1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وحدت رویت اور اختلاف مطالع

'رویت ہلال' میں موضوعات آغاز کردہ از کیلانی, ‏جولائی 21، 2013۔

  1. ‏ستمبر 23، 2013 #71
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    محترم سیدھی سی بات ہے کہ رسول اللہﷺ نے چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور افطار کرنے کا جو حکم دیا ہے وہ بہ حیثیت مجموعی تمام امت کو ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ یہ فرض کفایہ ہے نہ کہ فرض عین؛یعنی ہر مسلمان کے لیے بہ ذات خود چاند دیکھنا ضروری نہیں ،بل کہ چند لوگ ہی دیکھ لیں تو کافی ہے جیسا کہ آں حضرت ﷺ نے خود بھی اس ضمن میں گواہی کا اعتبار فرمایا ہے؛پس امت مسلمہ میں سے کوئی فرد کسی بھی مقام پر چاند دیکھ لے تو مذکورہ حدیث کے بہ موجب اس کی گواہی پر تمام مسلمان رمضان یا شوال کا آغاز کریں گے۔رہا اختلاف مطالع کا مسئلہ تو اگر یہ شارع کی نگاہ میں معتبر ہوتا تو اس کی وضاحت بھی نصوص شرع میں فرما دی جاتی، جیسا کہ حج کے لیے مختلف مقامات کے زائرین کے لیے میقات کی علاحدہ علاحدہ تصریح فرما دی گئی ہے،تاکہ اختلاف کا اندیشہ نہ رہے؛لیکن رویت ہلال کے باب میں ایسی کوئی تصریح ہمیں نہیں ملتی؛یہی وجہ ہے کہ مطالع کی تعیین میں بے شمار اقوال ملتے ہیں، جن میں جمع کی کوئی صورت ممکن نہیں؛بنابریں اختلاف مطالع کا عدم اعتبار ہی منشاے شارع معلوم ہوتا ہے۔ھذا ما عندی والعلم عنداللہ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 23، 2013 #72
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ میری یہ راے نظری پہلو سے ہے؛جہاں تک عملی نوعیت کا سوال ہے تو در حقیقت اس کے مخاطب ارباب حل وعقد ہیں،جن میں علما اور اہل اقتدار دونوں شامل ہیں؛اگر وہ متفق ہو جائیں تو پھر ہی یہ قابل عمل ہو سکتی ہے؛موجودہ صورت حال میں بہتر یہی ہے کہ اپنے علاقے کے ثقہ اور معتبر اصحاب علم کی پیروی کی جائے اور سعودی عرب یا کسی دوسرے خطے کی رویت پر عمل نہ کیا جائے جیسا کہ بعض حضرات پاکستان میں رہتے ہوئے سعودیہ کی رویت پررمضان اور شوال کی ابتدا کرتے ہیں؛ اس سے انتشار وافتراق کو ہوا ملتی ہے،جو مقاصد شریعت سے متصادم ہے؛البتہ علمی سطح پر وحدت مطالع کی ترجیح و معقولیت کو ثابت کرنا چاہیے اور علما کو بہ احترام و توقیر اس جانب متوجہ کرنا چاہیے۔
     
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 23، 2013 #73
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    جزاک اللہ خیر بارک اللہ فیک محترم۔۔۔
    لیکن آپ کی وضاحت پر کچھ اشکالات ہیں۔۔
    جن میں سب سے اول یہ کہ آپ نے کہا

    تو یہ اتفاق ممکن کیسے ہو سکتا ہے؟؟
    مطلب یہ کہ تمام عالم اسلام کا ایک ہی علاقے کی رؤیت پر متفق ہونا محال ہے جیسے ایک ہی مثال پر اکتفاء کرونگا کہ آسٹریلیا 7 گھنٹے آگے ہے سعودیہ سے اب جب سعودیہ میں چاند نظر آئے گا اس وقت آسٹریلیا میں اگلا دن شروع ہو چکا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
    دوسری بات یہ کہ آپ نے کہا

    محترم وہ مشہور واقعہ جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا صحیح مسلم میں موجود جو ہے۔۔۔۔۔۔
     
  4. ‏ستمبر 24، 2013 #74
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    آپ کا اشکال میں نہیں سمجھ سکا؛ایک مقام پر چاند نظر آنے کے بعد پوری امت اس کی پابندی کرے گی لیکن اس کے یہ معنی کیسے ہوئے کہ افراد امت ایک ہی لمحے میں روزے کا اغاز کریں گے؟روزے کا آغاز طلوع فجر سے ہوتا ہے،جس کا تعلق سورج سے ہے،نہ کہ چاند سے۔
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کی متعدد توجیہات کی گئی ہیں؛میرے خیال میں اس سے اختلاف مطالع کا معتبر ہونا ثابت نہیں ہوتا،بل کہ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ چوں کہ اس دور میں شام کی رویت کی خبر مدینہ میں بروقت پہنچ نہیں سکتی تھی اس لیے اپنے علاقے کی رویت پر اصرار کیا گیا۔واللہ اعلم
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 24، 2013 #75
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    جب اشکال سمجھ نہیں آیا تو جواب کیسا؟؟

    باقی رہی بات توجیہات کی اور افراد امت کی تو اسکے لئیے کیلانی صاحب کی کتاب اسلامی نظام فلکیات کا مطالعہ مفید ہے وہ ضرور پڑھیں۔۔
     
  6. ‏ستمبر 24، 2013 #76
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

     
  7. ‏ستمبر 24، 2013 #77
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    اس کتاب کے اسی ٹاپک سے متعلق صفحات اسی تھریڈ میں 52 سے 58 میں ملاحظہ کیجیئے۔
    جزاک اللہ خیرا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں