1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا

'معاشرتی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از ماریہ انعام, ‏جولائی 01، 2014۔

  1. ‏اپریل 29، 2016 #11
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,727
    موصول شکریہ جات:
    981
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب حفظہ اللہ.
    براہ کرم اس حدیث کا ترجمہ لکھ دیں.
    جزاکم اللہ خیرا
     
  2. ‏اپریل 29، 2016 #12
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,593
    موصول شکریہ جات:
    2,001
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    محترم بھائی ۔۔۔آپ نے محترمہ بہن ماریہ انعام صاحبہ کی پوسٹ میں جس حدیث کا ترجمہ کہا ہے ،
    وہاں تو یہ حدیث امام ابن مفلحؒ کی کتاب ’’ الآداب الشرعیہ ‘‘ کا حوالہ ہے ۔جبکہ یہ حدیث بڑے جلیل القدر ائمہ نے اپنی کتب میں بیان کی ہوئی ہے
    مثلاً امام بخاری کے شیخ الحمیدی ،اور امام ابو داود نے جیسا کہ ذیل میں پیش خدمت ہے ؛
    مسند حمیدی میں ہے :
    حدثنا الحميدي قال: ثنا سفيان، قال: ثني العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب، مولى الحرقة، قال: سمعت أبي، يقول: أتيت أبا سعيد الخدري، فسألته هل سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم في الإزار شيئا؟ فقال: نعم، تعلم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: «إزرة المؤمن إلى أنصاف ساقيه، لا جناح عليه فيما بينه وبين الكعبين، ما أسفل من الكعبين في النار، لا ينظر الله عز وجل إلى من جر إزاره بطرا» مسند حمیدی حدیث نمبر : 754 )
    اور سنن ابو داود میں
    حدثنا حفص بن عمر حدثنا شعبة عن العلاء بن عبد الرحمن عن ابيه قال:‏‏‏‏ سالت ابا سعيد الخدري عن الإزار فقال:‏‏‏‏ على الخبير سقطت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " إزرة المسلم إلى نصف الساق ولا حرج او لا جناح فيما بينه وبين الكعبين ما كان اسفل من الكعبين فهو في النار من جر إزاره بطرا لم ينظر الله إليه ".(سنن ابی داود ، حدیث نمبر: 4093 )
    ترجمہ :
    عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے تہ بند کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے: بہت خوب جاننے والےسے تم نے پوچھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کا تہ بند آدھی پنڈلی تک رہتا ہے، تہ بند پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں ہو تو بھی کوئی حرج یا کوئی مضائقہ نہیں، اور جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں رہے گا اور جو اپنا تہ بند غرور و تکبر سے گھسیٹے گا تو اللہ اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا“۔

    نیز دیکھئے : سنن ابن ماجہ/اللباس ۶ (۳۵۷۳)، (تحفةالأشراف: ۴۱۳۶)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/اللباس ۵ (۱۲)، مسند احمد (۳/۵،۳۱، ۴۴، ۵۲، ۹۷) (صحیح)
    Narrated Abdur Rahman: I asked Abu Saeed al-Khudri about wearing lower garment. He said: You have come to the man who knows it very well. The Messenger of Allah ﷺ said: The way for a believer to wear a lower garment is to have it halfway down his legs and he is guilty of no sin if it comes halfway between that and the ankles, but what comes lower than the ankles is in Hell. On the day of Resurrection. Allah will not look at him who trails his lower garment conceitedly.
    English Translation Reference:, Book 33, Number 4082
     
  3. ‏اپریل 29، 2016 #13
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,727
    موصول شکریہ جات:
    981
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    جزاکم اللہ خیرا.
    اللہ آپکے علم میں اضافہ عطا فرماۓ
     
  4. ‏اپریل 30، 2016 #14
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,578
    موصول شکریہ جات:
    4,375
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    بہت خوب۔۔۔ماشاء اللہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں