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے لئے یہ بھونڈی دلیل دی جاتی ہے کہ فلاں امر یا عقیدہ تو نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دور میں نہیں تھا - لہذا اس کو متلقاً "حرام یا کفر" کہنا صحیح نہیں- اگر اس طرح سے دیکھا جائے تو بہت سی چزیں اس دین میں حلال قرار پائیں گی-مثلاً چرس افیون، عورتوں کی ہم جنس پرستی، ہیجڑا پن، حب علی کی آڑ میں بعض اصحاب کرام رضوان الله اجمین پر تنقید تبرّا کرنا غیرہ -یہ سب امور بھی تو نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دور میں نہ تھے- تو کیا ہم ان امور کو حلال قرار دے سکتے ہیں آپ کے اس "اضافی سوچ" کے اصول کے تحت ؟؟ -

    مزید یہ کہ یہی "اضافی سوچ" کا وہ باطل نظریہ جس نے امّت میں "تصوف "جیسے گمراہ کن مذہب کی داغ بیل ڈالی- اور چوںکہ اس امّت کے بڑے بڑے اکابرین اس باطل مذہب کے جادو کا شکار ہوے - لہذا دور حاضر میں اس مذہب "تصوف" کی جس شد و مد کے ساتھ پشت پناہی کی جاتی ہے شاید ہی کسی اور نظریے کی کی جاتی ہو-

    آپ کہتے ہیں : "جب "عقیدے" کا نام لیا جاتا ہے تو عموماً ہمارے ذہن میں وہ چیز آتی ہے جس سے انسان کافر یا مسلمان ہوتا ہے۔ حالانکہ اصطلاح میں عقیدہ دل کے فعل یعنی سوچ کو کہتے ہیں" - تو محترم اس نظریہ کو اگر ذہن میں رکھ کر کسی کے کافر ہونے یا نہ ہونے کا "کلیہ" بنایا جائے تو کوئی عیسائی ، یہودی ، بدھ مت، یا ہندو بھی کافر نہیں رہتا - کیوں کہ ہمیں کیا پتا کہ کس کے دل میں کیا ہے -ظاہری طور پر تو ان کے ہاں بھی "گاڈ ، بھگوان ، یا خدا" کا تصور کسی نہ کسی صورت میں بہرحال موجود ہے؟؟ - لیکن عقلی طور پر ان کو "کافر" اسی لئے سمجھا یا کہا جاتا ہے کہ انہوں نے الله رب العزت کے تصور کو اسطرح تسلیم نہیں کیا جیسا کہ انبیاء کی تعلیمات کا مدعا تھا - ظاہر ہے کہ الله رب العزت کی ان اضافی و خود ساختہ صفات جو اس کی ذات اور اس کے احکام سے ثابت نہیں ان کو اپنے مرضی کے معانی پہنانا "کفر" نہیں تو پھر کیا ہے؟؟ -

    یعنی اگر کوئی "تثلیث" کا عقیدہ رکھے تو کافر کہلاے - اور اگر کوئی نام نہاد مسلمان اسی کی بگڑی شکل "جس کو وحدت الوجود کہا جاتا ہے" پر ایمان رکھے - تو وہ پھر بھی مسلمان کا مسلمان ہی رہے ؟؟ -کیسی عجیب منطق ہے -

    جہاں تک سماع موتی کا تعلق ہے تو اصحاب کرام رضوان الله اجمعین وغیرہ میں صرف اگر اختلاف تھا - تو "قلیب بدر" سے متعلق واقعہ سے تھا کہ آیا نبی کرم صل الله علیہ و آ له وسلم نے واقعی بدر کے کفار کے مردہ اجسام سے جب خطاب کیا تو انہوں نے سنا تھا یا نہیں؟؟- یعنی کچھ نے اس کو نبی کریم کا معجزہ سمجھا تو کچھ نے اس کو عام خطاب سمجھا (جیسے اماں عائشہ رضی الله عنھما وغیرہ)- توجیحات کے فرق کی وجہ سے اس کو عقیدے میں شمار نہیں کیا گیا - ورنہ قرآن کا تو واضح حکم ہے کہ عمومی طور پر مردہ نہیں سنتا (سوره فاطر ٢٢) -اور یہی اہل سنّت کا عقیدہ ہے-

    الله رب العزت سب کو ہدایت دے (آمین)-
     
    Last edited: ‏جنوری 15، 2018 at 3:41 PM
  9. ‏جنوری 15، 2018 at 7:28 PM #39
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,635
    موصول شکریہ جات:
    722
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    گزشتہ پوسٹس کا بغور مطالعہ فرمائیے اور اگر آپ واقعی میری کسی بات کو غلط سمجھتے ہیں تو دلیل کے ساتھ ارشاد فرمائیے تو اچھا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں