1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وحدت رویت اور اختلاف مطالع

'رویت ہلال' میں موضوعات آغاز کردہ از کیلانی, ‏جولائی 21، 2013۔

  1. ‏جولائی 21، 2013 #1
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    یہ بحث درج ذیل دھاگہ سے الگ کی گئی ہے




    رؤیت حلال کے باب میں اختلاف مطالع کے حوالے سے علماء کی دو طرح کی آراء ہیں۔پہلی یہ کہ اختلاف مطالع کا خیال نہیں رکھا جائے گا۔یعنی ایک شہر یا ملک والوں کے ساتھ ہی سب کے مہینے کا آغاز ہوگا۔اس رائے کے قائلین میں سے امام مالک،اما م ابوحنیفہ اور ابن حمبل ہیں ۔علماء کی ایک دوسر جماعت کا کہنا ہے کہ اختلاف مطالع کا اعتبار ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔اس رائے کے قائلین میں سے امام شافعی کا نام نمایاں ہے۔علماء کے ان دونوں طرح کی آرا میں اختلاف کا سبب حدیث کے الفاظ کا مختلف مفہوم لینے کی وجہ سے ہے پہلے گروہ کے نزدیک حدیث میں جو آیا ہے کہ ’’جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو‘‘ اس حکم سے مراد یہ ہے کہ کسی ایک شہر یا ملک والے دیکھ لیں تو باقی سب ان پر اعتماد کا اظہار کریں۔جبکہ دوسری رائے رکھنے والے علماء کے نزدیک آپﷺ کا یہ خطاب ہر شہر یا ملک والوں کے لئے الگ الگ ہے۔
    علماء کی مذکورہ رائے کے تناظر میں اگر دلائل کا جائزہ لیا جائے تو وہ دوسری رائے کی تائید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مثلا صحیح مسلم میں حضرت ابوکریب روایت فرماتے ہیں کہ میں شام گیا وہاں میں نے چاند دیکھا تو لوگوں کے ساتھ روزہ رکھ لیا اور جب مہینے کے آخرمیں مدینے آیا تو ابن عباس سے ملاقات ہوئی انہوں نے پوچھا کہ تم نے کس دن روزہ رکھا میں نے کہا جمعہ والے دن فرمانے لگے ہم نے ہفتے والے دن رکھا اور اگر ہم نے چاند نہ دیکھا تو ہم تیس پور ے کریں گے۔کہتے ہیں میں نے کہا کیامعاویہ والا روزہ کافی نہیں؟تو آپ نے فرمایا ہمیں اللہ کے رسول نے اسی طرح حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ اگر غور کریں تو عقلی طور پر بھی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کئی ایک مقامات کا اوقات کے لحاظ سے فرق ہے لحاظہ بظاہر یہی بات سامنے آتی ہے کہ اختلاف مطالع کا خیال رکھنا چاہیے واللہ اعلم بالصواب۔
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 22، 2013 #2
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    اختلاف مطالع ایک فطری حقیقت ہے جس کا انکار نہ تو امت کے فقہاء و محدثین میں سے کسی نے کیا ہے اور نہ ہی ماہرین فلکیات کے مابین اس میں کوئی اختلاف ہے، لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا اختلاف مطالع کا اعتبار کیا جائے گا یا نہیں؟ محترم کیلانی صاحب حفظہ اللہ نے اس مسئلہ میں ائمہ کرام کے مذاہب ذکر کردئے ہیں جو کہ بالکل درست ہیں۔ البتہ موصوف نے جس مذہب کو ترجیح دی ہے اس پر ہمارے چند اشکالات ہیں:

    ۱۔ آپ نے فرمایا "جبکہ دوسری رائے رکھنے والے علماء کے نزدیک آپﷺ کا یہ خطاب ہر شہر یا ملک والوں کے لئے الگ الگ ہے۔" سوال یہ ہے کہ نبی علیہ السلام کا کلام بذات خود کس چیز پر دلالت کرتا ہے"اطلاق" پر یا "تقیید" پر؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا: "صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته" حدیث کے الفاظ میں تو شہر، علاقے یا ملک کی کوئی قید نہیں تو پھر دوسری رائے رکھنے والے علماء کی رائے کیونکر معتبر مانی جائے؟ اور اگر ان حضرات کے پاس دیگر نصوص سے تقیید کی کوئی دلیل ہے تو پیش کریں۔

    ۲۔ آپ نے فرمایا: "علماء کی مذکورہ رائے کے تناظر میں اگر "دلائل" کا جائزہ لیا جائے تو وہ دوسری رائے کی تائید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔" جہاں تک میں جانتا ہوں تو دوسری رائے کے حاملین کے پاس نصوص شریعہ سے صرف ایک ہی دلیل ہے اور وہ کریب رضی اللہ عنہ سے مروی مشہور روایت ہے جو آپ نے اوپر ذکر فرمائی ہے۔اس کے علاوہ قرآن و حدیث سے کوئی دلیل ہو تو ضرور پیش کیجئے۔ جہاں تک حدیث کریب کا تعلق ہے تو اگر مکمل روایت کو غور سے پڑھا جائے توپوری روایت میں نبی علیہ السلام کے الفاظ یا آپ کا عمل کہیں پر بھی ذکر نہیں کیا گیا سوائے "هکذا أمرنا رسول الله ﷺ" کے جس پر ہم ابھی کلام کریں گے۔ اس کے علاوہ اس روایت جو کچھ بھی ہے اگر اس کو اختلاف مطالع کے معتبر ہونے پر دلیل مان بھی لیں تو وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذاتی اجتہاد ہی ہے جو حدیث مرفوع "صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته" کے مخالف ہے لحاظہ ہمیں تسلیم نہیں کیونکہ حجت نبی علیہ السلام کے صریح قول "صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته" میں ہے نہ کہ کسی صحابی کے اجتہاد میں۔

    ۳۔ جہاں تک ابن عباس رضی اللہ عنہ کے فرمان "هکذا أمرنا رسول الله ﷺ" کا تعلق ہے تو سوال یہ ہے کہ "هكذا" کہہ کر ابن عباس رضی اللہ عنہ کس چیز کی طرف اشارہ کررہے ہیں؟ اگر یہ کہا جائے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اختلاف مطالع کے معتبر ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ کب کہا کہ شام کی رویت میرے لئے کافی اسلئے نہیں ہے کہ شام کی رویت تو حجاز والوں کیلئے معتبر ہی نہیں، نہ ہی آپ نے یہ فرمایا کہ شام اور مدینہ کا مطلع جدا ہے لحاظہ ان کی رویت ہمارے لئے معتبر نہیں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے کلام کو اختلاف مطالع کے معتبر ہونے پر محمول کرنا زبردستی ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ ابو کریب کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اہل شام کے عمل کو اختیار نہیں کیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ابن عباس کے کلام کا مفہوم ہے کیا اور آپ نے اہل شام کی رویت کو کیوں نہیں اختیار کیا؟ تو اس بارے میں فقہاءِ حدیث کی توجیہات ملاحضہ فرمائیں:
    ۱۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ابو کریب کی گواہی کو اس لئے نا کافی سمجھا کہ اس امر میں کم از کم دو گواہوں کی ضرورت تھی جبکہ یہاں ابو کریب اکیلے تھے۔
    ۲۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ خبر اس وقت پہنچی جب اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں تھا کیونکہ اس وقت رمضان کا مہینہ اپنے اخری دنوں میں تھا جیسا کہ ابو کریب کے الفاظ سے واضح ہے "ثم قدمت المدينة آخر الشهر" یعنی "پھر میں مدینہ پہنچا مہینے(رمضان) کے آخر میں"۔ گویا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو اہل شام کی رویت کا علم رمضان کے آخر میں ہوا جبکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا اسی لئے آپ نے فرمایا کہ ہم تو برابر اپنے شہر والوں کیساتھ روزے رکھیں گے یہاں تک کہ ۳۰ دن مکمل کرلیں یا ہم اس سے قبل شوال کا چاند دیکھ لیں یعنی ۲۹ دن پر رمضان کا اختتام کرلیں۔

    معلوم ہوا کہ کریب والی روایت میں ایک سے زیادہ احتمالات ہیں اور اصول فقہ کا یہ قاعدہ ہے کہ "اذا وجد الاحتمال بطل الاستدلال" یعنی "جب احتمال موجود ہو تو استدلال باطل ہوجاتا ہے" لحاظہ کریب والی روایت سے استدلال باطل ٹھہرا۔ دوسری بات یہ کہ ابو کریب والی روایت ظن کا فائدہ دیتی ہے اور نبی علیہ السلام سے مرفوع حدیث "صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته" قطعی الدلالۃ ہےاور یہ بات معلوم ہے کہ ظن کے مقابلے میں یقین کو ترک نہیں کیا جاتا۔

    واللہ المستعان
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 22، 2013 #3
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    یہ دلیل کہاں سے لی کہ دو گواہوں کی ضرورت ہے؟؟؟۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 22، 2013 #4
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اس موضوع پر سب سے بہترین اور مفصل کتاب غازی عزیر حفظہ اللہ کی ’’وحدت رویت اور اختلاف مطالع کی شرعی حیثیت‘‘ ہے۔
    موصوف نے قائلین وحدت کے تمام دلائل کا مفصل جواب دیا ہے اور اسی موقف کو ترجیح دی ہے کہ ہرعلاقہ کے لوگ اپنی اپنی رویت ہی کا اعتبار کریں گے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 22، 2013 #5
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    جنہوں نے یہ توجیہ کی ہے انہیں سے پوچھیں میں نے اس توجیہ سے اتفاق تو نہیں کیا۔ ویسے دو گواہوں والی بات عید الفطر کے متعلق کی گئی ہے یعنی عید کیلئے اہل شام کی رویت کو قبول کرنے میں اب عباس رضی اللہ عنہ کے پاس صرف ایک کریب کی گواہی تھی جو کہ ناکافی ہے۔ یہی بات شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے فتاوی میں ذکر فرمائی ہے:"وَقَدْ أَجَابَ أَصْحَابُنَا بِأَنَّهُ إنَّمَا لَمْ يُفْطِرْ لِأَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ عِنْدَهُ إلَّا بِقَوْلٍ وَاحِدٍ فَلَا يُفْطِرُ بِهِ" "ہمارے اصحاب نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ دراصل ابن عباس رضی اللہ عنہ نے افطار (رمضان کا اختتام) اسلئے نہیں کیا کیونکہ ان کے نزدیک یہ رویت صرف ایک راوی کے قول سے ثابت ہورہی تھی جو کہ افطار کیلئے کافی نہ تھی" (مجموع الفتاوى جلد ۲۵ صفحہ ۱۰۸)
    اسی ضمن میں امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "فأما حديث كريب فإنما دل على أنهم لا يفطرون بقول كريب وحده‏" "جہاں تک حدیث کریب کا تعلق ہےتو دراصل وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں (ابن عباس اور اہل مدینہ) نے اکیلے کریب کی گواہی پر افطار (رمضان کا اختتام) نہیں کیا"(المغني جزء رابع کتاب الصیام صفحہ ۳۲۹ طبع دار عالم الکتب ریاض)

    امید ہے کہ اب اشکال رفع ہوگیا ہوگا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 22، 2013 #6
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    نہیں ہوئے،،،
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 22، 2013 #7
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    "عید الفطر میں رویت ہلال کے ثبوت کیلئے کم از کم دو گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے" کیا آپ کو اس سے اختلاف ہے؟ اگر نہیں تو پھر اشکال کیا ہے؟
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 22، 2013 #8
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال جاء الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم اعرابی فقال ابصرت الھلال الیلۃ فقال تشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمد اعبدہ ورسولہ قال نعم قال قم یا فلاں فناد فی الناس فلیصوموا غدا (رواہ ابن حبان صفحہ ١٨٧ جلد ٥)
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏جولائی 23، 2013 #9
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    میں آپ کی رائے کا احترام کرتا ہوں۔۔۔
    آخر آپ اہل علم ہیں تو آپ کو بھی تحقیق کی بنیاد پر اختلاف کرنے کا حق ہے۔۔۔
    مجھے خوشی ہے کہ آپ کے عمل کی بنیاد بھی اللہ کی کتاب اور نبی علیہ السلام کی حدیث ہے۔۔۔
    ہمارا بھی یہی (کتاب و سنت) شیوہ ہے۔۔۔
    لازم ہے کہ فریقین میں سے کسی ایک کا اجتہاد ہی درست ہو۔۔۔
    مگر اس کا بہترین علم تو اللہ عز وجل ہی کے پاس ہے۔۔۔
    اْسی سے ہمیں اجر کی امید ہے۔۔۔

    اللہ آپ کو خوش و خرم رکھے۔۔۔ آمین۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  10. ‏جولائی 23، 2013 #10
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    پیارے بھائی آپ کو شاید غلطی لگی ہے، میں نے آپ سے عرض کی تھی دو گواہوں والی توجیہ عید الفطر کے متعلق کی گئی ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ ۲۹ دنوں پر رمضان کا اختتام کر کے عید الفطر شروع کرنے کیلئے کم از کم ۲ گواہوں کی ضرورت ہے۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے: ((فإن شهد شاهدان فصوموا وأفطروا)) رواه أحمد 18416 والنسائي 2116
    اس کے علاوہ حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مروی ہے آپ فرماتے ہیں: ((عهد إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ننسك للرؤية فإن لم نره وشهد شاهدا عدل نسكنا بشهادتهما)) رواه أبو داود 2338

    آپ نے جو حدیث پیش کی وہ تو رمضان کی رویت سے متعلق ہے: عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال جاء الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم اعرابی فقال ابصرت الھلال الیلۃ فقال تشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمد اعبدہ ورسولہ قال نعم قال قم یا فلاں فناد فی الناس فلیصوموا غدا

    امید ہے آپ سمجھ گئے ہونگے۔۔۔ان شاء اللہ!
     
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں