1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وہ کہ جس نے قرآن کو چیلنج کیا

'اعجاز قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از غزنوی, ‏مارچ 17، 2013۔

  1. ‏مارچ 17، 2013 #1
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    وہ کہ جس نے قرآن کو چیلنج کیا

    1977 میں جناب گیری میلر (Gary Miller) جو ٹورنٹو یونیورسٹی میں ماہر علمِ ریاضی اور منطق کے لیکچرار ہیں، اور کینڈا کے ایک سرگرم مبلغ ہیں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ عیسائیت کی عظیم خدمت کرنے کے لئے قرآن ِمجید کی سائنسی اور تاریخی غلطیوں کو دنیا کے سامنے لائیں گے ، جو اس کےمبلغ پیرو کاروں کی مدد کرے تاکہ مسلمانوں کو عیسایئت کی طرف لایا جا سکے ۔ تاہم نتیجہ اس کے بالکل برعکس تھا میلر کی دستاویز جائز تھیں اور تشریح اور ملاحظات مثبت تھے ۔ مسلمانوں سے بھی اچھے جو وہ قرآنِ مجید کے متعلق دے سکتے تھے ۔ اس نے قرآنِ مجید کو بالکل ایسا ہی لیا جیسا ہونا چاہیئے تھا ،اور ان کا نتیجہ یہ تھا کہ:
    یہ قرآنِ مجید کسی انسان کا کام نہیں۔
    پروفیسر گیری کے لئے بڑا مسئلہ قرآنِ مجید کی بہت سی آیات کی بناوٹ تھی جو اسے چیلنج کر رہی تھیں للکار رہی تھیں مثلاً:
    اگر چہ پروفیسر میلر شروع شروع میں للکار رہا تھا اور چیلنج کر رہا تھا ،مگر بعد میں اس کا یہ رویہ حیرت انگیز طور پر تبدیل ہو گیا اور پھر اس نے بیان کیا کہ اس کو قرآن سے کیا ملا؟
    مندرجہ ذیل کچھ نکات ہیں جو پروفیسر میلر کے لیکچر ’’ حیرت انگیز قرآن ‘‘ میں بیان کئے ہیں:
    جب کوئی اپنی ذاتی زندگی (سوانح حیات/آپ بیتی) لکھتا ہے تو اپنی کامیابیوں (فتوحات) کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور اپنی ناکامیوں اور شکست کے متعلق دلائل دینے کی کوشش کرتا ہے ، جبکہ قرآن مجید نے اس کے برعکس کیا جو یکساں اور منطقی ہے۔ یہ ایک خاص اور مقررہ وقت کی تاریخ نہیں ہے، بلکہ ایک تحریر ہے جو اللہ(معبود) اور اللہ کے ماننے والوں ،عبادت کرنے والوں کے درمیان عام قسم کے قوانین اور تعلق کو پیدا کرتی ہے،وضع کرتی ہے۔میلر نے ایک دوسری خاص آیت کے متعلق بھی بات کی :
    اس نے ان تجربات کی طرف اشارہ کیا جو ایک محقیق ’’ اجتماعی بحث و مباحثہ کے اثرات ‘‘ پر ٹورنٹو یونیورسٹی میں کر چکا تھا ۔
    محقق نے مختلف مقررین (تقریر اور بحث کرنے والوں) کو مختلف بحث و مباحثہ میں اکھٹا کیا اور ان کے نتائج میں موازنہ کیا ، اس نے یہ دریافت کیا کہ بحث و مباحثہ کی زیادہ تر طاقت اور کامیابی تب ملی جب مقرر تعداد میں 2 تھے ،جبکہ طاقت اور کامیابی کم تھی جب مقررین کی تعداد کم تھی۔ قرآن مجید میں ایک سورۃ حضرت مریم علیہ السلام کے نام پر بھی ہے۔اس سورۃ میں جس طرح ان کی تعریف اور مدح کی گئی ہے اس طرح تو انجیل مقدس میں بھی نہیں کی گئی،بلکہ کوئی بھی سورۃ حضرت عائشہ ؓیا حضرت فاطمہ ؓکے نام سے موجود نہیں۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا اسم کرامی قرآنِ مجید میں 25 مرتبہ ،جبکہ محمد ﷺ کا اسم مبارک صرف 5 مرتبہ دہرایا گیا ہے۔
    کچھ تنقید کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں (نعوذ باللہ)کہ جو کچھ قرآن میں لکھا ہے وہ سب آسیب ، بھوت اور شیطان نبی اکرمﷺکو سکھاتے تھے، ہدایات دیاکرتے تھے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ قرآن مجید میں کچھ آیات ایسی بھی ہیں جیسے:
    اگر آپ ان حالات کا سامنا کرتے جب آپﷺ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ غارِ حرا کے اندر ،مشرکوں کے درمیان گھرے ہوئے تھے اور وہ انہیں دیکھ سکتے تھے ،اگر وہ نیچے دیکھتے ،انسانی ردِ عمل یہ ہو گا کہ پیچھے سے خروج کا راستہ تلاش کیا جائے یا باہر جانے کا کوئی دوسرا متبادل راستہ یا خاموش رہا جائے تاکہ کوئی ان کی آواز نہ سن سکے ، تاہم نبی اکرم ﷺ نے ابو بکر صدیق ؓسےفرمایا : غمزدہ نہ ہو، فکر مت کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
    یہ کسی دھوکہ باز یا دغا باز کی ذہنیت نہیں ایک نبی ﷺ کی سوچ ہے ۔جن کو پتہ ہے وہ جانتے ہیں کہ اللہ سبحان و تعالٰی ، ان کی حفاظت فرمائیں گے۔سورۃ المسد(سورۃ تبت)ابو لہب کی موت سے دس سال پہلے نازل کی گئی ، ابو لہب نبی کریمﷺکا چچا تھا ۔ابو لہب نے دس سال اس بیان میں گذارے کہ قرآن مجید غلط ہے۔ وہ ایمان نہیں لایا اور نہ ہی ایسا کرنے پر تیار تھا ۔نبی اکرم ﷺ کیسے اتنے زیادہ پر اعتماد ہو سکتے تھے جب تک ان کو یقین نہ ہوتا کہ قرآن مجید اللہ سبحان و تعالٰی کی طرف ہی سے ہے۔
    قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کو ملاحظہ کیجئے:
    میلر لکھتا ہے کہ کسی بھی مقدس کتاب نے اس قسم کا انداز نہیں اپنایا کہ جس میں پڑھنے والے کو ایک خبر دی جار رہی ہو اور پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ نئی خبر(اطلاع) ہے ۔ یہ ایک بے نظیر (بےمثال ) چیلنج (للکار) ہے ۔ کیا اگر مکہ کے لوگ مکر و فریب سے یہ کہہ دیتے کہ وہ تو یہ سب کچھ پہلے سے ہی جانتے تھے؟ کیا اگر کوئی اسکالر (عالم) یہ دریافت کرتا کہ یہ اطلاع(خبر) پہلے ہی سے جانی پہچانی تھی(افشا تھی) تاہم ایسا کچھ نہیں ہوا۔
    پروفیسر میلر کیتھولک انسائیکلو پیڈیا کے موجودہ عہد (زمانہ)کا ذکر کرتا ہے جو قرآن کے متعلق ہے۔ یہ واضع کرتا ہے کہ باوجود اتنے زیادہ مطالعہ ،نظریات اور قرآنی نزول کی صداقت پر حملوں کی کوشش اور بہت سے بہانے اور حجتیں جن کو منطقی طور پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ گرجا گھر (چرچ) کو اپنے آپ میں یہ ہمت نہیں ہوئی کہ ان نظریات کو اپنا سکے اور ابھی تک اس نے مسلمانوں کے نظریہ کی سچائی اور حقیقت کو تسلیم نہیں کیا کہ قرآن مجید میں کوئی شک نہیں اور یہ آخری آسمانی کتاب ہے۔
    حتمی رائے

    1977میں پروفیسر میلر نے مسلمان اسکالر جناب احمد دیداتؒ سے ایک بہت مشہور مکالمہ،بحث و مباحثہ کیا اس کی منطق صاف تھی اور اس کا عذر (تائید) ایسے دکھائی دیتی تھی کہ جیسے وہ سچائی تک بغیر کسی تعصب کے پہنچنا چاہتا تھا بہت سے لوگوں کی خواہش تھی کہ وہ اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جائے۔
    1978 میں پروفیسر میلر نے اسلام قبول کرہی لیا اور اپنے آپ کو عبد الاحد کے نام سے پکارا ۔ اس نے کچھ عرصہ سعودی عرب تیل اور معدنیات کی یورنیورسٹی میں کام کیا اور اپنی زندگی کو دعویٰ بذریعہ ٹیلی ویژین اور لیکچرز کے لئے وقف کر دیا۔
    -----------------------------------​

    ماخذ


    ڈاکٹر گیری میلر کی کتاب "The Amazing Quran" اس لنک پر موجود ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 17، 2013 #2
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,279
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    جزاکم اللہ خیرا
     
  3. ‏اگست 26، 2013 #3
    نادرحسین

    نادرحسین رکن
    جگہ:
    ڈیرہ غازی خان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2013
    پیغامات:
    30
    موصول شکریہ جات:
    32
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    یہی تو ایک ذہن ہوتاہے جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ ہدایت سے نوازتے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 26، 2013 #4
    اسحاق

    اسحاق مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 25، 2013
    پیغامات:
    894
    موصول شکریہ جات:
    2,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    بهت عمده
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏اگست 26، 2013 #5
    sadia

    sadia رکن
    جگہ:
    KHANEWAL
    شمولیت:
    ‏جون 18، 2013
    پیغامات:
    283
    موصول شکریہ جات:
    545
    تمغے کے پوائنٹ:
    98

    جزاک اللہ خیرا
     
  6. ‏جنوری 06، 2014 #6
    عمران بستوي

    عمران بستوي مبتدی
    جگہ:
    Sant Kabir Nagar U.P
    شمولیت:
    ‏نومبر 06، 2013
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    جزاك الله أحسن الجزاء
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں