1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وسیلہ اور اسلاف امت کا طریقہ کار

'وسیلہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏دسمبر 28، 2016۔

  1. ‏فروری 02، 2017 #91
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جی جناب! '' وسیلہ اور اسلاف امت کے طریقہ کار ''کے معاملہ میں بھی ہمارے اصول قائم رہتے ہیں، ایسا نہیں جیسا آپ کرتے ہیں کہ ایک ہی مراسلہ میں اپنے امام اعظم کے قول کی وضاحت شاہ عبد العزیز سے پیش کریں، اور امام مرداوی جب امام احمد کے قول کی وضاحت ''تقی الدین'' سے پیش کرتے ہیں، تو اسے آپ یہ کہہ کر رد کردیتے ہو کہ یہ امام احمد بن حنبل کا اپنا کلام نہیں!
    دوم کہ کسی بھی مسئلہ میں کسی کے اجتہاد کے قبول و رد کا قاعدہ بھی منطبق کیا جاتا ہے ، یہ کوئی خارجی بحث نہیں!
    سوم کہ یہ معاملہ اٹھا یا آپ نے ہی تھا، لہٰذا آپ کو کسی کے اجتہاد کے قبول ورد سے متعلق اہل الحدیث کا مؤقف بتلایا بھی ، اور اس کے اثبات پر قرآن و حدیث کے دلائل بھی پیش کئے گئے!
    محمد افضل رضوی صاحب!آپ کو ہم نے آپ کا اپنا قاعدہ آپ کے امام احمد رضا خان بریلوی کا رسالہ پیش کرکے بتلایا، مگر آپ نے شاید اس پر نظر نہیں کی!
    میرے بھائی! آپ کے امام تو امام ابو حنیفہ کے علاوہ تمام اسلاف کے اقوال کو ررد کرنے کا اصول بیان کرتے ہیں، یعنی امام صاحب کے قول کی موجودگی میں تمام اسلاف کے قول کورد فرماتے ہیں! وہ بھی قرآن و حدیث کی دلیل کی بنیاد پر نہیں!
    میں اس رسالہ کا اردو ترجمہ بھی پیش کردیتا ہوں تاکہ قارئین کو سمجھنے میں آسانی ہو!
    ملاحظہ فرمائیں: أجلى الإعلام أن الفتوى مطلقا على قول الإمام ، اس امر کی تحقیق عظیم کہ فتویٰ ہمیشہ قول امام پر ہے۔ احمد رضا خان بریلوی

    جبکہ ہم نے تو کسی کے اجتہاد کے قبول ورد کے لئے اہل الحدیث کا اصول قرآن و سنت کے دلائل سے پیش کیا ہے۔
    باقی یہ اعتراض جو اسلاف کی باتوں کو اجتہادی خطاء کہنے پر ہے، تو اس اعتراض کے اول مصداق تو آپ ہی ہیں، کہ آپ حنفی ائمہ کے علاوہ باقی تمام اسلاف کے اجتہاد کو رد کرتے ہیں، اور امام ابو حنیفہ کے قول کے موجودگی میں نہ صرف حنفیوں کے علاوہ باقی تمام اسلاف بلکہ حنفی اسلاف کے اقوال کو بھی رد کرنے کے قائل ہو! خواہ اہ امام محمد بن حسن الشیبانی ہوں، یا قاضی ابو یوسف ہوں، یا امام صاحب کے دیگر شاگرد اور اساتذہ کا اجتہاد بھی امام ابو حنیفہ کے قول کے خلاف ہو تو اسے بھی رد کرنے کا اصول رکھتے ہیں!
    باقی رہا ہمارا اصول تو میرے بھائی! کیا اسلاف کے اجتہاد میں خطاء نہیں ہوتی، کہ ہم اسے رد نہیں کیا جاسکتا!
    ہاں اسلاف کا کسی اجتہاد پر اتفاق ہو، تو وہ ایک الگ بات ہے، ہم ایسے متفقہ اجتہاد کو رد نہیں کرتے، کہ وہ خطا نہیں صواب ہوتا ہے۔ اور ہم نے قرآن و حدیث سے جو دلائل پیش کئے ہیں، وہ دلیل اسلاف کے اجتہاد کے لئے بھی ہے، اسے خلف کے لئے خاص نہیں کیا جاسکتا۔ فتدبر!


    @محمد افضل رضوی بھائی! ایک معذرت میں نجانے کیوں آپ کو پچھلے مراسلوں میں قادری لکھتا رہا، شاید لاشعور میں کسی اور شخص کا نام تھا، اور میں آپ کو قادری لکھتا رہا!

    (جاری ہے)
     
    Last edited: ‏فروری 02، 2017
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 04، 2017 #92
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اب آتے ہیں امام مرداوی کے مؤقف کی طرف:
    محمد افضل رضوی صاحب نے سب سے پہلے یہ حوالہ رقم کیا، اور ساتھ اسکین صفحہ بھی:
    اس عبارت میں امام مرداوی نے اپنا مؤقف بیان کیا، اور اس پر امام احمد بن حنبل کا قول پیش کیاہے! لیکن صرف اتنا نہیں بلکہ اس کی وضاحت ''تقی الدین'' کے حوالہ سے بھی کی ہے، جسے محمد افضل رضوی صاحب نے نقل نہیں کیا!
    پھر محمد افضل رضوی صاحب تحریر فرماتے ہیں:
    یہاں یہ بات کہی گئی کہ مرداوی نے امام احمد بن حنبل کا قول نقل کیا ہے، اس کی وضاحت مطلوب ہے!
    جب ایک بھائی نے ''تقی الدین'' کی وضاحت بتلائی، جو امام مرداوی اسی جگہ نقل کی ہے، تو اس بارے میں محمد افضل رضوی صاحب فرماتے ہیں:

    یہاں محمد افضل رضوی صاحب امام مرداوی کی ہی پیش کردہ ''تقی الدین'' کی وضاحت کو قبول کرنے سے اس لئے انکار کر رہے ہیں کہ وہ امام احمد بن حنبل کا قول نہیں!
    یاد رہے کہ یہی محمد افضل قادری صاحب امام ابو حنیفہ کے فتوی پر شاہ عبد العزیز کی وضاحت پیش کرتے ہیں!
    خیر امام مرداوی نے تو امام احمد بن حنبل کے قول کی ''تقی الدین'' کی وضاحت کرکے نقل کردیا کہ ان کا یعنی امام مرداوی کا مؤقف کیا ہے!
    محمد افضل قادری صاحب امام احمد کا قول پیش کرکے سوال کرتے ہیں:
    تو جناب نہیں یہاں توسل بذات کا ذکر نہیں ہے، اس کی وضاحت اسی کتاب میں موجود ہے، جس کتاب سے آپ نے یہ حوالہ پیش کیا ہے، اور انہیں صاحب کتاب نے ''تقی الدین'' کی وضاحت پیش کرکے اپنے مؤقف کی بھی وضاحت کردی ہے، انہوں نے یعنی امام مرداوی نے امام احمد بن حنبل کے جس قول کو صیغہ جزم سے بیان کرکے اپنا مؤقف بیان کیا ہے، انہوں نے ہی اس کی وضاحت کردی ہے ، جس کی رو سے امام احمد بن حنبل کے اس قول میں توسل بذات کا ذکر نہیں!
    امام مرداوی کی مکمل عبارت یوں ہے:

    وَمِنْهَا: يَجُوزُ التَّوَسُّلُ بِالرَّجُلِ الصَّالِحِ، عَلَى الصَّحِيحِ مِنْ الْمَذْهَبِ، وَقِيلَ: يُسْتَحَبُّ. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: الْمَرُّوذِيُّ يَتَوَسَّلُ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي دُعَائِهِ وَجَزَمَ بِهِ فِي الْمُسْتَوْعِبِ وَغَيْرِهِ، وَجَعَلَهُ الشَّيْخُ تَقِيُّ الدِّينِ كَمَسْأَلَةِ الْيَمِينِ بِهِ قَالَ: وَالتَّوَسُّلُ بِالْإِيمَانِ بِهِ وَطَاعَتِهِ وَمَحَبَّتِهِ وَالصَّلَاةِ وَالسَّلَامِ عَلَيْهِ، وَبِدُعَائِهِ وَشَفَاعَتِهِ، وَنَحْوِهِ مِمَّا هُوَ مِنْ فِعْلِهِ أَوْ أَفْعَالِ الْعِبَادِ الْمَأْمُورِ بِهَا فِي حَقِّهِ: مَشْرُوعٌ إجْمَاعًا، وَهُوَ مِنْ الْوَسِيلَةِ الْمَأْمُورِ بِهَا فِي قَوْله تَعَالَى {اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ} [المائدة: 35] وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ مِنْ الْعُلَمَاءِ: فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وَالسَّلَامِ «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» الِاسْتِعَاذَةُ لَا تَكُونُ بِمَخْلُوقٍ.
    اور ان (فوائد) میں سے ایک یہ ہے کہ: امام احمد بن حنبل کے مذہب کا درست مؤقف یہ ہے کہ صالح شخص کا توسل کرنا جائز ہے، اور کہا گیا ہے کہ مستحب ہے۔ امام احمد بن حنبل نے المروزی سے کہا: کہ اپنی دعا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا توسل کرو (کہ یہ جائز ہے)! اور ''المستوعب '' وغیرہ میں اس رائے کو بالجزم بیان کیا گیا ہے، اور شیخ تقی الدین نے اس سےمسئلہ یمین (قسم کے مسئلہ) کی طرح رکھا ہے اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاة وسلام، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ، اور اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بندوں کے وہ احکام جوان پر واجب قرار دیئے گئے ہیں، کو وسیلہ بنانے کے مشروع ہونے پر اجماع ہے۔ یہ وسیلہ اللہ تعالی کے فرمان: {اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ} [المائدة: 35] سے واجب ہوتا ہے۔
    امام احمد بن حنبل اور دیگر علماء نے کہا: نبی صلاة السلام کے اس قول ««میں اللہ سے اس کے مکمل ترین کلمات کی پناہ طلب کرتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی»»میں ہے کہ پناہ مخلوق میں نہیں ہوتی۔

    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 456 جلد 02 الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف - علاء الدين أبو الحسن علي بن سليمان المرداوي الدمشقي الصالحي الحنبلي (المتوفى: 885هـ) - مطبعة السنة المحمدية
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 375 الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف - علاء الدين أبو الحسن علي بن سليمان المرداوي الدمشقي الصالحي الحنبلي (المتوفى: 885هـ) - بيت الأفكار الدولية
    جس کی کتاب سے آپ نے امام احمد بن حنبل کا یہ حوالہ نقل کیا ہے، اسی مؤلف نے اسی جگہ اس کی جو وضاحت بیان کی ہے، اسے تسلیم کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں، اور نہ ہی اس سے امام احمد بن حنبل قول کی نفی نہیں ہوتی۔ فتدبر!
    یاد رہے کہ امام مرداوی نے تو امام احمد کا قول انہیں معنی میں بیان کیا ہے! لہٰذا امام مرداوی کا تو وہی مؤقف ثابت ہو چکا ہے، جو ہمارا ہے!
    اب بات رہ گئی ہے کہ امام احمد بن حنبل کے مؤقف کی!
    ہاں اگر آپ اس وضاحت پر کوئی نقد کرنا چاہتے ہیں، تو یا تو آپ امام احمد بن حنبل سے اس کی وضاحت نقل کریں، یا اس وضاحت پر کوئی معقول اعتراض پیش کریں!
    یاد رہے کہ ہمارا مؤقف کیا ہے اور ہم کس توسل کے قائل ہیں، اور کس توسل کے نہیں!
    جبکہ ہم نے اس کی وضاحت کر دی ہے کہ امام احمد بن حنبل کے اس قول میں توسل بالذات والاموات کا ذکر نہیں!
    (جاری ہے)
     
    Last edited: ‏فروری 04، 2017
    • زبردست زبردست x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 06، 2017 #93
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اب آتے ہیں امام ابو حنیفہ کے فتوی اور اس سے متعلق قادری رانا اور محمد افضل رضوی کی جانب سے پیش کی گئی اس کی وضاحت کی جانب!
    پہلے ہم وہ سیاق پیش کرتے ہیں، کہ کس تناظر میں امام ابو حنیفہ کا مذکورہ فتوی ہم نے پیش کیا تھا:
    ***** ***** ***** *****
    اب آتے ہیں تقی الدین سبکی کے اس دعوی کی طرف کہ ؛

    ''اِس کا جائز اور مستحسن ہونا ہر دین دار کے لئے ایک بدیہی امر ہے جو انبیاء، رسولوں اور سلفِ صالحین اور علماء سے ثابت ہے اور کسی مذہب والے نے اِن باتوں کا انکار نہیں کیا اور نہ کسی زمانہ میں اِن چیزوں کی بُرائی کی بات کہی گئی۔ حتیٰ کہ ابن تیمیّہ پیدا ہوئے اور اِن چیزوں کا اُنھوں نے انکار شروع کردیا''
    اور مزید فرماتے ہیں کہ؛
    '' ابنِ تیمیّہ کے اس فعل کی برائی اِسی سے سمجھ لیجئے کہ اِس طرح کی بات اِس سے پہلے کسی عالم نے نہیں کہی تھی۔''
    اپنی دلیل کے لئے فرماتے ہیں:
    ''لیکن ہم نے حاکم کی روایت اور اُس پر حاکم کی تصحیح کی وجہ سے اِسی روایت پر اکتفا کیا ہے۔''
    ہم اس حدیث کا کچھ حصہ دوبارہ نقل کرتے ہیں، پوری حدیث اوپر دیکھی جا سکتی ہے؛
    عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: (لما اقترف آدم عليه السلام الخطيئة قال: يا رب أسألك بحق محمد لما غفرت لي.
    حضرتِ عمر سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ ''حضرت آدم نے جب اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا تو دربارِ خداوندی میں عرض کیا اے خدا میں بحقِّ محمد درخواست کرتا ہوں کہ مجھے معاف کردے۔
    ویسے ایک ضمی سوال یہاں پیدا ہوتا ہے، کہ کیا مسلک بریلویہ اس بات کا قائل ہے کہ آدم علیہ السلام اور انبیاء سے خطاء ہوسکتی ہیں؟
    تقی الدین سبکی کا دعوی ہے کہ اس طرح کے وسیلہ کا انکار شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے قبل کسی نے نہیں کیا!
    آئیے اب ہم آپ کو تقی الدین سبکی کے دعوی کا بطلان ثابت کرتے ہیں، اور وہ بھی فقہ حنفیہ سے؛


    ويكره أن يقول الرجل في دعائه: أسألك بمعقد العز من عرشك ويكره أن يقول الرجل في دعائه بحق فلان أو بحق أنبياؤك ورسلك

    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 235 بداية المبتدي في الفقه على مذهب الإمام أبي حنيفة النعمان - علي بن أبي بكر بن عبد الجليل الفرغاني المرغيناني، أبو الحسن برهان الدين (المتوفى: 593هـ) - بمطبعة الفتوح، بمصر
    اور معلوم ہونا چاہئے کہ فقہ حنفی میں جب ''مکروہ'' مطلق آئے تو مراد مکروہ تحریمی ہوتا ہے!
    علي بن أبي بكر بن عبد الجليل الفرغاني المرغيناني، أبو الحسن برهان الدين کی وفات 593 ہجری کی ہے جبکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی پیدائش 661 ہجری کی ہے، یعنی کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی پیدائش سے قبل صاحب الهداية نے اس وسیلہ کو مکروہ ، تحریمی یعنی ناجائز قرار دیا ہے۔
    أن يقول الرجل في دعائه: أسألك بمعقد العز من عرشك" وللمسألة عبارتان: هذه، ومقعد العز، ولا ريب في كراهة الثانية؛ لأنه من القعود، وكذا الأولى؛ لأنه يوهم تعلق عزه بالعرش وهو محدث والله تعالى بجميع صفاته قديم. وعن أبي يوسف رحمه الله أنه لا بأس به. وبه أخذ الفقيه أبو الليث رحمه الله لأنه مأثور عن النبي عليه الصلاة والسلام. روي أنه كان من دعائه "اللهم إني أسألك بمعقد العز من عرشك؛ ومنتهى الرحمة من كتابك، وباسمك الأعظم وجدك الأعلى وكلماتك التامة" ولكنا نقول: هذا خبر واحد فكان الاحتياط في الامتناع "ويكره أن يقول الرجل في دعائه بحق فلان أو بحق أنبياؤك ورسلك"؛ لأنه لا حق للمخلوق على الخالق.
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 265 جلد 07 الهداية شرح بداية المبتدي مع شرح العلامة عبد الحي اللكنوي - علي بن أبي بكر بن عبد الجليل الفرغاني المرغيناني، أبو الحسن برهان الدين (المتوفى: 593هـ) - إدارة القرآن والعلوم الإسلامية، باكستان
    یہ عبارت فقہ حنفی کی معتبر کتاب الهداية کی ہے۔
    اور یہ بات انہوں نے اپنے اجتہاد سے نہیں کہی، بلکہ یہ تو ائمہ احناف سے منقول فتاوی ہیں!


    مسائل الدعاء
    روي
    عن أبي حنيفة رضي الله عنه أنه قال: يكره للرجل أن يقول في دعائه: اللهم إني أسألك بمقعد العز من عرشك يروى هذا اللفظ بروايتين: بمقعد العز من عرشك عن العقد، وبمقعد العز من عرشك من القعود، فبالرواية الثانية لا شك في الكراهة؛ لأنه وصف الله تعالى بما لا يليق به، وهو القعود والتمكن على العرش، وهو قول المجسمة. وأما في اللفظ الأول؛ فلأنه يوهم تعلق عزه بالعرش، وأن عزه حادث إذا تعلق بالحادث، والله تعالى متعالٍ عن صفة الحدث، وعن أبي يوسف أنه لا يكره؛ قال الفقيه أبو الليث رحمه الله: وبه نأخذ، فقد جاء في الحديث عن رسول الله عليه السلام أنه كان يقول: «اللهم إني أسألك بمعقد العز من عرشك ومنتهى الرحمة من كتابك، واسمك الأعظم وجدك الأعلى، وكلماتك التامة».
    ويكره أيضاً: أن يقول الرجل في دعائه: اللهم إني أسألك بحق أنبيائك ورسلك؛ لأنه لا حق لأحد من المخلوقين على الله تعالى. وفي «المنتقى»: عن أبي يوسف عن أبي حنيفة: لا ينبغي لأحد أن يدعو الله إلا به. ويكره أن يقول: أدعوك بمقعد العز من
    عرشك قال ثمة: والدعاء المأذون فيه، والمأثور به ما استفيد من قوله تعالى: {ولله الأسماء الحسنى فادعوه بها} (الأعراف: 10)، وإنما كره بمقعد العز من عرشك؛ لأنه لا يدعوه به.
    قال ثمة أيضاً: وقال أبو حنيفة رضي الله عنه: لا يصلي أحد على أحد إلا على النبي، وهو قول محمد رحمه الله، وقال أبو يوسف رحمه الله: لا بأس به، وإن ذكر غير النبي على أثر النبي في الصلاة، فلا بأس به بلا خلاف، ويكره الدعاء عند ختم القرآن في شهر رمضان، وعند ختم القرآن بجماعة؛ لأن هذا لم ينقل عن النبي عليه السلام وأصحابه؛ قال الفقيه أبو القاسم الصفار: لولا أن أهل هذه البلدة قالوا: إنه يمنعنا من الدعاء، وإلا لمنعتهم عنه.

    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 312 – 312 جلد 05 المحيط البرهاني في الفقه النعماني فقه الإمام أبي حنيفة رضي الله عنه - أبو المعالي برهان الدين محمود بن أحمد بن عبد العزيز بن عمر بن مَازَةَ البخاري الحنفي (المتوفى: 616هـ) - دار الكتب العلمية، بيروت


    لیں جناب ! شیخ الاسلام کی پیدائش سے پہلے کی کتاب میں، اور وہ بھی فقہ حنفیہ کی کتاب میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا فتوی موجود ہے!
    اب آپ پر منحصر ہے، کہ آپ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے فتوی کو درست مانتے ہوئے، تقی الدین سبکی کے مؤقف کا انکار کریں ، یا چاہیں تو آپ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے عقیدہ کو غلط قرار دیتے ہوئے تقی الدین سبکی کے مؤقف کو اختیار کریں!
    بہرصورت تقی الدین سبکی کے دعوی کا بطلان ثابت کیا جا چکا ہے۔
    یوں تو فقہ حنفیہ کی متعدد کتب سے یہ حوالے پیش کیئے جاسکتے ہیں، فی الوقت ہم اس پر ہی اکتفاء کرتے ہیں۔
    ***** ***** ***** *****

    یہاں یہ بات بالکل ثابت ہو جاتی ہے، کہ تقی الدین سبکی جن الفاظ اور جس توسل کا اثبات کررہے ہیں، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی پیدائش سے صدیوں پہلے ان الفاظ اور اس توسل کو مکروہ، یعنی مکروہ تحریمی یعنی ناجائز قرار دے رہے ہیں! لہٰذا تقی الدین سبکی کا دعوی بلکل باطل ثابت ہوجاتا ہے!
    اس پر قادری رانا اور محمد افضل رضوی دونوں نے شاہ عبدلعزیز کے حوالہ سے ایک توضیح پیش کرکے یہ باور کروانا چاہا ہے کہ امام صاحب کا فتوی ان الفاظ کے ساتھ توسل اختیار کرنے کے کو جائز قرار دینےکا ہے:
    ہم ان کے متعلقہ اقتباسات پیش کرتے ہیں:
    اور اسی وضاحت کو محمد افضل رضوی صاحب نے بھی پیش کیا:

    گو کہ محمد افضل رضوی صاحب اس بات کا اعتراف کرتے بھی ہیں کہ ائمہ احناف نے ''بحق فلاں''کہہ کر دعا کرنے کو مکروہ کہا ہے (یاد رہے کہ جب ائمہ احناف مکروہ مطلقاً کہیں، تو یہ مکروہ تحریمی یعنی ناجائز ہوتا ہے)
    لہٰذا اسی بات سے تقی الدین سبکی کا دعوی باطل ثابت ہوجاتا ہے کہ جس توسل کا اثبات تقی الدین سبکی کرنا چاہتے ہیں، اور دعوی کرتے ہیں کہ اس شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پہلے کسی عالم نے اس کا انکار نہیں کیا، یہ دعوی باطل ثابت ہوجاتا ہے، کیونکہ امام ابوحنیفہ نے بھی اس توسل کے جائز ہونے کا انکار کیا ہے اور اسے ناجائز قرار دیا ہے، کہ کوئی بحق فلاں، یا بحق انبیاء ،یا بحق رسول وغیرہ کہہ کر دعا کرے!
    رہی بات یہ کہ شاہ عبد العزیز نے اس کا جواب دیا ہے، تو جناب یہ بات تو آپ کو یہ تو آپ کا اختیار ہے کہ آپ امام ابو حنیفہ کے فتوی کو اختیار کریں، یا شاہ عبدالعزیز کا جواب قبول کرتے ہوئے امام ابو حنیفہ کے فتوی کو رد کردیں!
    کیونکہ امام ابو حنیفہ تو بحق فلاں، یا بحق انبیاء، یا بحق رسول وغیرہ کہہ کر دعا کرنے کو ناجائز قرار دیتے ہیں، اور شاہ عبدالعزیز اس کو جائز قرار دیتے ہیں! آ پ جسے چاہے اختیار کریں، لیکن تقی الدین سبکی کے دعوی کا بطلان بہر حال ثابت ہو جاتا ہے! اور یہ اس تحریر کا اصل محرک تھا!
    جی جناب! متفق! ہم اس بات سے بلکل متفق ہیں!
    دو وضاحتوں کے ساتھ کہ علماء نے بحق فلاں، میں بحق انبیاء اور بحق رسول کو بھی شامل رکھا ہے، اور اسے مکروہ، یعنی مکروہ تحریمی یعنی ناجائز لکھا ہے، اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی پیدائش سے پہلے سے لکھا ہے!
    دوم کہ ہم بھی جائز توسل کے قائل ہیں، بلکہ اس کا حکم تو قرآن دیا گیا ہے! مزید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے، مگر ہم اس توسل کے انکاری ہیں، جو تقی الدین سبکی یہاں جائز باور کروانا چاہتے تھے، اور جس کا انکار امام ابو حنیفہ سے بھی پیش کیا گیا، اور آپ نے بھی تسلیم کیا کہ علماء نے بحق فلاں کہنے کو مکروہ (یعنی مکروہ تحریمی یعنی ناجائز) لکھا ہے!

    ہم شاہ عبدالعزیز کی عبارت مکلمل عبارت تحریر کرتے ہیں، پھر اس کا جائزہ پیش کریں گے:
    وطبرانی در معجم صغیر وحاکم وابو نعیم و بیہقی از حضرت امیر المومنین عمر بن الخطاب ﷛روایت آروردہ اند کہ آنحضرت ﷺفرمودند کہ چوں حضرت آدم ﷤ ارتکاب گناہ کردند ومعاتب شد ندور قبول توبہ خود حیران بودند ایشان را یاد آمد کہ مرا ہر گاہ حق تعالیٰ پیدا کردہ بود وروح خاص درمن دسیں من در آن وقت سرخودرائے بسو عرش را داشتم ودیدم کہ اینجا نوشتہ اند
    لا اله الا الله محمد رسول الله از ینجا معلوم میشود کہ قدر ہیچکس نزد خدا برابر این شیخص نیست کہ نام او را نام خود برابر کردہ است تدبیر اینست کہ بحق ہمیں شخص سوال مغدرت نیمایم پس دعای خود گفتند اسئلك بحق محمد لاغفرت لي حق تعالیٰ ایشان را آزمرزش کردد وحی فرستاد کہ محمد از کجا دانستی ایشان تمام ماجرا را عرض کردند فرمان رسید کہ ای آدم محمد آخر پیغمبران است از ذریت تو ﷤ واگر او نمی بود ترا پیدا نمی کردم و درینجا باید دانست کہ در کُتب فقہ مذکور است کہ دعا کردن بحق کسی مکروہ است زیرا کہ کسی را خدا حقی نمی باشد تفصیل مقام آن است کہ نزد معتزلہ کہ افعال را مخلوق عبادی دانند جزای آن افعال حق حقیقی بندگان است در مذہب اہل سنت وجماعت افعال عباد مخلوق خدا اند پس عباد را بسبب آن افعال حقی ثابت نیست حقیقۃ بلکہ وعداو جعلا چنانچہ در حدیث صیح آن است کہ من امن بالله ورسوله اقام الصلوة وصام رمضان كان حقا علی الله ان يدخله الجنة هاجر في سبيل الله او جلس في ارضه التي ولد فيها ونیر در حدیث صحیح از معاذ بن جبل آن هل تدري ماحق العباد علی الله الی اخره پس انچہ در روایت توبہ حضرت آدم علیہ السلام آمد است محمول برزبان حق جعلی و تفصیلی ست و انچہ در کتب فقہ ممنوع ست و از بسکہ در زمان سابق مذہب معتزلہ رواج بسیار داشت اوستعمال این لفظ موہم مذہب ایشان فقہا مطلقا از استعمال ایں لفظ منع نمودہ اند تا خیال کسی بآن مذہب نرودانیست انچہ دریں مقام موافق قرارداد علمای ظاہر ست واہل تحقیق چنین گفتہ اند کہ ہر یک از اکمل بنی آدم را باعتبار صورت کمالیہ اوسم است از اسمای آلٰہی کہ تربیت او میفرماید پس سوال بحق کاملی از کاملان اشارہ بآن اسم ست اگر شخصی در وقت استعمال این لفظ ملاحظہ این نماید قطعا ملام و معاتب نیست۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 125 – 126 جلد 01 تفسیر فتح العزیز معروف به تفسیر عزیزی – شاہ عبد العزیز – مطبعہ محمدیہ

    ترجمہ اسی مترجم کا جو قادری رانا اور محمد افضل قادری صاحب نے پیش کیا؛ ملاحظہ فرمائیں:

    طبرانی نے معجم صغیر میں اور حاکم اور ابو نعیم اور بیہقی نے حضرت امیر المومنین عمر ابن خطاب سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حضرت آدم سے یہ گناہ سرزد ہوا ہے اور ان پر عتاب الہٰی نازل ہوا توبہ قبول ہونے میں حیران تھے کہ اتنے میں اُن کو یاد آیا کہ مجھ کو جس وقت خدائے تعالیٰ نے پیدا کیا تھا اور رُوح خاص میرے اندر پھونکی تھی اُس وقت میں نے اپنے سر کو عرش کی طرف اٹھایا تھا اُس جگہ لکھا دیکھا لا الٰه الا الله محمّد رسول الله یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ قدر کسی شخص کی اللہ کے نزدیک برابر قدر اس شخص کے نہیں کہ نام اُس کا اپنے نام کے ساتھ برابر لکھا ہے تدبیر یہ ہے کہ بحق اُسی شخص کے سوال مگفرت کا کروں میں پس دُعا میں کہا اسئلك بحق محمّد ان نغفرلی۔۔ حق تعالی نے اُن کی بخشش کی اور وحی بھیجی کہ محمّد کو کہاں سے جانا تونے انُھوں نے تمام ماجرا عرض کیا حکم پہنچا کہ اے محمّد سب پیغمبروں سے پچھلا پیغمبر ہے اولاد تیری میں سے
    بیان لفظ بحق فلاں کا (یہاں یہ ہیڈینگ اشاعت میں ڈالی گئی ہے)
    اور اگر وہ نہ ہوتا تجھ کو پیدا نہ کرتا میں اس جگہ سے جاننا چاہئے کہ فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ دُعا کرنے میں لفظ بحق فلاں کا لانا مکروہ ہے اس واسطے کہ کسی کا اوپر خدا کے حق نہیں ہوتا ہے اور تفصیل مقام کہ یہ ہے کہ معتزلیوں کے نزدیک کہ بندوں کو ان کے فعلوں میں خالق سمجھتے ہیں جزا اُن فعلوں کی حقیقۃ حق بندوں کا ہے اور اوپر مذہب اہل سنّت وجماعت کے افعال بندوں کے مخلوق خدا کے ہیں پس بندوں کو بسبب ان فعلوں کے کوئی حق حقیقۃ ثابت نہیں بلکہ باعتبار وعدہ اور رحمت کے اپنی طرف سے مقرر کیا کہ حدیث میں آیا ہے کہ
    مَنْ اٰمَنَ بالله ورسوله واقام الصّلوٰة وصام رمضان كان حقا علی الله ان يدخله الجنّة هاجر في سبيل الله او جلس في ارضه الّتي وليد فيها.
    یعنی جو شخص ایمان لایا ساتھ اللہ کے اور رسول اُس کے اور ادا کیا اُس نے نماز کو اور روزے رمضان کے ہوگیا حق اُس کا اللہ کے اوپر یہ کہ داخل کرے اُس کو بہشت میں خواہ ہجرت کرکے اللہ کے راستے میں یا بیٹھ رہے بیچ زمین میں اپنی کے جس پر پیدا ہوا ہے اور بھی حدیث صحیح میں معاذ بن جبل سے آیا ہے هل تدري ماحق العباد علی الله الی اخره۔۔ پس جو روایت حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ میں لفظ حق کا آیا ہے محمول اُوپر اُسی حق جعلی اور تفصِیلی کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے تقرر کردیا نہ کہ حقیقۃً حق ہے اور وہ کہ فقہ کی کتابوں میں جس سے منع کیا گیا ہے وہم اُن کے مذہب کا جاتا تھا فقہا نے مطلقاً استعمال اس لفظ سے منع فرمایا ہے تاکہ خیال کَسی کا اُس مذہب کی طرف نجاوے یہ تقریر موافق قرارداد علماء ظاہر کے ہے اور اہل تحقیق نے ایسا کہا ہے کہ ہر ایک کے واسطے کاملین بنی آدم سے ایک اسم ہے اسماء الہٰی سے کہ تربیت اُس کی فرماتا ہے پس سوال کرنا ساتھ حق کامل کے اشارہ اُسی اسم کی طرف ہے اگر کوئی شخص وقت استعمال اس لفظ کے اس معنی کا لحاظ کرے لائق ملامت اور عتاب کے نہیں۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 125 - 126 جلد 01 تفسیر فتح العزیز معروف به تفسیر عزیزی (مترجم اردو) – شاہ عبد العزیز – ایچ، ایم سعید کمپنی

    ایک ضمنی سوال کہ یہاں تو شاہ عبد العزیزنے اس روایت سے یہ بھی لکھا ہے کہ آدم ﷤ سے گناہ کا ارتکاب ہوا، تو کیا مسلک بریلویہ اس بات کی قائل ہے کہ آدم ﷤ سے گناہ کا ارتکاب ہوا، اور انبیاء علیہ السلام سے گناہ کا ارتکاب ہوسکتا ہے؟
    شاہ عبد العزیز کی وضاحت کئی وجوہات کی بناء پر درست اور قابل قبول نہیں؛
    اول: جس روایت کی بناء پر شاہوعبد العزیز بحق فلاں، یا بحق انبیاء، یا بحق رسول کے الفاظ کے ساتھ دعا کرنے کو جائز قرار دے رہے ہیں، وہ روایت ہی ضعیف ومردود ہے! اور اس روایت کا ضعیف ومردود ہونا ہم پہلے تفصیل کے ساتھ ثابت کر چکے ہیں، اسے اقتباس میں پیش کردیتے ہیں:

    دوم: امام ابو حنیفہ کا فتوی ہے: ويكره أن يقول الرجل في دعائه: اللهم إني أسألك بحق أنبيائك ورسلك؛ یعنی یہ مکروہ (یعنی مکروہ تحریمی یعنی ناجائز) ہے کہ کوئی شخص اپنی دعا میں یوں کہے کہ اے میرےے پروردگار میں تجھ سے تیرے انبیاء اور رسولوں کے حق سے سوال کرتا ہوں،
    اور شاہ عبد العزیز ان الفاظ میں دعا کرنے کو جائز کہتے ہیں!
    یعنی کہ شاہ عبد العزیز نے جومؤقف اختیار کیا ہے وہ امام ابو حنیفہ کے فتوی کے خلاف، متضاد اور منافی ہے، اور جب کوئی ''وضاحت وشرح '' متن کے خلاف، متضاد ومنافی ہو تو یہ شارح کا مؤقف تو ہو سکتا ہے، لیکن ماتن کا مؤقف قرار نہیں پاتا۔ فتدبر!
    سوم: امام ابوحنیفہ کا فتوی یہ ہے کہ ان الفاظ کے کہنے سے جو حق لازم آتا ہے وہ حق مخلوق کا خالق پر نہیں!
    جبکہ شاہ عبد العزیز کہتے ہیں کہ اگر حقیقی حق کا گمان نہ ہو، بلکہ جعلی حق کا خیال ہو تو ان الفاظ میں دعا کرنا جائز ہے، لیکن امام صاحب نے ان الفاظ سے جس حق کا لازم آنا قرار دیا ہے، وہ حق مخلوق کا خالق پر نہیں!
    اب یا تو امام ابو حنیفہ کی بات درست ہے کہ ان الفاظ سے حق حقیقی کا ماننا لازم آتا ہے، یا شاہ عبدالعزیز کی بات کہ اس سے ان الفاظ سے حق حقیقی لازم نہیں آتا!
    چہارم: شاہ عبدالعزیز کی توضیح سے یہ بات بھی لازم آتی ہے، کہ امام صاحب معتزلہ کے رد میں قرآن وحدیث سے ثابت شدہ اعمال کو بھی ناجائز قرار دیا کرتے تھے!
    جبکہ یہ کوئی معقول بات بھی نہیں، کہ اس طرح تو کوئی شخص امام مہدی ہونے کے دعوی داروں کے رد میں امام مہدی کی پیشن گوئیوں کا بھی انکار کردینا، اما ابو حنیفہ کہ طریقہ سے ثابت کردے گا۔ فتدبر!

    (جواب مکمل ہوا)
     
    Last edited: ‏جون 28، 2018
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 06، 2017 #94
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    شیخ @ابن داود بھائی میرے خیال میں آپ یہاں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رح لکھنا چاہ رہے تھے لیکن غلطی سے امام ابو حنیفہ رح کا نام آگیا
     
  5. ‏فروری 06، 2017 #95
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

     
  6. ‏فروری 07، 2017 #96
    محمد افضل رضوی

    محمد افضل رضوی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 13، 2017
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    28

    آپ کے سنابلی صاحب نے امام ابن حبان رحمہ اللہ کے قول وعمل کو ان کا اپنا ذاتی اجتہاد کہا۔۔
    اورآپ نے انکے دفاع میں صحيح البخاری کی یہ حدیث پیش کی
    جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہوتو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور جب کسی فیصلہ میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے اکہرا ثواب ملتا ہے ( اجتہاد کا )

    تو جناب اگر قبر سے توسل یا فیوض وبرکت امام ابن حبان رحمہ اللہ کا اپنا ذاتی اجتہاد اور اس میں غلطی پہ بھی انہیں ثواب ۔۔

    تو سنی بریلوی لوگوں پرہی اس بات کی وجہ سے شرک کے فتوے کیوں۔؟؟؟
     
  7. ‏فروری 07، 2017 #97
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    @محمد افضل رضوی بھائی! میں آپ کی جانب سے جواب مکمل ہونے تک انتظار کرتا ہوں، آپ مراسلہ کے آخر میں جواب کے جاری ہونی کی نشاندہی کردیا کیجئے!
     
  8. ‏فروری 07، 2017 #98
    محمد افضل رضوی

    محمد افضل رضوی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 13، 2017
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    28

    ویسے تو ہر مراسلہ میں بے شمار ایسی باتیں جن پر کافی زیادہ بحث کی جا سکتی ہے۔ مگر میں انہی باتوں کو لے کر چل رہا جو موضوع کے زیادہ قریب ہیں تا کہ بات کسی اور طرف نہ چلی جائے اور قارئین بھی ساری بحث کو آسانی سے سمجھ سکیں۔
     
  9. ‏فروری 07، 2017 #99
    محمد افضل رضوی

    محمد افضل رضوی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 13، 2017
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    28

    ١-ہم نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی اس بات کا رد یا انکار کہاں کیا ہے؟؟
    جیسا کہ جناب نے اکثر جگہ اپنے مراسلات میں لکھا۔۔

    ٢- جناب کا یہ کہنا کہ میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے قول کولے کرامام مرداوی رحمہ اللہ کی وضاحت کو نہیں مان رہا جبکہ شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کی وضاحت کومان رہا ہوں۔۔
    تو جناب آگر آپ خود انصاف کریں تو شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے باقاعدہ فقہاء کا اور ان الفاظ کا ذکر کر کے اسکی وضاحت کی ہے۔
    جبکہ امام مرداوی رحمہ اللہ نے پہلے اپنے مذہب‘ پھر امام احمد بن حنبل کا اور اسکے بعد شیخ تقی الدین کا ذکر کیا وہاں کہیں بھی ذکرنہیں کہ یہ امام احمد بن حنبل کے قول کی وضاحت ہے۔ انہوں نے بس ان دونوں کی رائے کو پیش کیا ہے۔



    فلحال جناب انکی وضاحت کردیں باقی باتیں بعد میں ان شاء الله
     
  10. ‏مارچ 29، 2017 #100
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۔
    السلام علیکم! میں اجازت طلب کرتا اپنے رب سے یہاں کچھ کہنے کے لئے ۔۔۔۔۔

    وسیلہ۔۔۔۔
    اس بحث کو دیکھ کر حیران ہوگیا یہ دیکھ کرکیسے قرآن مجید کی توہین ہو رہی ہے ۔ بعض لوگوں کو قرآن مجید کی آیات اور مفہوم سے سمجھایا جا رہالیکن قرآن مجید کا واضح انکار کر کے اپنے مطلب کے مفہوم کی طرف چھکتے جا رہے ۔۔۔۔۔۔

    وسیلہ ۔۔۔۔نیک انسان کے پاس جا کر جو زندہ ہو ۔۔۔۔صرف دعا کروانا جائز وہ بھی ایسا شخص جو کفر و شرک نہ کرتا ہو،،،،اس کے عمل بھی اچھے ہوں صرف دعا کروانا اور اس کا ایمان ہو کہ معلوم نہیں میری دعا قبول ہو یا نہ ہو ۔۔۔یہ ہے درست طریقہ۔۔۔۔

    وفات شدہ کسی کا بھی نام لے کر دعا کرنا ناجائز ہے ۔ حرام ہے ۔ کفر ہے شرک ہے ۔۔۔قرآن کے خلاف ہے ۔۔۔تہمت ہے اللہ پر ، فرشتوں پر ،،،،پیغمبروں پر۔۔۔۔۔

    ایک وسیلہ ہے ۔۔۔اللہ کے قریب آنے کے لئے ۔۔۔نماز پڑھو، زکٰوۃ دو،روزے رکھو،نیک کام کرو، برائی سے بچو،گالی نہ دو،حج کی توفیق ہے تو حج کرو، کفر و شرک سے بچو یہ وہ کام ہیں جن سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور یہ ہے ذریع اور یہ ہے وسیلہ۔۔۔شکریہ

    جو قرآن مجید سے فیصلہ نہیں لیتا واضح جواب ملے کے باوجود غور نہیں کرتا اور اس کی تعید میں احادیث پر بھی غور نہیں کرتا وہ کافر ہے ۔۔۔۔۔اور کفر میں بڑھتا چلا جائے توبہ نہ کرے آیات کا انکار کرتا چلا جائے صرف ایک فلاں عالم ، نے فلاں بات کی لیکن قرآن سے جواب اس کے مخالف ملے اور مختلف آیات اس کی دلیل دیں کہ یہ فلاں بات جھوٹی ہے ۔۔۔۔تب بھی غور نہ کرتے اور بحث کرتا چلا جائے ۔۔۔۔وہ کفر کے ساتھ ساتھ شرک بھی کر ڈالتا ہے ۔۔۔اللہ کی بات کو اہمیت نہی دیتا اور اپنے علما کی بات مانتا چلا جاتا ہے ۔۔۔۔استغفراللہ۔۔۔۔۔

    اللہ سے دعا ایسا علم اعطائ فرمائ جس پر عمل بھی ہو ۔۔۔آمین۔۔شکریہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں