1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وحدت رویت اور اختلاف مطالع

'رویت ہلال' میں موضوعات آغاز کردہ از کیلانی, ‏جولائی 21، 2013۔

  1. ‏اگست 19، 2013 #31
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

    سوال گندم جواب چنا! محترم میں نے اختلاف مطالع کے اعتبار کی ۴ ممکنہ صورتیں ذکر کی ہیں جن میں سے ایک وقت میں کسی ایک پر ہی عمل کیا جا سکتا ہے۔ میں نے سوال یہ کیا تھا کہ ان میں سے کس صورت پر عمل کیا جائے گا؟ اگر آپ اختلاف مطالع کا اعتبار کرتے ہیں تو پھر ان میں سے کسی ایک صورت کو بہترین اور قابل عمل قرار دیجئے۔ بہتر ہوتا اگر علمی رویہ اپناتے ہوئے اس سوال کا جواب دیتے مگر آپ نے تو بات ہی ختم کردی کہ رویت ہلال کمیٹی جو فیصلہ کردے گی اسی پر عمل ہوگا تو سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان کی رویت ہلال کمیٹی یہ فیصلہ کرلے کہ وہ سعودی عرب کی رویت کا ہی اعتبار کرے گی اور پاکستان میں بھی اسی دن روزہ اور عید ہوگی جس دن سعودی عرب میں ہوگی تو ایسے میں آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔۔۔

    یہ بات فی الحال زیر بحث نہیں ہے بہتر ہوگا کہ ہم پہلے ایک مسئلے پر بات مکمل کرلیں پھر اس بات کو بھی چھیڑیں گے ان شاء اللہ۔

    ان میں سے ایک بات کو بھی آپ صحیح ثابت نہیں کرسکتے محض خبریں اور پراپاگینڈا کر سکتے ہیں کیونکہ ۲۸ دن بعد نہ تو کسی کو وہاں چاند نظر آیا اور نہ ہی رویت ثابت ہوئی لحاظہ ۲۹ روزے مکمل کرنے کے بعد جب رویت ثابت ہوگئی تو رمضان مکمل کرلیا گیا۔ میں حیران ہوں کہ جن الفاظ میں آپ بات کر رہے ہیں کہ "شدید مزاحمت کی وجہ سے بات نہ بنی" اور "انہیں ۲۹ روزے کرنے پڑے" گویا آپ سمجھتے ہیں کہ سعودی چاند کی رویت کیساتھ مذاق کرتے ہیں کھلواڑ کرتے ہیں اور کڑوڑوں بلکہ عربوں مسلمانوں کا روزہ اور عید خراب کرتے ہیں؟ یہ الزامات بہت شدید ہیں جن سے مسلمانوں کی تکذیب لازم آتی ہے اور ایسا کرنے کیلئے آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ لوگ اس طرح کرتے ہیں۔

    آپ نے فرمایا کہ "ایسے ایرر سعودی ہلال کمیٹی والے پہلے بھی کرچکے ہیں" لیکن اس سے پہلے تو آپ نے فرمایا تھا کہ "جہاں رویت ھلال کمیٹی والے اعلان کرتے ہیں کہ آج سحری ہو گی اور کل عید ہو گی اس اعلان کے مطابق ہی عمل ہو گا۔" اس جملے میں آپ نے ایرر یا غلطی کا کوئی ذکر نہیں کیا جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر بالفرض سعودی کمیٹی ایرر کرتی ہے تب بھی اہل سعودیہ (آپ کے نزدیک) ان کے اعلان پر ہی عمل کریں گے۔اپنا روزہ اور عید محض رویت ہلال کمیٹیوں کے سپرد کرنے کا فیصلہ آپ کا تھا تو پھر ان کی غلطیوں پر اعتراض کیوں؟

    دوسری بات یہ کہ اس دفعہ سعودیہ میں جو شک پیدا ہوگیا تھا وہ محض شک ہی تھا جو زائل ہوگیا جب ۲۸ روزے کے اختتام پر چاند ہی نظر نہیں آیا اور اگلی شام کو چاند نظر آگیا لحاظہ ۲۹ روزے مکمل ہوگئے اور کسی قسم کا ایرر یا غلطی ثابت نہیں ہوئی تو پھر آپ کس بنا پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ وہاں ایرر ہوا تھا۔ جن سابقہ ایررز کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے ذرا ہمارے سامنے بھی ان کی تفصیل بیان کر دیجئے۔ میرے علم کے مطابق اس طرح کا معاملہ صرف ایک دفعہ ہوا تھا غالبا ۱۹۸۰ کی دھائی میں کہ رویت ہلال کے معاملے میں سعودی کمیٹی نے غلطی کی تھی مگر علم ہونے پر اس کی تلافی بھی کی تھی اور اندرون اور بیرون ملک یہ اعلان کردیا تھا کہ ہم سے غلطی ہوئی لحاظہ اپنے ایک روزے کی تلافی کرلیں۔ اب اس کو لے کر پراپاگینڈا کرنے کا تو کوئی جواز نہیں بنتا اوپر سے آپ نے الزام لگا دیا کہ وہ اس طرح کے ایرر پہلے بھی کر چکے ہیں اور یہ کہ مزاحمت کے بعد بھی بات نہ بنی تو پھر ۲۹ روزے کرنے پڑے؟؟؟ کیا وہ اپنی مرضی سے چاند نکالتے اور چھپاتے ہیں؟

    میں پھر کہوں گا کہ بہتر یہی ہے کہ پہلے آپ اختلاف مطالع کی ۴ صورتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں اور اس پر میرے اشکالات کا جواب دے دیجئے پھر ان شاء اللہ ان مسائل پر بھی بات کریں گے جوآپ نے ذکر کئے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 20، 2013 #32
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    محترم لاہوری صاحب میری بات پر آپ اختلاف کر سکتے ہیں، سمجھنے میں غلطی پر آپ گندم اور چنا میں وقت ضائع کر رہے ہیں پھر بھی جواب یہی ھے اس کے علاوہ آپ کا باقی سارا مراسلہ میری نظر میں غیر متعلقہ ھے۔ اب آتے ہیں آپ کے اصل موقف کی طرف۔

    مثال کے طور پر کسی ایک شہر کا نام لکھ کر اسے پوری دنیا میں ایک ہی دن روزہ رکھنا ثابت کر دیں اپنے علم اور تجربہ کی روشنی میں۔ کوشش کریں کہ اپنا فوکس تحریر پر رکھیں فالتو ڈائلاگ سے پرہیز فرمائیں تو نوازش ہو گی۔ آپکی آسانی کے لئے یہ بھی بتاتا چلوں کہ پوری دنیا میں چاند ایک ہی وقت میں طلوع نہیں ہوتا اور نہ ہی غروب۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 20، 2013 #33
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    آپ کے سوال سے قبل میں نے چند گزارشات پیش کی تھیں:

    اگر آپ اختلاف مطالع کے قائل ہیں تو درج بالا صورتوں میں سے کسی ایک صورت کا انتخاب فرمائیں پھر بات ہوگی۔ شکریہ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 20، 2013 #34
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    محترم جسے آپ نے دوبارہ اپنی ہی پوسٹ میں کوٹ کیا ھے اس پر میں بغیر مخاطب کئے اپنی رائے پیش کر چکا ہوں، میں ایسے سوال نہیں پوچھتا جس پر مجھے جواب آتا ہو سیدھا جواب ہی لکھتا ہوں اور اب بھی میں نے آپ سے کوئی سوال نہیں پوچھا آپکی خصوصی رائے پر مزید جاننے کی کوشش کی ھے اس کے بعد آپ کے سوالات کے جواب بھی سامنے آتے جائیں گے۔ ہو سکے تو اپنا تعارف بھی تعارفی سیکشن میں پیش فرما دیں، جزاک اللہ خیر!

    دوبارہ کوٹ کرنے پر معذرت مجھے اس پر جاننا بہت ضروری ھے کوشش کریں اپنی علمی اور تجربہ کی روشنی میں آپ اسے کیسے ممکن کر سکتے ہیں ثابت کر کے دکھائیں۔ اگر اس مرتبہ بھی آپ اپنی بات کو آگے نہیں بڑھا پائے تو پھر مزید گفتگو کے لئے معذرت ہم دونوں کا وقت بہت قیمتی ھے۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏اگست 20، 2013 #35
    محمد نعمان مسعود

    محمد نعمان مسعود رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2013
    پیغامات:
    184
    موصول شکریہ جات:
    181
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

     
  6. ‏اگست 20، 2013 #36
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310


    یہ سوال بالکل معقول ہے۔۔
    لاہوری بھائی اسی سوال کے اندر آپ کو امنے سوالات کے جوابات ملیں گے ان شاءاللہ۔۔
    اور لگتا ہے میرے دئیے گئے لنکس کو بھی آپ نے نہیں پڑھا۔۔
     
  7. ‏اگست 23، 2013 #37
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    محترم آپ کا لنک میں دیکھ چکا ہوں اور یہ تحریر میں پہلے بھی کئی بار پڑھ چکا ہوں۔ جو موقف اس تحریر میں اختیار کیا گیا ہے اس پر بھی میں غور کر چکا ہوں۔ اس تحریر میں جو موقف اختیار کیا گیا وہ یہ ہے: جن شہروں کا مطلع متفق ہے وہ ایک دوسرے کی رویت کا اعتبار کریں گے لیکن جن کا مطلع مختلف ہے وہ ایک دوسرے کی رویت کا اعتبار نہیں کریں گے۔ میں نے اختلاف مطالع کی جو ۴ صورتیں ذکر کی تھیں ان میں سے آخری صورت یہی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا آنجناب بھی اسی صورت کے حامی ہیں؟ اگر ہاں تو پھر آپ سے چند سوالات کرنا چاہوں گا۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 23، 2013 #38
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    محترم میں نے مطلق طور پر آپ کی رائے نہیں پوچھی تھی بلکہ اختلاف مطالع کی ۴ صورتیں ذکر کی تھیں جن میں کسی ایک پر ہی عمل ہوسکتا ہے۔ آپ سے سوال یہ کیا تھا کہ ان میں سے آپ کس صورت کو صحیح سمجھتے ہیں مگر آپ نے میرے سوال کا ابھی تک جواب نہیں دیا۔ آپ کا موقف نہ تو اختلاف مطالع کا ہے اور نہ ہی اتحاد مطالع کا بلکہ آپ کا موقف "اعتبار رویت ہلال کمیٹی کا ہے"۔ خود پڑھ لیجئے:
    یہ جملہ میرے سوال کا جواب نہیں!

    یہ گفتگو غیر متعلقہ ہے۔۔۔آپ کیا کرتے ہیں کیا نہیں کرتے اس میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

    شاید آپ کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے میں نے قائلین اعتبار اختلاف مطالع سے سوال کیا تھا کہ وہ ۴ صورتوں میں سے کس صورت کو صحیح سمجھتے ہیں پہلے اس پر تو اتفاق کرلیں۔ آنجناب کا موقف "اعتبار رویت ہلال کمیٹی" کا ہے جو فی الحال زیر بحث ہی نہیں اور نہ ہی یہ میرے سوال کا جواب ہے۔ اگر آپ میرے سوال کا جواب دئے بغیر ہی اپنے سوال کے جواب کے منتظر ہیں تو آپ کو انتظار کرنا ہوگا کیونکہ اعتبار اختلاف مطالع پر مجھے جو اشکالات ہیں پہلے میں ان کا جواب حاصل کرونگا پھر اپنے موقف پر دلائل دونگا۔

    آپ نے میرے سوال کا جواب تو دیا نہیں پھر بھی مجھ سے اپنے سوال کا جواب طلب کرنے پر بزد ہیں۔۔۔ میں آپ کے اصولوں کا پابند نہیں۔۔۔میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  9. ‏اگست 23، 2013 #39
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    محترم لاہوری، جب آپ پابند نہیں ہیں تو پھر آپ سوالات لکھ کر دوسرں سے جوابات کی توقع کیسے رکھتے ہیں کیا دوسرے آپ کے اصولوں کے پابند ہیں؟

    یہ پہلی مرتبہ نہیں ایسے سوالات اکثر دیکھنے میں آتے ہیں جو ذہن کی پیداوار ہوتے ہیں۔

    جب آپ کو یہ نہیں معلوم کہ میں نے آپ سے کوئی سوال نہیں پوچھا بلکہ آپکی رائے پر درخواست کی ھے کہ آپ پوری دنیا میں ایک دن روزہ کا ہونا اور عید کا ہونا کیسے ثابت کر سکتے ہیں اپنی رائے کے مطابق تو آپ کو اس کا جواب نہیں بن پا رہا، ہو سکتا ھے اتنے دونوں میں آپ نے بہت مرتبہ کوشش بھی کی ہو اس کا جواب ڈھونڈنے کی مگر اس کے باوجود بھی بضد ہیں جو غیر متعلقہ باتوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں، آپ کے سوالات سے ایسا لگتا ھے کہ آپ کو بہت سے باتوں کا علم نہیں مطالعہ کمزور ھے۔

    ہو سکے تو اپنی رائے پر لکھیں پھر بات آگے بڑھاتے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ ورنہ مان لیں کہ آپ کی رائے صرف پڑھنے کی حد تک ھے ثابت کرنے پر آپ کے پاس کوئی میٹیریل نہیں۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 23، 2013 #40
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    میں نے آپ سے کہا تھا نہ کہ اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں لیکن شاید کا آپ کے پاس شخصی تنقید اور ذاتی حملے کرنے کیلئے کافی فضول وقت ہے اسی لئے تو آپ اصل موضوع پر بات کرنے کی بجائے دوسروں کی ذات اور علمی استطاعت پر حملے کئے جا رہے ہیں اور دوسری طرف یہ کہہ کر کہ "میں ایسے سوال نہیں پوچھتا جس پر مجھے جواب آتا ہو سیدھا جواب ہی لکھتا ہوں"اپنے منہ میاں مٹھو بنے جا رہے ہیں۔۔۔

    باقی رہی بات میرے سوالات کا جواب دینے کی تو میں نے کسی کو اس کا پابند نہیں کیا صرف سوال کیا ہے اور چونکہ پہلے سوال میں نے کیا ہے لحاظہ جواب بھی پہلے مجھے ملنا چاہئے اس کے بعد میں اپنے موقف کو ثابت کرنے کی "درخواست" پر بھی عمل کر سکونگا۔ دراصل اس دھاگے میں امام البانی رحمہ اللہ کا توحید الرویہ کی حمایت میں فتوی نقل کیا گیا تھا جس کی بعض احباب نے مخالفت کی تو اس کے رد عمل میں میں نے ان سے کے موقف کی وضاحت طلب کی تھی کیونکہ اختلاف مطالع کی ۴ صورتیں بنتی ہیں جن میں سے کوئی ایک ہی صحیح ہو سکتی ہے لیکن ابھی تک مجھے اس کا جواب نہیں ملا۔ ہاں وقاص بھائی کے متعلق گمان ہے کہ وہ ۴ نمبر صورت کی حمایت کرتے ہیں اگر یہ کنفرم ہوجائے تو پھر ان سے مزید بات ہوسکتی ہے اور یہ بحث آگے بڑھ سکتی ہےلیکن آنجناب کا مدعہ ہی اور ہے جو موضوع سے متعلق ہی نہیں۔ رہی بات آپ کی "درخواست" کی تو میں آپ سے کہہ چکا ہوں کے کچھ دیر انتظار فرمائے۔۔۔ ان شاء اللہ اختلاف مطالع والوں کی کمزوری واضح کرنے کے بعد میں توحید الرویہ کے حق میں دلائل پیش کرونگا اور عملی صورت کی بھی وضاحت کرونگا۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں