1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی حقیقت

'صوفیا کے عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از qureshi, ‏ستمبر 19، 2012۔

  1. ‏ستمبر 19، 2012 #1
    qureshi

    qureshi رکن
    جگہ:
    نہ تو زمیں کیلئے نہ آسماں کیلئے
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2012
    پیغامات:
    233
    موصول شکریہ جات:
    392
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    وحدت الوجود اور شہود پر بہت مباحث ہیں ،ا اس سلسلہ میں عہد حا ضرہ کی ایک عطیم المرتبت شخصیت کی صحبت میں یہ سوال پیش کیا گیا ،اس پر آپ نے یہ جواب عنایت فرمایا ،جوکہ پیش خدمت ہے۔
    وحدت الوجوداور وحدت الشھودکے بارے میں شیخ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اویسیہ حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان مد ظلہ عالی سے سوال اور اس کا جواب :
    سوال ۔اہل تصوف کے دو نظریات و حدت الوجود اور وحدت الشہود کا کیا مطلب ہے ۔وضاحت فرمائیے ۔
    (بحوالہ ماہنامہ المرشد فروری اور مارچ 2007)
    صوفیا کے مختلف مراقبات اور مختلف کیفیات ہوتی ہیں ۔جس طرح علوم ظاہری میں اسباق چلتے ہیں اسی طرح کیفیات باطنی بھی سبق درسبق چلتی ہیں اور ان کی مختلف کیفیات ہوتی ہیں ۔ جن دوستوں کے اسباق ہیں وہاں تک اور جنہیں مشاہدہ ہے اندازہ فرماتے ہوں گے کہ جب ’’ مراقبہ فنا ‘‘ کیا جاتاہے تو اس میں ہر چیز فنا ہوتی نظر آتی ہے حتیٰ کہ ساری کائنات فنا ہو جاتی ہے کچھ باقی نہیں بچتا ۔ کوئی چیز باقی نہیں رہتی ۔ ہر چیز فنا ہوجاتی ہے ۔اس کے بعد جب بقاباللہ کا مراقبہ کیا جاتا ہے ۔و یبقی ٰ وجہ ربک ذوالجلال والا کرام تو ہر وجود کے ساتھ قادر مطلق کے انوارت نظرآتے ہیں ۔ جن کی وجہ سے وہ قائم ہے تو سامنے سمجھ آرہی ہے کہ قائم بذات صرف اللہ کی ذات ہے باقی سارے وجود اس کے قائم بذات صرف اللہ کی ذات ہے باقی سارے وجود اس کے قائم رکھنے سے قائم ہیں ۔ اس کے بنانے سے بنتے ہیں اور اس کے مٹانے سے مٹ جاتے ہیں ان کی اپنی ذاتی کوئی حثییت نہیں ہے ۔ جب اس کیفیت سے صوفیا ء گزرے تو انہوں نے کہا کہ وجودراصل ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے ۔جو ازل سے ابد تک ہے ، ہمیشہ ہے ،ہر حال میں ہے ہر جگہ ہے ۔ باقی نہ ہونے کے برابر ہیں اور صرف اس کے قائم رکھنے سے قائم رہتے ہیں اس کے مٹا دینے سے مٹ جاتے ہیں ان کی کوئی ذاتی حثییت نہیں ہے ۔ اسے’وحدت الوجود ‘ کا نام دیا گیا ہے کہ وجود صرف ایک ہے واحد لا شریک ہے۔باقی وجودوں کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے ۔شیخ محی لدین عربی ؒ نے جب اس نظر یے کو اپنی کتاب میں جگہ دی اور اس پر بحث فرمائی تو پھر یہ مستقل ایک نظریہ بن گیا ۔ لیکن اس کا مفہوم یہ تھا جو میں عرض کر رہا ہوں۔
    کاملین سے جاہلین
    یہ بات کا ملین کی تھی ، اہل علم کی تھی ۔بعد میں جب لوگ آئے ان کا کمال نہ علوم باطنی میں اس پائے کا تھا نہ علوم ظاہری میں ان کے علوم اس پائے کے تھے تو اس میں ایک قبا حت آگئی ۔ بجائے اس کے کہ یہ سمجھا جاتاکہ اللہ ہی باقی ہے جو کچھ ہے یہ فانی ہے سمجھا یہ جانے لگا کہ ہر وجود میں اللہ ہے ۔وحدت الوجود کاجو مفہوم تھا وہ یکسر بدلنے لگا تو یہ ہندؤوں والا عقیدہ بننے لگ تھا جیسے ہر وہ طاقت جسے وہ ناقا بل تسخیر سمجھتے ہیں کہ اس میں بھگوان موجود ہے ۔ بڑا پہاڑ ہوتو اس کی پوجا شروع کر دو، بڑا درخت ہو تو اس کی پو جاشروع کر دو ۔کو ئی بھی جانور ایسا ہوتا جو قابو نہ آئے تو اس کی پوجا شروع کرنا کہ اس میں بھگوان ہے ۔تو وہ اس میں قبا حتیں در آئیں نااہلوں کی وجہ سے وہ یہ تھیں ۔ ان قباحتوں کی وجہ سے حضرت الف ثانی ؒ نے اس کے مقابلے میں کروحدت الشہود کا لفظ دیا کہ ہر چیز ہر وجود اس کی وحدت پہ گواہ ہے یعنی ہر وجود کی ذات ہے وہ اس کی قدرت کاملہ پہ گواہ ہے ۔اس کی شہادت دے ہی ہے تو ان قباحتوں سے بچنے کے لئے اس کی اصلاحی صورت تشکیل دی گئی جس میں خطرہ کم تھا یا نہ ہونے کے برابرتھا ۔اب جسے گمراہ ہونا ہو اور کوئی ایسی گستاخی کر بیٹھے کہ اللہ کریم اسے رو کر دے تو گمراہ ہوتا ہی ہے ۔
    ویھدی الیہ من ینیب قرآن حکیم کتاب ہدایت ہے لو گ اس کی وجہ سے اعتراض تراش کر گمراہ ہو جاتے ہیں تو جو آب حیات پی کر مر جائے اب اس کا علاج ہے لیکن وہ خطرات ختم ہو گئے اور اصل بات نکھر کر سامنے آگئی ۔ اسے حقوق دے ہیں اسے زندگی سی ہے یا اسے شعور دیا ہے لیکن وہ گواہ ہے اللہ کی قدرت کاملہ پر ۔وہ انسان ہے یا حیوان ہے ‘ جاندار ہے نباتات ہے ، آسمان ہے یا زمین ہے ‘ کوئی وجود بھی ہے تو وہ ایک شہادت دے رہا ہے اور سب شہادت جو ہے وہ اللہ کی قدرت کاملہ پر ہے ، اس کے خالق اور اس کی قادر مطلق ہونے پر ہے تو یہ ان خطرات سے بچنے کے لئے جو لوگوں کی علمی یا باطنی استعداد کی کمزوری کی وجہ سے وحدت الوجود کیاا صطلا ح سے در آئے تھے ان سے بچنے کیلئے جو لوگوں کی علمی یا باطنی استعداد کی کمزوری کی وجہ سے وحدت الوجود کی اصطلاح سے در آئے تھے ان بچنے کے لئے یہ راستہ اپنایا گیا ۔ وحدت الشہود کا تو یہ اصطلاحات ہیں یہ نظریات نہیں ہیں یہ اصطلاحات ہیں ۔
    نظریات یا عقائدوہی ہیں جو شریعت مطہرہ نے بیان فرما دئیے ۔( حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان مد ظلہ عالی)
    نظریات یا عقائد وہی ہیں جو شریعت مطہرہ نے بیا ن فرمادئیے ۔اب مختلف کیفیات کے اظہار کے لئے مختلف اصطلاحات ہیں جن سے اس کی کیفیت کا اظہار مطلوب ہے ۔ تو اپنی اصل دونوں درست ہیں ان میں اختلاف نہیں ہے ۔ صرف یہ ہے کی وحدت الوجود جب کہاگیا تو اس میں خطرات درآئے اور بجائے اس کے یہ سمجھاجا کہ ہر وجود جو ہے اسکی ذاتی کوئی حثییت نہیں ہے سمجھایہ جانے لگاکہ ہر وجود اللہ ہے ۔تو اس کی اصطلاح حضرت مجددؒ جو لائے وہ تھی وحدت پر ہے ۔اس کے خالق کائنات ،خالق کل اور قادرمطلق ہونے پر ہے تو وہ نظریات ہیں جن کے پاس علوم ظاہربھی ہوں اور انہیں کمالات باطنی بھی حاصل ہوں ۔تو عموماًاہل علم جو اس شعبے میں آتے ہیں تو یہ ان کے بحث کرنے کی باتیں ہیں اور اپنے علم کے مطا بق اسے سمجھتے ہیں اور اس میں غلطیاں ہوتی ہیں ۔دراصل بات ایک ہی ہے اس کے لئے اصطلاحیں دو ہیں اور یہ بنیادی عقیدہ ہے اسلام کا اس میں سے ہے کہ قائم بذات صرف اللہ ہے باقی ہر چیز فانی ہے اور جسے اللہ بناتا ہے بنتی ہے جسے اللہ مٹادیتاہے مٹ جاتی ہے ۔
    کو ئی تشریح ان حدود سے متجاوزنہیں ہونی چاہیے جو شریعت مطہرہ نے متعین فرمادی ہیں
    تشریح کی حدود متعین کرتے ہوئے حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان مدظلہ عالی نے فرمایا:
    یہ ایسا فن ہے کہ اسمیں ہر شخص کو اپنی استعداد اور اپنی علمی استعداد جس طرح اللہ کریم نے مختلف استعداددی ہے علم ظاہر کے لئے ۔دو شخص اکٹھے پڑھتے ہیں ایک استاد سے پڑھتے ہیں ایک جیسی کتابیں پڑھتے ہیں لیکن دونوں کی حثییت الگ الگ ہوتی ہے ۔اس لئے کہ دونوں کی اپنی استعداد جو ہے حصول علم کی وہ الگ ہوتی ہے ۔اس طرح بے شمار لوگ اللہ اللہ سیکھتے ہیں ،کیفیات باطنی حاصل کرتے ہیں ایک ہی استاد سے ایک ہی وقت میں کرتے رہتے ہیں لیکن ہر حال الگ ہوتاہے ۔ جس طرح کی کیفیات کی استعداد اللہ کریم نے اسکے وجود میں رکھی ہوتی ہے اس طرح کی کیفیات بھی حاصل کرتاہے اور جس طرح کا شعورو آگہی کا مادہ اس میں اللہ کریم نے رکھا ہوتاہے اسی طرح سے وہ سمجھتاہے ۔تو اصولی بات یہ ہے کہ جو بنیادی عقائدہیں شریعت کے اصل ہیں ۔آگے یہ سب تشریحات ہیں اور کوئی تشریح ان حدودسے متحاوزنہیں ہونی چاہیے جو شریعت مطہرہ نے متعین فرمادی ہیں ۔ان حدودکے اندروضاحتیں ہیں تفصیلات ہیں ۔جیسے قرآن حکیم کی تفسیر میں بے شمار تفصیل لکھی حضرات نے اللہ مفسرین کرام پرکروڑوں رحمتیں نازل فرمائے لیکن اس سب کا معیار یہ ہے کہ وہ جتنی تفصیل میں چلے جائیں وہ تفصیل ان حدود کے اندرہونی چاہئے جو حضوراکرمﷺ نے متعین فرمادیں ۔ شارحیں حدیث نے حدیث مبارکہ پر بڑی لمبی بحثیں فرمائی ہیں۔مختلف لوگوں نے اعتراض کئے ۔حضرات نے ان کے جواب دئیے اور ایک ایک حدیث پر بہت بڑی بڑی لمبی بحثیں ہیں تو شرط بنیادی صرف یہ ہے کہ جو نبی کریم ﷺ کی مراد رتھی ۔ارشاد سے آپ ﷺ کی مراد کیا تھی اس کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اس کا کیامفہوم سمجھا، اس پر حضورﷺ کے سامنے کیسے عمل کیا اور حضور ﷺ نے اسکی تصدق فرمائی وہ ہوجاتی ہے ۔ ان الفاط سے مراد کیا تھا اس حد کے اندر جتنی تشریح ، جتنی تفصیل ہوتی رہے ۔جب اس حد سے متصادم ہو گی تو باطل ہو جائے گی ۔چو نکہ حق اس کے اندر ہے ۔اس طرح صوفیا کے مراقبات ہوتے ہیں کیفیات ہوتی ہیں مختلف کیفیات سمجھتے ہیں وہ اور ان کی تعبیر ات ان کو دیتے ہیں لیکن اس سب کی شرط یہی ہے کہ شریعت مظہرہ کی حدود کے اندجو کچھ ہے وہ حق ہے جہاں سے کسی کی کیفیت یا کسی کا کشف یا کسی کا الہام شریعت سے متصادم ہوگا تو باطل ہو جائے گا اور شریعت بر حق ہے ۔
    وحی کی کیفیت بیان کرتے ہوئے حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان مدظلہ عالی نے فرمایا:
    ہوتایہ ہے کہ انبیا ء علیہم الصلوۃ والسلام نے بھی ساری شریعت کشف وا لہام سے ، وحی سے حاصل فرمائی ۔وحی کی کیفیت بھی صرف نبی پہ ظاہر ہوتی ہے کوئی دوسرا جو پاس بیٹھا ہوا اور وحی نازل ہو رہی ہوتو دوسرے کو سمجھ نہیں آتی ۔اس طرح کشف و الہام بھی صاحب کشف والہام پہ وارد ہوتاہے کوئی ساتھ دوسرا بیٹھا ہواسے سمجھ نہیں آتی ۔لیکن نبی کریم ﷺ پر جو وارد ہوتااس میں دوباتیں یقینی تھیں ۔اس میں ایک تو حضور ﷺ پہ جوکچھ واردہوتاوہ حق ہوتا تھا۔اس میں شیطان مداخلت نہیں کرسکتا تھا۔دوسری بات یہ حق ہوتی تھی کہ جو کچھ حضور پہ وحی یا کشف سے ‘ یا نبی کا خواب بھی وحی الہیٰ ہوتاہے ‘ خواب سے اگر کوئی بات نبی پہ وارد ہوتی ہے تو وہ بھی وحی ہوتی ہے اور وہ بھی برحق ہوتی ہے نہ اس میں شیطان مداخلت کرتا ہے اورنہ اللہ کے نبی کوسمجھنے میں غلطی لگتی ہے۔
    صوفیا ء اور انبیا ء کے کشف اور مجاہدہ میں فرق :
    جو کشف اور مجاہدہ صوفیاء کو ہوتاہے وہ بھی وہی ہوتاہے جو نبی کو ہوتاہے ۔اس لئے کہ باتباع نبی اور نبی کی اطاعت میں فنا ہونے سے وہ برکات نصیب ہوتی ہیں ۔لیکن یہاں بہت بڑا فرق ہے ۔صوفی کے مشاہدے یا اس کے القایا کشف میں شطان بھی مداخلت کرسکتاہے ۔یہ دونوں خطرات ولی کے ساتھ موجود ہیں جو نبی کے ساتھ نہیں ہیں ،لہٰذاہر ولیٰ االلہ کا کشف ومشاہدہ محتاج ہے نبی کے ارشادات عالیہ کا ۔ اگر حضور ﷺ کے احکام کی حدود کے اندر ہے ،اس کے مطابق ہے تو درست ہے اگر متصادم ہے تو باطل ہے ۔دوسری بات یہ ہوتی ہے کہ جو کشف نبی کو ہوتوہے ،جوا لہام نبی ہوتا ہے ،جو وحی نبی پہ آتی ہے ، جو خواب اللہ کا نبی دیکھتا ہے ساری امت اس کی مکلف ہوتی ہے۔پوری امت کو وہ ماننا پڑتا ہے ۔ جو مشاہدہ ولی کو ہوتا ہے کو ئی دوسرا بندہ اس کا مکلف نہیں ۔صاحب مشاہدہ اگر اس کا مشاہدہ شرعی حدود کے اندر ہے تو اس پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہے کہ فلاں کو یہ کشف ہوااس لئے میں یہ عمل کروں ۔ یہ شان صرف انبیاء علیہم الصلوۃوالسلام کی ہے تو لہذا کو ئی بھی نظریہہو یا اسے آپ اصطلاح کہیں یا کشف کہیں یا مشاہدہ کہیں تو بنیاد شریعت مطہرہ ہے اور ارشادات نبوی ﷺاور قرآن اور حدیث ہے اور سنت ہے اس کے اندر اندر اس کی تشریحات اس کی تفصیلات علماء کو اللہ کریم علم کے راستے بتادیتاہے ،علم کے ذریعے سے سمجھا دیتا ہے اور بڑی بڑی بحثیں علماء حضرات نے فرمائی ہیں اور علما ہی کو مشاہدات بھی نصیب ہوتے ہیں ۔جو اس طرف آجائے اس اللہ کریم کشف اور مشاہدے سے سرفراز فرماتے ہیں ان کے کشف سے کوئی نیا حکم جاری نہیں ہو سکتااور شرعی حدود سے باہر بھی نہیں ہو سکتیں ۔اسلام تو ارشادات نبویﷺ کا نام ہے ، اسلام تو اعمال نبوی کا نام ہے ،اسلام تواخلاق نبوی ﷺکا نام ہے ۔جو حضور ﷺ نے سکھادیا وہ اسلام ہے۔
     
  2. ‏ستمبر 19، 2012 #2
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    تو حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور رشید احمد گنگوہی صاحب آپ کے نزدیک کاملین میں سے ہیں یا جاہلین میں سے ؟
     
  3. ‏ستمبر 19، 2012 #3
    qureshi

    qureshi رکن
    جگہ:
    نہ تو زمیں کیلئے نہ آسماں کیلئے
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2012
    پیغامات:
    233
    موصول شکریہ جات:
    392
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    ان دونوں بزرگ شخصیات کے متعلق اگر آپ جاننا چاہتے ہیں ،تو قدم قدم پر دیو بندیوں مکتہ فکر کی مساجد اور مدرسے ہیں،آپ ان سے رجوع کریں ،ہم نے جو سمجھا آپ تک پہنچایا ہے،ویسے میں آپ کو بتا دوں ابن عربیؒ کو اچھا کہنے والے صرف دیوبندی ہی نہیں بلکہ ا اہلحدیث کی اکابرین شخصیات بھی آپ ؒ کی تعریف میں رطب السان ہیں ۔رہا مسلئہ حا فظ زبیر یا طالب ارحمن صاحب یا بھر ادھر سے حنفی شاہ سوار تا یہ لوگ مقابلہ باز ہیں،اور ان کے اس مقابلہ سے اس امت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
     
  4. ‏ستمبر 20، 2012 #4
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    ﻳﮧ ﻣﻴﺮﮮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﻴﮟ ﮨﮯ.
     
  5. ‏ستمبر 20، 2012 #5
    qureshi

    qureshi رکن
    جگہ:
    نہ تو زمیں کیلئے نہ آسماں کیلئے
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2012
    پیغامات:
    233
    موصول شکریہ جات:
    392
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    بھائی جو میں جانتا تھا وہ عرض کر دیا ہے۔
     
  6. ‏ستمبر 22، 2012 #6
    Hasan

    Hasan مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 02، 2012
    پیغامات:
    103
    موصول شکریہ جات:
    426
    تمغے کے پوائنٹ:
    0


    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]


    ایک سرچ کے دوران اس اقتباس پر نظر پڑی-

    اہلحدیث میں جو حضرات تصوف کے کسی قدر قائل یا ابن عربی وغیرہ کے کفر کی کوئی (باطل) تاءویل کرتے رہے ہیں وہ بھی وحدت الوجود سے کشید کردہ ایسے کفریہ عقائد کے حامل نہ تھے- اس لیے آپ کا ایسے موازنے کرنا عبث ہے-
     
  7. ‏ستمبر 22، 2012 #7
    qureshi

    qureshi رکن
    جگہ:
    نہ تو زمیں کیلئے نہ آسماں کیلئے
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2012
    پیغامات:
    233
    موصول شکریہ جات:
    392
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    [
    میرے بھائی آپ سے میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ آپ مہاجر مکیؒ کے یہ اقتبسات ان کے علماء کے پاس لے جائے اور ان سے پوچھے کہ ہمیں بتائیں ان تحریرات پر آپکا موقف کیا ہے اور اس جواب کو فقہاء کے سامنے رکھ کر فیصلہ لے لے۔ بندہ مفتی نہیں ہے ہاں اتنا جانتا ہوں کہ بندہ کسی مقام پر خدا نہیں بن سکتا اور خدا بندہ کے کتنا قریب آ جائے رب رب ہے رب بندہ نہیں ہو سکتا جو اقتبسات آپ نےپیش کیے ہیں ،وہاں پر اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں اور ہر فن کی اپنی اصطلاحات ہوتی ہیں لہذا دیوبند میں بہت لوگ ہیں جو تصوف کے مدعی ہیں آپ ان سے رابطہ کریں جو جواب ملا مجھے آگاہ کرنا آپ کا مشکور ہونگا۔

    ناشائستہ الفاظ حذف ۔۔۔ انتظامیہ!
     
  8. ‏ستمبر 22، 2012 #8
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    مزا جب ہے کہ انسان انصاف کی بات کرے۔ قریشی صاحب کا تو نہ کوئی دین ہے نہ ایمان یہ بے پیندے کے لوٹے ہیں کبھی ادھر کبھی ادھر

    قریشی صاحب آپ نے بہت اچھا مشورہ دیا ہے لیکن کیا خود بھی کبھی اس پر عمل کیا ہے؟؟؟

    چلیں تیار ہوجائیں اور سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین وغیرہ نے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کی ہیں اور جو حال ہی میں ایک امریکی نے گستاخانہ ویڈیو بنائی ہے انکی تحریریں، ویٍڈیو اور کتابیں لے کر ان کے پاس پہنچ جائیں اور پوچھیں کہ مسلمان جو تم لوگوں پر گستاخیوں کا الزام لگاتے ہیں وہ کس حد تک درست ہیں اور تم لوگوں کا ان گستاخیوں پر کیا موقف ہے پھر وہ جو جواب دیں اس کے مطابق فیصلہ کریں کہ واقعی یہ لوگ گستاخ رسول ہیں یا نہیں۔ یہ کیا کہ کچھ لوگوں نے انہیں گستاخ رسول کہا اور آپ انکا نقطہ نظر سنے اور سمجھے اور بغیر تحقیق اس پر ایمان لے آئے۔ کیا پتا جن تحریروں، ویٍڈیوز اور کتابوں کو دوسرے مسلمان گستاخی رسول سمجھ رہے ہیں وہ اصطلاحات ہوں یا کوئی اور معاملہ ہو۔ اسکی مثال دیکھیں:

    گستاخانہ فلم میں کام کرنے والی اداکارہ سنڈی لی گارسیا نے کہا ہے کہ اسکے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے اسے جو اسکرپٹ دیا گیا تھا اس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں تھا اور اسکی ڈبنگ بھی بعد میں کی گئی ہے۔ دیکھئے: Daily Publications | Daily Ummat Karachi provides latest news in urdu language.

    اگر قریشی صاحب تھوڑی سی کوشش کریں تو کیا معلوم یہ حقیقت سامنے آئے کہ تمام دنیا کے مسلمان جس ویڈیو کو دیکھ غلط فہمی میں مبتلا ہوئے اور وہ اصل میں گستاخی ہی نہ ہو بلکہ اسی طرح کے معاملات ہوں جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ویسے بھی یہ گستاخان رسول اپنی زندگیوں سے بے زار آگئے ہیں اور انہیں دن رات مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے قتل کا خوف ہے۔ اگر قریشی صاحب انکا موقف سن اور سمجھ کر مسلمانوں کو قائل کردیں تو وہ لوگ قریشی صاحب کا احسان زندگی بھر نہیں بھولیں گے۔
     
  9. ‏ستمبر 22، 2012 #9
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    بریں عقل ودانش بباید گریست
    کیاکسی بھی احتجاج کرنے والوں نے اداروں کے خلاف احتجاج کیاہے ۔ سب لوگ فلم بنانے والے ہدایت کار ڈائرکٹر کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ تمام لوگ اس معاملے میں فلم میں کام کرنے والوں کو معذور سمجھتے ہیں کہ ان کو حقیقت کا علم نہ تھا لیکن ڈائرکٹر کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔کیونکہ اصل منصوبہ ساز اورخبیث وہی ہے۔اوریہی وجہ ہے کہ تمام اداکار اپنے مقامات پر ہیں صرف ڈائرکٹر اوراس کے اہل خانہ روپوش ہوگئے ہیں۔
    ویسے آپ کے اس موقف کے اعتبار سے آپ اپنی جماعت کو مشورہ دیں کہ وہ ڈائرکٹر کے ساتھ ساتھ فلم میں کام کرنے والوں کے خلاف بھی احتجاج کرے۔بلکہ صرف اداکاروں کے خلاف ہی احتجاج کرے ۔
     
  10. ‏ستمبر 22، 2012 #10
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    محترم، دوسروں کی بات کو سمجھنے کے لئے بھی کچھ وقت نکال لیا کریں۔ پھر جواب لکھا کریں۔
    کیا ڈائریکٹر اور نشریاتی ادارے مجرم ہیں اور ایکٹر مجرم نہیں ہیں؟
    ایکٹرز جرم کے لحاظ سے کسی درجہ میں بھی کم نہیں۔
    ہاں اگر ان کی بے گناہی کسی طرح سے ثابت کر دی جائے تو الگ بات ہے۔
    شاہد صاحب نے جس تناظر میں یہ مثال دی ہے بالکل درست دی ہے۔ آپ ہی کو غلط فہمی لاحق ہو گئی اور کچھ کا کچھ مطلب لے بیٹھے ہیں۔
    بلکہ آپ کی گفتگو سے تو ایسا لگتا ہے کہ گستاخی پر مبنی فلم ہو تو ایکٹر تو بری الذمہ ہی ہوتے ہیں، اصل گستاخ ہوتے ہی فقط ڈائریکٹر، پبلشر ہیں۔
    وہی کہ۔
    بریں عقل ودانش بباید گریست
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں