1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پاکستانی مصاحف کی حالت ِزاراور معیاری مصحف کی ضرورت

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏مئی 30، 2012۔

  1. ‏مئی 30، 2012 #21
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    مذکورہ رموز اوقاف کے وسیع فرق سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان رموز کی تعیین میں بہت زیادہ کام ہونے والا باقی ہے جس کیلئے اہل علم کو آگے آنا چاہئے اور اس فریضہ مقدس کو ادا کرنا چاہئے۔ بعض مقامات تو ایسے ہیں کہ جہاں پاکستانی مصاحف میں تو رمز موجود ہے یا دو دو رمزیں لگا دی گئیں ہیں اور سعودی مصاحف میں سرے سے کوئی رمز موجود ہی نہیں ہے۔بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں دو متضاد رموز لگائی ہوئی ہیں،مثلا تاج کمپنی کے مطبوعہ مصحف میں سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر۱۴ میں ’’قَالُوْآ ئَامَنَّا‘‘ کے بعد دو متضاد رموز (صلے) اور (ج) لگائی ہوئی ہیں۔ (صلے) کا مطلب ہے کہ یہاں نہ ٹھہرنا بہتر ہے جبکہ (ج) کی رمز کا مطلب ہے کہ یہاں ٹھہرنا بہتر ہے۔ اب قاری مذکورہ دونوں رموز میں سے کس پر عمل کرے؟ وقف کرے یا وصل؟
     
  2. ‏مئی 30، 2012 #22
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اغلاطِ اوقاف کی چند مثالیں
    ٭ ہر آیت مبارکہ پر وقف کرنا مستحب عمل ہے،کیونکہ نبیe ہر آیت مبارکہ پر وقف کیا کرتے تھے،جبکہ پاکستانی مصاحف میں ایک غلطی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ متعدد مقامات پر آیات کے گول دائرے کے اوپر وقف نہ کر نے کی علامت لا لکھی ہوئی ہے۔ (اسی طرح روایت ِحفص کے علاوہ دیگر شماروں کی آیات، جہاں بطور علامت ِآیت (۵ ) لکھا ہوتا ہے، اس میں بھی بعض مقامات پر (۵) کے اوپر لا کی علامت لکھی ہوئی ہے۔) حالانکہ ہر آیت پر وقف کرنا مستحب عمل ہے، اور اس علامت کے ذریعے مستحب عمل سے روک دیا جاتا ہے۔ اس غلطی کو متعدد مصاحف کے ساتھ ساتھ تاج کمپنی کے مطبوعہ مصاحف میں سورۃ الناس کی تمام آیات میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
    ٭ پاکستانی مصاحف میں سورۃ اللَّھب کی چوتھی آیت ِمبارکہ میں ’’وَامْرَأَتُہٗ ‘‘ کے بعدوقف مطلق کی علامت (ط) لگی ہوئی ہے حالانکہ اس جگہ یہ علامت لگانا بالکل غلط ہے کیونکہ اس کے بعد والا جملہ ’’حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ‘‘ اس سے حال ہے اور فن کی رو سے ذوالحال اور حال کے درمیان وقف کرنا بہتر نہیں، نیز اگر اس جگہ وقف کردیں تو اس کے بعد والے لفظ کو مبتدا یا مبتدا محذوف کی خبر ماننا پڑے گا حالانکہ حال ہونے کی بنا پر وہ منصوب ہے۔
     
  3. ‏مئی 30، 2012 #23
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭ اسی طرح پاکستانی مصاحف میں ’’وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ‘‘ (البقرۃ: ۱۱۶) کے بعد علامت وقف (لا) لکھی ہوئی ہے،یعنی اس جگہ وقف نہ کیا جائے۔اس آیت مبارکہ کا ترجمہ ہے کہ’’انہوں(یعنی)کافروں نے کہا:کہ اللہ نے اولاد پکڑ رکھی ہے۔‘‘اس کے بعد اللہ تعالی فرماتے ہیں:’’سُبْحٰنَہٗ‘‘’’کہ اللہ تعالی (اس تہمت سے) پاک ہے۔‘‘ گویا کہ ’’وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ‘‘ تک کافروں کا کلام ہے اور اس کے بعد: ’’سُبْحٰنَہٗ‘‘ اللہ تعالی کا کلام ہے۔ اگر اس جگہ وقف نہ کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید ’’سُبْحٰنَہٗ‘‘ بھی کافروں کا ہی کلام ہے۔جس سے معنی کی قباحت واضح ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اس جگہ ’’وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ‘‘ کے بعد علامت وقف (لا)کی بجائے (قلے) ہونی چاہئے تھی، جس کا مطلب ہے کہ یہاں وقف کرنا اولی ہے۔ تاکہ کفار کی بات اور اللہ تعالیٰ کے جواب میں فرق ہو جائے۔ ہاں البتہ: ’’ مَا کَانَ لِلّٰہِ أَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ سُبْحٰنَہٗ ‘‘ (مریم: ۳۵) میں ’’وَلَدٍ‘‘کے بعد علامت وقف (لا) درست ہو سکتی ہے کیونکہ وہ سارا اللہ تعالی کا ہی کلام ہے۔
    ٭ اسی طرح تاج کمپنی کے مصحف میں سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۱۳۱ میں ’’اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗ أَسْلِمْ‘‘ کے بعد علامت وقف (لا) لگائی ہوئی ہے ،جو وقف نہ کرنے پر دلالت کرتی ہے، حالانکہ معنوی اعتبار سے یہاں وقف کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ ’’أَسْلِمْ‘‘ اللہ کا حکم ہے اور اس کے بعد سیدنا ابراہیم﷤ کا جواب ہے۔
     
  4. ‏مئی 30، 2012 #24
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭ اسی طرح سورۃ الانعام کی آیت نمبر ۳۶ میں ’’ اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ ‘‘ کے بعد علامت وقف (ط) لگائی ہوئی ہے، جو وقف مطلق پر دلالت کرتی ہے،حالانکہ معنوی اعتبار سے یہاں وقف ِلازم کی علامت ہونی چاہئے تھی تاکہ ’’یَسْمَعُوْنَ‘‘ اور ’’وَالْمَوْتٰی‘‘ میں تفریق ہوجائے، کیونکہ مردے سنتے نہیں ہیں۔ مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید میں اس مقام پر وقف لازم کی علامت (م) ہی لگی ہوئی ہے۔
    ٭ سورۃ البقرۃ: ۲۴۶ میں ’’أَلَمْ تَرَ إِلٰی الْمَلَاِ مِنْ بَنِیْ إِسْرٰئِیْلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰی‘‘ کے بعد وقف لازم کی علامت (م) لگی ہوئی ہے، حالانکہ معنوی طور پر یہاں وقف کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیونکہ جن سرداروں کا تذکرہ اللہ نے پہلے کیا ہے انہیں کی بات آگے چل رہی ہے، نئی بات شروع نہیں ہوئی کہ یہاں لازماً وقف کیا جائے۔
    ٭ اسی طرح سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۵۸میں ’’ أَنْ ئَاتٰٹہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ ‘‘کے بعد وقف لازم کی علامت (م) لگی ہوئی ہے ،حالانکہ معنوی طور پر یہاں بھی کسی علامت کی ضرورت نہیں ہے ،کیونکہ جس بادشاہ کا تذکرہ اللہ تعالی نے اس سے پہلے کیا ہے، اسی کی بات آگے چل رہی ہے، نئی بات شروع نہیں ہوئی کہ لازماً وقف کیا جائے۔
     
  5. ‏مئی 30، 2012 #25
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭ سورۃ المائدۃ: ۲۷ میں ’’وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَأَ ابْنَیْ ئَادَمَ بِالْحَقِّ‘‘ کے بعد وقف لازم کی علامت (م) لگی ہوئی ہے، حالانکہ معنوی طور پر یہاں بھی کسی علامت کی ضرورت نہیں ہے،کیونکہ آدم ﷤ کے بیٹوں کا تذکرہ اللہ نے اس سے پہلے کیا ہے، انہیں کی بات آگے چل رہی ہے، کوئی نئی بات شروع نہیں ہوئی کہ یہاں لازماً وقف کیا جائے۔
    ٭ سورۃ الاعراف: ۱۶۳ میں ’’ وَسْئَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ ‘‘ کے بعد وقف لازم کی علامت (م) لگی ہوئی ہے، حالانکہ معنوی طور پر یہاں بھی کسی علامت کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ جس بستی کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کیا ہے، اسی کی بات آگے چل رہی ہے۔
    ٭ اسی طرح سورۃ یونس: ۷۱ میں ’’ وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَأَ نُوْحٍ ‘‘ کے بعد وقف لازم کی علامت (م) لگی ہوئی ہے، حالانکہ معنوی طور پر یہاں بھی کسی علامت کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ نوح ﷤ کا تذکرہ اللہ نے اس سے پہلے کیا ہے، انہیں کی بات آگے چل رہی ہے، نئی بات شروع نہیں ہوئی کہ یہاں لازماً وقف کیا جائے۔ واضح رہے کہ مذکورہ پانچوں مثالوں میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ مصاحف میں ان مقامات پرکوئی علامت ِوقف موجود نہیں ہے۔
     
  6. ‏مئی 30، 2012 #26
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭ سورۃ ھود:۶۱ میں ’’ وَاِلیٰ ثَمُوْدَ أَخَاھُمْ صٰلِحاً ‘‘ کے بعد وقف لازم کی علامت (م) لگی ہوئی ہے، حالانکہ معنوی طور پر یہاں بھی کسی علامت کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ جس نبی کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کیا ہے، اسی کی بات آگے چل رہی ہے، کوئی نئی بات شروع نہیں ہوئی کہ اس مقام پر لازماً وقف کیا جائے۔ نیز یہاں ایک بات اور قابل غور ہے کہ ایک رکوع پہلے ’’وَاِلیٰ عَادٍ أَخَاھُمْ ھُوْداً ‘‘ اور ایک رکوع بعد ’’وَاِلیٰ مَدْیَنَ أَخَاھُمْ شُعَیْباً ‘‘ کے بعد وقف لازم کی علامت (م) کی بجائے وقف ِمطلق کی علامت (ط) لگائی ہوئی ہے، حالانکہ مذکورہ تینوں مقامات کا ا ندازِ تکلم ایک جیسا ہی ہے، پھر انکے درمیان رموز واوقاف کا یہ فرق کیوں؟
    ٭ مصاحف کے حاشیہ پر بعض ایسی علاماتِ وقف لکھی ہوئی ہیں جن کی استنادی حیثیت واضح کی جانی چاہئے،مثلا وقف النبی، وقف منزل اور وقف غفران وغیرہ، ان سے مراد اور ان کی استنادی حیثیت کیا ہے ؟
     
  7. ‏مئی 30، 2012 #27
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اچھی کاوش
    مجمع الملک فہد لطباعۃ القرآن الکریم سعودی عرب، دُنیا کا وہ منفرد ادارہ ہے جسے رسم عثمانی، ضبط، علم الفواصل اور رموز واوقاف کے معروف قواعد کے ساتھ قرآنِ مجید کی طباعت کا اعزاز حاصل ہے۔ سعودی عرب کے اس ادارے کو نہ روایت ِحفص کا مستند ترین مصحف چھاپنے کا اعزاز حاصل ہے، بلکہ اس نے دیگر متداوِل روایات (ورش، قالون اور دوری) میں بھی کروڑوں کی تعداد میں مصاحف چھاپ کرمفت تقسیم کئے ہیں۔
    مجمع ملک فہد کی طرز پہ مکتبہ دار السلام لاہور نے حال ہی میں رسم عثمانی، علم الفواصل اور رموز واوقاف کے مطابق مصحف طبع کیا ہے جو اس باب میں ایک اچھی اور قابل ستائش کاوش ہے، اگرچہ اس میں علم الضبط کے حوالے سے بہتری کی کافی گنجائش باقی ہے۔ دیگر طباعتی اداروں کو بھی اس اچھی روایت پر عمل کرنا چاہیے۔
     
  8. ‏مئی 30، 2012 #28
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    عالم ِاسلام اور حکومت ِپاکستان سے اپیل
    محقق اہل علم و قراء کرام اس امر سے بخوبی واقف ہیں اور اس کوتاہی کو بڑی شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان میں مطبوعہ مصاحف کے اندر رسم، ضبط، فواصل اور اوقاف کی متعدد اغلاط پائی جاتی ہیں، جن کی تصحیح از بس ضروری اور ذمہ داران پر واجب ہے۔ پروفیسر حافظ احمد یار صاحب مرحوم نے اپنی کتاب ’قرآن وسنت، چند مباحث‘ میں اس امر کی طرف خصوصی توجہ دلائی ہے اور بڑی تفصیل کے ساتھ پاکستانی مصاحف کی اغلاط کی نشاندہی کی ہے۔ اس سلسلہ میں ماہنامہ رشد کے قرائات نمبر اول میں قاری رشید اَحمد تھانوی صاحب کے ’رسم عثمانی اور پاکستانی مصاحف کی صورتحال‘ نامی مضمون کا مطالعہ بھی مفید رہے گا۔
    پاکستان میں سرکاری سطح پر اگرچہ طباعت قرآن کاایک اعلی ادارہ (پنجاب قرآن ہاؤس لاہور) چند سال قبل بنایا گیا، جس کے قیام کا مقصد ایک معیاری اور رسم وضبط کی اغلاط سے پاک قرآن مجید کی طباعت تھا اور اس بورڈ نے محنت سے کام لے کر رسم وضبط کی اغلاط سے پاک ایک معیاری مصحف چھاپنے کی بجائے .....’قدرت اللہ کمپنی اردو بازار لاہور‘ کے مصحف پر ’پنجاب قرآن ہاؤس لاہور‘ کا سرورق لگا کر ایک ماڈل مصحف کے طور پر چھاپ دیا ہے۔ اس ماڈل مصحف کی صورتحال بھی دیگر پاکستانی مصاحف سے مختلف نہیں ہے۔ اس میں بھی دیگر پاکستانی مصاحف کی طرح رسم کی متعدد اغلاط پائی جاتی ہیں۔ البتہ اس مصحف کا کاغذ اور جلد دیگر مصاحف کی نسبت معیاری اور مضبوط ہے، جس پر حکومت پنجاب ’مبارکباد‘ کی مستحق ہے۔
     
  9. ‏مئی 30، 2012 #29
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ضرورت اس امر کی ہے کہ طباعت ِقرآن مجید میں رسم عثمانی (جو کہ توقیفی اور صحت ِقراء ت کیلئے ایک معیار ہے اور اس کے خلاف قرآنِ مجید کی کتابت کرنا حرام ہے) ضبط اور اوقاف سمیت تمام پہلوؤں کا لحاظ رکھا جائے۔
    ہماری عالم اسلام سے بالعموم اور حکومت ِپاکستان سے بالخصوص اپیل ہے کہ وہ مجمع فہدکی طرز پر ماہرین فن پر مشتمل ایک لجنۃ مراجعۃ المصحف قائم کرے، جو رسم وضبط اور رموز اوقاف وغیرہ لازمی امور کو سامنے رکھ کر ایک معیاری مصحف کی تیاری کرے، جسے قانونی طور پر انجمن حمائت اسلام کے مصحف کی جگہ پر معیاری مصحف قرار دیا جائے اور تمام طباعتی اداروں کو اس مصحف کی مطابقت کا پابند کیا جائے، نیز کوئی بھی طباعتی ادارہ اس لجنۃ (کمیٹی) کی اجازت و سر ٹیفکیٹ کے بغیر کسی مصحف کی طباعت نہ کر سکے۔ اسی طرح حکومت کو یہ بھی چاہیے کہ وہ قر آنِ مجید کی طباعت کرنے والے مطابع اور اداروں کو اس امر کا پابند بنائے کہ کمیٹی کی اجازت کے ساتھ ساتھ وہ صرف اور صرف اعلیٰ معیاری کاغذ اور مضبوط جلدی بندی کے ساتھ ہی مصاحف کے طباعت کر سکتے ہیں۔ اگر حکومتی ذمہ داران یہ عظیم الشان خدمت سر انجام دے دیتے ہیں تو ان شاء اللہ یہ صدقہ جاریہ ہو گا اور روز قیامت ان کیلئے باعث ِنجات بنے گا۔
     
  10. ‏مئی 30، 2012 #30
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اگر حکومت ِپاکستان کیلئے ایسا ادارہ قائم کرنا یا ایسی کمیٹی تشکیل دینا مشکل ہے تو عالم اسلام کے مرکز سعودی عرب یا مکتبہ دار السلام لاہور، جامعہ لاہور الاسلامیہ اور دیگر علوم القراء ات کی تعلیم دینے والے ادارے (جن کے پاس اللہ کے فضل وکرم سے رسم وضبط کے ماہرین کی ایک جماعت موجود ہے) کے تعاون سے مراجعت کروا کر ایک ماڈل مصحف تیار کر کے تمام طباعتی اداروں کو اسی رسم کے مطابق طباعت قرآن مجید کا پابند کر دیا جائے۔ طباعتی اداروں کو پابند بنانے کا قانون تو موجود ہے، البتہ کمزوری صرف یہ ہے کہ غلطی کو غلطی نہیں سمجھا جا رہا۔
    ہم آخر میں پھر واضح کرنا چاہیں گے کہ رسم عثمانی توقیفی ہے، لہٰذا اس کے خلاف کتابت ِقرآن مجید حرام ہے مگر ضبط چونکہ اجتہادی ہے اور اس کو رسم عثمانی جیسا تقدس حاصل نہیں ہے۔ اگر اس میں بہتری کی جا سکے تو بہت اچھا ہے وگرنہ آسانی کی غرض سے انہی علامات کو ہی ’قواعد کے مطابق‘ لگایا جا سکتا ہے، کیونکہ ضبط کے معاملے میں خود سلف صالحین کے ہاں بھی اختلاف پایا جاتا ہے، مثلاً ہمزہ وصلی کی علامت کے بارے میں اختلاف ہے کہ اس پر کونسی علامت لگائی جائے۔اسی طرح فاء اور قاف کے نقطوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اہل مشرق فاء کے اوپر ایک نقطہ اور قاف کے اوپر دو نقطے لگاتے ہیں ،جبکہ اہل مغرب فاء کے نیچے ایک نقطہ اور قاف کے اوپر ایک نقطہ لگاتے ہیں۔ البتہ یہ کوشش ضرور کی جانی چاہیے کہ پوری دنیا میںتمام مطبوع قرآن مجید یکساں ہوں اور ان کا ایک ہی ضبط معروف ہو، نیز تمام لوگوں کو اسی سے متعارف کروایا جائے۔ اور اگر ایسا ممکن ہو جائے تو عوامی علامات ضبط کے بالمقابل اہل فن کے مقرر کردہ علامات ضبط کو اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ وما توفیقي إلا باﷲ
    ٭_____٭_____٭
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. عبداللہ امانت محمدی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    183
  2. شیخ قاسم
    جوابات:
    0
    مناظر:
    703
  3. فواد
    جوابات:
    0
    مناظر:
    590
  4. ظفر اقبال
    جوابات:
    0
    مناظر:
    352
  5. ظفر اقبال
    جوابات:
    1
    مناظر:
    400

اس صفحے کو مشتہر کریں