1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وضو کےپانی میں شفاء ہی شفاء

'وضو' میں موضوعات آغاز کردہ از عبقری ریڈر, ‏فروری 06، 2014۔

  1. ‏فروری 06، 2014 #1
    عبقری ریڈر

    عبقری ریڈر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 08، 2013
    پیغامات:
    180
    موصول شکریہ جات:
    163
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    وضو کےپانی میں شفاء ہی شفاء ،،،پہلے یہاں پراحادیث مبارکہ کی روشنی میں وضو کے بچے ہوئے پانی کی فضیلت جانتے ہیں پھر ان شاء اللہ عوام الناس کے تجربات شئیر کیے جائیں گے کہ وضو کے بچے ہوئے پانی سے کس کو کیا ملا یہ پوسٹ بہت ہی اہم پوسٹ ہے اسکو ضرور پڑھیں اور فائدہ اٹھائیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو خیر پھیلانے کا ذریعہ بنادے۔ آمین
    لوگوں کے وضو کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا:
    حدثنا آدم،‏‏‏‏ قال حدثنا شعبة،‏‏‏‏ قال حدثنا الحكم،‏‏‏‏ قال سمعت أبا جحيفة،‏‏‏‏ يقول خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالهاجرة،‏‏‏‏ فأتي بوضوء فتوضأ،‏‏‏‏ فجعل الناس يأخذون من فضل وضوئه فيتمسحون به،‏‏‏‏ فصلى النبي صلى الله عليه وسلم الظهر ركعتين والعصر ركعتين،‏‏‏‏ وبين يديه عنزة‏.‏
    ہم سے آدم نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے حکم نے بیان کیا ، انھوں نے ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس دوپہر کے وقت تشریف لائے تو آپ کے لیے وضو کا پانی حاضر کیا گیا جس سے آپ نے وضو فرمایا۔ لوگ آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر اسے (اپنے بدن پر) پھیرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں ادا کیں اور عصر کی بھی دو رکعتیں اور آپ کے سامنے (آڑ کے لیے) ایک نیزہ تھا۔صحیح بخاری کتاب الوضو حدیث نمبر : 187
    لوگوں کے وضو کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا:
    حدثنا عبد الرحمن بن يونس،‏‏‏‏ قال حدثنا حاتم بن إسماعيل،‏‏‏‏ عن الجعد،‏‏‏‏ قال سمعت السائب بن يزيد،‏‏‏‏ يقول ذهبت بي خالتي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله،‏‏‏‏ إن ابن أختي وجع‏.‏ فمسح رأسي ودعا لي بالبركة،‏‏‏‏ ثم توضأ فشربت من وضوئه،‏‏‏‏ ثم قمت خلف ظهره،‏‏‏‏ فنظرت إلى خاتم النبوة بين كتفيه مثل زر الحجلة‏.‏
    ہم سے عبدالرحمٰن بن یونس نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے جعد کے واسطے سے بیان کیا ، کہا انھوں نے سائب بن یزید سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ میری خالہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا یہ بھانجا بیمار ہے، آپ نے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، پھر آپ نے وضو کیا اور میں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی پیا۔ پھر میں آپ کی کمر کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور میں نے مہر نبوت دیکھی جو آپ کے مونڈھوں کے درمیان ایسی تھی جیسے چھپر کھٹ کی گھنڈی۔ (یا کبوتر کا انڈا)۔حدیث نمبر : 190
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بیہوش آدمی پر اپنے وضو کا پانی چھڑکنا:
    حدثنا أبو الوليد،‏‏‏‏ قال حدثنا شعبة،‏‏‏‏ عن محمد بن المنكدر،‏‏‏‏ قال سمعت جابرا،‏‏‏‏ يقول جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني،‏‏‏‏ وأنا مريض لا أعقل،‏‏‏‏ فتوضأ وصب على من وضوئه،‏‏‏‏ فعقلت فقلت يا رسول الله لمن الميراث إنما يرثني كلالة‏.‏ فنزلت آية الفرائض‏.‏
    ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے محمد بن المنکدر کے واسطے سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ میں بیمار تھا ایسا کہ مجھے ہوش تک نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، تو مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میرا وارث کون ہو گا؟ میرا تو صرف ایک کلالہ وارث ہے۔ اس پر آیت میراث نازل ہوئی۔حدیث نمبر : 194
    عیادت کرنے والے کا بیمار کے لیے وضو کرنا:
    حدثنا محمد بن بشار،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا غندر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا شعبة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن محمد بن المنكدر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال دخل على النبي صلى الله عليه وسلم وأنا مريض فتوضأ فصب على أو قال صبوا عليه فعقلت فقلت لا يرثني إلا كلالة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فكيف الميراث فنزلت آية الفرائض‏.‏
    ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن منکدر نے ، کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں بیمار تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر ڈالا یا فرمایا کہ اس پر یہ پانی ڈال دواس سے مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کیا کہ میں تو کلالہ ہوں (جس کے والد اور اولاد نہ ہو) میرے ترکہ میں تقسیم کیسے ہو گی اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی۔حدیث نمبر : 5676
    کھڑے کھڑے پانی پینا:
    حدثنا آدم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا شعبة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا عبد الملك بن ميسرة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ سمعت النزال بن سبرة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ يحدث عن علي رضى الله عنه أنه صلى الظهر ثم قعد في حوائج الناس في رحبة الكوفة حتى حضرت صلاة العصر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم أتي بماء فشرب وغسل وجهه ويديه وذكر رأسه ورجليه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم قام فشرب فضله وهو قائم ثم قال إن ناسا يكرهون الشرب قائما وإن النبي صلى الله عليه وسلم صنع مثل ما صنعت‏.‏
    ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا ، انہوں نے نزال بن سبرہ سے سنا ، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہانہوں نے ظہر کی نماز پڑھی پھر مسجد کوفہ کے صحن میں لوگوں کی ضرورتوں کے لیے بیٹھ گئے۔ اس عرصہ میں عصر کی نماز کا وقت آ گیا پھر ان کے پاس پانی لایا گیا۔ انہوں نے پانی پیا اور اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، ان کے سر اور پاؤں (کے دھونے کا بھی) ذکر کیا۔ پھر انہوں نے کھڑے ہو کر وضو کا بچا ہوا پانی پیا، اس کے بعد کہا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو برا سمجھتے ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یو نہی کیا تھا جس طرح میں نے کیا۔ وضو کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔کتاب الاشربۃحدیث نمبر : 5616
    لوگوں کے وضو کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا:
    حدثنا علي بن عبد الله،‏‏‏‏ قال حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد،‏‏‏‏ قال حدثنا أبي،‏‏‏‏ عن صالح،‏‏‏‏ عن ابن شهاب،‏‏‏‏ قال أخبرني محمود بن الربيع،‏‏‏‏ قال وهو الذي مج رسول الله صلى الله عليه وسلم في وجهه وهو غلام من بئرهم‏.‏ وقال عروة عن المسور وغيره يصدق كل واحد منهما صاحبه وإذا توضأ النبي صلى الله عليه وسلم كادوا يقتتلون على وضوئه‏.‏
    ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ، کہا ہم سے میرے باپ نے ، انھوں نے صالح سے سنا۔ انھوں نے ابن شہاب سے ، کہا انہیں محمود بن الربیع نے خبر دی ، ابن شہاب کہتے ہیں محمود وہی ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کے کنویں (کے پانی) سے ان کے منہ میں کلی ڈالی تھی اور عروہ نے اسی حدیث کو مسور وغیرہ سے بھی روایت کیا ہے اور ہر ایک (راوی) ان دونوں میں سے ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو آپ کے بچے ہوئے وضو کے پانی پر صحابہ رضی اللہ عنہم جھگڑنے کے قریب ہو جاتے تھے۔حدیث نمبر : 189 کتاب الوضو
     
  2. ‏فروری 06، 2014 #2
    عبقری ریڈر

    عبقری ریڈر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 08، 2013
    پیغامات:
    180
    موصول شکریہ جات:
    163
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    اقتباس درس ہدایت (حضرت حکیم طارق محمود صاحب)
    اعمال سے پلنے،اعمال سے بننے اور اعمال سے بچنے کا یقین ہو۔
    پوری کائنات میں تین پانی ہیں جس میں اللہ جل شانہ نے شفا رکھی ہے۔ایک ہے آب زم زم دوسراہے بارش کا پانی تیسرا ہے وضو کے بعد کا بچا ہوا پانی۔وضو کے بعد تین گھونٹ پانی پئیں چاہے وہ لوٹے سے کیا ہو،نل سے،تالاب سے،نہر سے کیا ہو۔بخار سے لے کر کینسر تک ہرلاعلاج بیماری کے لیے یہ آخری علاج ہے لیکن یقین شرط ہے
    صائب بن یزید رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے مجھے میری خالہ رسول پاک صلّى الله عليه وسلّم کی خدمت میں لے گئیں یا رسول اللہ صلّى الله عليه وسلّم میرا بھانجا بیمار ہے آپ صلّى الله عليه وسلّم نے میرے سر پرہاتھ پھیرا،میرے لیے برکت کی دعا کی پھر آپ صلّى الله عليه وسلّم نے وضو فرمایا۔میں نے آپ صلّى الله عليه وسلّم کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا۔(صیحح بخاری جلد اول صفحہ ۳۱ )
    حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاک صلّى الله عليه وسلّم میرے پاس تشریف لائے میں اسوقت بیمار تھا۔ رسول پاک صلّى الله عليه وسلّم نے وضو فرمایا اور وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر ڈال دیا یا ڈلوادیا اسکی برکت سے مجھے ہوش آگیا اور میں صحت یاب ہو گیا۔
    ایک روایت میں ہے کہ رسول پاک صلّى الله عليه وسلّم صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سفر میں تشریف لے جا رہے تھے قافلے نے ایک جگہ پڑاؤ کیا رسول پاک صلّى الله عليه وسلّم کے لئے وضو کے لیے جو پانی لایا گیا وہ مقدار میں کم تھا رسول پاک صلّى الله عليه وسلّم نے وضو فرمانے کے بعد اس میں سے بھی بچا ہوا پانی لیا اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا اس پانی کی حفاظت کرنا اس پانی کی اپنی شان ہے۔(صیحح مسلم،بخاری)

    وضو کے بچے پانی سے اپنے مسائل حل کرا لیں۔جس وضو کی برکت سے فرض نماز اور قرآن پڑھتے ہیں،اعمال کرتے ہیں خود وہ وضو کتنی بڑی نیکی ہو گی۔
    ایک صاحب روزنامہ جنگ میں کام کرتے ہیں فرمانے لگے کہ گزشتہ جمعرات درس میں وضو کے بعد تین گھونٹ پانی پینے سے شفا والا عمل سنا تھا میری زبان اور منہ کے اندر چھالے نکل آتے تھے، جو بہت تکلیف دیتے تھے، میں سومو جل استعمال کرتا تھا ،پچھلی جمعرات جب مجھے پتہ چلا تو اگلے روز میری زبان پر چھالا نکل آیا میںنے عصر کے وقت وضو کیا اور تین گھونٹ پانی پیئے۔ پہلے گھونٹ پر''اللہ شافی'' دوسرے گھونٹ پر ''اللہ معافی''اور تیسرے گھونٹ پر ''اللہ کافی'' پڑھ کر پی لیا ،مغرب تک میرا منہ اور زبان چھالے سے صاف ہو گئے۔
    چند تجربات شئیر کیے جا رہے ہیں شائد کہ تیرے دل میں اترجائے میری بات لوگوں کے تجربات سے استفادہ حاصل کریں۔
    وضو کے بعد تین گھونٹ پانی میں نے اس نیت سے پیئے کہ روزے میں بھوک پیاس نہ لگے، اللہ کا شکر ہے اس سے مجھے فائدہ ہوا۔ (ا۔ض)

    میرے منہ میں ایک طرف زخم ہو گیا جس کی وجہ سے سوجن ہو گئی تھی۔ وضو کے تین گھونٹ پانی دو دن استعمال کیا اور میرا زخم خود ہی ٹھیک ہو گیا کوئی دوا بھی استعمال نہیں کی۔ الحمدللہ(م ق)

    ایک جاننے والی ہیں ان کا وزن ماشاء اللہ سے کافی زیادہ تھا اوپر سے پیٹ بڑے بے ہنگم انداز سے بڑھا ہوا تھا ان کو وضو کے بعد تین گھونٹ پانی والے عمل پر لگایاکہتی ہیں کہ پیٹ پر تین بل پڑے ہوئے تھے اب ماشاء اللہ سے ایک بل کم ہو گیا ہے۔ (ا ح)

    میری والدہ کے جسم پر گلٹیاں تھیں ڈاکٹرز نے آپریشن کا کہاتھا۔ امی نے کچھ عرصہ مسلسل وضو کے تین گھونٹ پانی استعمال کیا۔ اورچلو میں پانی لے کر چاروں طرف لگانا شروع کردیا۔ اور کچھ دنوں میں صحت یاب ہو گئیں۔
    مجھے جب بھی کوئی بیماری، زکام،یا جسم کے کسی حصے میں بھی درد ہو وضو کے تین گھونٹ پانی سے شفاء ملی ہے۔ زیادہ وقت بھی نہیں لگا صرف چند دن کے عمل سے فائدہ ہوا۔(م ق)

    وضو کے تین گھونٹ سے غصہ، لڑائی جھگڑا ختم ہوجاتا ہے۔ جس کو بھی بتایا ہے وہ اب سکون کا سانس لے رہا ہے۔ (ع م)

    آنکھ میں درد تھا میں نے شیشے کے سامنے یہ دعا (بسم اللہ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ) پڑھی اور وضو کے تین گھونٹ استعمال کیے آنکھ کا درد ٹھیک ہو گیا(س ف)

    حضرت صاحب نے وضو کے بعد تین گھونٹ پانی پینے کا بتایا تھا اگر منہ میں چھالے ہوں یا منہ پک جائے تو وہ ٹھیک ہو جاتا ہے ظہر کے وقت کروں تو عصر کی نماز تک ماشاء اللہ ٹھیک ہو جاتا ہے (ش ا)

    میری زبان پر ایک دانہ نکل آیا تھا بہت تکلیف ہونے لگی تھی کچھ ٹھیک سے کھا بھی نہیں سکتے تھے میں نے کسی دوا کی بجائے وضو کے تین گھونٹ اس نیت سے پینے شروع کر دئیے کہ زبان ٹھیک ہو جائے اگلے دن زبان پر کسی دانے کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔(ا ع)
     
  3. ‏فروری 06، 2014 #3
    عبقری ریڈر

    عبقری ریڈر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 08، 2013
    پیغامات:
    180
    موصول شکریہ جات:
    163
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

  4. ‏فروری 06، 2014 #4
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ، فَيَكْذِبَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ، فَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا؟ فَيُصَدَّقُ بِتِلْكَ الكَلِمَةِ الَّتِي سَمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ -صحیح البخاری، التفسیر، باب قولہ تعالی حتی اذا فزع عن قلوبہم
    اور کبھی شعلے کے آنے تک شیطان اسے بات بتا چکا ہوتا ہے اور کاہن شیطان کی طرف سے سنی ہوئی بات کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔اگر کوئی بات اس کی بتائی ہوئی بات کے مطابق ہوجائے تو لوگ کہتے ہیں کہ کیا فلاں روز فلاں ساحر یا کاہن نے ایسے ہی نہیں کہا تھا؟ چنانچہ اس کی صرف اس ایک بات کے سچے ہونے سے اس کا ہن یا ساحر کو سچا سمجھ لیا جاتا ہے جو اس نے آسمان سے سنی ہوتی ہے۔
    حدیث صرف اس لئے ہے کہ پتا چل سکے کہ کبھی ایک نام نہاد مصلح سچی بات بتاتا ہے جس کا مقصد لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا ہوتا ہے پھر مختلف اپنی مطلب کی باتیں بھی اس میں شامل کر دیتا ہے
    اوپر یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تین گھونٹ پانی پی لیا جائے تو شفا ہو جائے گی میرے خیال میں یہ اسی قبیل سے ہے محترم شیخ کفایت اللہ بھائی یا محترم شیخ رفیق طاھر بھائی یا کوئی اور بھائی اس کی وضاحت کر دیں تو آگے بات کی جائے اللہ جزائے خیر دے امین
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  5. ‏فروری 06، 2014 #5
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    عبدہ بھائی اپنے جھوٹ اور باطل کو معتبر بنانے کے لیے ایک سچ بھی شامل کرلیا جائے تو کیا حرج ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  6. ‏فروری 06، 2014 #6
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    اگر یہ حدیث مبارکہ میں ھے تو یقیناً اس پانی میں شفاء ہو گی بلکل ایسے جیسے قبیلہ عکل اور قبیلہ عُرینہ کے کچھ لوگوں کو "اُونٹنیوں کا دودھ + پیشاب = محلول" پینے کو کہا گیا، وہ شائد اسی وقت کے لئے تھا مگر سعودی عرب والے اسے ابھی تک استعمال کرتے ہیں۔ وضو کے پانی پر بھی کوئی مشاھدہ ھے تو پیش کریں میرے لئے مشکل نہیں۔ اس کے علاوہ کالی کھانسی اگر کسی کو ہو اور وہ مرنے کے قریب ہو کہ جسے ڈاکٹروں نے جواب دے ہو تو اس پر بھی ایک پانی ھے اسے پینے سے کھانسی بھی غائب اور اللہ سبحان تعالی کے فضل و کرم سے بچ بھی جائے گا۔

    والسلام
     
  7. ‏فروری 07، 2014 #7
    عبدالعلام

    عبدالعلام رکن
    جگہ:
    Aurangabad
    شمولیت:
    ‏مارچ 15، 2012
    پیغامات:
    153
    موصول شکریہ جات:
    478
    تمغے کے پوائنٹ:
    95

    دعوی اور دلیل میں کہیں مطابقت نہیں- عام جہلاء کو دھوکہ دینے اور بدعت کو جاری کرنے کی کوشش کے لئے صاحب مضمون تعریف کے حقدار ہیں-
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 07، 2014 #8
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی اسی وجہ سے میں نے کیس علماء حدیث کی طرف ریفر کیا تھای البتہ جو یہ لکھا تھا کہ یہ اسی قبیل سے ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ موصوف نے تین گھونٹوں کی قید لگائی تھی جو مجھے واضح بدعت نظر آئی اللہ آپ کو نشاندہی کرنے پر جزائے خیر دے امین
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 07، 2014 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    عبقری صاحب نے اپنے مراسلے میں تین جگہ درج بالا عنوان استعما ل کیا ہے۔
    کیا یہ عنوان اس طرح نہیں ہونے چاہیے؟
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏فروری 07، 2014 #10
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جی محترم بھائی اسی لئے میں نے اس کی تحقیق کا کہا تھا کہ کیا یہ صرف معجزہ تھا یا مطلق شفا کی بات ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں