1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ویڈیو اور عام کیمرہ سے لی جانے والی تصویر کا حکم !

'جدید فقہی مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از رفیق طاھر, ‏مارچ 16، 2012۔

  1. ‏مارچ 21، 2012 #41
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86



    آپ نے آیت غور سے پڑھی ہی نہیں ھے۔

    وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ﴿٦-١٤٦﴾
    اور یہودیوں پر ہم نے حرام کیا ہر ناخن والا جانور اور گائے اور بکری کی چربی ان پر حرام کی مگر جو ان کی پیٹھ میں لگی ہو یا آنت یا ہڈی سے ملی ہو، ہم نے یہ ان کی سرکشی کا بدلہ دیا اور بیشک ہم ضرور سچے ہیں


    آیت میں یہودیوں کی بات ہو رہی ھے یا کچھ یہودیوں کی؟ پہلے اس پر غور کرلیں۔
     
  2. ‏مارچ 21، 2012 #42
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    اس سوال کا جواب ڈھونڈنے سے قبل ہم سابقہ پوسٹوں کا جائزہ لیتے ہیں کہ جن کی وجہ سے میرے سوال نے جنم لیا ۔
    ملاحظہ فرمائیں :
     
  3. ‏مارچ 22، 2012 #43
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ﴿٦-١٤٦﴾

    اور جو لوگ ھادو ہوئے، ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دیے تھے، اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجز اُس کے جو اُن کی پیٹھ یا اُن کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا اُنہیں دی تھی اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں ۔


    اپنی پوسٹس میں متعدد بار میں نے یہ ہی لکھا ھے کہ بطور سزا کہ اللہ نے یہودیوں پر یہ چربی حرام کی تھی۔
    اللہ کو معلوم ھے کہ لوگ آسانی سے یہ نہیں مانیں گے اس لیئے اللہ نے آیت میں یہ بھی فرمایا ھے کہ " یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں"

    بھائی اللہ ہمیشہ سچ کہتا ھے اور سچ کہہ رہا ھے۔ اب تو سر تسلیم خم کر دیں۔
     
  4. ‏مارچ 22، 2012 #44
    Muhammad Waqas

    Muhammad Waqas مشہور رکن
    جگہ:
    فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 12، 2011
    پیغامات:
    356
    موصول شکریہ جات:
    1,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    وعلیکم السلام
    میں اس کو اس طرح کیوں سمجھوں جس طرح آپ کا دل چاہ رہا ہے،میں تو دین کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق سمجھنے کا عقیدہ رکھتا ہوں۔۔۔اور آپ نے دلیل تو دی نہیں اس کو اس طرح سمجھانے کی!!
    یہاں زمانہ جاہلیت میں اس فعل کے ہونے کی اور باقی شریعتوں میں نہ ہونے کی دلیل قرآن سے بیان فرمائیں ذرا کیونکہ الا ما قد سلف میں ہر اس چیز کا ذکر ہو رہا ہے جو اسلام سے پہلے ہے ؟؟؟؟آپ نے کس دلیل کے تحت زمانہ جاہلیت کو لے لیا اور دیگر پرانی شریعتوں کو اپنی راے زنی سے خارج کر دیا ؟
    اس آیت کا یہ مطلب کیوں نہیں ہے ؟آپ کو کیسے علم ہوا کہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے ؟قرآن سے بیان فرمائیں برائے مہربانی

    بیان کردہ آیت کی جو تفسیر آپ نے فرمائی ہے ذرا اس کی دلیل قرآن سے عنایت فرمائیں۔اور اگر قرآن سے یہ نہ بیان کر پائیں اور یقیناَ نہیں کر پائیں گے، تو قرآنی آیات سے اپنا من پسند مفہوم اخذ کرنے سے رک جائیں۔
    آپ کی ذاتی رائے کی دین میں کوئی حیثیت نہیں ہے لہذا آئندہ ہر ہر لفظ قرآن سے ثابت ہونا چاہئے کیونکہ آپ تو منکر حدیث ہیں اور دلیل آپ کے نزدیک صرف قرآن ہے۔
     
  5. ‏مارچ 22، 2012 #45
    عبدالعلام

    عبدالعلام رکن
    جگہ:
    Aurangabad
    شمولیت:
    ‏مارچ 15، 2012
    پیغامات:
    153
    موصول شکریہ جات:
    478
    تمغے کے پوائنٹ:
    95

    بہت اچھا جواب ہے بارک اللہ فیک
     
  6. ‏مارچ 22، 2012 #46
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    السلام علیکم۔

    حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا [٤:٢٣]
    حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری لڑکیاں اور تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خاﻻئیں اور بھائی کی لڑکیاں اور بہن کی لڑکیاں اور تمہاری وه مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری ساس اور تمہاری وه پرورش کرده لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں، تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول کر چکے ہو، ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناه نہیں اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں اور تمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا ہاں جو گزر چکا سو گزر چکا، یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔


    کیا آپ قران مجید سے بتا سکتے ہیں کہ یہ آیت کس زمانے کے لوگوں کے لیئے ھے؟


    آپ کو آیت سے بتا چکا ہوں کہ شریعت ایک ہی ھے۔


    شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ اللَّـهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ ﴿٤٢-١٣﴾

    تمہارے لیے دین کی وہ شرع مقررکی جس کا حکم اس نے نوح کو دیا اور جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا کہ دین ٹھیک رکھو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو مشرکوں پر بہت ہی گراں ہے وہ جس کی طرف تم انہیں بلاتے ہو، اور اللہ اپنے قریب کے لیے چن لیتا ہے جسے چاہے اور اپنی طرف راہ دیتا ہے اسے جو رجوع لائے



    پہلے تو آپ یہ سمجھیں کہ اللہ کے نزدیک دین کون ساھے؟ اور اللہ کے دین سے پہلے بھی کیا کوئی دین ہوسکتا ھے؟

    إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّـهِ الْإِسْلَامُ ۗ (٣-١٩)

    بے شک اللہ کے نزدیک دین اسلام ھے۔


    اس کا ثبوت آیات سے دے چکا ہوں کے، اللہ کا دستور، اللہ کی سنت اور اللہ کے کلمات کبھی بھی تبدیل نہیں ھوتے۔
     
  7. ‏مارچ 22، 2012 #47
    Muhammad Waqas

    Muhammad Waqas مشہور رکن
    جگہ:
    فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 12، 2011
    پیغامات:
    356
    موصول شکریہ جات:
    1,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    چلیں یہ تو ثابت ہوا آپ نے جو ٖ قرآن میں تدبر کی رٹ لگا رکھی وہ صرف ملمع کاری ہے۔
    اس آیت کا قرآن میں ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن نازل ہونے کے بعد کے زمانے کی آیت ہے اور اپنے سے پہلے ہونے والے افعال کو منسوخ کر رہی ہے۔اتنی سادہ بات۔۔
    دین تمام انبیاء کا ایک(یعنی توحید پر مبنی) مگر شریعتیں الگ الگ تھیں۔شاید مندرجہ ذیل آیت پر محترم جلدی میں تدبر نہ کر سکے۔
    وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ ۚ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ [٥:٤٨]
    اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافﻆ ہے۔ اس لئے آپ ان کے آپس کے معاملات میں اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے ساتھ حکم کیجیئے، اس حق سے ہٹ کر ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ جائیے تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک دستور اور راه مقرر کردی ہے۔ اگر منظور مولیٰ ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن اس کی چاہت ہے کہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے، تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو، تم سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے، پھر وه تمہیں ہر وه چیز بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو
    یہ محض جناب کے غلط تدبر کا نتیجہ ہے۔اور ثبوت تو آپ آج تک کسی بات کا نہیں دے سکے ،صرف آپ کا زعم ہے۔
    لیجئے جناب اب آپ کے تدبر کا امتحان شروع ہو گیا ہے۔مندرجہ ذیل ناسخ اور منسوخ آیات کو پڑھیں،تدبر کریں پھر تفکر کریں اور آئندہ کے لئے نصیحت پکڑیں۔

    منسوخ:
    وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِن نِّسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِّنكُمْ ۖ فَإِن شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا [٤:١٥]
    تمہاری عورتوں میں سے جو بے حیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواه طلب کرو، اگر وه گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو، یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کردے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اور راستہ نکالے۔
    ناسخ:
    الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ [٢٤:٢]
    زناکار عورت و مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔ ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیئے، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیئے۔

    منسوخ:
    يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ ۚ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ [٨:٦٥]
    اے نبی! ایمان والوں کو جہاد کا شوق دلاؤ اگر تم میں بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے، تو دو سو پر غالب رہیں گے۔ اور اگر تم میں ایک سو ہوں گے تو ایک ہزار کافروں پر غالب رہیں گے اس واسطے کہ وه بے سمجھ لوگ ہیں

    ناسخ:
    الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ [٨:٦٦]
    اچھا اب اللہ تمہارا بوجھ ہلکا کرتاہے، وه خوب جانتا ہے کہ تم میں ناتوانی ہے، پس اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وه دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار ہوں گے تو وه اللہ کے حکم سے دو ہزار پرغالب رہیں گے، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

    منسوخ:

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ [٥٨:١٢]

    اے مسلمانو! جب تم رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو یہ تمہارے حق میں بہتر اور پاکیزه تر ہے، ہاں اگر نہ پاؤ تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔

    ناسخ:
    أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ ۚ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ [٥٨:١٣]
    کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے سے ڈر گئے؟ پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا تو اب (بخوبی) نمازوں کو قائم رکھو زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو اس (سب) سے اللہ (خوب) خبردار ہے۔

    منسوخ:
    وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِّأَزْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ ۚ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ مِن مَّعْرُوفٍ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ [٢:٢٤٠]
    جو لوگ تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وه وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائده اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے، ہاں اگر وه خود نکل جائیں تو تم پر اس میں کوئی گناه نہیں جو وه اپنے لئے اچھائی سے کریں، اللہ تعالیٰ غالب اور حکیم ہے۔

    ناسخ:
    وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ [٢:٢٣٤]
    تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (دن) عدت میں رکھیں، پھر جب مدت ختم کرلیں تو جو اچھائی کے ساتھ وه اپنے لئے کریں اس میں تم پر کوئی گناه نہیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے خبردار ہے۔

    اب کی بار جواب صرف تب دیجئے گا اگر کوئی دلیل ہو تو،ورنہ اپنے ذاتی مفاہیم بیان کرنے سے پرہیز ہی بہتر ہے۔اور کم از کم فورم کا نام ہی دیکھ لیں 'کتاب و سنت فورم' اور آپ ہیں کہ سنت کے بغیر کتاب کو سمجھنے کی سعی نا مشکور میں مشغول ہیں۔
     
  8. ‏مارچ 22، 2012 #48
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    جناب ہمارا سر تسلیم تو پہلے سے ہی خم ہے لیکن آپ کا نہیں ہور ہا
    اب دیکھیے کہ اللہ تعالى نے یہودیوں پر چربی کو حرام کر دیا جس وجہ سے بھی کیا ۔ بہر حال وہ حرام ہوگئی ۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ پر کیوں حلال ہے ؟؟؟!
    اور دوسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ چربی یہود پر حرام ہوئی یعنی اس سے قبل بھی وہ حلال ہی تھی!
    اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالى شریعت میں بقدر ضرورت نسخ فرماتے ہیں !
    لہذا یادرکھیں کہ :
     
  9. ‏مارچ 23، 2012 #49
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

     
  10. ‏مارچ 23، 2012 #50
    Muhammad Waqas

    Muhammad Waqas مشہور رکن
    جگہ:
    فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 12، 2011
    پیغامات:
    356
    موصول شکریہ جات:
    1,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    وعلیکم السلام
    ماشاءاللہ۔ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔
    جناب "صرف قرآن" کو آپ مانتے ہیں لہذا اس بات کو ثابت کرنا آپ پر فرض بھی ہے اور آپ پر ادھار بھی ورنہ پھر آپ کا "صرف ٖ قرآن" کا نعرہ کھوکھلا ثابت ہو گا۔
    ہم تو الحمدللہ وحی متلو اور وحی غیر متلو دونوں پر ایمان لاتے ہیں ۔

    جناب ترجمہ پہلے ہی صحیح ہے آپ نے اپنی عربی دانی کے غلط استعمال وجہ سےاب غلط کر دیا ہے۔مِنَ الْكِتَابِ پر پھر سے تدبر شروع کریں اور من پر خصوصی توجہ دیں!!
    اس کا جواب بھی آپ پر ادھار ہے۔
    غلطی مان لینے سے یا حق بات پتہ چل جانے کے بعد رجوع کر لینے سے انسان کا رتبہ کم نہیں ہو جاتا لہذا غور کیجئے اور سچے مسلم ہونے کا ثبوت دے کر سب لوگوں کو حیران کر دیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں