1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

پانى كے اسراف كے متعلق وارد حديث:

'طہارت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 23، 2013۔

  1. ‏نومبر 23، 2013 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,653
    موصول شکریہ جات:
    6,458
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    پانى كے اسراف كے متعلق وارد حديث:

    ميرا سوال يہ ہے كہ:

    كيا كوئى ايسى حديث پائى جاتى ہے جس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے كہ:

    " آدمى كو پانى ميں اسراف نہيں كرنا چاہئے، چاہے وہ نہر كنارے بھى ہو تب بھى " ؟

    الحمد للہ:

    امام احمد اور ابن ماجۃ رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے كہ:

    اور كچھ علماء كرام نے اس كى سند ميں ابن لھيعۃ ہونے كى بنا پر اسے ضعيف قرار ديا ہے، ليكن علامہ البانى رحمہ اللہ نے بيان كيا ہے كہ يہ حديث ابن لھيعۃ سے قتيبۃ بن سعيد سے مروى ہے، اور قتيبہ كى ابن لھيعۃ سے روايت صحيح ہے.
    ديكھيں: سلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 3292 ).

    اور الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

    " علماء اس پر متفق ہيں كہ پانى كے استعمال ميں اسراف سے كام لينا مكروہ ہے " انتہى
    ديكھيں:الموسوعۃ الفقھيۃ ( 4 / 180 ).

    اور شيخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ كہتے ہيں:

    " پانى كے استعمال ميں اسراف سے كام لينے كى ممانعت پر علماء كرام كا اتفاق ہے، چاہے سمندر كے كنارے پر ہى كيوں نہ ہو، كيونكہ امام احمد اور ابن ماجۃ رحمہما اللہ نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كي ہے كہ:
    " سعد رضى اللہ تعالى عنہ وضوء كر رہے تھے تو وہاں سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم گزرے اور فرمايا: "
    پھر شيخ نے مندرجہ بالا حديث ذكر كى ہے " انتہى
    ماخوذ از: شرح سنن ابو داود.

    اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " ہميں علم ہونا چاہيے كہ وضوء يا غسل ميں پانى زيادہ استعمال كرنا درج ذيل فرمان بارى تعالى ميں داخل ہوتا ہے:

    اسى ليے فقھاء كرام كا كہنا ہے كہ:

    " اسراف مكروہ ہے چاہے چلتى نہر كےكنارے بھى ہو، تو پھر اگر پانى نكالنے والى موٹر كے پاس ايسا كيا جائے تو كيا حكم ہو گا ؟
    حاصل يہ ہوا كہ: وضوء وغيرہ ميں اسراف كرنا مذموم امور ميں شامل ہوتا ہے " انتہى
    ماخوذ از: رياض الصالحين.

    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال وجواب
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 17، 2014 #2
    اسحاق

    اسحاق مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 25، 2013
    پیغامات:
    894
    موصول شکریہ جات:
    2,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں