1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پاکستان حکومت کی طرف سے کٹاس راج کے ہندو مندروں کی بحالی کا منصوبہ

'کفر اکبر' میں موضوعات آغاز کردہ از سہیل خان, ‏جنوری 02، 2014۔

  1. ‏جنوری 02، 2014 #1
    سہیل خان

    سہیل خان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 01، 2014
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 02، 2014 #2
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    ویمدھم فی طغیانھم یعمھون اولئک الذین اشتروا لضلالۃ بالھدی فما ربحت تجارتھم وما کانوا مھتدین
    محتترم بھائی اللہ نے انکو ڈھیل دی ہوئی ہے کہ ہداہت کی بجائے لوگوں کے لئے اور اپنے لئے گمراہی خرید رہے ہیں پس انکی یہ تجارت انکو نقصان ہی دے گی اللھم لا تجعلنا منھم امین
     
  3. ‏جنوری 02، 2014 #3
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    لا اکراہ فی الدین کے تحت اگر ان لوگوں کو اجازت مل گئی ہے تو اس میں حرج کی کون سی بات ہے کیا مدینے میں یہود نہیں رہتے تھے ان کی عبادت گاہیں نہین تھی ؟
     
  4. ‏جنوری 02، 2014 #4
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی آپ کی اس بات سے سو فیصد اتفاق ہے البتہ انتہایہ معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ اس کے پس منظر میں اگر آپ کو میری پوسٹ پر کوئی اشکال ہے تو محترم بھائی میں نے وہاں عبادت کی اجازت پر کوئی تنقید نہیں کی بلکہ گمراہی یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور کٹاس اور اس طرح کے مندروں اور اسی طرح شیخوپورہ میں ننکانہ صاحب کی محبت میں کالج پر جو انھوں نے پیسے لگا کر تجارت کی ہے میں اسکی بات کر رہا ہوں جو کھلی ہوئی گمراہی ہے اسی لئے ہماری جماعت کا ان باتوں پر واضح اعتراض موجود ہے کہ یہ سب بھارت کو خوش کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے
     
  5. ‏جنوری 02، 2014 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اگر ایسی صورتحال میں حکومت پر تنقید کی جائے تو بعض حضرات حکومت کے ان کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کے مسلم ممالک میں بھی حقوق ہوتے ہیں، اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔

    لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ حقوق ادا کرنے کے تحت نہیں بلکہ کفار کی مادیت کی اندھی پٹی آنکھوں پر باندھ کر ان سے پینگیں بڑھانے کے تحت کیا جاتا ہے۔ کفار سے دوستی کر کے یہ ظالم حکمران ذلت و رسوائی کا شکار ہو چکے ہیں، ابھی بھی وقت ہے مرنے سے پہلے توبہ کر لیں۔ اللہ ان کو ہدایت عطا فرمائے آمین

    کافر کون ہیں؟
    کفار کی اسلام دشمنی
    مسلمانوں سے کفار کی دشمنی کا سبب
    کافروں کی دنیاوی شان و شوکت قرآن مجید کی روشنی میں
    مسلمانوں اور کافروں میں دوستی ناممکن ہے
    کفار سے دوستی کی ممانعت
    کفار سے دوستی کی سزا
    کفار سے دوستی کی دنیا میں سزا
    کفار سے دوستی کی آخرت میں سزا
    بے ضرر کفار سے حسن سلوک کا حکم
     
  6. ‏جنوری 02، 2014 #6
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    کیا بھارت میں ذاکر نائیک صاحب کو سیکیورٹی نہیں ملتی کیا امریکہ میں مساجد نہیں ہیں ؟
     
  7. ‏جنوری 02، 2014 #7
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی کیا مسلم ممالک میں غیر مسلموں کے حقوق سے یہ مراد ہے کہ ہم ان کے ساتھ غیر اللہ کی عبادت شروع کر دیں کیونکہ مندر اور بت وغیرہ بنانا تو واضح غیر اللہ کی عبادت ہے یا للعجب
    غیر مسلموں کے مسلم ممالک میں بھی حقوق
    مسلم کی تعریف یہ ہے کہ اپنے آپ کو اللہ کے آگے جھکا دیں پس ہمارے لئے اصل حق صرف اللہ کا ہی ہے جیسے وما حلقت الجن والانس میں بتایا گیا ہے البتہ اگر اللہ ہی کسی اور کا حق رکھ دے تو وہ اللہ کے حکم (حق) کی وجہ سے ہی معتبر ہو گا ورنہ باقی تمام خود ساختہ حقوق کے ہم پابند نہیں جیسے فرمایا لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الاخالق کہ جو حقوق اللہ کے حقوق سے ٹکراتے ہوں تو وہ ہماے جوتے کی نوک پر ہوں گے اسی لئے جب مشرکین نے اکٹھی عبادت کا ذکر کیا تو قرآن نے اللہ کے نبی کو کہا کہ
    قل یا ایھا الکفرون ---------
    یعنی میرا اور تمھارا دین علیحدہ علیحدہ ہے میں تمھاری عبادت میں شریک نہیں ہو سکتا حالانکہ اسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری طرف ذمی کے حقوق کے بارے بھی احادیث موجود ہیں اور صحابہ کا عمل بھی موجود ہے

    محترم بھائی آپ کی بات کا جواب اوپر دے دیا ہے کہ عبادت میں انکی مدد نہیں کر سکتے چاہے وہ ہمارے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی مدد کرتے ہوں یا اپنی جان ہی ہمارے لئے قربان کر دیں جیسے ابو طالب کی مدد تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے معروف و مشہور ہے مگر اللہ کے نبی نے انکی بات بھی نہیں مانی جب انھوں نے قریش کے کہنے پر آپ سے درخواست کی تھی ہمارے سامنے قل یاایھا الکفرون کا حکم واضح موجود ہے
     
  8. ‏جنوری 02، 2014 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بھائی جان میری بات غور سے پڑھیں:
     
  9. ‏جنوری 02، 2014 #9
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    جب جب نجران کے عیسائی مدینہ آے اور انھوں نے مسجد نبوی مین نماز ادا کی تھی آپ نے ان کو منع کیون نہ کیا جب آپ کہہ سکتے تھے کہ یہ جگہ تمہارے لیے نہیں ہے اور ان کے علاقے فتح کر کے ان کی عبادت گاہ کو عبادت کے لیے چھوڑ دینا کیا یہ ان کے ساتھ تعاون نہیں ہے ، اب کل بات ہوگی ان شاء اللہ
     
  10. ‏جنوری 02، 2014 #10
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425


    محترم بھائی ان کے لئے عبادت گاہ بنانا اور انکو عبادت کرنے کی آزادی دینا ان دونوں چیزوں میں شاہد فرق ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں