1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ویڈنگ پلاننگ کا کام

'مالی معاملات' میں موضوعات آغاز کردہ از شانف بیگ, ‏دسمبر 01، 2017۔

  1. ‏دسمبر 01، 2017 #1
    شانف بیگ

    شانف بیگ رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 28، 2016
    پیغامات:
    202
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ! !!!!
    ایک بھائی نے بہت زور دیتے ہوئے سوال کیا ہیں میں سوال پوچھنا نہیں چاہتا تھا لیکن بھائی نے بہت زور دیا اس لیے پوچھ رہا ہوں.
    کیا ویڈنگ پلاننگ کا کام کرنا صحیح ہے اس کام میں گانا بجانا بھی شامل ہیں.

    شیخ اسکا جواب بتائیں

    محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب
     
  2. ‏دسمبر 02، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,361
    موصول شکریہ جات:
    2,184
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ


    رزقِ حلال کی اہمیت اور فضیلت



    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

    کسب حلال
    ’’کسب ِحلال‘‘ دوالفاظ سے مرکب ہے جس کے معنی ہیں ’’حلال کمانا‘‘۔ اسلامی اصطلاح میں اس سے مرادمسلمان کاحلال اورجائز ذرائع اور معروف طریقے سے محنت ومشقت یا تجارت کے ذریعے روزی کمانا کسب حلال کہلاتا ہے۔اگرمال ودولت ناجائز ذرائع مثلاً سود، رشوت، چوری و ڈکیتی، بلیک مار کیٹنگ اور اسمگلنگ اور دیگر غلط ذرائع (جنہیں اسلام نے ناجائز قرار دیا ہے) سے حاصل کیا گیا ہے تو وہ اسلام کی نظر میں پاکیزہ نہیں ہے بلکہ وہ مال ناجائز اور حرام ہے۔

    اسلام یہ تاکید فرماتاہے کہ تمہارا کھانا پینا نہ صرف ظاہری طور پر بھی پاک و صاف ہو بلکہ باطنی طور پر بھی وہ پاک و صاف اور طیب و حلال ہو۔

    قرآن پاک میں حلال روزی کھانے کے بارے میں اﷲتبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
    يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ (168) إِنَّمَا يَأْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (169)’’اے لوگو! زمین کی ان چیزوں میں سے کھاؤ جو حلال اور طیب ہیں اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، بیشک وہ تمہا را کھلا ہو ادشمن ہے، شیطان تو تمہیں صرف برائی اور بے حیائی کی ترغیب ہی دیتا ہے، اور اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ تم اللہ کے نام وہ باتیں کہو جن کا تمہیں علم نہیں‘‘۔(القرآن)

    ٭رزق حلال کی اہمیت اور فلسفہ:
    حصول ِ رزق ِ حلال عین عبادت ہے…… یعنی جب کسی کا کھانا، پینا اور پہننا اور سب کسب ِحلال سے ہوگا تو اس کا کھانا، پینا اور پہننا سب کچھ عبادت میں شمار ہوگا۔ قرآن پاک میں حلال روزی کھانے کے بارے میں اﷲتبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ (172)’’اے ایمان والو! ان پاک چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں دی ہیں اور اﷲ کا شکر ادا کرتے رہو، اگر تم خاص اس کی عبادت کرتے ہو‘‘۔(سورۃ البقرہ : 172)
    اس میں کوئی شک نہیں کہ جائز روزی کمانا کسی بھی انسان کے لیے مشکل یا ناممکن نہیں ہے، کیوں کہ پروردگار عالم نے ایک طرف انسان کو تخلیق فرمایا تو ساتھ ہی اس کی روزی کے وسائل بھی پیدا فرمادیے اور اس کے لیے ایسی سہولیات مہیا کردیں کہ انسان عملی کوشش کرکے اس دنیا میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے۔

    راتوں رات دولت مند بن جانے کی دوڑ نے انسان سے اس کا سکون چھین لیا ہے۔ آج آپ دیکھیے کہ اس بے قراری اور دوسروں سے آگے نکل جانے کی خواہ مخواہ کی خواہش نے لوگوں کی آمدنیوں اور ان کی روزیوں میں سے برکت ختم کردی ہے۔ کیا یہ کھلی ناسمجھی نہیں ہے کہ انسان نے اپنی اچھی خاصی اور پرسکون زندگی کو اپنی حرکتوں کی وجہ سے بے سکون کردیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔

    نبی کریم ﷺنے رزقِ حلال کے بے پناہ فضائل بیان فرمائے ہیں اور ساتھ ہی رزقِ حرام کی برائیاں اور ان کے نقصانات سے بھی آگاہ فرمایا ہے۔ذیل میں چنداحادیث پیشِ خدمت ہیں :
    عَنِ المِقْدَامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ، خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ»
    صحیح بُخاری شریف میں مقدام بن معدیکر ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حضور اقدس ﷺنے فرمایا:" اُس کھانے سے بہتر کوئی کھانا نہیں جس کو کسی نے اپنے ہاتھوں سے کام کرکے حاصل کیا ہے اور بے شک اللہ کے نبی داؤد علیہ الصلاۃ والسّلام اپنی دستکاری سے کھاتے تھے۔"

    صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ :
    عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا، إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} [المؤمنون: 51] وَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} [البقرة: 172] ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ، يَا رَبِّ، يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟ "
    پیارے نبی ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :"اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کو بھی اُسی کاحُکم دیا ہے جس کا رسولوںکو حکم دیا اُس نے رسولوں سے فرمایا ۔ یٰاَیُّھَاالرُّسُلُ کُلُوْمِنَ الطِّیّبٰت ِ وَاعْمَلُوْا صٰلِحًا۔ اے رسولو! پاک چیزوں سے کھاؤ اور اچھے کام کرو۔ اور مؤ منین سے فرمایا۔یٰایُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُلُوْ مِنْ طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنَکُم!اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تم کو دیا اُ ن میں پاک چیزوں سے کھاؤ۔پھر بیان فرمایا کہ ایک شخص طویل سفر کرتا ہے جس کے بال پریشان ہیں اور بدن گرد آلود ہے ( یعنی اُ س کی حالت ایسی ہے کہ جو دُعا کرے وہ قبول ہو)وہ آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھاکر یارب یارب کہتا ہے ( دُعا کرتا ہے ) مگر حالت یہ ہے کہ اُس کا کھانا حرام پینا حرام لباس حرام اور غذا حرام پھر اُس کی دُعا کیونکر مقبول ہو۔ ( یعنی اگر قبول کی خواہش ہو توکسب حلال اختیار کرو کہ بغیر اس کے قبول دُعا کے اسباب بیکار ہیں)۔"

    صحیح بُخاری شریف میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ :
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، لاَ يُبَالِي المَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ، أَمِنَ الحَلاَلِ أَمْ مِنَ الحَرَامِ»
    (2059)رسول اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گاکہ آدمی پر واہ بھی نہ کرے گا کہ اس چیز کو کہاں سے حاصل کیاہے حلال سے یا حرام سے ۔

    ترمذی ونسائی و ابن ماجہ ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، لاَ يُبَالِي المَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ، أَمِنَ الحَلاَلِ أَمْ مِنَ الحَرَامِ»
    ترمذی 1358) پیارے مصطفی ﷺ نے فرمایا جو تم کھاتے ہو اُن میں سب سے زیادہ پاکیزہ وہ ہے جو تمھارے کسب سے حاصل ہے اور تمھاری اولاد بھی منجملہ کسب کے ہے ۔( یعنی بوقت حاجت اولاد کی کمائی سے کھاسکتا ہے ) ابو داؤد و دارمی کی روایت بھی اسی کی مثل ہے ۔

    امام احمد نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
    ولا يكسب عبد مالا من حرام، فينفق منه فيبارك له فيه، ولا يتصدق به فيقبل منه، ولا يترك (3) خلف ظهره إلا كان زاده إلى النار، إن الله عز وجل لا يمحو السيئ بالسيئ، ولكن يمحو السيئ بالحسن، إن الخبيث لا يمحو الخبيث " (4)
    مسند احمد 3672 جو بندہ مال حرام حاصل کرتا ہے۔اگر اُس کو صدقہ کرے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اُس کے لئے اُ س میں برکت نہیں اور اپنے بعد چھوڑ مرے تو جہنم کو جانے کا سامان ہے ( یعنی مال کی تین حالتیں ہیں اور حرام مال کی تینوں حالیتں خراب)اللہ تعالیٰ بُرائی سے برائی کو نہیں مٹاتا ہاں نیکی سے بُرائی کو محو فرماتا ہے بے شک خبیث کو خبیث نہیں مٹاتا۔

    امام احمد و دارمی و بیہقی جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہ حضورانور ﷺ نے فرمایا:(يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ، إِنَّهُ لَا يَرْبُو لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ إِلَّا كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ» جو گوشت حرام سے اُگاہے جنت میں داخل نہ ہوگا( یعنی ابتداء ً) اور جو گوشت حرام سے اُگا ہے اُس کے لئے آگ زیادہ بہتر ہے ۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں وہ گوشت داخل نہیں ہوگا جو حرام کھانے سے بڑھا ہو ا ہو اور ہر وہ گوشت جو حرام خوری سے بڑھا ہو دوزخ اس کے ساتھ زیادہ لائق ہے ۔
    ــــــــــــــــــ
     
  3. ‏دسمبر 02، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,361
    موصول شکریہ جات:
    2,184
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    جمہور اہل علم کے نزدیک گانا حرام ہے
    شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 05 April 2014 01:36 PM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    میں نے اخبار عکاظ کے شمارہ نمبر۶۱۰۱ مجریہ ہفتہ ۲۹ ربیع الثانی ۱۴۳۰ھ میں ایک خبر پڑھی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سعودی نغمہ ساز نے گانا بجانا ترک کر دیا تھا لیکن جب قاہرہ اور پیرس کے مابین ایک ہوائی سفر کے دوران میں اس نغمہ ساز کی ملاقات ایک عالم دین سے ہوئی اور دونوں نے گانا بجانا اور اس کی مشروعیت کے موضوع پہ تبادلہ خیال کیا تو طیارہ سے اترنے سے پہلے اس عالم دین نے دلائل و براہین کے ساتھ اس نغمہ ساز کو قائل کرلیا کہ گانا بجانا شرعا جائز ہے،اور اس کے بعد اس نے دوبارہ گانے گائے جو اس کے نئے گانے شمار ہوتے ہیں،دلائل و براہین کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا گانا بجانا اسلام میں جائز ہے خصوصا عصر حاضر کے گانے جو فحش بھی ہیں اور پھر موسیقی کے ساتھ گائے جاتے ہیں؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    جمہور اہل علم کے نزدیک گانا حرام ہے اور اگر گانا طبلہ اور سارنگی جیسے آلات موسیقی کے ساتھ گایا جائے تو اس کے حرام ہونے پہ تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔اس کی حرمت کے دلائل میں سے ایک تو یہ ارشاد ربانی ہے:
    ﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَر‌ى لَهوَ الحَديثِ لِيُضِلَّ عَن سَبيلِ اللَّهِ بِغَيرِ‌ عِلمٍ وَيَتَّخِذَها هُزُوًا ۚ أُولـٰئِكَ لَهُم عَذابٌ مُهينٌ ﴿٦﴾... سورةلقمان


    اور لوگوں میں بعض ایسا ہے جو بے حودہ حکایتیں خریدتا ہے تکہ اللہ کے راستے سے [ لوگوں ]کو بغیر علم کے گمراہ کرے ،اور اس سے استہزاء کرے ،یہی وہ لوگ ہیں جن کو ذللیل کرنے والا ٰعذاب ہوگا" [جمہور مفسرین نے "لھو الحدیث" کی تفسیر میں لکھا ہے اس سے مراد گانا ہے]
    حضرت عبداللہ بن مسعود قسم اٹھا کر فرماتے ہیں اس سے مراد گانا ہے، نیز عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں۔
    الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء البقل، [ السنن الکبری۔للبیھقی ،:۲۲۳/۱۰ ابن ابی الدنیا فی ذم الملاحی،ص ۷۳ سنن ابی داود، الادب، باب ، کراھیة الغناء والزمر، ح:۴۹۲۷ مختصرا:


    گانا دل میں نفاق اس طرح پیدا کرتا ہے ،جس طرح پانی سے کھیتی پروان چڑھتی ہے،
    صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    لیکونن من امتی اقوام یستحلون ،الحر،والحریر،والخمر،والمعازف، [صحیح بخاری ،الاشربة، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر یسمیه بغیر اسمه ۔ح:۵۵۹۰]


    میری امت میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو زنا،ریشم، شراب اور آلات موسیقی کو حلال سمجھیں گے،۔
    اس حدیث کو امام بخاری نے اپنی صحیح میں معلقا مگر صحت کے وثوق سے روایت کیا ہے ،جبکہ دیگر ائمہ نے بھی صحیح سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔حدیث کے لفظ "معازف" کے معنی گانے اور آلات موسیقی کے ہیں تو اس سے معلوم ہوا جس نے گانے کے جواز کا فتوی دیا[اگر یہ بات صحیح ہے] تو اس نے بغیر علم کے ایک بات کو اللہ کی طرف منسوب کیا ہے اور ایک ایسا باطل فتوی دیا ہے کہ روز قیامت جس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

    فتاویٰ اسلامیہ (ج4ص416) محدث فتویٰ
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    گانا بجانا اور ساز سننا شریعت کی رو سے کیسا ہے ؟
    شروع از بتاریخ : 03 July 2013 11:25 AM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    گانا بجانا اور ساز سننا شریعت کی رو سے کیسا ہے ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیں نیز آخرت میں اس کی کیا سزا مقرر ہے ؟ محمد سلیم ڈار نارووال​
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    ساز خواہ ہاتھ سے بجے یا منہ سے ناجائز ہے ۔ چنانچہ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کچھ لوگ معازف کو حلال سمجھیں گے جس سے واضح ہے معازف اسلام میں حلال نہیں حرام ہیں ۔ 1 [لَیَکُوْنَنُّ مِنْ اُمَّتِیْ أَقْوَامٌ یَّسْتَحِلُّوْنَ الْحِرَ وَالْحَرِیْرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَمیری امت میں ایسی قومیں ہوں گی جو زنا ریشم شراب اور باجے گاجے حلال سمجھیں گے] ۔واللہ اعلم ۵/۱/۱۴۱۴ہـ



    جلد 01 ص 530


    محدث فتویٰ
     
  4. ‏دسمبر 02، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,361
    موصول شکریہ جات:
    2,184
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    شادی وغیرہ کے موقع پر گانے بجانے اور…
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    گانوں کے بارے میں کیا حکم ہے کیا یہ حرام ہیں؟ میں انہیں صرف تسکین کیلئے سنتا ہوں‘ سارنگی کے استعمال اور کلاسیکی موسیقی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا شادی کے موقع پر ڈھولک بجانا حرام ہے جبکہ میں نے سنا ہے کہ یہ حلال ہے لیکن مجھے اس کے بارے میں صحیح علم نہیں ہے؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    گانوں کو سننا حرام اور نمکر ہے‘ دل کی بیماری و سختی کا باعث اور اللہ کے ذکر اور نماز سے روکنے کا سبب ہے۔ اکثر اہل علم نے ارشاد باری تعالیٰ:
    ﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَر‌ى لَهوَ الحَديثِ...٦﴾... سورة لقمان

    ’’اور لوگوں میں ایسا (بدبخت بھی) ہے جو بے ہودہ حکایتیں (اللہ تعالیٰ سے غافل کرنے والے افسانے) خریدتا ہے‘‘۔
    ’’لہوالحدیث‘‘ کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد گانا بجانا ہے؟ چنانچہ جلیل القدر صحابیٔ رسول حضرت عبداللہ بن مسعودؓ تو قسم کھا کر فرمایا کرتے تھے کہ ’’لہو الحدیث‘‘ سے مراد گانا ہے‘ گانے کے ساتھ اگر موسیقی کا آلہ مثلاً سارنگی‘ عود‘ کمان اور ڈھولک بھی استعمال ہو تو حرمت اور بھی شدید ہو جاتی ہے۔ بعض علماء نے ذکر فرمایا ہے کہ آلات موسیقی کے ساتھ گانا اجماعاً حرام ہے لہٰذا اس سے اجتناب واجب ہے صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    ((ليكونن من امتى أقوام يستحلون الحر و الحرير و الخمر والمعارف )) ( صحيح البخاري )

    ’’میری امت میں ضرور کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو بدکاری‘ ریشم‘ شراب اور آلات موسیقی کو حلال سمجھیں گے‘‘۔
    میں آپ کو اور دیگر مردوں اور عورتوں کو یہ وصیت کرتا ہوں کہ وہ کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت اور ذکر الٰہی کریں‘ میں آپ کو اور دیگر تمام لوگوں کو یہ وصیت بھی کرتا ہوں کہ وہ ریڈیو کے پروگرام ’’اذاعۃ القرآن‘‘ اور ’’نور علی الدرب‘‘سنا کریں۔ یہ دونوں پروگرام سننے کے بہت عظیم فوائد ہیں اور پھر انسان پروگراموں کے سننے میں مشغول ہو کر گانے اور موسیقی سننے سے بھی بے نیاز ہو جاتا ہے۔
    شادی کے موقع پر ایسے عام گیتوں کے ساتھ صرف دف بجانا جائز ہے جن میں حرام کام کی نہ دعوت ہو اور نہ تعریف ہو اور اس کی اجازت بھی صرف خواتین کیلئے ہے کہ وہ رات کے کسی حصہ میں دف بجا سکتی ہیں تاکہ نکاح کا اعلان ہو سکے اور نکاح اور بدکاری میں فرق ہو سکے جیسا کہ نبیﷺ کی صحیح سنت سے ثابت ہے۔
    شادی کے موقع پر ڈھولک بجانا جائز نہیں بلکہ صرف دف ہی پر اکتفا کرنا چاہئے۔ شادی کے موقع پر لائوڈ سپیکر کے ذریعہ گائے جانے والے گانے بھی ناجائز ہیں کیونکہ اس میں بہت بڑا فتنہ ہے۔ اس کے بھیانک نتائج ہیں اور اس سے مسلمانوں کو بہت ایذاء اور تکلیف پہنچتی ہے۔ نیز ان محفلوں کو بہت زیادہ طول بھی نہیں دینا چاہئے بلکہ اس قدر تھوڑے وقت پر ہی اکتفا کرنا چاہئے جس میں نکاح کا اعلان ہو جائے کیونکہ رات کو زیادہ دیر تک بیدار رہنے کی وجہ سے نیند پوری نہیں ہوتی جس کی وجہ سے نماز فجر باجماعت ادا نہیں کی جا سکتی اور نماز فجر باجماعت ادا نہ کرنا بہت بڑے منکر امور اور منافقوں کے اعمال میں سے ہے۔
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


    ج3ص209


    محدث فتویٰ
     
  5. ‏دسمبر 02، 2017 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,361
    موصول شکریہ جات:
    2,184
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    ولیمہ کی دعوتوں کی کثرت اور شب بھر بیداری…
    شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 01 February 2014 01:12 PM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    شادی کی محفلوں‘ مہر اور ویمے کی دعوتوں میں مبالغہ آرائی‘ ہوٹلوں یا شادی گھروں میں منعقد ہونے والی ان دعوتوں میں صبح تک جاگنے‘ گانے بجانے اور موسیقی کا اہتمام اور ان محفلوں میں شرکت خصوصاً خواتین کی شرکت کے حوالہ سے رہنمائی فرمائیں تاکہ نقصان دہ باتوں سے اجتناب کیا جا سکے؟ کیا یہ جائز ہے کہ مہر اور ولیمے کی دعوتوں میں حد بندی کر کے انہیں آسان بنا دیا جائے؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    شادی کی محفلوں‘ مہر اور ولیمے کی دعوتوں میں مبالغہ آرائی اور ان دعوتوں میں شب بھر بیداری قطعاً مستحسن نہیں ہے کیونکہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس پر خرچ سب سے کم ہو‘ نکاح پر اخراجات جس قدر کم ہوں گے وہ اسی قدر بابرکت ثابت ہوگا اور اس سے شوہر کیلئے بھی یہ آسان ہو جائے گا کہ وہ بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے زندگی بسر کر سکے۔ شادی کی بعض محفلوں میں جو گانے بجانے اور موسیقی کا اہتمام کیا جاتا اور مردوں اور عورتوں کو مخلوط کر کے شریک کیا جاتا ہے تو یہ حلال نہیں ہے۔ لوگوں پر واجب ہے کہ ان کے یہ اجتماعات شریعت کے مطابق ہوں تاکہ کفران نعمت لازم نہ آئے۔ مسلمان بھائیوں خصوصاً شرفاء اور بڑے لوگوں کو چاہئے کہ وہ مہر کم کرنے‘ اسراف و فضول خرچی نہ کرنے‘ آدھی رات یا اس سے بھی زیادہ دیر تک نہ جاگنے اور اس طرح کے دیگر امور کے سلسلہ میں نمونہ قائم کریں تاکہ عام لوگ بھی انہی کے نقش قدم پر چلیں۔
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


    ج3ص212


    محدث فتویٰ
     
  6. ‏دسمبر 02، 2017 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,361
    موصول شکریہ جات:
    2,184
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    ویڈنگ پلانگ یعنی شادی کا انتظام جیسے تقریبات کیلئے جگہ کا انتظام ، کھانے وغیرہ کا انتظام ، ٹینٹ قنات کی فراہمی ،اور دیگر وہ تمام امور جو دعوت کے لوازمات سے ہوتے ہیں ان کا ارینج کرنا تو مباح ہے ،
    لیکن تین امور بہت توجہ طلب ہیں :
    غیر محرم مرد و زن کا مخلوط پروگرام یا محفل منعقد کرنا اور ان کا ویڈیو بنانا کسی صورت جائز نہیں ؛
    دوسرا ویڈیو سازی ، اور وہ بھی مخلوط محافل اورجس میں بے پردہ خواتین ہوں وہ تو بہت حرام ہے
    ہاں اگر صرف مرد حضرات کی ویڈیو بنانی ہو تو اسکے جائز و ناجائز ہونے کا مجھے علم نہیں ،
    تیسری چیز گانا ہے جو اگر شادی میں صرف نابالغ بچیاں موسیقی کے بغیر گائیں ،سنائیں تو جائز ہے اور اگر مروجہ موسیقی ہو تو اس کے حرام ہونے میں شک نہیں ؛
    واللہ تعالی اعلم
     
    Last edited: ‏دسمبر 02، 2017
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں