1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پاکستان ائیر فورس کے دو حملے جو اسرائیل کو آج بھی تڑپاتے ہیں-

'جنگ وجدال' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوحتف, ‏اپریل 10، 2012۔

  1. ‏اپریل 10، 2012 #1
    ابوحتف

    ابوحتف مبتدی
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2012
    پیغامات:
    87
    موصول شکریہ جات:
    300
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اسرائیل اور پاکستان دوست کیوںنہیں بن سکتے؟ اس سوال کا تو مجھے نہیں پتہ مگر پاکستان اور اسرائیل آج سے نہیں بلکہ اپنی پیدائش کے پہلے دن سے ہی ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے ہم ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے باز نہیں آتے۔ اسرائیل نے بلاشبہ پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے مگر ہم نے اسے بدلہ لئے بغیر نہیں چھوڑا۔ہم نے بھی اسرائیلیوں پر ثابت کیا ہے کہ ہم بھی اپنی ہی مائوں کا دودھ پی کر جوان ہوئے ہیں۔میرا تعلق پاکستان فضائیہ سے ہے اور ایسے دو معرکوں میں، میں شامل رہا ہوں جس میں ہم نے اسرائیل کی سرزمین پر جا کر اسے نا صرف للکارا بلکہ اس کے جہاز بھی تباہ کئے اور وہ آج تک اس کا بدلہ لینے کو تڑپ رہا ہے۔ مجھے آپ پاکستان ائیر فورس کا ایک گمنام سپاہی سمجھ لیں۔ پہلی بار ہم نے پہلی بار اسرائیلوں کے سینے میں خنجر اس وقت گھونپا جب عرب اسرائیل چھ روزہ جنگ شروع ہوئی تھی۔ جسے عرب اسرائیل جنگ 1967ء، تیسری عرب اسرائیل جنگ اور جنگ جون بھی کہا جاتا ہے مصر، عراق، اردن اور شام کے اتحاد اور اسرائیل کے درمیان لڑی گئی جس میں اسرائیل نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔ دراصل ہوا یہ تھا کہمصر کے صدر جمال عبدالناصر نے پہلے تو یمنی حریت پسندوں کے ایک گروہ سے اتحاد کرکے ستمبر 1965ء میں امام یمن کا تختہ الٹ دیا اور جب اس کے نتیجے میں شاہ پسندوں اور جمہوریت پسندوں کے درمیان جنگ چھڑگئی تو صدر ناصر نے اپنے حامیوں کی مدد کے لئے وسیع پیمانے پر فوج اور اسلحہ یمن بھیجنا شرع کردیا اور چند ماہ کے اندر یمن میں مصری فوجوں کی تعداد 70 ہزار تک پہنچ گئی۔ بلاشبہ صدر ناصر کے اس جرات مندانہ اقدام کی وجہ سے عرب کے ایک انتہائی پسماندہ ملک یمن میں بادشاہت کا قدیم اور فرسودہ نظام ختم ہوگیا اور جمہوریت کی داغ بیل ڈال دی گئی لیکن یہ اقدام خود مصر کے لئے تباہ کن ثابت ہوا۔
    صدر ناصر یمن کی فوجی امداد کے بعد اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ اب مصر دنیائے عرب کا سب سے طاقتور ملک بن گیا ہے وہ اسرائیل کے مقابلے میں روس پر مکمل بھروسہ کرسکتا ہے چنانچہ ایک طرف تو انہوں نے طاقت کے مظاہرے کے لئے ہزاروں فوجی یمن بھیج دیئے اور دوسری طرف اسرائیل کو دھمکیاں دینا اور مشتعل کرنا شروع کردیا۔ اقوام متحدہ کی جو فوج 1956ء سے اسرائیل اور مصر کی سرحد پر تعینات تھی صدر ناصر نے اس کی واپسی کا مطالبہ کردیا اور آبنائے عقبہ کو جہاز رانی کے لئے بند کرکے اسرائیل کی ناکہ بندی کردی۔
    اسرائیل نے جو جنگ کے لئے پوری طرح تیار تھا اور جس کو امریکہ کی امداد پر بجا طور پر بھروسہ تھا مصر کی کمزوری کا اندازہ کرکے جون 1967ء کے پہلے ہفتے میں بغیر کسی اعلان جنگ کے اچانک مصر پر حملہ کردیا اور مصر کا بیشتر فضائی بیڑہ ایک ہی حملے میں تباہ کردیا۔ مصر کی فوج کا بڑا حصہ یمن میں تھا جسے بروقت بلانا نا ممکن تھا نتیجہ یہ ہوا کہ 6 دن کی مختصر مدت میں اسرائیل نے نہ صرف باقی فلسطین سے مصر اور اردن کو نکال باہر کیا بلکہ شام میں جولان کے پہاڑی علاقے اور مصر کے پورے جزیرہ نمائے سینا پر بھی قبضہ کرلیا اور مغربی بیت المقدس پر بھی اسرائیلی افواج کا قبضہ ہوگیا۔
    ہزاروں مصری فوجی قیدی بنالئے گئے اور روسی اسلحہ اور ٹینک یا تو جنگ میں برباد ہوگئے یا اسرائیلیوں کے قبضے میں چلے گئے۔ عربوں نے اپنی تاریخ میں کبھی اتنی ذلت آمیز شکست نہیں کھائی ہوگی اور اس کے اثرات سے ابھی تک عربوں کو نجات نہیں ملی۔ اسرائیل کے مقابلے میں اس ذلت آمیز شکست کے بعد صدر ناصر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ سعودی عرب اور اردن سے مفاہمت پیدا کی اور شاہ فیصل سے تصفیہ کے بعد جس کے تحت مصر نے یمن میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا، مصری فوجیں یمن سے واپس بلالی گئیں۔ مصر کی شکست کی سب سے بڑی وجہ مصری فوج کی نااہلی اور مصری فوجی نظام کے نقائص تھے لیکن مصری فوج اور اسلحہ کی بڑی تعداد کو یمن بھیجنا بھی شکست کی ایک بڑی وجہ تھی۔
    مصری سمندر کے قریب اسرائیلی جہازوں نے امریکی بحریہ کے جہاز لبرٹی پر حملہ کیا، جس میں 34 امریکی ہلاک ہوئے۔ اسرائیل اور امریکہ نے بعد میں اسے غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیا مگر اس کی امریکہ نے باقاعدہ تحقیقات سے گریز کیا۔ بعض محققین نے دعوٰی کیا ہے کہ حملہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔ ارادہ یہ تھا کہ جہاز ڈوبنے کے بعد ملبہ مصر پر ڈال کر امریکہ کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹ لیا جائے۔ مگر جہاز ڈوبا نہیں اور اس لیے مصر پر الزام نہیں لگایا جا سکا۔
    6 روزہ جنگ میں پاک فضائیہ کے ہوا بازوں (پائلٹوں) نے بھی حصہ لیا پاکستانی ہوا باز اردن، مصر اور عراق کی فضائیہ کی جانب سے لڑے اور اسرائیلی فضائیہ کے 3 جہازوں کو مار گرایا جبکہ ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ دراصل ہوا یہ تھا کہ عرب ممالک نے پاکستان سے اپیل کی کہ اسرائیل نے اچانک حملہ کردیا ہے اور ان کے پاس ماہر پائلٹ نہیں ہیں۔ اس پر پاکستان نے فوری طور پر ایک درجن سے زائد پائلٹ بھیجے جنہوں نے داد شجاعت دی اور اسرائیل پر کئی کامیاب پروازیں کیں اور عرب ممالک میں بمباری کرنے آنے والے تین جہازوں کو مار گرایا جب کہ اسرائیلی زمینی دستوں کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا۔ انہوں نے درجنوں جاسوسی پروازیں کر کے بھی توپ خانے کی مدد کی جب کہ پسپائی میں بھی عرب فوج کو ہوائی مدد دے کر محفوظ بنایا۔ پاکستانی پائلٹس کی طرف سے حصہ لینے کا معاملہ چھپا رہنے والا تو تھا نہیں اس لئے اسرائیل نے خوب دھمکیاں دیں اور پھر وہ اس وقت فاتح بھی تھا۔

    اس جنگ میں عرب افواج کے 21 ہزار فوجی ہلاک، 45 ہزار زحمی اور 6 ہزار قیدی بنالئے گئے جبکہ اندازا 400 سے زائد طیارے تباہ ہوئے۔جبکہ اس کے مقابلے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کے 779 فوجی مارے گئےجبکہ 2563 زخمی اور 15 قیدی بنالئے گئے۔جون 1967ء کی جنگ میں شکست کے نتیجے میں غزہ (فلسطین) اور جزیرہ نمائے سینا کا 24 ہزار مربع میل (ایک لاکھ 8 ہزار مربع کلومیٹر) کا علاقہ اسرائیل کے قبضے میں آگیا، نہر سوئز بند ہوگئی اور مصر جزیرہ نمائے سینا کے تیل کے چشموں سے محروم ہوگیا۔ صدر ناصر نے شکست کی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے فورا استعفی دے دیا لیکن ان کا استعفی واپس لینے کے لئے قاہرہ میں مظاہرے کئے گئے اور صدر ناصر نے استعفی واپس لے لیا۔ اس طرح صدر ناصر کا اقتدار تو قائم رہا لیکن 1967ء کی شکست کی وجہ سے مصری فوج کی عزت خاک میں مل گئی۔ لوگ فوجیوں کو دیکھ کر فقرے چست کرنے لگے جس کی وجہ سے فوجیوں کو عام اوقات میں وردی پہن کر سڑکوں پر نکلنے سے روک دیا گیا۔ لیکن عرب ممالک کے دل میں اس شکست نے آگ لگا دی اور یہی آگ ایک اور جنگ کی وجہ بنی جس میں ایک بار پھر پاکستانی ائیر فورس کے پائلٹ اسرائیل پر بم برسانے کو تیار تھے۔ اور اس جنگ میں اللہ نے مسلمانوں کو فاتح بنایا۔
    1967ء کی جنگ نے مصر کی معیشت کو بھی سخت نقصان پہنچایا۔ مصر کی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ نہر سوئز تھی جس کی وجہ سے مصر کو ہر سال ساڑھے 9 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ نہر کے مشرقی کنارے پر اسرائیل کا قبضہ ہوجانے کے بعد نہر سوئز میں جہاز رانی بند ہوگئی۔ ایک ایسے موقع پر جبکہ مصر کو اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اور اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے سرمائے کی ضرورت تھی نہر سوئز کی آمدنی کا بند ہونا بڑا تباہ کن ثابت ہوتا لیکن سعودی عرب، کویت اور لیبیا آڑے آئے اور تینوں نے مل کر ساڑھے 9 کروڑ ڈالر سالانہ کی امداد فراہم کرکے نہر سوئز کی بندش سے ہونے والے نقصان کی تلافی کردی۔
    جولائی 1968ء میں صدر ناصر نے روس کا دورہ کیا جس کے بعد روس نے مصر کو از سر نو مسلح کرنا شروع کیا۔ روس نے پہلی مرتبہ زمین سے ہوا میں چلائے جانے والے کم فاصلے کے میزائل مصر کو دیئے۔ آواز کی رفتار سے ڈیڑھ گنا تیز چلنے والے جیٹ طیارے اور 500 ٹینک دینے کا وعدہ کیا۔ تین ہزار فوجی مشیر اور فنی ماہر بھی فراہم کئے۔ عرب ملکوں میں سعودی عرب، کویت اور لیبیا نے وسیع پیمانے پر مالی امداد فراہم کی۔ روس اور عرب ملکوں کی اس امداد سے مصر کے فوجی نقصانات کی ایک حد تک تلافی بھی ہوگئی اور اقتصادی حالت بھی سنبھل گئی۔ 1968ء کے آخر میں اسوان بند نے بھی کام شروع کردیا۔
    نہر سوئز کو مصر کی معیشت میں بنیادی اہمیت حاصل تھی لیکن یہ نہر 6 روزہ جنگ میں اسرائیلی قبضے کے بعد سے بند پڑی تھی۔ آمدنی کے اس ذریعے سے محروم ہوجانے کے بعد مصر کو سعودی عرب، کویت اور لیبیا کی اقتصادی امداد پر انحصار کرنا پڑ رہا تھا۔ اس مسئلےکو حل کرنے کے لئے مصر کے صدر انور سادات نے یہ پیشکش کی کہ اگر اسرائیلی نہر کے مشرقی ساحل سے واپس ہوجائیں تو نہر سوئز کھول دی جائے گی لیکن یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا جس پر مصر نے حملے کا فیصلہ کرلیا اور پاکستانی پائلٹ ایک بار پھر اسرائیل پر آگ برسانے کو تیار تھے۔
    اس جنگ کے دوران پاکستان نے مصر اور شام کی مدد کے لئے 16 ہوا باز مشرق وسطی بھیجے اور 8 پاکستانی ہوا بازوں نے شام کی جانب سے جنگ میں حصہ لیا اور مگ-21 طیاروں میں پروازیں کیں۔ پاکستان کے فلائٹ لیفٹیننٹ اے ستار علوی یوم کپور جنگ میں پاکستان کے پہلے ہوا باز تھے جنہوں نے اسرائیل کے ایک میراج طیارے کو مار گرایا۔ انہیں شامی حکومت کی جانب سے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ ان کے علاوہ پاکستانی ہوا بازوں نے اسرائیل کے 4 ایف 4 فینٹم طیارے تباہ کئے جبکہ پاکستان کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔پاکستانی پائلٹس نے اسرائیلی توپ خانے کو تباہ کرنے کے علاوہ رہنمائی فراہم کرنے والی پروازیں بھی کیں اور کئی ایسے کارنامے انجام دئے جو آج تک اسرائیلی سینے میں انگارے بن کر بے چین کررہے ہیں۔یہ پاکستانی ہوا باز 1976ء تک شام میں موجود رہے اور شام کے ہوا بازوں کو جنگی تربیت دیتے رہے ۔
    امن کی کوششوں میں کامیابی نہ ملنے پر مصر نے تو 6 اکتوبر 1973ء کو مصر نے حملہ کردیا اور مصری افواج نے نہر پار کرکے اسرائیلی فوجوں کو مشرقی ساحل تہس نہس کردیا۔
    اس طرح مصر نے 27 سال کی کشمکش کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل کے مقابلے میں ایسی کامیابی حاصل کی جس نے 1967ء کی شرمناک شکست کی جزوی طور پر تلافی کردی۔ انور سادات نے مصر کا قومی دن 23 جولائی کے بجائے 6 اکتوبر مقرر کرکے اس شاندار کامیابی کو یادگار دن بنادیا۔ 1975ء میں نہر سوئز بین الاقوامی جہاز رانی کے لئے کھول دی گئی اور اس سے ہونے والی آمدنی سے مصر عربوں ملکوں کی مالی امداد کی محتاجی سے آزاد ہوگیا۔
    کہا جاتا ہے کہ جنگ یوم کپور میں اگر امریکہ پس پردہ اسرائیل کی بھر پور امداد نہ کرتا تو فلسطین کامسئلہ حل ہو چکا تھا۔ امریکہ بظاہر جنگ میں حصہ نہیں لے رہا تھا مگر اس کا طیارہ بردار بحری جہاز جزیرہ نما سینا کے شمال میں بحیرہ روم میں ہر طرح سے لیس موجود تھا اس کے راڈاروں اور ہوائی جہازوں نے اسرائیل کے دفاع کے علاوہ مصر میں پورٹ سعید کے پاس ہزاروں اسرائیلی کمانڈو اتارنے میں بھی رہنمائی اور مدد کی ۔اسرائیلی کمانڈوز نے پورٹ سعید کا محاصرہ کر لیا جو کئی دن جاری رہا ۔ وہاں مصری فوج موجود نہ تھی کیونکہ اسے جغرافیائی لحاظ سے کوئی خطرہ نہ تھا ۔ اپنے دور حکومت میں جمال عبدالناصر نے ہر جوان کے لئے 3 سال کی ملٹری ٹریننگ لازمی کی تھی جو اس وقت کام آئی ۔ پورٹ سعید کے شہریوں نے اسرائیلی کمانڈوز کا بے جگری سے مقابلہ کیا اور انہیں شہر میں داخل نہ ہونے دیا۔ پھر امریکہ، روس اور اقوام متحدہ نے زور ڈال کر اقوام متحدہ کی قرارداد 338 کے ذریعے جنگ بندی کرا دی۔اس جنگ میں اسرائیل کے 2656 فوجی ہلاک اور 7250 زخمی ہوئے۔ 400 ٹینک تباہ اور 600 کو جزوی نقصان پہنچا۔ اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مصری افواج نے اسرائیل کے 102 طیارے مار گرائے۔
     
  2. ‏اپریل 12، 2012 #2
    ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر رکن
    جگہ:
    جہلم، پاکستان
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2011
    پیغامات:
    26
    موصول شکریہ جات:
    81
    تمغے کے پوائنٹ:
    58

    بہت ہی خوبصورت تحریر
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏اپریل 12، 2012 #3
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    جزاک اللہ ابو حتف!
    ماشاءاللہ بہت معلوماتی، ایمان افروز اورحوصلہ افزا تحریر ہے۔ اس وقت مسلمانوں بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کو اس قسم کی حوصلہ افزا تحریروں کی شدید ضرورت ہے۔ آپ کے سینے میں تو بہت سے قومی اور بین الاقوامی راز دفن ہوں گے۔ انہین بتدریج تحریر کرتے رہئے۔ آپ کا انداز تحریر بھی بہت خوب خوب اور دل میں اترجانے والا ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
     
  4. ‏جولائی 31، 2012 #4
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ آگ ابھی تھمی ہے بجھی تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان شاءاللہ
     
  5. ‏اگست 01، 2012 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    محمد اقبال کیلانی صاحب کی کتاب "دوستی اور دشمنی کتاب و سنت کی روشنی میں" میں نے حوالے کے ساتھ ایک خبر پڑھی ہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نے کہا کہ وہ ایک "اچھے" یہودی لڑکے کی طرح سوچ نہ سکتا تھا کہ وہ پرویز مشرف کے لیے دعا کرے گا۔

    کیا یہودی بھی کسی کے اتنے خیر خواہ ہوتے ہیں؟
     
  6. ‏ستمبر 07، 2012 #6
    متلاشی

    متلاشی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2012
    پیغامات:
    336
    موصول شکریہ جات:
    373
    تمغے کے پوائنٹ:
    92

    بہت اچھی شیئرنگ ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں