1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پاکستان کی مشہور یونیورسٹی نے نوجوان طلبہ و طالبات کو جنسی تعلیم دینا شروع کردی

'مغربی کلچر' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏اکتوبر 12، 2012۔

  1. ‏اکتوبر 12، 2012 #1
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    خبر
    ہاں یہ چیزیں واقعتا بہت ضروری ہیں
    (1)کیونکہ ابھی تک پاکستان حرامی پیدا کرنے میں پورپین ممالک سے بہت پیچھے ہے ۔
    اور ابھی تک شناختی کارڈ پر باپ کا نام لکھا جاتا ہے حالانکہ ماں کا کوئی حق نہیں جو اتنی تکلیف برداشت کرتی ہے آسان حل یہی ہے کہ عورت کو ایسے طریقے سکھانے چاہیں کہ بچے پیدا ہوں اور باپ کا کوئی نام و نشان بھی نہ ہو ۔
    آئے دن پرچے چھپتے ہیں کہ فلاں جگہ پر فلاں جوڑا پکڑا گيا ، یہ ہو گیا ،وہ ہوگیا ، بیچاروں کی بے عزتی (خراب) ہو جاتی ہے اس صورت حال سے بچنے کے لیے ان کو تعلقات قائم کرنے کے محفوظ طریقے سیکھنا از بس ضروری ہے ۔
    (2) باقی رہا نماز ، روزہ ، تو ان چیزوں کی اب ضرورت نہیں رہی کیونکہ جسمانی صحت بحال رکھنے کے اب نت نئے طریقے نکل آئے ہیں ۔
    (3) اور داڑھی ؟ یہ تو بچوں کو بھی معلوم ہو گیا ہے کہ (پرانے زمانے کے )فرعون رکھتے تھے اب رواج بدل گيا ہے دیکھو بھلا أوباما کی داڑھی ہے ؟ اس سے پھلے بش کا منہ بھي چھیلے آلو جیسا تھا ۔ اور تو اور اگر تم نے مسلمان حکمرانوں کے حالات زندگی ہی پڑہے ہوتےتو معلوم ہوتا کہ داڑھی رکھنے والا رواج کافی پرانا ہوچکا ہے ۔
    (4) اور حجاب کے بارے میں تعلیم دے کر پتھر کے زمانے کی یاد تازہ کریں کیا ؟ ویسے بھی یہ عورت پر بلا وجہ بوجھ کا سبب بنتا ہے ۔ بلکہ ہم نے تو اسی وجہ سے اس کا دوپٹہ بھی ختم کروادیا ہے جبکہ باقی ماندہ کے بارے میں بھی کافی غور و خوض کر رہے ہیں بہر صورت مغربی آقاؤوں سے مشورہ کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ عورت صنف نازک ہے اور اس کی اس نازک مزاجی کا یہ تقاضا ہے کہ اس پر کپڑوں کا بوجھ سرے سے ہونا ہی نہیں چاہیے ۔
    یہاں کوئی قدامت پرست دور کی کوڑی لا سکتا ہے کہ ایک طرف تو تم کہتے ہو کہ عورت صنف نازک ہے اس لیے اس پر کپڑوں کا بوجھ بھی نہیں ہونا چاہیے اور دوسری طرف تم اس کےمرد کے شانہ بشانہ کام کرنے کے حامی ہو ؟
    تو بات بالکل سادہ سی ہے کہ عورت کو لباس وغیرہ کی مشقت سے نجات دلانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے تاکہ وہ اپنی فطری کمزوری کا تدارک اس سہولت سے فائدہ اٹھا کر کر سکے ۔اعتراض تب بنتا تھا جب ہم مردوں کو بھی لباس نہ پہننے کی چھٹی دے دیتے بلکہ ہماری تو کوشش ہے کہ چند مخصوص مواقع چھوڑ کر باقی عام رہن سہن میں مردوں پر اس حوالے سے سختی کی جائے اور عملا یہ کام شروع ہوگیا ہے بہت سارے مرد ایسے ہیں جن کے بال عورتوں جتنے لمبے ، کپڑے بھی عورتوں جیسے (مثلا ٹخنوں سے نیچے ) اور کپڑوں پر خاص قسم کی سلائی کڑھائی وغیرہ ، بلکہ ٹائی وغیرہ تو ایسی مصیبت ان کے گلے ڈال رہے ہیں جو زنانہ لباس پر مستزاد ہے ۔
    (5) اب رہ گئ سورہ اخلاص وغیرہ تو وہ خود بخود پارلیمنٹ میں جا کر ٹھیک ہو جائیگی چلو ایک دو دفعہ غلط ہو بھی گئی تو بعد میں خود بخود آ جائیگی ۔ اس حوالے سے ایک مجرب نسخہ یہ ہے کہ ماں باپ وغیرہ اور رشتہ داروں کے ختم شریف سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے کم ازکم مرنے والوں سے اور کچھ نہیں تو یہی سہی کہ سارے قل تو یاد ہو جائیں گے ۔ یہ شیطان ملک وغیرہ اس طرح کے موقعوں پر کھانے پینے کی طرف دھیان رکھتے تھے اس وجہ سے ۔۔۔۔۔۔ (اگلی کہانی آپ جانتے ہوں گے ۔)
     
    • شکریہ شکریہ x 9
    • زبردست زبردست x 5
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 12، 2012 #2
    tahir sindhi

    tahir sindhi مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 13، 2012
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    45
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    انا للہ وانا الیہ راجعون
     
  3. ‏اکتوبر 12، 2012 #3
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,506
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی پھیلے ان کو دنیا و آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
    سورہ النور 19
     
    Last edited: ‏نومبر 25، 2015
    • شکریہ شکریہ x 8
    • زبردست زبردست x 3
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 13، 2012 #4
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    خضر بھائی،
    یہ خبر مصدقہ معلوم نہیں ہوتی۔ فقط کسی ویب سائٹ پر بغیر کسی نام و حوالہ اور تاریخ کے کسی خبر کا دیا جانا کچھ مشکوک معلوم ہوتا ہے۔
    اگر احوال کی ویب سائٹ کے علاوہ بھی اس خبر کا کوئی ماخذ ہے تو شیئر کیجئے۔
     
  5. ‏اکتوبر 13، 2012 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اللہ کرے یہ خبر جھوٹی ہو ۔
    میں نے جہاں سے خبر لی آپ کو اس کا حوالہ دے دیا ہے اور من أسند فقد برئ ۔
    یہاں فورم پر اس کو لگانے کے دو مقصد تھے ایک تو یہ کہ اس کی تصدیق یا تکذیب ہو جائے گی ۔
    دوسرا مقصد یہ تھا کہ اس میں جو نظریہ پیش کیا گیا ہے اس پر بھائیوں کا موقف جاننے کا موقعہ ملے گا ۔
    رہا میرا اس خبر پر کچھ تعلیقات لگانا تو یہ خبر کی تصدیق یا تکذیب کو مستلزم نہیں بلکہ اصلا ان نظریات کا مذاق اڑانے کی کوشش کی ہے ۔
     
  6. ‏اکتوبر 13، 2012 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مغرب کی تقلید کرنے والوں کو یہ نصیحت آموز واقعہ پڑھ لینا چاہیے۔
    مغرب کی تقلید کرنے والو! ذرا یہ رپورٹ بھی پڑھ لو۔
    کیا تم بھی ان جیسو بنو گے،کیا ان کا اور ہمارا طرز معاشرت ایک ہے؟
     
    • زبردست زبردست x 6
    • شکریہ شکریہ x 4
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 13، 2012 #7
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مغرب کی تقلید کرنے والے شاید اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ حقیقتا مغرب نے مرد و عورت کو مساوی حقوق دئے ہیں۔اپنی اس غلط فہمی کو دور فرمالیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 3
    • لسٹ
  8. ‏اکتوبر 13، 2012 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اور اس بات کا ڈھونگ بھی رچایا جاتا ہے کہ مرد کی طرح عورت کو بھی مکمل آزادی کا حق حاصل ہے مغرب میں۔لیکن یہ حقیقت نہیں۔
     
    • زبردست زبردست x 4
    • شکریہ شکریہ x 3
    • لسٹ
  9. ‏اکتوبر 13، 2012 #9
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    • زبردست زبردست x 4
    • شکریہ شکریہ x 3
    • لسٹ
  10. ‏اکتوبر 13، 2012 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    • زبردست زبردست x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں