1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

وراثت سے متعلق ایک سوال

'معاشی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏اگست 05، 2011۔

  1. ‏اگست 05، 2011 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,360
    موصول شکریہ جات:
    9,759
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
    خصوصا انس نضر بھائی جان کی خدمت میں ایک سوال ہے۔
    سوال یہ ہے ایک شخص فوت ہوا اورترکہ میں اس نے مختلف قسم کی بہت ساری دولت چھوڑی ہے ، اب ورثاء چاہتے ہیں ان تمام دولت کو ایک ساتھ بعد میں تقسیم کریں گے ، سردست صرف ایک زمین کا ٹکڑا جوترکہ میں ہے صرف اسی کو بیچ کر سارے ورثاء آپس میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔
    تو کیا ترکہ میں بقیہ دولت کی تقسیم کو مؤخر کرکے صرف ایک چیز کی تقسیم درست ہے؟؟؟
    جواب عنایت فرمادیں جزاکم اللہ خیرا وبارک فیکم۔
     
  2. ‏اگست 06، 2011 #2
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,173
    موصول شکریہ جات:
    15,215
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

    اولاً: کسی شخص کے فوت ہونے کے بعد اس کے ولی کو تقسیم وراثت میں جلدی کرنی چاہئے، کیونکہ ترکہ ورثا کا حق ہے، اور حق ادا کرنے میں ضرورت سے زیادہ تاخیر سے اختلافات، کینہ، بغض اور دشمنی وغیرہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ ممکن ہے کہ ولی خود تو غنی ہو، اور تاخیر سے اسے زیادہ فرق نہ پڑتا ہو، لیکن دیگر ورثا ضرورت مند ہوں اور تقسیمِ وراثت میں تاخیر سے ولی وغیرہ کے بارے میں نفرت پیدا ہو۔
    ویسے بھی تقسیم وراثت میں تاخیر سے یہ بھی ممکن ہے کہ ایک وارث محتاج اور ضرورت مند ہو، اسے اپنے حق کی شدید احتیاج ہو، اور وراثت ملنے سے پہلے وہ فوت ہوجائے، اب اگرچہ اس کو جو حصہ ملنا تھا، وہ اس کے ورثا کو منتقل ہوجائے گا، لیکن یہ شخص اپنے حق سے سخت ضرورت کے وقت بھی خود فائدہ نہ اٹھا پایا۔
    تفصیل کیلئے دیکھئے:
    المفتي: تأخير توزيع الميراث يؤدّي للخلافات والشحناء | جريدة المدينة
    خاص طور پر ہمارے بر صغیر میں بعض مرتبہ تو وراثت کو ہتھیانے کیلئے تیس چالیس سال لیٹ کر دیا جاتا ہے، اور وراثت پر قابض لوگ خود تو اس مال سے استفادہ کرتے رہتے ہیں اور کئی دفعہ تو تقسیم وراثت کے وقت اصل ورثا میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہوتا۔

    ثانیاً: اگر تمام ورثا وراثت کی تاخیر پر باہم متفق ہوں تو اس میں ضرورت کے تحت تاخیر جائز ہے۔ اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ باہمی رضامندی سے کچھ مال کو پہلے تقسیم کر لیا جائے۔ کیونکہ اس کی ممانعت کی کوئی دلیل میرے علم میں نہیں۔

    http://www.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=97117

    واللہ تعالیٰ اعلم!

    کفایت اللہ بھائی ماشاء اللہ جید عالم دین ہیں، ان کا سوال کرنا ان کے انکسار اور تواضع پر دلالت کرتا ہے، یا مقصود افادۂ عام ہے۔
     
  3. ‏اگست 06، 2011 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,360
    موصول شکریہ جات:
    9,759
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    جزاکم اللہ خیرا انس نضر بھائی ۔
    میرے پاس پہلی بار اس نوعیت کا یہ مسئلہ لیکر کچھ لوگ آئے تھے ، میں اپنے جواب پر مطئمن نہیں تھا اس لئے پوچھنا ضروری سمجھا، میں نے سائلین سے تین دن بعد جواب دینے کا وعدہ کیا تھا اوران کے سامنے میں نے آپ کا تعارف کرکے انہیں بتایا بھی تھا کہ یہ مسئلہ آپ سے پوچھ رہا ہو ، ماشاء اللہ آپ نے جلد ہی جواب دے دیا ، بارک اللہ فیکم۔
    میں آج ہی یہ جواب سائلین کے حوالہ کردیتاہوں ، مستقبل میں بھی وراثت سے متعلق مسائل آئیں گے، تو ان شاء اللہ آپ کا تعاون حاصل کروں گا۔
    جزاکم اللہ خیرا وبارک فیکم۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں