1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وسیلے کے بارے ابو الجوزاء والی روایت کی حقیقت

'وسیلہ' میں موضوعات آغاز کردہ از رضا میاں, ‏مارچ 31، 2011۔

  1. ‏اپریل 01، 2011 #11
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
    حدثنا أبو النعمان، حدثنا سعید بن زید، حدثنا عمرو بن مالک النکری، حدثنا أبو الجوزا أوس بن عبداللہ قال:قحط أہل المدینة قحطا شدیدا، فشکوا لی عائشة، فقالت: انظروا قبر النبی r، فاجعلوا منہ کوا لی السماء حتی لا یکون بینہ وبین السماء سقف، قال: ففعلوا، فمطرنا مطرا، حتی نبت العشبن وسمنت البل حت تفتقت من الشحم، فسمی عام الفتق.
    یہ روایت سنن دارمی کی ہے جس کامعنی یہ ہے کہ ایک دفعہ اہل مدینہ کے ہاںشدید قحط پڑا اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے اوپر موجود چھت اوپر سے کھول دو یہاں تک آپ کی قبر اور آسمان کے مابین کوئی رکاوٹ نہ رہے ۔ پس انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پس اس سے خوب بارش ہوئی ، جڑی بوٹیاں اگیں، اونٹ اپنی چربی کی وجہ سے خوب موٹے تازے ہو گئے اور اس سال کو خوشحالی کا سال کہا گیا۔
    اس روایت میں کوئی ایسی بات موجود نہیں ہے کہ جس سے یہ استدلال کیا جا سکے کہ کسی صاحب قبر کا وسیلہ پکڑ اجا سکتا ہے ۔ اس بات کو یوں سمجھیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت ہے اور اس ذات پر برکتوں کا نزول مسلسل ہوتا رہتا ہے اور اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی ۔
    اللہ کے صلاة سے مراد برکتوں کا نزول ہے۔اسی طرح آپ کی ذات مبارک جہاں مدفون ہے یعنی آپ کی مرقد مبارک بھی بابرکت ہے اور اس پر بھی برکات الہیہ کا نزول ہوتا رہتا ہے اور اس میں بھی کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ اسی طرح بارش اللہ کی برکات میں سے ایک برکت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وأنزلنا من السماء ماء مبارکا۔
    اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا۔
    پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اہل مدینہ کو ایک تدبیر سکھلائی کہ آپ کی قبر مبارک سے چھت کھول دو گے تو اللہ کے سامنے اس جگہ کو لے آؤ گے جو برکات کے نزول کی جگہ ہے اور برکات کے نزول کی جگہ اللہ کی برکت یعنی بارش بھی نازل ہو جائے گی۔ یہ تو اس روایت کا فقہی اعتبار سے جواب ہے۔ اس کو آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن میں لیلة القدر کی رات کو بابرکت رات نازل کیا گیا ہے اور کوئی عالم کہے کہ اس رات میں دنیا میں کہیں نہ کہیں برکت یعنی بارش نزول ضرور ہوتا ہے جیسا کہ بعض اہل علم کا قول ہے۔ تو یہ ایک تجربے اور مشاہدے کی بات ہے کہ کسی برکت والے ظرف زمان یا مکان کو برکت کے نزول یعنی بارش کا سبب سمجھناکسی اعتبار سے بھی اس کو وسیلہ بنانے کے مترادف نہیں ہے۔وسیلہ بنانے سے مراد یہ ہوتی ہے کہ آپ کسی صاحب قبر کے حق یا جاہ یا مقام ومرتبے کو اللہ کے ہاں واسطہ بناکر دعا کریں جبکہ یہاں اس اثر میںاہل مدینہ کا کوئی ایسا فعل نقل نہیں ہوا ہے۔
    دوسری بات یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے یعنی جو روایت کسی صحابی پر ختم ہو تو وہ موقوف روایت کہلاتی ہے۔ پس اس روایت کی حیثیت قول صحابی کی ہے نہ کہ حدیث مرفوع کی۔ بہر حال دین میں صحابی کے قول کا بھی ایک مقام ہے۔
    تیسری بات یہ ہے کہ اس روایت کی سند ضعیف ہے اور اس کی تفصیل اس صفحہ میں موجود ہے جس کا حوالہ اوپر نقل کیا گیا ہے اور اس کا اردو ترجمہ کرنے کی فرمائش بھی آئی ہے ۔
     
  2. ‏اپریل 02، 2011 #12
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    جزاک اللہ خیر، بھائ جان!!
     
  3. ‏اپریل 02، 2011 #13
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    رضا بھائی! میں نے آپ کے دئیے گئے لنک میں ملتقیٰ اہل الحدیث میں موجود مکمل صفحہ تفصیل سے پڑھا ہے، جس میں بدلائل اس سنن دارمی کی اس حدیث کے ضعف کو واضح کیا گیا ہے، جن لوگوں نے اس حدیث کے راویوں کو ثقہ ثابت کرکے حدیث کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، اس پر بدلائل رد کیا گیا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ یہ حدیث قطعاً حدیث نہیں۔ اور آخر میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح بھی ثابت ہوجائے تو اس سے اللہ سے دعا کرتے ہوئے فوت شدہ بزرگوں کا وسیلہ ڈالنا ہرگز ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔
    واللہ اعلم
     
  4. ‏مارچ 21، 2016 #14
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں