1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پاکستان؛دہشتگردی کا ناسورختم کیوں نہیں ہوتا؟

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از القول السدید, ‏ستمبر 20، 2013۔

  1. ‏ستمبر 20، 2013 #1
    القول السدید

    القول السدید رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2012
    پیغامات:
    348
    موصول شکریہ جات:
    950
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    پاکستان؛دہشتگردی کا ناسورختم کیوں نہیں ہوتا؟


    بسم اللہ الرحمن الرحیم​

    کیا کبھی آپ نے سنا کہ الیکڑیشن نے کسی گھر کا لنٹر ڈال دیا ہے اور اب پلمبر آکر اس گھر کی وائرنگ کرے گا اور پر اس کے بعد ایک حلوائی کو بلوا کر سارے گھر میں سفیدی کروائی جائے گی؟ نہیں ؟ ارے کیوں ؟
    اس لئے کہ یہاں پر کسی کام یا معاملہ کو ایک ایسے شخص یا تجربہ سے حل کرنے کی کوشش ہوگی کہ جسکا نتیجہ سوائے ناکامی اور خرابی کے کچھ نہیں نکلے گا۔ وسائل بھی ضائع ہوں گے اور کام بھی خراب ہوجائے گا، بلکہ پہلے کی نسبت زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہوجائے گا۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال اس وقت "پاکستان میں دہشتگردی کو ختم" کرنے کے معاملے میں بھی اختیار کی جا رہی ہے اور بجائے اسکے کہ اس بد امنی اور دہشتگردی کے ناسور کی حقیقی بنیادوں کو جانچ کر اسکا متعلقہ ماہرین سے حل طلب کیا جائے، غیر متعلقہ افراد اس میں پنجہ آزامائی کر رہے ہیں اور جس سے یہ تباہی و بربادی کے دن لمبے سے لمبے ہوتے جارہے ہیں اور مسلسل ناکامی سے مایوسی بھی پھیل رہی ہے۔
    اس وقت پاکستان میں دہشتگردی کا سبب اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دہشتگرد افراد کے حقوق سلب کئے گئے ہیں تو انہوں نے ہتھیار اٹھالئے ہیں، یا پھر وہاں علم اور ترقی کا فقدان ہے جسکی وجہ سے وہ شدت پسندی کا شکار ہوگئے ہیں ، انکے برین واش کر دیئے گئے ہیں، انکو پتا ہی کچھ نہیں ہے۔
    میں ایسے تمام افراد ، اداروں اور حکام سے معذرت چاہتا ہوں کہ جو ایسا تجزیہ و نظریہ رکھتے ہیں کیونکہ حقیقت یوں نہیں جیسے انکے دماغ سوچتے اور ان کی زبانیں اور قلم تبصرے و فیچر وغیرہ میں اسکو ڈھالتے ہیں اور پالیسیاں مرتب ہوتی ہیں۔ یہ شدت پسندی اور دہشتگردی کا جن، جو پاکستان کو اس وقت گھیرے میں لئے ہوئے ہے، اور اس سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ کسی کو نظر نہیں آرہا۔ اس کے محرکات تو شاید بہت سے ہوں، جن میں سے وہ بھی ہوں جو اوپر لکھے گئے، مگر اس بدامنی و افراتفری اور دہشت گردی کی اصل بنیاد نظریہ خوارج ہے۔ اب لوگ کہیں گے کہ بھئی ، نیوٹن ، آئن سٹائن اور لامارک کے نظریات سے تو ہم واقف ہیں مگر یہ خارجی نظریہ کیا ہوتا ہے؟ آپ نے کس یونیورسٹی میں پڑھا ہے؟ کس تھنک ٹینک نے پیش کیا ہے؟کس سائنسدان نے پیش کیا ہے اور کس کتاب میں موجود ہے؟
    بس افسوس ، یہی وہ المیہ ہے کہ ہم دنیاوی معلومات اور نظریات اور تعلیمات پر تو بھرپور توجہ دیتے رہے مگر اپنے دین اسلام کی تعلیمات اور اس کی ہدایات سے ایسی لاپرواہی برتتے ہیں کہ آج خالص دینی مسائل کو بھی ہم اپنی عقل اور سائنس و ریاضی کے فارمولوں سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کاش کے جس دن یہ دہشتگردی کا ناسور ہمارے ملک کی دہلیز پر پہنچا تھا، ہمیں ادراک ہوتا کہ یہ مرض ہے کیا؟ کیوںکہ کسی بھی مرض کا علاج تب تک ممکن نہیں ، جب تک اسکی درست تشخیص نہ ہوجائے۔
    آج مسلمان ممالک بشمول پاکستان جس دہشتگردی اوربد امنی کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ دہشتگردی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی، تو قابل غور بات یہ کہ کیا یہ دہشتگردی کا تاریخ اسلامی میں پہلی بار مسلمانوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے یا اس سے پہلے ہمارے اسلاف بھی اس ناسور کا سامنا کر چکے ہیں اور اسکے بروقت علاج اور تشخیص کے لئے ہماری رہنمائی بھی فرما چکے ہیں، مگر ہماری نظر سائنسی کلیوں اور فارمولوں سے ہٹیں تب نہ۔ ہم ان شاء اللہ اپنے ان تمام قارئین کے لئے یہاں دین فطرت اسلام سے اس "خارجی نظریہ کی وضاحت ، نہایت آسان زبان میں پیش کریں گے، تاکہ ہر پاکستانی مسلمان یہ جان لے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی بنیاد حقیقی کیا ہے اور جب تشخیص درست ہو گئی تو ان شاء اللہ اسکا علاج بھی ہمارے رب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے 1400 سال پہلے واضح انداز میں بتلا اور سمجھا دیا تھا، تو پھر اس کا کافی و شافی علاج بھی ہوجائے گا
    خارجی نظریہ کیا ہے اور خوارج کسے کہتے ہیں؟

    قبل اس کے کہ ہم اپنے بلاگ پر قرآن و حدیث کی روشنی میں خارجی نظریہ اور خوارج کی علامات اور عقائد و نظریات کا جائزہ لیا جائے، بعض کتب اسلاف سے خوارج کی چند واضح تعریفات درج کی جا رہی ہیں تاکہ ابتداء میں ہی واضح ہوجائے کہ خارجی نظریہ کیا ہوتا ہے اور اس نظریہ کے حاملین کو کیا کہا جاتا ہے۔
    1۔ امام محمد بن عبد الکریم شہرستانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    کل من خرج عن الإمام الحق الذي اتفقت الجماعة عليه يسمی خارجيًا سواءً کان الخروج في أيام الصحابة علی الأئمة الراشدين أو کان بعدهم علی التابعين بإحسان والأئمة في کل زمان.
    شهرستانی، الملل والنحل : 114
    ''ہر وہ شخص جو عوام کی متفقہ مسلمان حکومتِ وقت کے خلاف مسلح بغاوت کرے اسے خارجی کہا جائے گا؛ خواہ یہ خروج و بغاوت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں خلفاے راشدین کے خلاف ہو یا تابعین اور بعد کے کسی بھی زمانہ کی مسلمان حکومت کے خلاف ہو۔''
    2۔ امام نووی رحمہ، خوارج کی تعریف یوں کرتے ہیں :
    الخوارج : صنف من المبتدعة يعتقدون أن من فعل کبيرة کفر، وخلد فی النار، ويطعنون لذلک فی الأئمة ولا يحضرون معهم الجمعات والجماعات.
    نووی، روضة الطالبين، 10 : 51
    ''خوارج بدعتیوں کا ایک گروہ ہے۔ یہ لوگ گناهِ کبیرہ کے مرتکب کے کافر اور دائمی دوزخی ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے مسلم اُمراء و حکام پر طعن زنی کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جمعہ اور عیدین وغیرہ کے اجتماعات میں شریک نہیں ہوتے۔''
    3۔ علامہ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    کانوا أهل سيف وقتال، ظهرت مخالفتهم للجماعة؛ حين کانوا يقاتلون الناس. وأما اليوم فلا يعرفهم أکثر الناس.. . . ومروقهم من الدين خروجهم باستحلالهم دماء المسلمين وأموالهم.
    ابن تيمية، النبوات : 222
    ''وہ اسلحہ سے لیس اور بغاوت پر آمادہ تھے، جب وہ لوگوں سے قتال کرنے لگے تو اُن کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مخالفت و عداوت ظاہر ہوگئی۔ تاہم عصرِ حاضر میں (بظاہر دین کا لبادہ اوڑھنے کی وجہ سے) لوگوں کی اکثریت انہیں پہچان نہیں پاتی۔ ۔ ۔ ۔ وہ دین سے نکل گئے کیوں کہ وہ مسلمانوں کے خون اور اَموال (جان و مال) کو حلال و مباح قرار دیتے تھے۔''
    علامہ ابنِ تیمیہ مزید بیان کرتے ہیں :
    وهؤلاء الخوارج ليسوا ذلک المعسکر المخصوص المعروف فی التاريخ، بل يخرجون إلی زمن الدجّال.(1) وتخصيصه صلی الله عليه وآله وسلم للفئة التی خرجت فی زمن علی بن أبی طالب، إنما هو لمعان قامت بهم، وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم، لأن التخصيص بالذکر لم يکن لاختصاصهم بالحکم، بل لحاجة المخاطبين فی زمنه عليه الصلاة والسلام إلی تعيينهم.(2)
    (1) ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 495، 496
    (2) ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 476، 477
    اور یہ خوارج (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد کا) وہ مخصوص لشکر نہیں ہے جو تاریخ میںمعروف ہے بلکہ یہ دجال کے زمانے تک پیدا ہوتے اور نکلتے رہیں گے۔ اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُس ایک گروہ کو خاص فرمانا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نکلا تھا، اس کے کئی معانی ہیں جو ان پر صادق آتے ہیں۔ ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا۔ کیونکہ ان کا خاص طور پر ذکر کرنا ان کے ساتھ حکم کو خاص کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ان مخاطبین کو (مستقبل میں) ان خوارج کے تعین کی حاجت تھی۔''
    4۔ حافظ ابنِ حجر عسقلانی فتح الباری میں فرماتے ہیں :


    الخوارج : فهم جمع خارجة أی طائفة، وهم قوم مبتدعون سموا بذلک لخروجهم عن الدين، وخروجهم علی خيار المسلمين.


    ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 12 : 283
    ''خوارج، خارجۃ کی جمع ہے جس کا مطلب ہے : ''گروہ۔'' وہ ایسے لوگ ہیں جو بدعات کا ارتکاب کرتے۔ ان کو (اپنے نظریہ، عمل اور اِقدام کے باعث) دینِ اسلام سے نکل جانے اور خیارِ اُمت کے خلاف (مسلح جنگ اور دہشت گردی کی) کارروائیاں کرنے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا۔''
    5۔ امام بدر الدین عینی عمدۃ القاری میں لکھتے ہیں :



    طائفة خرجوا عن الدين وهم قوم مبتدعون سموا بذلک لأنهم خرجوا علی خيار المسلمين.


    عينی، عمدة القاری، 24 : 84
    ''وہ ایسے لوگ ہیں جو دین سے خارِج ہوگئے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو بدعات کا ارتکاب کرتے تھے (یعنی وہ اُمور جو دین میں شامل نہ تھے ان کو دین میں شامل کرتے تھے)۔ (دینِ اِسلام سے نکل جانے اور) بہترین مسلمانوں کے خلاف (مسلح بغاوت اور دہشت گردی کی) کارروائیاں کرنے کی وجہ سے اُنہیں خوارِج کا نام دیا گیا۔''
    6۔ علامہ ابنِ نجیم حنفی، خوارج کی تعریف یوں کرتے ہیں :
    الخوارج : قومٌ لَهم منعة وحمية خرجوا عليه بتأويل يرون أنه علی باطل کفر أو معصية توجب قتاله بتأويلهم يستحلون دماء المسلمين وأموالهم.
    ابن نجيم، البحر الرائق، 2 : 234
    ''خوارج سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس طاقت اور (نام نہاد دینی) حمیت ہو اور وہ حکومت کے خلاف بغاوت کریں۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ کفر یا نافرمانی کے ایسے باطل طریق پر ہے جو ان کی خود ساختہ تاویل کی بنا پر حکومت کے ساتھ قتال کو واجب کرتی ہے۔ وہ مسلمانوں کے قتل اور ان کے اموال کو لوٹنا جائز سمجھتے ہیں۔''
    ہم امید کرتے ہیں اس مضمون کے بعد کسی بھی پاکستانی کے ذہن میں کوئی شک یا ابہام باقی نہیں رہا ہوگا کہ پاکستان میں دہشتگردی کس نظریہ کی بنیاد پر ہورہی ہے اور اس نظریہ کو اغیار و دشمن قوم و ملت نے کس چالاکی سے پروان چڑھایا ہے۔
    اِس ابتدائی تعارف کے بعد ہم خوارج کی دہشت گردی، انتہاء پسندی اور مسلم اُمّہ کے خلاف بربریت اور ظالمانہ کاررَوائیوں کی مذمت میں ترتیب وار آیاتِ مقدسہ اور احادیثِ مبارکہ کے مطالعے کے ساتھ ساتھ ان کی تشریح سے آگاہ ہونے کے لئے کتبِ تفاسیر، کتب حدیث اور دیگر اسلامی و تاریخی کتب بھی مطالعہ کریں گے۔
    انشاء اللہ العزیز​
     
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 21، 2013 #2
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    ماشاء اللہ۔۔۔۔
    مزید تفصیل کا انتظار ہے۔جزاک اللہ خیرا کثیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ

اس صفحے کو مشتہر کریں