1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پاکستانی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے بھارتی فوجی کی بیٹی نے ایسا پیغام جاری کر دیا

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏مئی 03، 2016۔

  1. ‏مئی 03، 2016 #1
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    پاکستانی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے بھارتی فوجی کی بیٹی نے ایسا پیغام جاری
    کر دیا کہ پورے پاکستان اور بھارت کو سوچ میں ڈال دیا، کروڑوں دلوں کو چھو لیا
    روزنامہ پاکستان، 02 مئی 2016

    نئی دلی (مانیٹرنگ ڈیسک) کارگل کی جنگ میں ہلاک ہونے والے ایک بھارتی فوجی افسر کی بیٹی کے ایک ویڈیو پیغام نے برصغیر کے سوشل میڈیا پر ہلچل برپا کر دی ہے۔

    اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق کارگل کی جنگ میں مارے جانے والے کیپٹن مندیپ سنگھ کی 18 سالہ بیٹی گرومہرکور نے یہ ویڈیو ممبئی کے ایک سوشل میڈیا کارکن کی مدد سے تیار کی۔ گرومہر نے ویڈیو میں کچھ بولنے کی بجائے اپنا پیغام کاغذ پر لکھے الفاظ کے ذریعے بھارت اور پاکستان کے لوگوں تک پہنچایا ہے۔ وہ یکے بعد دیگرے کچھ کارڈ دکھاتی ہیں جن پران کا پیغام مختصر الفاظ میں لکھا ہے۔ پہلے کارڈ میں ان کا نام تحریر ہے، پھر لکھا نظر آتا ہے کہ ان کا تعلق جالندھر سے ہے۔ وہ اپنے باپ کیپٹن مندیپ سنگھ کی تصویر دکھاتی ہیں، اور 1999ء کی کارگل جنگ میں ان کی ہلاکت کے بارے میں بتاتی ہیں۔

    وہ اپنے تحریری پیغامات کے ذریعے بتاتی ہیں کہ جب وہ محض دو سال کی تھیں تو ان کا والد جنگ میں ہلاک ہو گیا۔ وہ پاکستان کو اپنے والد کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھنے لگیں اور چھ سال کی عمر میں ایک برقعہ پوش خاتون پر یہ سوچ کر حملہ کر دیا کہ وہ بھی کسی نہ کسی طرح سے ان کے والد کے قتل کی ذمہ دار تھی۔ گرومہر کور کہتی ہیں کہ ان کی والدہ نے انہیں پیچھے کھینچا اور سمجھایا کہ ان کے والد کو پاکستان نے نہیں بلکہ جنگ نے ہلاک کیا۔

    گرومہر کور کا کہنا ہے کہ انہیں یہ بات سمجھنے میں کچھ وقت لگا، لیکن بالآخر وہ یہ جان گئیں کہ ان کے والد کو کسی اور نے نہیں بلکہ نفرت اور جنگ نے مارا۔ گرومہر کا کہنا ہے کہ انہوں نے نفرت چھوڑ کر امن کی تلاش کا راستہ اختیار کرلیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اب وہ بھی اپنے باپ کی طرح ایک سولجر ہیں، لیکن وہ دونوں ملکوں میں امن کے لئے لڑ رہی ہیں۔ گرومہر کور مزید کہتی ہیں کہ اگر وہ یہ کر سکتی ہے تو سب کر سکتے ہیں۔

    انہوں نے جرمنی، فرانس، جاپان اور امریکا کی مثالیں دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ ممالک اپنے ماضی کو بھلا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔ آخر میں وہ کہتی ہیں، ”میں ایک ایسی دنیا میں رہنا چاہتی ہوں کہ جہاں کوئی بھی گرومہر کور اپنے باپ کو نہ کھوئے۔ میں تنہا نہیں ہوں میری جیسی اور بھی ہیں۔

     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 21، 2016 #2
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    اسلام یا جزیہ
    امن کا یہی حل ہے شرک کے ہوتے ہوئے کبهی امن نہیں آ سکتا
     
  3. ‏مئی 21، 2016 #3
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,338
    موصول شکریہ جات:
    713
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ؟
     
  4. ‏مئی 22، 2016 #4
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    بهائی مین نے اس خبر پر تبصرہ دیا ہے کہ یہ جو کفر اختیار کرتے ہوئے امن کے خواب دیکهتے ہیں ان کو امن دو صورتوں می مل سکتا ہے یا اسلام لے آئیں یا جزئہ دیں لیکن یهود اور سکهوں سے وہ بهی قبول نہیں ہو گا ان کیلئے امن کی کوئی اور راہ نہیں اهل ایمان تب تک قتال کرتے رہیں گے جب تک ساری دنیا کفر چهوڑ کو اسلام کے تابع نہ ہو جائے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں