1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پانی (یا دودھ) مانگنا

'ہبہ اور عطیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏مئی 20، 2012۔

  1. ‏مئی 20، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,951
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    وقال سهل قال لي النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اسقني ‏"‏‏.‏
    اور سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”مجھے پانی پلاو“ (اس سے اپنے ساتھیوں سے پانی مانگنا ثابت ہوا)۔


    حدیث نمبر: 2571
    حدثنا خالد بن مخلد،‏‏‏‏ حدثنا سليمان بن بلال،‏‏‏‏ قال حدثني أبو طوالة ـ اسمه عبد الله بن عبد الرحمن ـ قال سمعت أنسا ـ رضى الله عنه ـ يقول أتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم في دارنا هذه،‏‏‏‏ فاستسقى،‏‏‏‏ فحلبنا له شاة لنا،‏‏‏‏ ثم شبته من ماء بئرنا هذه،‏‏‏‏ فأعطيته وأبو بكر عن يساره،‏‏‏‏ وعمر تجاهه وأعرابي عن يمينه فلما فرغ قال عمر هذا أبو بكر‏.‏ فأعطى الأعرابي،‏‏‏‏ ثم قال ‏"‏ الأيمنون،‏‏‏‏ الأيمنون،‏‏‏‏ ألا فيمنوا ‏"‏‏.‏ قال أنس فهى سنة فهى سنة‏.‏ ثلاث مرات‏.‏

    ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے، کہا کہ مجھ سے ابوطوالہ نے جن کا نام عبداللہ بن عبدالرحمٰن تھا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اسی گھر میں تشریف لائے اور پانی طلب فرمایا۔ ہمارے پاس ایک بکری تھی، اسے ہم نے دوہا۔ پھر میں نے اسی کنویں کا پانی ملا کر آپ کی خدمت میں (لسی بنا کر) پیش کیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سامنے تھے اور ایک دیہاتی آپ کے دائیں طرف تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پی کر فارغ ہوئے تو (پیالے میں کچھ دودھ بچ گیا تھا اس لیے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ لیکن آپ نے اسے دیہاتی کو عطا فرمایا۔ (کیونکہ وہ دائیں طرف تھا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دائیں طرف بیٹھنے والے، دائیں طرف بیٹھنے والے ہی حق رکھتے ہیں۔ پس خبردار دائیں طرف ہی سے شروع کیا کرو۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہی سنت ہے، یہی سنت ہے، تین مرتبہ (آپ نے اس بات کو دہرایا)۔


    کتاب الہبہ صحیح بخاری
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں