1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پانی پر دم کرنے کا حکم

'طب نبویﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏فروری 23، 2015۔

  1. ‏جنوری 30، 2016 #31
    salafi.intek

    salafi.intek مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 18، 2015
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    28

     
  2. ‏نومبر 27، 2016 #32
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    کیا یہ توہین قرآن نہیں ہے کہ قرآن مجید کو کسی پلیٹ یا برتن پر لکھ کر اس کا پانی استعمال کیا جایے ؟
    اگر ابن تیمیہ رحمہ اللہ یا ابن القیم رحمہ اللہ نے دلیل کے بغیر لکھا ہے تو یہ قول مرجوح ہے وگرنہ بیان کردہ دلیل دیکھی جایے
     
  3. ‏نومبر 28، 2016 #33
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    شیخ محترم آپ اور شیخ عدیل سلفی بھائی سے مجھے معلومات کے لئے کچھ چیزیں پوچھنی ہیں کیونکہ ابھی مجھے واضح موقف کی سمجھ نہیں آ رہی آپ راہنمائی کر دیں جزاکم اللہ خیرا
    اوپر فتوی میں نفس فی الماء کی نص کہاں ہے یہ سمجھ نہیں آئی کیا اسکی دلیل قیاس ہے یا صحیح نص موجود ہے خصوصا جب اس میں پھونک مارنے کی ممانعت نص صحیح سے ثابت ہو
    دوسرا یہ پوچھنا کہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ پانی سے شفاء کی جو نص آئی ہے اس میں خالی پانی یا خالی تلاوت سے شفاء ہی علت نہیں بلکہ پانی کی کوئی اور خصوصیت تھی جو ان نصوص میں علت بنیں
    مثلا نمک زہر کے لئے بہتر ہوتا ہے یہ علت بنی اور سورتوں کی قرات علیحدہ فائد مند ہے اسکا پانی سے تعلق نہیں ہے
    اسی طرح نظر لگنے میں بھی اسی آدمی کے پانی سے سحر کا اثر زائل ہونا وغیرہ جیسا کہ نیچے لولی بھائی نے کہا ہے اس پہ اشکال ہے

     
  4. ‏دسمبر 01، 2016 #34
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم شیخ @اسحاق سلفی
     
  5. ‏دسمبر 01، 2016 #35
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    شاید شیخ مصروف ہیں.

    آخری مرتبہ اسحاق سلفی کو دیکھا گیا:
    ‏پیر بوقت 10:14 PM
     
  6. ‏دسمبر 02، 2016 #36
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جی بندہ تھوڑا مصروف تھا ، آج جمعہ کی نماز کے بعد فورم پر آنے کی فرصت ملی ، ان شاء اللہ جلد جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں ؛
     
  7. ‏دسمبر 02، 2016 #37
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,399
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    اهلا و سهلا و مرحبا
     
  8. ‏دسمبر 02، 2016 #38
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ان شاء اللہ
     
  9. ‏دسمبر 02، 2016 #39
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    سلمك الله من كل شر -- وجزاك الله خيرا
     
  10. ‏دسمبر 05، 2016 #40
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    اس فتوی میں (نفس فی الماء ) کے الفاظ تو نہیں ، تاہم مفتی کا کہنا ہے کہ :
    فقد روى الطبراني في المعجم الصغير (ص 117) وأبو نعيم في أخبار أصبهان (2/ 223) وغيرهما : عن علي رضي الله عنه قال: لدغت النبي صلى الله عليه وسلم عقرب وهو يصلي ، فلما فرغ قال : " لعن الله العقرب ، لا تدع مصلياً ولا غيره ، ثم دعا بماءٍ وملحٍ ، وجعل يمسح عليها ويقرأ بـ (قل يا أيها الكافرون) و(قل أعوذ برب الفلق) و (قل أعوذ برب الناس).
    وله شواهد ، فقد أخرجة الترمذي ( 2905 ) عن ابن مسعود رضي الله عنه وفيه : فجعل يضع موضع اللدغة في الماء والملح ، ويقرأ ( قل هوالله أحد ) والمعوذتين حتى سكنت .
    وقد صححه العلامة الألباني رحمه الله في الصحيحة (548).

    ترجمہ :
    جناب علی ؓسے مروی ہے انہوں نے کہاکہ نبیﷺ نماز ادا فرمارہے تھے ایک بچھو نے آپکو ڈنک ماردیا‘ آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بچھو پر لعنت کرے جو نہ نمازی کو نہ کسی دوسرے کو چھوڑتا ہے‘ پھر آپ نے پانی سے بھرا ہوا ایک برتن طلب فرمایا جس میں نمک آمیز کیا ہوا تھا اور (اس پانی کو لے کر ) آپ اس ڈنک زدہ جگہ پر ہاتھ برابر پھیرتے رہے اور قل ھو اللہ احد اور معوذ تین پڑھ کر اس پر دم کرتے رہے یہاں تک کہ بالکل سکون ہوگیا“۔
    اور سیدنا ابن مسعود ؓ کی روایت میں ہے کہ :
    نمک ملا پانی متاثرہ جگہ پر لگاتے رہے ، اور آخری تینوں سورتیں پڑھتے رہے ،

    اور سنن ابو دااود کی روایت میں ہے :

    محمد بن يوسف بن ثابت بن قيس بن شماس عن أبيه، عن جده، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنه دخل على ثابت بن قيس -
    قال: أحمد وهو مريض - فقال: «اكشف البأس رب الناس عن ثابت بن قيس بن شماس» ثم أخذ ترابا من بطحان فجعله في قدح ثم نفث عليه بماء وصبه
    عليه قال أبو داود: «قال ابن السرح يوسف بن محمد وهو الصواب»

    (سنن ابي داود 3885 )
    ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہ بیمار تھے تو آپ نے فرمایا: «اكشف الباس رب
    الناس ‏"‏ ‏.‏ عن ثابت بن قيس» ”لوگوں کے رب! اس بیماری کو ثابت بن قیس سے دور فرما دے“ پھر آپ نے وادی بطحان کی تھوڑی سی مٹی لی اور
    اسے ایک پیالہ میں رکھا پھر اس میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اس پر دم کیا اور اسے ان پر ڈال دیا۔

    اور اسی حدیث کی بنیاد پر علامہ عبدالعزیز بن باز ؒ فرماتے ہیں :
    وقال الشيخ ابن باز

    لا حرج في الرقية بالماء ثم يشرب منه المريض أو يغتسل به، كل هذا لا بأس به، الرقى تكون على المريض بالنفث عليه، وتكون في ماء يشربه المريض أو يتروَّش به، كل هذا لا بأس به، فقد ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه رقى ثابت بن قيس بن شماس في ماء ثم صبه عليه، فإذا رقى الإنسان أخاه في ماء ثم شرب منه أو صبه عليه يرجى فيه العافية والشفاء، وإذا قرأ على نفسه على العضو المريض في يده أو رجله أو صدره ونفث عليه ودعا له بالشفاء هذا كله حسن.
    http://www.binbaz.org.sa/noor/8858
    کہ پانی کے ساتھ دم جسے مریض پی لے یا اس سے غسل کرلے اس میں کوئی حرج نہیں ،
    دم براہ راست مریض پر پھونک کر بھی ہوتا ہے ، اور پانی پر دم بھی ہوتا ہے جو مریض کو پلایا جائے اس پر چھڑکا جائے اس میں کوئی مضائقہ نہیں
    خود نبی مکرم ﷺ سے ثابت ہے کہ انہوں نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کیلئے پانی پر دم کیا اور پھر وہ پانی ان پر انڈیل دیا ۔
    تو جب کوئی اپنے بھائی کو پانی میں دم کرے ، اور مریض اس کو پیئے ، یا وہ پانی اس پر ڈالا جائے ،تو اس طریقہ میں شفاء کی امید ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور جس حدیث میں پانی میں پھونک مارنے یا پینے کے برتن میں سانس لینے منع فرمایا ہے
    تو وہ ممانعت صرف عام کھانے پینے کے دوران سمجھ آتی ہے :
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ، (صحیح بخاری )
    ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، جب تم میں سے کوئی پانی پئے تو برتن میں سانس نہ لے ؛
    اور سنن ترمذی میں ہے :

    عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
    عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے برتن میں سانس لینے اور پھونکنے سے منع فرمایا ۔
    امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ‘‘
    اور اس کی شرح میں تحفۃ الاحوذی میں لکھتے ہیں :
    قَوْلُهُ (نَهَى أَنْ يُتَنَفَّسَ) بِصِيغَةِ الْمَجْهُولِ أَيْ لِخَوْفِ بُرُوزِ شَيْءٍ مِنْ رِيقِهِ فَيَقَعُ فِي الْمَاءِ وَقَدْ يَكُونُ مُتَغَيِّرَ الْفَمِ فَتَعْلَقَ الرَّائِحَةُ بِالْمَاءِ لِرِقَّتِهِ وَلَطَافَتِهِ فَيَكُونُ الْأَحْسَنُ فِي الْأَدَبِ أَنْ يَتَنَفَّسَ بَعْدَ إِبَانَةِ الْإِنَاءِ عَنْ فَمِهِ وَأَنْ لَا يَتَنَفَّسَ فِيهِ (أَوْ يُنْفَخَ)
     
    Last edited: ‏دسمبر 05، 2016
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں