1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ویلنٹائن ڈے اور ہماری نوجوان نسل

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏جون 25، 2012۔

  1. ‏جون 25، 2012 #1
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ویلنٹائن ڈے اور ہماری نوجوان نسل

    محمد عطاء اللہ صدیقی​

    ۱۴؍فروری کو منایا جانے والا ویلنٹائن ڈے کا نام نہاد تہوار بھی جدید یورپ کی تہذیبی گمراہی اور ثقافتی بے اعتدالیوں کا شاخسانہ ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے بالآخر جنسی آوارگی، بے ہودگی اور خرافات کو مسلسل پراپیگنڈے کے زور پر ایک ’تہوار‘ بنا دیا ہے۔ مغربی میڈیا نوجوانوں میں اخلاقی نصب العین کے مقابلے میں ہمیشہ بے راہ روی کو فروغ دینے میں زیادہ دلچسپی کا اظہار کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بھی ایک مخصوص طبقہ ویلنٹائن ڈے کے نام پر نوجوان نسل کو بے راہ روی اور بے ہودہ عشق بازی کے مشاغل میں مبتلا کرنے میں مصروف نظر آتا ہے۔
    خدا کے فضل و کرم سے اہلِ پاکستان کی عظیم اکثریت اسلام کی اعلیٰ اخلاقی اقدار پر غیرمتزلزل یقین رکھتی ہے۔ وہ ویلنٹائن ڈے کو مغرب کی تہذیبی گمراہی سمجھتے ہوئے اسے تہوار کے طور پر منانے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہے۔ مگر ایک متحرک اقلیت جو فکری افلاس اور تہذیبی درماندگی کا شکار اور مغربی ذرائع ابلاغ کے پراپیگنڈہ سے غیرمعمولی طور پر متاثر ہے، ویلنٹائن ڈے کو نوجوان نسل کے سامنے ’محبت کا تہوار‘ بنا کر پیش کررہی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ حکومت اور ہمارے سنجیدہ طبقات نے ان ثقافتی لفنگوں کو نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کھلم کھلا چھٹی دے رکھی ہے۔ ان کی روک تھام کی جارہی ہے، نہ ہی پاکستان کی نوجوان نسل کو اس گمراہی سے بچانے کے لیے کوئی سنجیدہ کاوش کی جارہی ہے۔
     
  2. ‏جون 25، 2012 #2
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ویلنٹائن ڈے کے آنے میں ابھی چند روز باقی ہیں مگر ہمارے الیکٹرانک میڈیا کے بعض ٹی وی چینلز نے اس کی تشہیر کی مہم جاری کر رکھی ہے۔ خواتین اینکرپرسن اپنے پروگراموں میں ویلنٹائن ڈے منانے کا درس دے رہی ہیں۔ اُنھوں نے پروگرام روم کو کیوپڈ کے نشانات سے سجا رکھا ہے۔ اشتہارات میں ویلنٹائن ڈے کے تحائف دینے دلانے کے مناظر دکھائے جارہے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل نے اپنے آنے والے پروگرام کا عنوان ہی ’۱۴؍فروری کے پھول‘ رکھ دیا ہے۔ ہر ٹی وی چینل ۱۴؍فروری کو پیش کیے جانے والے پروگراموں کی تفصیلات پیش کر رہا ہے۔ اشتہارات میں ویلنٹائن ڈے کی نسبت سے سرخ رنگ کو نمایاں طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ موبائل فون کمپنیوں نے اس ملک کی نوجوان نسل کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔ ویلنٹائن ڈے قریب آتے ہی ان کی طرف سے مختلف پیکجز کے ذریعے نوجوانوں کو ترغیب دی جارہی ہے کہ وہ اپنے ’ویلنٹائن‘ کو محبت کے پیغامات دینے میں کس طرح ان کی خدمات سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ پھول بیچنے والوں نے سٹاک جمع کر لیے ہیں تاکہ ۱۴؍فروری کو چاندی بنا سکیں۔ ہر بڑے سٹور پر ویلنٹائن کارڈ اور اس کے متعلقہ تحائف کے سٹال نظرآتے ہیں۔ پاکستان کی بیٹیاں بڑی بے باکی سے یہ کارڈ اور تحائف خریدتی نظر آتی ہیں، ان کے چہروں پر کسی پشیمانی، تاسف یا گناہ کے اثرات نظر نہیں آتے۔ ایک وقت تھا کہ ’بوائے فرینڈ‘ کا لفظ ہی اس قدر ناپسندیدہ تھا کہ کوئی لڑکی معاشرے کے خوف سے اِسے زبان پر نہیں لاسکتی تھی آج قوم کی ہزاروں بیٹیاں ویلنٹائن کے تحائف خریدنے اور اخبارات میں محبت اور بے ہودہ عشق بازی کے پیغامات شائع کرانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی۔ ہمارے معاشرے کا یہ بڑھتا ہوا اخلاقی زوال ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
     
  3. ‏جون 25، 2012 #3
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    جو لوگ ویلنٹائن ڈے کو محض ’محبت کا تہوار‘ بناکر پیش کرتے ہیں اور اسے منانے میں کوئی اخلاقی قباحت محسوس نہیں کرتے، وہ حقائق سے چشم پوشی کررہے ہیں۔ یا تو اُنھیں اس یوم کے حوالے سے یورپ کی تاریخ کا علم نہیں ہے یا پھر وہ محبت کے جنوں میں کسی سچائی کو جان لینے کی خواہش نہیں رکھتے۔ حیرت تو یہ ہے کہ بعض لاعلم خواتین و حضرات ویلنٹائن ڈے پر اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو محبت کے پیغامات بھجواتے ہیں اور اِسے اپنے خیال میں ایک نیک اور اچھا عمل سمجھتے ہیں۔درحقیقت ہمارے ہاں اباحیت پسندوں نے’محبت‘ کے لفظ کا بے حد استحصال کیا ہے۔وہ برملا ’شہوت‘ اور ’فسق‘ کی تبلیغ کی جراء ت تو نہیں کرسکتے،اِسی لیے شہوت رانی کے لیے’محبت‘ اور فسق کے لیے ’عشق‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
    جو لوگ حقائق کے متلاشی ہیں، اُنھیں جان لینا چاہیے کہ ویلنٹائن ڈے مغرب میں بھی اَوباشوں اور لفنگوں کا دن سمجھا جاتا ہے۔ مغرب کے سنجیدہ اور سچی اقدار پر یقین رکھنے والے بھی ویلنٹائن ڈے کو گمراہی سمجھتے ہیں۔ آج بھی یورپ اور امریکا میں مذہب پر یقین رکھنے والوں کی اکثریت ہے۔ یورپ اور امریکا میں ویلنٹائن ڈے کو شروع میں جوش و خروش سے منانے والوں میں ہم جنس پرستی میں مبتلا نوجوان لڑکے اور لڑکیاں پیش پیش تھیں۔ سان فرانسسکو اور امریکا کے دیگر شہروں میں یہ نوجوان برہنہ ہوکر جلوس نکالتے تھے۔ اس جلوس کے شرکا اپنے سینوں اور اعضائے مخصوصہ پر اپنے محبوبوں کے نام چپکائے ہوتے تھے۔ اس دن جنسی انارکی کا بدترین مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے۔
     
  4. ‏جون 25، 2012 #4
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    جس دن ’ویلنٹائن ڈے‘ کو منا منا کر ہمارے بعض ’محبت کے متوالے‘ ہلکان ہوتے رہے ہیں، وہ ’تقریبِ شریف‘ تو اہلِ مغرب کے لیے بھی بدعتِ جدیدہ کا درجہ رکھتی ہے۔ ماضی میں یورپ میں بھی اس کو منانے والے نہ ہونے کے برابر تھے، اس دن کے متعلق مغربی ذرائع اَبلاغ بھی اس قدر حساس نہیں تھے۔ اگر یہ کوئی بہت اہم یا ہردلعزیز تہوار ہوتا تو انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں اس کا ذکر محض چار سطور پر مبنی نہ ہوتا، جہاں معمولی معمولی واقعات کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں سینٹ ویلنٹائن کے متعلق چند سطری تعارف کے بعد ویلنٹائن ڈے کے متعلق تذکرہ محض ان الفاظ میں ملتا ہے:
    گویا اس مستند حوالہ کی کتاب کے مطابق اس دن کی سینٹ سے سرے سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ بعض رومانیت پسند اَدیبوں نے جدت طرازی فرماتے ہوئے اس کو خواہ مخواہ سینٹ ویلنٹائن کے سرتھوپ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ نے ماضی میں کبھی بھی اس تہوار کو قومی یا ثقافتی تہوار کے طور پر قبول نہیں کیا۔ البتہ آج کے یورپ کے روایت شکن جنونیوں کا معاملہ الگ ہے۔
     
  5. ‏جون 25، 2012 #5
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ایک اور انسائیکلو پیڈیا ’بک آف نالج‘ میں اس دن کے بارے میں نسبتاً زیادہ تفصیلات ملتی ہیں مگر وہ بھی تہائی صفحہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ اس کی پہلی سطر ہی رومان انگیز ہے:
    اس کے بعد وہی پرندوں کے اختلاط کا ملتا جلتا تذکرہ ان الفاظ میں ملتا ہے:
     
  6. ‏جون 25، 2012 #6
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اس انسائیکلو پیڈیا میں ’ویلنٹائن ڈے‘ کا تاریخی پس منظر یوں بیان کیا گیا ہے:
     
  7. ‏جون 25، 2012 #7
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ۱۴؍فروری کو سینٹ ویلنٹائن سے منسوب کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کے متعلق کوئی مستند حوالہ تو موجود نہیں ہے البتہ ایک غیرمستند خیالی داستان پائی جاتی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں روم میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ (Nun) کی زلف ِ گرہ گیر کے اسیر ہوئے۔ چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا، اس لیے ایک ویلنٹائن صاحب نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لیے اسے بتایا کہ اسے خواب میں یہ بتایا گیا ہے کہ ۱۴؍فروری کا دن ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کرلیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے ان پر یقین کیا اور دونوں جوشِ عشق میں یہ سب کچھ کر گزرے۔
     
  8. ‏جون 25، 2012 #8
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ۱۹۹۷ء میں شائع ہونے والے انسائیکلو پیڈیا آف کیتھولک ازم (Catholicism) کے بیان کے مطابق سینٹ ویلنٹائن کا اس دن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اصل الفاظ ملاحظہ کیجیے:
    فرض کیجیے مسیحی یورپ یا روم کی تاریخ میں سینٹ ویلنٹائن نام کے کوئی ’شہید محبت‘ گذرے بھی ہیں، تب بھی ہمارے لیے ایسے تہواروں کو منانا نرم ترین الفاظ میں ایک ’شرم ناک ثقافتی مظاہرہ‘ ہوگا۔ امریکا اور یورپ کے جنس پرستوں کے ساتھ کندھا ملا کر چلنا ہمارے لیے کوئی باعث ِ افتخار اَمر نہیں ہے۔ ہمارا دین اور ہماری تہذیب اس گراوٹ سے ہمیں بہت بلند دیکھنا چاہتے ہیں۔
     
  9. ‏جون 25، 2012 #9
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    مغرب کی طرف سے درآمد کردہ ویلنٹائن جیسے فحش انگیز،بے ہودہ تہوار پاکستان جیسے اسلامی ملک کی تہذیب و ثقافت کے لیے سنگین خطرات پیدا کررہے ہیں۔ ویلنٹائن جیسے تہواروں کی حوصلہ شکنی بلکہ بیخ کنی کے لیے حکومت ِ پاکستان کو بھرپور اقدامات کرنے چاہئیں۔ اسلامی طرزِ حیات کو فروغ دینا حکومتِ پاکستان کا آئینی فریضہ ہے۔ عوام کی بے ضرر تفریحی تقریبات میں حکومت کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے، مگر ایسی بے ہودہ سرگرمیاں جو اسلامی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیں، ان کے متعلق حکومت کو خاموش تماشائی کا کردار اَدا نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں نئی نسل کی فکری راہنمائی کے فریضے سے غفلت نہیں برتنی چاہیے۔
     
  10. ‏جون 25، 2012 #10
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ویلنٹائن ڈے کے متعلق پاکستان کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ۲۰۰۲ء میں جن خدشات کا اظہار کیا تھا، وہ آج پہلے سے زیادہ حقیقی نظر آتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا تھا:
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں