1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پانی پر دم کرنے کا حکم

'طب نبویﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏فروری 23، 2015۔

  1. ‏دسمبر 05، 2016 #41
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اس کا مجھے علم نہیں ؛؛
    بس اتنا جانتا ہوں «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ،لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  2. ‏دسمبر 05، 2016 #42
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,387
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جزاک اللہ الف خیرا
     
  3. ‏دسمبر 08، 2016 #43
    ام حماد

    ام حماد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 09، 2014
    پیغامات:
    96
    موصول شکریہ جات:
    65
    تمغے کے پوائنٹ:
    42

    اردو ترجمہ ؟
    بہت مفید موضوع ہے
     
  4. ‏دسمبر 09، 2016 #44
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    جیسے ہی وقت ملتا ہے ۔۔ ان شاء اللہ ۔۔ ترجمہ پیش کردوں گا؛
     
  5. ‏دسمبر 16، 2016 #45
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جزاکم اللہ خیرا شیخ محترم لیکن ابھی بھی کچھ اشکالات ہیں
    دونوں احادیث میں پانی پہ پھونک مارنے کی سمجھ نہیں آ رہی
    پہلی میں لکھا ہے کہ ثم دعا بماء وملح وجلع یمسح علیھا
    دوسری میں ہے ثم نفث علیہ بماء
    میری ویکیبولری آپ جیسے راسخ العلم علماء کی طرح نہیں ہے آپ اسکو سمجھا دیں جزاکم اللہ خیرا

    شیخ محترم اب چونکہ پھونک مارنے کی ممانعت والی حدیث تو بالکل واضح اور صحیح ہے تو پھر ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اس پھونک مارنے کی ممانعت کو عام کھانے پینے کے دوران ممانعت پہ محمول تب کیا جائے گا جب دوسری کسی حدیث میں واضح پھونک مارنے کی نص یا دلیل ملتی ہو جیسا کہ اوپر والی دو احادیث ہیں واللہ اعلم
     
  6. ‏دسمبر 17، 2016 #46
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    پہلی گذارش تو یہ کہ بندہ ’’ راسخ فی العلم ‘‘ نہیں ، بلکہ محض کچھ چیزوں میں ’’ ناسخ ‘‘ و ’’ ناقل ‘‘ ہے ؛
    وگرنہ من ہمہ خاکم کہ ہستم
    اور اس سے پہلے والا مصرعہ اسلئے نہیں کہا کہ اس میں دعوی کمال ہے ،جو اس بندہ میں نہیں ،
    جمال ہم نشیں در من اثر کرد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  7. ‏مارچ 10، 2017 #47
    شوکت اسلام

    شوکت اسلام مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2017
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    کھانے پینے کی چیزوں پر پھونکنا

    Sunnan e Ibn e Maja Hadees # 3288

    حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْفُخُ فِي طَعَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا شَرَابٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے پینے کی چیزوں میں نہ پھونک مارتے تھے، اور نہ ہی برتن کے اندر سانس لیتے تھے۔

    Sunnan e Abu Dawood Hadees # 3722

    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے، اور پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔

    Sunnan e Abu Dawood Hadees # 3728

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔

    Jam e Tirmazi Hadees # 1888

    حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے اور پھونکنے سے منع فرمایا۔
    امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

    واللہ و اعلم
    جزاک اللہ خیر
     
  8. ‏مارچ 10، 2017 #48
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,562
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    شوکت بھائی ان تھریڈ کا مطالعہ کریں
    http://forum.mohaddis.com/threads/پانی-پر-دم-کرنے-کا-حکم.27694/


    http://forum.mohaddis.com/threads/پانی-پر-دم-کرنے-کا-حکم.27694/page-4#post-272736
     
  9. ‏مارچ 11، 2017 #49
    شوکت اسلام

    شوکت اسلام مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2017
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    پینے کے پانی کی روایت درکار ہے .......نہ کے پانی پہ دم کر کے جسم پہ لگانا
     
  10. ‏مارچ 13، 2017 #50
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,562
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    یہی اشکال رفع کیا ہے محترم شیوخ حضرات نے جو لنک دئے ہیں

    (فتح الباری :۱۰؍۱۹۵) قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ

    ''دم میں نفث (بقولِ نووی: تھوک کے بغیر پھونک، بحوالہ تحفۃ الاحوذی:۳؍۲۴۹) بغیر تھوک کے ہلکی سی پھونک مارنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی رطوبت یا اس کی ہوا سے تبرک حاصل کرنا مقصود ہے۔'' (فتح الباری:۱۰؍۱۹۷)

    اور جن احادیث میں پانی میں پھونک مارنے سے منع کیا گیا ہے، ان کا تعلق پینے کے وقت سے ہے۔چنانچہ مستدرک حاکم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے:«لا يتنفس أحدکم في الإناء إذا کان يشرب منه» یعنی''آدمی جب پانی پیئے تو پینے کے برتن میں سانس نہ لے۔'' چنانچہ حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں:

    «والتنفس في الإناء مختص بحالة الشرب» (۱؍۲۵۹)

    یعنی ''برتن میں سانس لینا پینے کی حالت کے ساتھ مخصوص ہے۔ ''

    اور صحیح بخاری میں حدیث ہے:

    «إذا شرب أحدکم فلا يتنفس في الإناء»

    ''جب تم میں سے کوئی پانے پیئے تو برتن میں پھونک نہ مارے۔


    پانی پر دم کرنا کیا سنت ہے ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں